’یہ خاموش اکثریت تک رسائی کی کوشش ہے‘: بلوچستان میں عید کے اجتماعات سے مسلح افراد کے خطاب کی ’وائرل ویڈیوز‘ کیا ظاہر کرتی ہیں؟

بی بی سی اردو  |  Mar 30, 2026

Getty Imagesبلوچستان میں حالیہ عرصے میں مسلح افراد کی جانب سے بازاروں اور عوامی مقامات پر آنے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں عیدالفطر کے موقع پر مبینہ طور پر بلوچ عسکریت پسندوں کی کچھ ویڈیوز وائرل ہو رہی تھیں، جس میں وہ بظاہر عید کے اجتماعات سے خطاب کر رہے تھے۔ ان ویڈیوز کے منظر عام پر آنے کے بعد مختلف علاقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

بعض ماہرین عید کے اجتماعات سے خطاب کو ایک منفرد نوعیت کی سرگرمی قرار دے رہے ہیں، تاہم عسکریت پسندوں کی عوامی مقامات اور بازاروں میں آمد اور کارروائیوں کا سلسلہ 2024 میں شروع ہوا تھا جو تاحال جاری ہے۔

عسکریت پسندوں کی ایسی کارروائیاں زیادہ تر دُوردراز کے علاقوں سے رپورٹ ہو رہی ہیں جن میں شاہراہوں کی ناکہ بندی، شہری علاقوں میں داخل ہونے اور وہاں کئی گھنٹوں تک موجود رہنے اور لوگوں سے بات چیت جیسے واقعات شامل ہیں۔

اگرچہ اس طرح کی سرگرمیوں اور کارروائیوں پر سکیورٹی کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں لیکن حکام کا دعویٰ ہے کہ بلوچستان میں حکومت کی رٹ ہر جگہ موجود ہے۔

حکام کے مطابق سکیورٹی سخت ہونے کی وجہ سے یہ لوگ کسی شہری علاقے میں داخل نہیں ہو سکے بلکہ دُوردراز کے علاقوں میں اپنے ’بیرونی آقاؤں‘ کو خوش کرنے کے لیے ویڈیو بنا کر فرار ہو گئے۔

ویڈیوز میں کیا ہے؟

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں مسلح افراد عید کے اجتماعات سے خطاب کر رہے ہیں۔ دو مقامات پر ان کے چہرے ڈھانپے ہوئے تھے جبکہ ایک مقام پر خطاب کرنے والے شخص کا چہرہ نظر آ رہا ہے۔

دو مقامات پر براہوی زبان میں جبکہ تیسرے مقام پر بلوچی زبان میں خطاب کیا گیا۔ بی بی سی آزادانہ ذرائع سے ان ویڈیوز کی تصدیق نہیں کر سکا۔

ان میں سے ایک مقام پر نماز عید مسجد کے اندر ہو رہی تھی جہاں مسلح شخص نے منبر پر کھڑے ہو کر خطاب کیا۔

سوشل میڈیا پر گشت کرنے والییہ ویڈیوز بلوچستان کے تین اضلاع مستونگ، خاران اور کچھی کے تین علاقوں کی تھیں۔

ان میں سے مستونگ میں تحصیل کردگاپ میں ایک کھلے میدان میں ایک مسلح شخص نے نمازِ عید کے اجتماع سے خطاب کیا جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

کردگاپ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے مغرب میں اندازاً 70 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

ضلع خاران کے جس علاقے میں کالعدم عسکریت پسند تنظیم کے جنگجو نے خطاب کیا وہ لجّے کا ہے جو کہ ضلع کے ہیڈ کوارٹر خاران سے 70 سے 75 کلومیٹر دور شمال مشرق میں واقع ہے۔ اس علاقے میں نماز عید ایک مسجد میں ادا کی جا رہی تھی۔

ویڈیو میں چہرہ ڈھانپے ایک مسلح شخص نے منبر پر کھڑے ہو کر اجتماع سے براہوی زبان میں خطاب کیا۔

