1970 کی دہائی کا تیل بحران کیا تھا، اور کیا دنیا اس سے بھی بڑے بحران کی طرف بڑھ رہی ہے؟

بی بی سی اردو  |  Apr 01, 2026

James Pozarik/Liaison via Getty Images1970 کی دہائی میں پیدا ہونے والے بحران نے دنیا میں مہنگائی میں اضافہ کیا تھا

دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہ ایک مہینے سے بند ہے اور اس بندش سے یہ عندیہ مل رہا ہے کہ دنیا شاید 1970 کی دہائی میں پیدا ہونے تیل کے بحران سے بھی بڑے کسی بحران کی طرف بڑھ رہی ہے۔

شپنگ کمپنی میسک کے سابق ڈائریکٹر اور جہاز رانی کے امور کے ماہر لارس جینسن کہتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے اثرات 1970 کی دہائی میں جنم لینے والی اقتصادی افراتفری کے مقابلے میں ’زیادہ‘ ہوں گے۔

ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ مہینے کے اوائل میں بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر فاتح بیرول نے خبردار کیا تھا کہ دنیا کو ’تاریخ کے سب سے بڑے‘ توانائی کے بحران کا سامنا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’یہ 1970 کی دہائی کے بحران سے بڑا بحران ہے، جب تیل کی قیمتوں میں بھونچال آ گیا تھا۔ ہم نے یوکرین پر روس کے حملے کے بعد قدرتی گیس کی قیمت میں اضافہ دیکھا تھا لیکن موجودہ بحران اس سے بھی بڑا ہے۔‘

آبنائے ہرمز کی بندش نے تیل اور گیس کی بین الاقوامی ترسیل کو تہس نہس کر دیا ہے لیکن کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ دنیا آج ماضی کے مقابلے میں ایسے بحران سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

1970 کی دہائی میں کیا ہوا تھا؟

ماہرِ اقتصادی امور اور کرسٹل انرجی کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر کیرل نخلے کہتی ہیں کہ 1970 کی دہائی کا تیل کا بحران آج کے بحران سے ’بنیادی طور پر مختلف‘ تھا کیونکہ اُس وقت تیل کی قیمت میں اضافہ ایک ’دانستہ طور پر بنائی گئی پالیسی فیصلے کا نتیجہ تھا۔‘

اکتوبر 1973 میں تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک نے اسرائیل کی یوم کپور جنگ کی حمایت کرنے پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو تیل کی ترسیل پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس کے ساتھ ہی تیل کی پیداوار میں کمی کی گئی، جس سے عالمی سطح پر بحران پیدا ہوا۔

Getty Imagesآبنائے ہرمز سے گزر کر انڈیا پہنچنے والا ایک جہاز

ڈاکٹر نخلے کہتی ہیں کہ اس کا ’نتیجہ یہ نکلا کہ چند ہی مہینوں کے اندر تیل کی قیمتیں تقریباً چار گنا بڑھ گئیں۔‘

اس کے نتیجے میں تیل کا استعمال کرنے والے بڑے ممالک نے ایندھن ذخیرہ کرنا شروع کر دیا اور ڈاکٹر نخلے کے مطابق اس نے ایک ’عالمی معاشی اور مالیاتی بحران' کو جنم دیا، جس کے دیرپا اثرات مرتب ہوئے۔‘

بیلفاسٹ کی کوئنز یونیورسٹی سے منسلک محقق ڈاکٹر تیارنان ہینی کہتے ہیں کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سبب دنیا میں مہنگائی بڑھی ’اس کا مطلب یہ ہے کاروبار میں کمی ہوئی اور بیروزگاری بڑھ گئی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس صورتحال کے بالواسطہ بہت بڑے اثرات مرتب ہوئے، جنھوں نے کئی ممالک کے سماجی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا، ملک گیر ہڑتالیں ہوئیں، غربت میں اضافہ ہوا اور بہت سارے خاندانوں کو بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔‘

امریکہ اور برطانیہ دونوں کو 1973 سے 1975 تک جاری رہنے والی کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑا اور اس بحران نے 1974 میں ٹید ہیث کی کنزرویٹو حکومت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس وقت تیل کے موجود بحران کے دوران کیا ہو رہا ہے؟

ایک مہینے پہلے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کی شروعات کے بعد آبنائے ہرمز عملی طور پر جہاز رانی کے لیے بند ہے۔

اس صورتحال نے خلیجی ممالک سے تیل، گیس اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل کو شدید متاثر کیا ہے۔ یہ ممالک عام طور پر دنیا کے تیل کا تقریباً پانچواں حصہ برآمد کرتے ہیں۔

’پاکستان پر بھروسہ نہیں کر سکتے‘: جنگ بندی کے لیے اسلام آباد کی کوششوں پر اسرائیل سے اُٹھتی آوازیںآبنائے باب المندب: 36 کلومیٹر چوڑے مگر مصروف ترین تجارتی راستے کی ممکنہ بندش دنیا کو کیسے متاثر کرے گی؟’ناکامی کے امکانات سے بھرپور‘: ایرانی یورینیم قبضے میں لینے کا ممکنہ امریکی منصوبہ اِتنا خطرناک کیوں ہے؟اسحاق ڈار کا دورہ بیجنگ، پانچ نکاتی اعلامیہ اور چین کا ممکنہ کردار: ایران جنگ رُکوانے کے لیے چین ’ضامن‘ بن سکتا ہے؟

