امریکہ میں قائم ’ریپبلک آف سلوجامستان‘ جہاں آپ تھوڑی سی فیس ادا کر کے ’رکن پارلیمنٹ‘ بن سکتے ہیں

بی بی سی اردو  |  Apr 01, 2026

امریکہ میں ایک دلچسپ اور غیر معمولی مُلک یا ’مائیکرو نیشن‘ قائم کی گئی ہے، جسے ’ریپبلک آف سلوجامستان‘ کہا جاتا ہے۔ اس خود ساختہ ’ملک‘ کے 25 ہزار سے زیادہ شہری ہیں جنھوں نے اس مُلک میں قائم فرضی آمریت سے وفاداری کا حلف اٹھایا ہے۔

یہاں عجیب و غریب قوانین نافذ ہیں مثلاً ’کروکس پہننا‘ اور ’ریپلائی آل ای میل‘ بھیجنا سختی سے ممنوع ہے۔

یہ ریاست کیلیفورنیا کی کوچیلا ویلی اور میکسیکو کی سرحد کے درمیان ایک بنجر صحرا میں واقع ہے۔ یہ علاقہ کھجور کے باغات، جھاڑیوں اور تیز دھوپ سے جھلسے ہوئے ریتیلے میدانوں پر مشتمل ہے۔

دور سے ایک آبدوز جیسی چیز بھی دکھائی دیتی ہے جو اس جگہ کو مزید دلچسپ بنا ددیتی ہے۔

یہ 11 ایکڑ پر پھیلا ہوا علاقہ عام طور پر وہ جگہ ہے جسے لوگ گاڑی چلاتے ہوئے نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن اندر قدم رکھتے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ حقیقی دنیا سے باہر آ گئے ہوں۔

یہاں ٹاکوز لینے کے لیے تیز رفتاری کی اجازت ہے، قومی جانور ریکون ہے اور ماحول مکمل طور پر مزاح اور تخیل سے بھرپور ہے۔

اس سب کے پیچھے ’رینڈی ولیمز‘ ہیں، جو ’سلطان آف سلوجامستان‘ کہلاتے ہیں۔ وہ سان ڈیاگو کے دو بڑے ریڈیو سٹیشنوں کے پروگرام ڈائریکٹر ہیں اور ریڈیو پر ’آر ڈب‘ کے نام سے مشہور ہیں۔

سنہ 1994 سے وہ ’سنڈے نائٹ سلو جیمز‘ نامی شو کی میزبانی کر رہے ہیں، جو اب دنیا بھر کے 250 سے زیادہ ریڈیو سٹیشنز پر نشر ہوتا ہے۔

رینڈی ولیمز جنون کی حد تک سفر کا شوق رکھنے والے ایک شخص تھے۔ انھوں نے کئی سال اس کوشش میں گزارے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ ہر ملک کا دورہ کر سکیں۔

سنہ 2020 کے آغاز تک وہ تمام ممالک کا دورہ کر چکے تھے اور صرف ایک ہی ایسا ملک تھا جہاں وہ جا نہیں سکے تھے کیونکہ دُنیا کو عالمی وبا کے نتیجے میں لاک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے دوران سب کی طرح وہ بھی سفر سے محروم ہو گئے اور بے چین رہنے لگے۔

وقت تو بہت تھا مگر جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی، لیکن ان کا ذہن تھا کہ جو رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا اور بس ہر صبح اُن کے دل و دماغ میں ایک نیا خیال جنم لیتا تھا۔

ایسے میں ہی انھیں ایک دن یہ خیال آیا کہ ’اگر میں کسی اور نئے ملک کا سفر نہیں کر سکتا تو کیوں نہ اپنا ہی ایک مُلک بنا لیا جائے جہاں سب کُچھ اپنی مرضی کے مطابق ہو؟‘