تھانوں پر حملے، یرغمال ڈپٹی کمشنر اور سکیورٹی فورسز کا آپریشن: بلوچستان میں شدت پسندوں کے حملوں کے دوران کیا ہوا؟بلوچستان میں 10 لاشوں کی برآمدگی کا معمہ: ’ہم پر غم کے پہاڑ گرا دیے گئے‘نوکُنڈی میں ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر حملہ اور سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی: ’یہ ایک خوفناک رات تھی‘جعفر ایکسپریس پر حملہ کیسے ہوا؟ شدت پسندوں سے لڑنے والے پولیس اہلکار کے مغوی بننے سے فرار تک کی کہانی

تیسری ویڈیو میں ایک مسلح شخص عید کے دن لوگوں سے خطاب کر رہا ہے، یہ ضلع کچھی کا کوئی علاقہ ہے۔

ضلع کچھی سے تعلق رکھنے والے ایک شخص میر لیاقت جتوئی نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ جس مقام کی یہ ویڈیو ہے وہ ضلع میں کوئی شہری علاقہ نہیں ہے بلکہ اطراف کا کوئی علاقہ ہو سکتا ہے۔

تاہم پولیس حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ ویڈیو ضلع کچھی کے میں کسی علاقے کی ہے جہاں ایک مسلح شخص نے کھلے چہرے کے ساتھبلوچی زبان میں خطاب کیا۔

ضلع کچھی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ تاریخی درہ بولان بھی اسی ضلع کا حصہ ہے جس کا آغاز کوئٹہ سے اندازاً 35 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر کولپور سے ہوتا ہے۔

’چھ سے سات مسلح افراد گاڑیوں میں عید گاہ آئے‘

ضلع مستونگ کے علاقے کردگاپ میں بی بی سی نے ایک شخص عبدالغفور (فرضی نام ) سے بات کی جو نماز عید کی ادائیگی کے لیے اُس مقام پر موجود تھے جہاں ایک جنگجو نے خطاب کیا۔

انھوں نے بتایا کہ کردگاپ میں عید گاہ کے قریب جو مسلح لوگ آئے ان کی تعداد پانچ سے چھ کے قریب تھی اور یہ لوگ وہاں گاڑیوں میں آئے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم نے گردونواحکے دیگر علاقوں میں بھی مسلح افراد کو دیکھا جنھوں نے پوزیشنز سنبھالی ہوئی تھی اور انھوں نے اپنے چہرے ڈھانپے ہوئے تھے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’جب امام نے تقریر اور نماز کے بعد خطبہ پڑھ لیا تو ایک مسلح شخص آیا اور اس نے لوگوں سے کہا کہ وہ کچھ دیر کے لیے بات کرنا چاہتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی انھوں نے خطاب شروع کر دیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مسلح شخص کی تقریر کا دورانیہ 20 سے 25 منٹ تک یا اس سے بھی کچھ زیادہ تھا۔ خطاب کے بعد مسلح افراد وہاں سے چلے گئے۔

ضلع خاران میں لجّے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ عید کے روز وہ خود وہاں موجود نہیں تھے۔ تاہم انھوں نے وہاں اپنے رشتہ داروں کے علاوہ دیگر افراد سے بات کی جنھوں نے انھیں بتایا کہ عید گاہ کے گردونواح میں چار پانچ مسلح افراد تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد میں سے ایک نے اندر آ کر نماز اور خطبے کے بعد لوگوں سے خطاب کیا اور بعد میں وہ وہاں سے چلے گئے۔

ضلع کچھی کے علاقے سنّی سے تعلق رکھنے والے میر لیاقت جتوئی نے بتایا کہ انھوں نے وہ ویڈیو دیکھی ہے جس میں لوگوں کے ایک اجتماع سے ایک مسلح شخص خطاب کررہا ہے تاہم وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ وہ علاقہ کونسا ہے۔

