پاکستان میں ہائی آکٹین ایندھن کی قیمت بڑھنے پر بحث: ’پہلے سرکاری گاڑیوں کے لیے مفت پیٹرول ختم کریں‘

بی بی سی اردو  |  Mar 23, 2026

پاکستان کی وفاقی حکومت نے ’لگژری گاڑیوں‘ میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین فیول پر پیٹرولیئم لیوی 100 روپے سے بڑھا کر 300 روپے فی لیٹر کی ہے جس کے بعد پہلی بار اس کی قیمت 500 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہائی آکٹین فیول پر پیٹرولیم لیوی 200 روپے فی لیٹر بڑھانے کا فیصلہ کیا جس کے بعد اس پر لیوی 305 روپے 37 پیسے فی لیٹر ہو گئی جو اس سے پہلے 105 روپے 37 پیسے فی لیٹر تھی۔

ہائی آکٹین پر پیٹرولیم لیوی میں اضافے کے بعد ملک میں اس کی نئی قیمت 535 روپے ہو گئی ہے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق نچلے اور درمیانے طبقے کے زیرِ استعمال عام گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ایندھن کی قیمتیں نہیں بڑھائی گئیں اور صرف لگژری گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین فیول کی قیمت بڑھائی گئی ہے۔

اعلامیے کے مطابق ریگولر پیٹرول پرانی قیمت پر ہی ملے گا اور اس فیصلے سے پبلک ٹرانسپورٹ اور ہوائی جہازوں کے کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا۔

وزیراعظم آفس کے اعلامیے کے مطابق فیصلے سے حکومت کو ماہانہ 9 ارب روپے کی بچت ہو گی جس سے عوام کو ریلیف دیا جائے گا۔

ہائی آکٹین کی قیمت میں اضافے پر اعتراضات کیوں؟

سوشل میڈیا پر یہ موضوع بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ جہاں بعض لوگ اس حکومتی اقدام کو سراہتے نظر آئے تو وہیں کئی نے تنقید کی کہ یہ ناکافی ہے اور اس سے مذکورہ اہداف حاصل نہیں ہو سکیں گے۔

صنعتکار مصدق ذوالقرنین کی رائے ہے کہ ’میں بطور ہائی آکٹین فیول استعمال کرنے والا صارف، اس فیصلے کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔ (مگر) حکومت کو چاہیے کہ اس اضافی لیوی سے حاصل ہونے والی رقم کا فائدہ موٹر سائیکل استعمال کرنے والے شہریوں کو پہنچائے۔‘

تاہم صحافی مبشر لقمان نے سوال کیا کہ ’وزیرِاعظم ایسا تاثر دے رہے ہیں جیسے امیروں پر ٹیکس لگایا جا رہا ہو۔۔۔ کتنی لگژری گاڑیاں سرکاری استعمال میں ہیں اور کتنی مقدار میں مفت ایندھن اِن وی وی آئی پیز کو دیا جاتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ پہلے ملک بھر میں تمام سرکاری گاڑیوں کے لیے ’مفت ایندھن ختم کریں، تب ہی ہمیں یقین ہو گا کہ آپ واقعی کوئی مثبت قدم اٹھا رہے ہیں۔‘

صحافی کامران یوسف نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس اقدام سے ’ممکن ہے کہ ہمارے ایندھن کے ذخائر پہلے ہی کم ہونا شروع ہو جائیں۔‘

’لوگ عام فیول پر منتقل ہو جائیں گے، اگر اُن کے لیے ہائی آکٹین استعمال کرنا لازمی نہ ہو۔‘

صارف یوسف فاروق نے کہا کہ ’اگر مقصد واقعی درآمدات میں کمی لانا اور مالیاتی خسارے کو بند کرنا ہے تو واحد حقیقی حل یہ ہے کہ ہر سطح پر ایندھن کی قیمت میں اضافہ کیا جائے۔‘

’ورنہ یہ خسارہ قرض لے کر یا نوٹ چھاپ کر پورا کیا جائے گا، جس سے کرنسی کمزور ہو گی اور مہنگائی سب کو متاثر کرے گی، خاص طور پر غریب طبقے کو۔‘

دریں اثنا وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے جواب دیا ہے کہ ’حکومت نے اخراجات میں کمی کا آغاز ایندھن کے استعمال میں کمی اور اپنی 60 فیصد گاڑیوں کو بند کر کے کیا۔‘