ایک فرضی آمر کیسے بنا جاتا ہے؟

سلطان نے مجھے قونصل خانے یعنی ریڈیو سٹیشن میں ان کے دفتر کے دورے کے دوران بتایا کہ ’بچپن سے ہی مُجھے تخلیقی کام کرنا پسند تھا، چاہے وہ تخلیقی تحریر ہو، ڈرائنگ ہو یا اپنی کلاس کے پراجیکٹس کی تصویریں بنانا ہو، تو ایسے میں مجھے یہ ایک سب سے شاندار موقع لگا کہ اپنا مُلک بنایا جائے۔‘

اُن کے دفتر میں دنیا بھر کی حقیقی آمریتوں کا پروپیگنڈے سے بھرپور مواد اور دیگر یادگاریں موجود ہیں۔

انھوں نے اپنے سب سے اچھے دوست مارک کورونا کو فون ملایا اور انھیں اپنی سوچ اور منصوبے کے بارے میں بتایا۔ کورونا نے سلطان کی ساری بات سُنی اور ہنس پڑے۔

کرونا نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’انھیں کارٹون ’فیملی گائے‘ کا وہ منظر یاد آ گیا جہاں پیٹر اپنا ملک ’پیٹوریا‘ بناتا ہے۔‘ انھیں لگا ولیمز مذاق کر رہے ہیں۔

یہ سب سُننے کے بعد کورونا نے سلطان سے کہا کہ ’ہاں ہاں ہ سب تھ ٹھیک ہے میرے دوست مگر تم یہ نیا مُلک بناؤ گے کہاں؟ کیا اپنے گھر میں؟‘

لیکن ولیمز (سلطان) نے ہمت نہیں ہاری اور ایک رئیل سٹیٹ سائٹ پر تلاش شروع کر دی، جس میں ان کی کچھ شرائط تھیں۔ زمین پانچ ایکڑ سے زیادہ ہونی چاہیے، اس تک پہنچنے کے لیے سڑک پکی ہونی چاہیے اور سان ڈیاگو میں ان کے گھر سے زیادہ دور نہ ہو۔

اس کوشش کے دوران ویلمز کی نظر سے ایک ہی پلاٹ گزرا۔ یہ ایک بنجر، ریت سے بھرا ہوا زمین کا ٹکڑا تھا، جھاڑیوں اور پتھروں سے ڈھکا ہوا جس کی قیمت 19500 ڈالر مقرر کی گئی تھی۔

ویلمز کے مطابق ’یہ پہلی نظر میں ہونے والی محبت تھی۔‘

انھیں یہ زمین کا ٹکڑا پسند آیا اور بس سنہ 2021 میں انھوں نے اسے خرید لیا۔

ولیمز نے اپنے دوست کورونا سے کہا کہ وہ فینکس سے ایک ڈیسک لے آئیں اور اسے جنوبی کیلیفورنیا تک پہنچائیں۔ انھوں نے اپنی خریدی گئی زمین کے بیچوں بیچ ریگستان میں رکھا اور اپنی زمین یا رقبے کی حد بندی شروع کر دی، کیلیفورنیا سٹیٹ روٹ 78 پر سڑک کے نشانات لگائے جن پر ان کے نئے ملک کی جانب جانے کے راستے کی نشاندہی اور مُلک کا نام درج تھا ’ریپبلک آف سلوجامستان۔‘

یہ نام ابتدا میں ولیمز نے مذاق میں تجویز کیا تھا مگر بعد میں بورڈ پر بھی یہی نام لکھ کر لگا دیا گیا۔

ابھی اس سارے معاملے کو زیادہ وقت نہیں گُزرا تھا کہ مقامی حکام نے اس نئے مُلک کے قیام کا نوٹس لینا شروع کر دیا۔ سائنز کو سڑک کے بہت قریب ہونے کی وجہ سے نوٹس دیا گیا۔

ولیمز نے انھیں تھوڑا سڑک سے ہٹا کر لگوا دیا تاکہ وہ کاؤنٹی کے قواعد کا احترام بھی کرتے رہیں اور اپنے نئے مُلک یعنی مائیکرونیشن کا اعلان بھی بھر پور انداز میں کرتے رہیں۔