Getty Imagesضلع خاران میں لجّے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ عید کے روز وہ خود وہاں موجود نہیں تھے۔ تاہم انھوں نے وہاں اپنے رشتہ داروں کے علاوہ دیگر افراد سے بات کی جنھوں نے انھیں بتایا کہ عید گاہ کے گردونواح میں چار پانچ مسلح افراد تھے

خیال رہے کہ یہ تمام علاقے ایسے ہیں جہاں پہلے بھی کالعدم عسکریت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کی کارروائیاں رپورٹ ہوتی رہی ہیں۔

گذشتہ سال بھی مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد ضلع مستونگ کے علاقے کردگاپ میں آئی تھی جہاں انھوں نے سرکاری دفاتر کو نذرِ آتش کیا تھا جبکہ یہاں سے نوشکی تک کوئٹہ اور تفتان کے درمیان شاہراہ پر بھی اس نوعیت کی کارروائیاں رپورٹ ہوتی رہی ہیں۔

بی بی سی نے مسلح افراد کے عید کے اجتماعات کے خطاب کی ویڈیوز کے حوالے سے تینوں اضلاع کے مقامی حکام سے بھی رابطہ کیا تاہم انھوں نے اس سلسلے میں بات کرنے سے گریز کیا۔

رابطہ کرنے پر ڈپٹی کمشنر خاران نے بتایا کہ وہ چھٹی پر ہیں اس لیے اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر سے رابطہ کیا جائے۔

خاران پولیس کے سربراہ سلام خان کاکڑ نے بھی زیادہ بات نہیں کی تاہم انھوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

ضلع مستونگ کے ڈپٹی کمشنر سے رابطہ نہیں ہوسکا اور پولیس حکام نے بھی اس حوالے سے بات نہیں کی۔

ضلع کچھی کے ڈپٹی کمشنر نے کال وصول نہیں کی تاہم ضلع کے پولیس کے سربراہ غلام مرتضٰی نے بتایا کہ انھیں چارج لیے ابھی چند ہی دن ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دُوردراز کے علاقوں میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی جانب سے اکا دکا کارروائیاں ہوتی ہیں تاہم پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز کے اہلکار ان کی روک تھام کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

Getty Imagesضلع خاران میں نہ صرف خاران شہر کے اندر اب تک دو بڑے حملے ہوئے ہیں بلکہ ضلع کے دیگر علاقوں میں بھی کالعدم عسکریت پسند تنظیموںسے تعلق رکھنے والے افراد کی کارروائیاں رپورٹ ہوتی رہی ہیں

خیال رہے کہ ضلع مستونگ کے مختلف علاقوں میں نہ صرف طویل عرصے سے سنگین بد امنی کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں بلکہ مستونگ شہر کے اندر بھی دو مرتبہ کالعدم عسکریت پسند تنظیموں کے لوگ داخل ہوئے۔

ضلع خاران میں نہ صرف خاران شہر کے اندر اب تک دو بڑے حملے ہوئے ہیں بلکہ ضلع کے دیگر علاقوں میں بھی کالعدم عسکریت پسند تنظیموںسے تعلق رکھنے والے افراد کی کارروائیاں رپورٹ ہوتی رہی ہیں۔

اسی طرح ضلع کچھی میں بولان کا علاقہ بھی طویل عرصے سے شورش سے متاثر ہے اور اس کے بھاگ سمیت متعدد دیگر علاقوں میں بھی گذشتہ سال سے حملے ہو رہے ہیں۔

تاہم ان اضلاع سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں کالعدم تنظیموں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے آپریشنز بھی بڑے پیمانے پر جاری ہیں۔

