23 مارچ کو یومِ پاکستان کے موقع پر دنیا بھر میں بلند و بالا عمارتوں کو پاکستانی پرچم کے سبز اور سفید رنگوں کی روشنیوں سے روشن کرنے کی روایت موجود ہے۔
اس سال بھی 23 مارچ کو مختلف ممالک سے ایسے ہی مناظر دیکھنے کو ملے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ صرف پاکستان کے لیے اہمیت کے حامل دن پر صرف پاکستان کے لیے ہی کیا جاتا ہے بلکہ دُنیا بھر کے مُمالک دیگر مُمالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی بنیاد پر اُن مُمالک کے قومی دنوں کے موقع پر اپنی اہم اور بلند عمارتوں پر اُن کے قومی پرچم کے رنگوں سے چراغاں کرتے ہیں۔
کینیڈا سے قطر تک
کینیڈا کے اہم اور بڑے تجارتی شہر مسیساگا میں 23 مارچ یعنی یومِ پاکستان کے موقع پر شہر کے مرکز میں قائم سیوِک سینٹر کے کلاک ٹاور کو پاکستان کے پرچم کے سبز اور سفید رنگ کی روشنیوں سے روشن کیا گیا۔
یومِ پاکستان کے موقع پر دوحہ میں بھی یہ مناظر تب دیکھنے کو ملے کہ جب قطر میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے سکائی لائن کی پاکستانی پرچم کے رنگوں سے سجی تصاویر سامنے آئیں۔
پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے ایکس پر یہ تصاویر سامنے آئیں اور یہ لکھا گیا کہ ’قطر میں شیراٹن ہوٹل، دی ٹورچ اور لوسائل کے ال جابر ٹوئن ٹاورز پر ہمیں پاکستانی پرچم کے رنگ دیکھائی دیے۔‘
ایکس پر پاکستانی سفارت خانے نے مزید ان تصاویر کے ساتھ لکھا کہ ’یہ پاکستان اور قطر کے دوستانہ تعلقات اور یکجہتی کا شاندار مظاہرہ ہے۔‘
23 مارچ یومِ پاکستان کے موقع پر پاکستان میں آزربائیجان کے سفیر کی جانب سے بھی ایک ٹویٹ سامنے آئی جس میںانھوں نے بتایا کہ آزربائیجان میں حیدر علییف سینٹر اور باکو اولمپک سٹیڈیم کو پاکستان کے پرچم کے سبز اور سفید رنگ کی روشنیوں سے خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا۔
پاکستان کا پہلا قومی پرچم کس نے سیا اور اس پر تنازع کیا ہے؟یوم پاکستان کی پریڈ موسم کے باعث ملتوی: 23 مارچ پر فوجی پریڈ کی روایت کب قائم ہوئی؟یومِ آزادی: پرچم لہرانے کے قواعد بھی ہوتے ہیں؟’پاکستان کا پرچم انڈیا کے ترنگے سے بڑا اور اونچا کیوں؟‘ یہ فلیگ کوڈ کی خلاف ورزی ہے‘Getty Images
کُچھ ایسے ہی مناظر ہمیں یومِ پاکستان کے موقع پر دبئی کے معروف برج خلیفہ پر بھی دیکھنے کو ملے جب پاکستان کا قومی پرچم آسمان کو چھوتے اس بُرج پر نمایاں ہوا۔
صحافی مبشر زیدی کی ٹیویٹ بھی ہمیں ایکس پر 23 مارچ کو نظر آئی جہاں انھوں نے لکھا کہ ’گھر جیسا احساس۔۔۔ استنبول میں ترکی کا مشہور باسفورس پل پاکستان سے محبت میں سبز رنگ میں رنگ دیا گیا۔‘ انھوں نے باسفورس پل کی ایک تصویر بھی شئیر کی۔
صحافی مبشر زیدی کی ہی طرح صحافی مُرتضیٰ علی شاہ نے بھی لندن سے 23 مارچ کے روز ایک ویلڈیو شئیر کی جس کے ساتھ انھوں نے ایکس پر لکھا کہ ’یومِ پاکستان کے موقع پر خصوصی تقریب کے دوران ویسٹ منسٹر ایبی پر پاکستانی پرچم لہرایا گیا، جو ایک سالانہ روایت ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ویسٹ منسٹر ایبی کے ایک ترجمان کے مطابق یہ روایت ہے کہ کسی بھی دولتِ مشترکہ ملک کے قومی دن کے موقع پر اگر اس ملک کا اعلیٰ نمائندہ ایبی کی ایون سانگ سروس میں شرکت کی دعوت قبول کرے، تو اس ملک کا پرچم چرچ پر یا اس کے آس پاس لہرایا جاتا ہے۔‘
23 مارچ کے ہی موقع پر سپین میں پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے چند تصاویر شئیر کی گئیں اور ایکس پر ایک پیغام میں لکھا کہ ’میڈرڈ کی مشہور فاؤنٹین ڈی سیبیلیس یومِ پاکستان کی مناسبت سے سبز اور سفید روشنیوں سے سجایا گیا۔‘
یوم پاکستان کی پریڈ موسم کے باعث ملتوی: 23 مارچ پر فوجی پریڈ کی روایت کب قائم ہوئی؟پاکستان کا پہلا قومی پرچم کس نے سیا اور اس پر تنازع کیا ہے؟یومِ آزادی: پرچم لہرانے کے قواعد بھی ہوتے ہیں؟’پاکستان کا پرچم انڈیا کے ترنگے سے بڑا اور اونچا کیوں؟‘ یہ فلیگ کوڈ کی خلاف ورزی ہے‘جب سورۃِ فاتحہ کو پاکستان کا قومی ترانہ بنانے کی تجویز پیش کی گئی