آسٹریلیا میں ایک مرلے کی ’سلطنت‘ کا بادشاہصرف 32 سال کی عمر میں دنیا کی سب سے بڑی سلطنت قائم کرنے والا نوجواندنیا کے ’محفوظ ترین ممالک‘ جہاں لوگ گھروں کے دروازے بند نہیں کرتے اور پولیس ہتھیار نہیں رکھتیسوا پانچ لاکھ آبادی والا چھوٹا سا ملک مالدیپ انڈیا کو چیلنج کیوں کر رہا ہے؟ ’انڈین فوجی 15 مارچ تک جزیرے سے نکل جائیں‘

کورونا نے کہا کہ ’لوگ اس مقام سے گُزرتے اور ساتھ ساتھ یہ بھی سوچتے کہ آخر یہ سب ہو کیا رہا ہے۔ وہ شاید یہ سوچ رہے ہوں کے ہم دہشت گرد ہیں اور لوگوں کی اس سوچ نے ہماری مقبولیت میں اضافہ کیا۔ بس اس سب کی وجہ سے ہمیں مزید توجہ ملی۔‘

لیکن سڑک کنارے لگا نشان تو بس ایک پہلا قدم تھا۔ پہلے عارضی سرحدی چیک پوائنٹ آیا۔ پھر جھنڈے اور پاسپورٹس۔ جلد ہی ریپبلک آف سلوجامستان ایک حقیقی ملک کی شکل اختیار کرنے لگا۔

ولیمز نے کہا کہ ’اب بہت جلد میں اپنے ملک کے لیے پولیس کی گاڑیاں، یہاں چلنے والے سکّے اور امیگریشن بوتھ خرید رہا تھا۔‘

ولیمز نے خود کو ’سلطان‘ قرار دیا اور اسی انداز میں لباس پہننا شروع کر دیا۔ سیاہ چشمے، استری شدہ یونیفارم اور چمک دمک سے بھر پور انداز، جس کے بارے میں اُن کا ماننا ہے کہ یہ انداز لیبیا کے آمر معمر قذافی کے ڈرامائی فوجی انداز سے مشابہت رکھتا ہے۔

اس کردار میں سلطان کی آواز ایک خاص انداز اختیار کر لیتی ہے جسے وہ ’جی ایف اے‘ یعنی جنرل فارن ایکسنٹ کہتے ہیں، یہ وہ لہجہ ہوتا ہے جو غیر ملکی لہجے جیسا لگتا ہے، مگر کسی ایک مخصوص ملک یا زبان سے تعلق نہیں رکھتا۔

پانچ سال بعد سلوجامستان اب دلچسپی رکھنے والے مسافروں کو پاسپورٹ جاری کرتا ہے جو غیر سرکاری شہری بننا چاہتے ہیں، اپنی کرنسی جاری کرتا ہے اور پرچم کشائی کی تقریبات منعقد کرتا ہے۔

اس زمین کو مختلف ریاستوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں ڈبلینڈیا، بکسلوینیا اور ’کوئنڈم آف ہاٹ ڈیمناسٹان‘ شامل ہیں۔ سلطان نے قومی ترانہ بھی لکھا ہے’سلو جامستان آئی تھنک اٹس گوئنگ تو بی این اسم پلیس‘، جو ایلٹن جان کے گانے راکٹ مین کی دھن پر مبنی ہے۔

جو لوگ اس مُلک میں اپنی شمولیت کو باضابطہ بنانا چاہتے ہیں، ان کے لیے مختلف اعزازات بھی دستیاب ہیں۔

ولیمز نے کہا کہ ’فرض کریں آپ نارتھ کیرولائنا میں ہیں اور آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا لنکڈ اِن پروفائل زیادہ مضبوط لگے۔ آپ ایک عہدہ بنا سکتے ہیں، تھوڑی سی فیس ادا کریں اور بس ’آپ پارلیمنٹ کے رکن بن جاتے ہیں۔‘