چند روز قبل کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے آپریشنز میں گذشتہ سال کالعدم تنظیموں کے سینکڑوں لوگ مارے گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے پورے بلوچستان کی حفاظت کرنی ہوتی ہے جبکہ ’دہشت گرد‘ ایک علاقے میں آتے ہیں اور چند منٹ کے بعد بھاگ جاتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ کہتے ہیں کہ کالعدم تنظیموں کے لوگ عام لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں جس کے باعث جب لوگ ان کے پاس ہوتے ہیں تو سکیورٹی فورسز کو کارروائی میں مشکل پیش آتی ہے۔

’بندوق کی لڑائی کے علاوہ دوسرے طریقوں کو بھی آزمانا پڑے گا‘

سابق ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس عبد الرزاق چیمہ طویل عرصے تک بلوچستان پولیس سے وابستہ رہے ہیں۔

جب ان سے بلوچستان میں ایسے واقعات اور سرگرمیوں کے رونما ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ’میرا خیال یہ ہے کہ جو لوگ بلوچستان کو ڈیل کررہے ہیں ان کا پبلک اور مقامی لوگوں سے رابطہ اتنا اچھا نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جب تک مقامی لوگ سامنے نہیں آئیں گے اور حقیقی لوگوں کا تعاون نہیں لیا جائے گا تو تب تک یہ مسئلے حل نہیں ہو سکتے۔‘

اس سوال پر کہ بلوچستان جیسے وسیع و عریض علاقے میں سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد میں کمی کا مسئلہ تو نہیں، ان کا کہنا تھا کہ اگر رقبے کے لحاظ سے بلوچستان کی وسعت کی بات ہے تو جن لوگوں کی وجہ سے مسئلہ ہے وہ بھی تو تھوڑے ہیں ان کی تعداد بھی بہت زیادہ نہیں ہے۔

’دوردراز کے علاقے ہیں تو اس لحاظ سے سیاستدان بھیہرعلاقے سے ہیں۔ ان میں سے ان کا چناؤ ہونا چاہیے جو مخلص ہیں اور اچھے ہیں اور اپنے اپنے علاقوں میں ان کی واقعی عزت بھی ہے تو پھر یہ کوئی بڑا کام نہیں رہ جاتا ہے۔‘

تاہم انھوں نے بتایا کہ ’ان کالعدم تنظیموں کی جڑیں گہری ہیں اور ان کی علمی بنیادیں مضبوط ہیں ان کے سٹڈی سرکل اور گروپ ڈسکشنز ہوتے ہیں۔ مدارس کے نظریاتی تربیتی نظامکی طرح ان کی بھی متوازی نظریاتی تربیت کا ایک نظام ہے۔ جن مسائل کا لوگوں کو احساس ہوتا ہے ان کو یہ اجاگر کرتے ہیں۔‘

اُن کے بقول اس معاملے پر کمیونٹی پولیسنگ کرنا پڑے گی اورحقیقی لوگوں کو مقامی حکومتوں اور دوسرے نظام کےذریعے سامنے لانا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جو بندوق کی لڑائی ہے وہ بعد میں بھی جاری رہے گی لیکن بندوق کے علاوہ بہت سے دیگر کام بھی کرنے ہوتے ہیں۔

حکام کے مطابق لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے ہر ضلع میں ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ضلعی رابطہ کمیٹی بنائی گئی ہے جو محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لیتی ہے جبکہ اس کے علاوہ ہر ضلع کی سطح پر کچہریاں منعقد کی جا رہی ہیں جن میں لوگوں کو درپیش مسائل کی نشاندہی کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق نوجوانوں سے ہر سطح پر روابط کے لیے بھی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔

BBCرواں برس جنوری میں شدت پسندوں نے بلوچستان کے مختلف شہروں میں حملے کیے تھے’عسکریت پسند اپنی حکمتِ عملی تبدیل کر رہے ہیں‘