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے خلیجی ممالک سے تیل کی فراہمی دوبارہ شروع کروانے کے لیے مختلف اقدامات کرنے کی کوشش کی ہے، جن میں اتحادی ممالک سے جنگی بحری جہاز بھیجنے کی درخواست اور آبنائے ہرمز سے جہازوں کو گزرنے نہ دینے پر ایران کو سخت نتائج کی دھمکی دینا شامل ہے۔

لارس جینسن نے بی بی سی ٹوڈے کو بتایا کہ خلیجی خطے سے ایک مہینے سے زیادہ عرصے پہلے روانہ ہونے والا زیادہ تر تیل ابھی بھی دنیا بھر کی ریفائنریوں تک پہنچ رہا ہے، لیکن یہ سلسلہ جلد ہی رک جائے گا۔

’اگر کرشماتی طور پر آبنائے ہرمز کل کھل بھی جاتی ہے تب بھی تیل کی موجودہ قلت میں مزید اضافہ ہی ہوگا۔‘

جینسن کہتے ہیں کہ ’ہم قیمتوں میں بڑا اضافہ دیکھیں گے، صرف اس بحران کے دوران ہی نہیں بلکہ اس کے ختم ہونے کے چھ سے 12 مہینے بعد تک۔‘

کیا موجودہ بحران 1970 کی دہائی کے بحران سے بڑا ثابت ہوگا؟

ڈاکٹر نخلے، جو عرب انرجی کلب کی سیکرٹری جنرل بھی ہیں، کہتی ہیں کہ آج کی تیلکی مارکیٹ 1970 کی دہائی کے مقابلے میں کہیں زیادہ متنوع ہے اور مجموعی طور پر تیل کے استعمال میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔

وہ سمجھتی ہیں کہ تیل کی موجودہ قیمتیں زیادہ ہیں، تاہم موجودہ بحران زیادہ شدید نہیں ہے۔

’حالانکہ اپنے حجم کے لحاظ سے موجودہ رکاوٹیں کافی بڑی ہیں لیکن تیل کی موجودہ منڈی 1970 کی دہائی کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور لچکدار ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ آج کی منڈی زیادہ متنوع ہے، تیل پر کم انحصار کرتی ہے اور اس کے پاس ایسے جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے بہتر حفاظتی اقدامات اور ہنگامی ردِعمل کے طریقۂ کار موجود ہیں۔

Getty Imagesآبنائے ہرمز کی بندش کے سبب گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے

نیٹکسس سی آئی بی میں کموڈٹیز ریسرچ کے ڈائریکٹر جوئل ہینکاک کے مطابق ایک اور اہم فرق یہ ہے کہ 1970 کے بحران کا نشانہ ترقی یافتہ ممالک تھے، جن کے پاس نہ صرف وسائل موجود تھے بلکہ وہ سیاسی طور پر بھی اس صورتحال سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے تھے۔

انھوں نے مزید کہا کہ موجودہ بحران کا بنیادی اثر ترقی پذیر ممالک پر پڑ رہا ہے، جن کے پاس ’ایسے ادارے، مالیاتی استحکام اور اقتصادی طاقت نہیں ہے کہ وہ اس بحران کا مؤثر مقابلہ کر سکیں۔‘ اس کے علاوہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا نقصان، جو آج ایک بڑا مسئلہ ہے، 1970 کی دہائی کے بحران کے دوران بڑا عنصر نہیں تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’موجودہ بحرن تب ہی ختم ہوگا جب یہ جنگ ختم ہوگی۔‘

ہینی کے مطابق آج کی دنیا کے حق میں کچھ ایسے عوامل بھی کام کر رہے ہیں جو 1970 کی دہائی میں موجود نہیں تھے، جن میں معیشتوں کی بہتر سمجھ بوجھ اور زیادہ ممالک کا تیل کے ذخائر رکھنا شامل ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’اصل خطرہ یہ ہے کہ اگر بحران طویل ہو جائے تو مستقبل کے بارے میں توقعات بہت زیادہ مایوس کن ہو جائیں گی۔‘

’سب سے اچھا یہی ہوگا کہ یہ تنازع جتنی جلدی ہو سکے ختم ہو جائے اور استحکام کی کوئی شکل بحال ہو جائے۔‘

چھاتہ بردار فوج یا ’ہائی رسک لینڈنگ‘: ایرانی جزیرے خارگ پر قبضے کے لیے امریکہ کیا کر سکتا ہے؟ٹرمپ کا اعتماد جیت کر پاکستان کیسے ایران جنگ میں ایک غیرمتوقع ثالث بنا؟تیل کا بطور ہتھیار استعمال، تاریخ کا سبق اور ایران جنگ: کیا یہ ٹرمپ کا سویز بحران ہے؟سعودی فضائی اڈے پر دو ٹکڑوں میں بٹے امریکی طیارے کی تصویر کی حقیقت: کیا یہ ایرانی حملے کا نتیجہ ہے؟عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمت، پاکستان حکومت کی مشکل اور اربوں کی سبسڈی: کیا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں مزید اضافہ ناگزیر ہے؟خارگ: ایرانی جزیرہ جس پر ’امریکی قبضے‘ کی خواہش کا اظہار ٹرمپ نے 40 سال قبل کیا تھا
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More