اس آمریت میں عہدے حاصل کرنے کے لیے قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ ایک سفیر ہر ماہ 10 سے 20 ڈالر ادا کرتا ہے، لیکن شہریت کے مواقع سب کے لیے میسر ہیں اور اس کی کوئی فیس نہیں ہے۔

اس مائیکرونیشن کے اس وقت 120 ممالک سے تعلق رکھنے والے 25 ہزار ایسے شہری ہیں، جنھوں نے خود رجسٹرریشن کروائی ہے اور یہ تعداد بعض تسلیم شدہ ممالک جیسے ویٹیکن سٹی، تووالو اور پلاؤ سے بھی زیادہ ہے۔

اگرچہ بہت سے لوگ صرف سلو جامستان کی طنزیہ سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے دور سے ہی اس سے جڑے رہتے ہیں، لیکن یہ کمیونٹی ذاتی طور پر بھی اکٹھی ہوتی ہے۔

تقریبات، جیسے ملک کے پہلے بحری جہاز (ایک خراب آبدوز) کی افتتاحی تقریب، میں سب شامل ہو سکتے ہیں۔ اس جہاز کو ’ایس ایس بیڈایسن‘ کہا جاتا ہے، جسے ’سمگلروں سے حفاظت‘ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

تاہم مکمل شہریت جو ایک سادہ آن لائن فارم کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے لوگوں کو اس نئے مُلک اور ایک دلچسپ تجربے سے جوڑتی ہے۔

حتمی فرار

سلطان کے مطابق لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر سلوجامستان کے شہری بنتے ہیں۔ کچھ تجسس کی وجہ سے، کچھ تفریح کے لیے اور کچھ صرف دنیا کے ہنگاموں سے تھوڑی دیر کی نجات چاہتے ہیں۔

سلطان نے کہا کہ ’مجھے آپ کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ حالات کتنے مُشکل ہو چکے ہیں۔ جب بھی آپ فیس بک کھولتے ہیں، لوگ سیاست کی وجہ سے دوستوں اور خاندان والوں کو کھو رہے ہوتے ہیں۔ صورتحال بہت خراب ہو چکی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’سلوجامستان ان سب چیزوں سے دور ایک پرامن پناہ گاہ ہے۔ ہماری اپنی سیاست کے علاوہ، ہم کسی بھی قسم کی سیاست پر بات کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔‘

ایک ایسے وقت میں جب امریکیوں کی بڑی تعداد اپنے ملک کی سیاست سے مایوس ہو رہی ہے اور دیگر پاسپورٹس کی تلاش میں ہیں، ولیمز کے مطابق سلوجامستان کے تقریباً 50 فیصد شہری امریکی ہیں۔

سلطان نے ملک کی ترقی کو سیاسی کے بجائے عالمی رجحان قرار دیا، ان کے مطابق بنگلہ دیش سے حالیہ درخواستوں میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سلوجامستان کی کشش ’سرحدوں کی پابند نہیں۔‘

سٹیفنی ہیڈن نے پہلی بار سلوجامستان کے بارے میں اس وقت سنا جب ایک امریکی کوئز شو ’جیپرڈی!‘ میں ایک کنٹیسٹنٹ نے اس ملک کا ذکر کیا۔ بعد میں انھوں نے لانگ بیچ ٹریول اینڈ ایڈونچر شو میں ولیمز کو ڈھونڈ نکالا۔

ہیڈن، جو اب اس ملک کی شہری ہیں، کا کہنا ہے کہ ’میں صرف سلطان کا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی کہ وہ میری زندگی میں راحت اور خوشی کا باعث بنے انھوں نے میری زندگی بدل دی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس کے بارے میں ہر چیز میرے لیے خوشی کا باعث ہے اور میرا خیال ہے کہ ہزاروں دوسرے سلو جامستان کے شہری بھی اس سے اتفاق کریں گے۔ یہ ہم سب کے لیے ’امریکہ میں‘ ایک بہت مشکل وقت ہے لیکن یہاں ایک خوشی کی چیز موجود ہے۔‘