سکیورٹی اُمور کے ماہر اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر عامر رانا کا کہنا ہے کہ عید کے اجتماعات سے عسکریت پسندوں کا خطاب ایک نئی چیز ہے، کیونکہ یہ عسکریت پسند قوم پرست اور سیکولر رحجان کے لوگ ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے عامر رانا کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کا کسی عید کے اجتماع سے خطاب کرنا اور لوگوں کے سامنے اپنا مقدمہ رکھنا، اُن کی حکمتِ عملی میں تبدیلی ہے۔

عامر رانا کے بقول ’بلوچ آبادی کا بہت بڑا حصہ مذہبی ہے جو عسکریت پسندوں کی حمایت سے کتراتے ہیں۔ یہ کہہ لیں کہ یہ ایک خاموش اکثریت ہے۔ ایک بڑا مذہبی طبقہ ہے بلوچستان کا وہ ان کے ساتھ نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں یہ اس طبقے کو اپنی طرف کرنے اور اس کی حمایت لینے اور ان میں اپنی حمایت بڑھانے کی ایک مہم اور حکمتِ عملی ہے۔‘

تجزیہ کار اور بلوچستان کے سابق نگراں وزیر اطلاعات جان اچکزئی کا کہنا تھا کہ یہ سوشل میڈیا اور ٹک ٹاک کا زمانہ ہے اس لیے عسکریت پسند اس طرح کے کرتب کرتے رہتے ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’صرف بلوچستان میں نہیں بلکہ خیبر پختونخوا میں بھی یہ رجحان دیکھا گیا ہے کہ جہاں شدت پسند سماجی تقریبات میں نمودار ہوتے ہیں، لیکن جیسے ہی سکیورٹی فورسز وہاں پہنچتی ہیں، یہ لوگ وہاں سے فرار ہو جاتے ہیں۔‘

جان اچکزئی کہتے ہیں کہ درحقیقت انھیں سوشل میڈیا پر اپنی موجودگی ظاہر کرنی ہوتی ہے، اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ ان علاقوں میں اپنی موجودگی زیادہ دیر تک برقرار رکھ سکتے ہیں۔

محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون بابر یوسفزئی سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ اس عید پر بلوچستان میں کہیں بھی امن و امان کا مسئلہ پیدا نہیں ہوا جس کا سہرا حکومت اور سکیورٹی فورسز کے سر جاتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ بلوچستان بھر میں ایف سی، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سکیورٹی کے جو انتظامات کیے تھے اس کی وجہ سے بیرونی ایجنڈے پر کام کرنے والے عناصر اپنے مذموم مقاصد میں ناکام رہے۔

ایک سینئیر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ آئی جی بلوچستان نے ان واقعات کا سختی سے نوٹس لیا ہے اور اس سلسلے میں کارروائی کی ہدایت بھی کی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ان افراد کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور شناخت پر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ایک اور پولیس اہلکار نے بتایا کہ دوردراز کے علاقوں میں بھی سکیورٹی بڑھانے کے لیے متعلقہ حکام کو درخواست کی گئی تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات رونما نہ ہوں۔

’ایک بچے کے جانے سے ساری زندگی بدل گئی‘: پاکستان میں 2025 ایک دہائی کا سب سے خونی سالماما قدیر بلوچ: بلوچستان کے لاپتہ افراد کی آواز، جن کی جنیوا تک لانگ مارچ کی خواہش پوری نہ ہو سکیبلوچستان میں شدت پسندوں کا ٹرین پر حملہ: بی ایل اے کیا ہے اور اس کی قیادت سرداروں سے متوسط طبقے تک کیسے پہنچی؟بینک ڈکیتیاں، پولیس سٹیشن پر حملہ اور ’12 شدت پسندوں کی ہلاکت‘: خاران میں مسلح افراد کے حملے کے دوران عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟بلوچستان میں 10 لاشوں کی برآمدگی کا معمہ: ’ہم پر غم کے پہاڑ گرا دیے گئے‘بلوچستان میں لیویز کا پولیس میں انضمام: پولیسنگ کا 140 سال پرانا قبائلی نظام کیوں ختم کیا جا رہا ہے؟
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More