ان کی رائے میں ہائی آکٹین پر لیوی بڑھانے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ’اس کا عام عوام پر بالکل اثر نہیں پڑتا۔ درحقیقت اس سے حاصل ہونے والی رقم عوام کو ریلیف دینے کے لیے استعمال ہو گی۔‘

خیال رہے کہ پیر کو وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے سرکاری گاڑیوں میں ہائی آکٹین ایندھن کے استعمال پر پابندی عائد کی ہے۔ بیان کے مطابق ’اگر کسی بھی سرکاری محکمے کی گاڑی میں ہائی آکٹین ایندھن کا استعمال ناگزیر ہے تو استعمال کرنے والا اپنی جیب سے خرچ کرسکتا ہے۔‘

’اس سے پہلے سرکاری گاڑیوں کے ایندھن پر 50 فیصد کٹوتی کا اطلاق پہلے ہی چکا ہے۔ اس کے علاوہ 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو گراؤنڈ کیا جا چکا ہے۔‘

کیا پاکستان میں ہائی آکٹین امیر طبقے کی گاڑیوں کا ایندھن ہے؟

حکام کے مطابق پاکستان میں ہائی آکٹین پر چلنے والی گاڑیوں میں لگژری گاڑیاں شامل ہیں جو امیر طبقے کے پاس موجود ہیں۔

ان کے مطابق عام پیٹرول کی کھپت تقریباً ماہانہ بنیادوں پر چھ سے سات لاکھ میٹرک ٹن ہے۔ دوسری جانب ہائی آکٹین کی کھپت تقریباً 30,000 سے 33,000 میٹرک ٹن ہے۔

پاکستان میں تیل و گیس شعبے کے ماہر اور ماضی میں او جی ڈی سی ایل اور پاکستان ریفائنری کے بطور ایم ڈی کام کرنے والے زاہد میر نے بی بی سی کو بتایا کہ عام پیٹرول کی روزانہ کھپت 20,000 میٹرک ٹن ہے جبکہ ہائی آکٹین کی کھپت ایک ہزار میٹرک ٹن کے لگ بھگ ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ ہائی آکٹین پر چلنے والی اکثر گاڑیوں میں لگژری گاڑیاں شامل ہیں جو امیر افراد کے زیرِ استعمال ہیں۔

تاہم میر کے مطابق مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے وہ افراد جو ایک ہزار سے 1300 سی سی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں، وہ بھی اس کا استعمال کرتے ہیں مگر ان کی تعداد کم ہے یا وہ عام پیٹرول اور ہائی آکٹین کو مکس کر کے گاڑی چلاتے ہیں یا کبھی کبھار استعمال کر لیتے ہیں۔

تیل و گیس شعبے کی ماہر عافیہ ملک نے بتایا کہ عام پیٹرول پر چلنے والی 70 فیصد موٹر سائیکلیں ہیں اور باقی 30 فیصد گاڑیاں استعمال کرتی ہیں جو کم پاور کی ہوتی ہیں، جبکہ ہائی آکٹین ان گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے جو لگژری ہیں، جیسے کہ ایس یو ویز میں اس کا استعمال بہت زیادہ ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شیعہ علما سے ملاقات کا احوال: ’ایران کے وفاداروں کی پاکستان سے نکل جانے کی بات ہوئی مگر اس کا پسِ منظر تھا‘قطر سے ایل این جی کی درآمد متاثر ہونے سے کیا پاکستان میں گیس کا بحران جنم لے سکتا ہے؟’پاکستان کا شکریہ‘: ایران جنگ کے دوران عراقچی کا بیان جو اسلام آباد کی ’محتاط‘ حکمت عملی کی طرف اشارہ ہےشاہین تھری اور ابابیل بیلسٹک میزائل: کیا پاکستان واقعی ایسے میزائل بنا سکتا ہے جن کی پہنچ امریکہ تک ہو؟کیا ہائی آکٹین پر لیوی بڑھانے سے حکومت نو ارب روپے حاصل کر پائے گی؟

حکومت نے ہائی آکٹین پر پیٹرولیئم لیوی کو 200 روپے فی لیٹر بڑھا کر اس سے 9 ارب روپے کی اضافی آمدن کا تخمینہ لگایا ہے۔