ریگستان سے عالمی منظر نامے تک

دنیا بھر میں اندازاً سینکڑوں مائیکرونیشنز موجود ہیں۔ کچھ بین الاقوامی پانیوں کے بیچ قائم ہیں، جبکہ کچھ پُرسکون مضافاتی علاقوں میں۔

اگلے سال، سلو جامستان مائیکروکون سنہ 2027 کی میزبانی کرے گا، جو مائیکرونیشنز کا ایک اجتماع ہے۔ 43 سے زیادہ خود ساختہ ریاستوں کے نمائندے ’بومبر ریپبلک‘ سے لے کر ’ڈریگن آئل‘ تک جمع ہوں گے تاکہ جغرافیائی خودمختاری سے لے کر قومی نشان بنانے تک مختلف موضوعات پر بات چیت کر سکیں۔ جیسا کہ اس ایونٹ کی ویب سائٹ کہتی ہے کہ ’یہ کردار سازی اور حکمرانی کا ملاپ ہے۔‘

اگرچہ سلطان کا کہنا ہے کہ سلوجامستان کے صحرائی علاقے میں آنے والے مہمانوں کا ہم خیرمقدم کرتے ہیں لیکن فی الحال وہاں رات گزارنے کی کوئی سہولت موجود نہیں۔

ولیمز کے لیے یہ مائیکرونیشن ہمیشہ سے اُن کے دُنیا گھومنے اور سفر کرنے کے شوق سے جُڑی رہی ہے۔

انھوں نے ازبکستان کے ایک شہری کے حالیہ پیغام ذکر کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے انھیں کہا کہ ’میں تمہارے ملک جا چکا ہوں اور میں نے انھیں تصاویر دکھائیں۔ بس یہ وہ لمحہ تھا کہ جس کے بعد سے اب ہم رابطے میں ہیں۔‘

وہ سلوجامستان کو اسی احساس پر تعمیر کرنا چاہتے ہیں، ایک ایسی جگہ جو چاہے غیر روایتی ہی کیوں نہ ہو دنیا بھر کے لوگوں کو جوڑ سکے اور جہاں وہ آخرکار آ بھی سکیں۔

مئی سنہ 2023 میں ولیمز آخرکار اپنے آخری باقی رہ جانے والے ملک ترکمانستان پہنچ گئے۔ یوں انھوں نے برسوں پہلے شروع کی گئی اپنی مہم مکمل کر لی۔

اس وقت تک سلوجامستان محض ایک خلا پُر کرنے کا ذریعہ نہیں رہا تھا، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایک حقیقت بن چکا تھا۔ لوگوں کو ثقافتوں اور سرحدوں کے پار جوڑنے کا ایک اور طریقہ۔

انھوں نے کہا کہ ’سلوجامستان میرا نہیں ہے،‘ پھر رک کر خود کو درست کیا، ’یعنی میں ایک آمر ہوں۔ لیکن حقیقت میں یہ سب کا ہے۔ ہر شخص کے لیے اس کا مطلب مختلف ہے یہاں سب اپنی سوچ کے ساتھ آسکتے ہیں۔‘

صرف 32 سال کی عمر میں دنیا کی سب سے بڑی سلطنت قائم کرنے والا نوجوانآسٹریلیا میں ایک مرلے کی ’سلطنت‘ کا بادشاہدنیا کے ’محفوظ ترین ممالک‘ جہاں لوگ گھروں کے دروازے بند نہیں کرتے اور پولیس ہتھیار نہیں رکھتیسوا پانچ لاکھ آبادی والا چھوٹا سا ملک مالدیپ انڈیا کو چیلنج کیوں کر رہا ہے؟ ’انڈین فوجی 15 مارچ تک جزیرے سے نکل جائیں‘2025 میں سیر و تفریح کے لیے گلگت بلتستان سمیت دنیا کے 25 بہترین مقامات
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More