ہائی آکٹین پر 200 روپے اضافے کے بعد اس کی قیمت 530 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی جس کے بعد اس کی کھپت میں کمی کا خدشہ ہے۔

زاہد میر کے مطابق امکان کم ہے کہ حکومت یہ رقم حاصل کر پائے گی۔

انھوں نے کہا کہ لیوی میں اضافے سے قبل ہائی آکٹین اور عام پیٹرول کی قیمت میں 10 سے 20 روپے کا فرق تھا۔ اس فرق کے باوجود اس کی کھپت زیادہ نہیں تھی۔

اب ہائی آکٹین عام پیٹرول کے مقابلے میں 200 روپے سے زائد مہنگا ہو گا، جس کے بعد امکان ہے کہ لوگ اس کا کم استعمال کریں گے۔

تاہم عافیہ ملک کے مطابق حکومت ہائی آکٹین پر نو ارب روپے کا اضافی ریونیو اکٹھا کر سکتی ہے کیونکہ ’امیر طبقہ اس زیادہ قیمت کو برداشت کر سکتا ہے۔‘

مگر وہ بھی سمجھتی ہیں کہ ’متوسط طبقہ جو کبھی کبھار اس فیول کا استعمال کرتا ہے، اب اس کا استعمال ترک کر دے گا۔‘

کیا گاڑیاں ہائی آکٹین سے عام پیٹرول پر منتقل ہو جائیں گی؟

زاہد میر کے مطابق ہائی آکٹین کی قیمت میں بڑے اضافے کے بعد اس کی کھپت کم ہو گی۔

صرف وہ گاڑیاں اس پر چلتی رہیں گی جو صرف ہائی آکٹین پر چل سکتی ہیں یا جن کے مینوفیکچررز اس کی ہدایت دیتے ہیں۔

کچھ لگژری گاڑیوں کے انجن ایسے ڈیزائن ہوتے ہیں کہ وہ صرف ہائی آکٹین پر ہی چلتے ہیں اور عام پیٹرول سے ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

اب قیمت کا فرق اتنا بڑھ گیا ہے کہ وہ صارفین جو پہلے کم فرق کی وجہ سے ہائی آکٹین استعمال کرتے تھے، اب اس کے متحمل نہیں ہو سکیں گے۔

عام پیٹرول کی قیمت کتنی بڑھ سکتی ہے؟

پاکستان میں ہائی آکٹین پر لیوی بڑھانے کے بعد اگرچہ اس کی قیمت میں بڑا اضافہ ہوا، لیکن گذشتہ دو ہفتہ وار جائزوں میں حکومت نے پیٹرول کی قیمت نہیں بڑھائی۔

مارچ کے پہلے ہفتے میں پیٹرول 55 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا تھا۔

ایران، امریکہ اور اسرائیل کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی تیل قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔

نیشنل ریفائنری کے سی ای او اسد حسن کے مطابق موجودہ عالمی قیمتوں کے مطابق پاکستان میں پیٹرول کی قیمت تقریباً 450 روپے فی لیٹر بنتی ہے، جبکہ اس وقت مقامی قیمت 322 روپے ہے۔

زاہد میر کا کہنا ہے کہ 450 روپے تک اضافے کا تخمینہ موجودہ عالمی قیمتوں پر مبنی ہے، البتہ ہفتے کے اختتام تک قیمتوں میں ردوبدل کے بعد ہی درست اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شیعہ علما سے ملاقات کا احوال: ’ایران کے وفاداروں کی پاکستان سے نکل جانے کی بات ہوئی مگر اس کا پسِ منظر تھا‘’پاکستان کا شکریہ‘: ایران جنگ کے دوران عراقچی کا بیان جو اسلام آباد کی ’محتاط‘ حکمت عملی کی طرف اشارہ ہےقطر سے ایل این جی کی درآمد متاثر ہونے سے کیا پاکستان میں گیس کا بحران جنم لے سکتا ہے؟دبئی، ابوظہبی میں دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت: ’مظفر بچپن میں یتیم ہوا، اب اس کے بچے بھی کم عمری میں باپ کھو بیٹھے‘شاہین تھری اور ابابیل بیلسٹک میزائل: کیا پاکستان واقعی ایسے میزائل بنا سکتا ہے جن کی پہنچ امریکہ تک ہو؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More