Getty Images
اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کو آنکھ کے علاج کی غرض سے 23 مارچ کو دوبارہ ہسپتال لایا گیا جہاں انھیں انٹرا وٹریل انجیکشن کی تیسری خوراک دی گئی۔
ہپستال انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’عمران احمد خان نیازی ولد اکرام اللہ خان نیازی (عمر 74 سال) کو 23 مارچ 2026 کو انٹرا وٹریل انجیکشن کی تیسری خوراک کے لیے پمز ہپستال لایا گیا۔ یہ پروسیجر کرنے سے قبل آنکھوں کے ماہر ڈاکٹروں نے اُن کا معائنہ کیا اور ان کی طبی حالت مستحکم تھی۔‘
پمز کی جانب سے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’مریض کی باقاعدہ رضامندی حاصل کرنے کے بعد اور معیاری مانیٹرنگ کے تحت، آپریشن تھیٹر میں تمام حفاظتی اقدامات اور پروٹوکول اپناتے ہوئے، سرجنز نے اینٹی وی ای جی ایف کا تیسرا انٹراویٹریئل انجیکشن لگایا۔‘
’یہ عمل ڈے کیئر سرجری کے طور پر انجام دیا گیا۔ بعد ازاں انھیں مزید نگہداشت، فالو اپ مشوروں اور دستاویزات کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔‘
یاد رہے کہ عمران خان کو اس انجیکشن کی دوسری خوراک 23 اور 24 فروری کی درمیانی شب دی گئی تھی اور اس مقصد کے لیے انھیں اڈیالہ جیل سے پمز ہسپتال ہی لایا گیا تھا۔
اڈیالہ جیل انتظامیہ کے ایک رُکن نے بی بی سی کو بتایا کہ عمران خان کو جیل سے ہسپتال لانے، واپس لے جانے اور یہ پروسیجر کرنے میں لگ بھگ دو گھنٹوں کا وقت صرف ہوا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو علاج کی غرض سے فوری طور پر اڈیالہ جیل سے نجی ہسپتال منتقل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے بانی تحریک انصاف کی صحت کی جانچ کے لیے چیف کمشنر اسلام آباد کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔
Getty Imagesعمران خان قریب دو سال سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ان کے اہلخانہ جیل انتظامیہ پر باقاعدگی سے ملاقات نہ کروانے کا الزام عائد کرتے ہیں
12 مارچ کو جاری ہونے والے اس فیصلے کے مطابق چیف کمشنر اسلام آباد کو حکم دیا گیا تھا کہ اس مجوزہ میڈیکل بورڈ میں پمز ہسپتال کے ڈاکٹر عارف اور شفا آئی ہسپتال کے ڈاکٹر ندیم قریشی کو بھی شامل کیا جائے اور اس میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی روشنی میں بانی تحریک انصاف عمران خان کو ہسپتال سے باہر منتقل کرنے یا نہ کرنے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو پر مشتمل دو رکنی ڈویژن بینچ نے اس کیس کی سماعت کی تھی۔
ڈاکٹر ندیم قریشی شفا آئی ہسپتال کے ریٹینا سپیشلسٹ ہیں اور عمران خان کی صحت کے حوالے سے سپریم کورٹ کے حکم پر تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ کے بھی رُکن ہیں جبکہ ڈاکٹر عارف اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں شعبہ امراضِ چشم کے سربراہ ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے پر تنقید کی تھی۔
پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری نے کہا تھا کہ ’ہم اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جائیں گے تاکہ ڈاکٹر عاصم یوسف کو اس (مجوزہ) میڈیکل بورڈ میں شامل کیا جا سکے۔ کوئی بھی میڈیکل بورڈ جس میں کم از کم ایک ذاتی ڈاکٹر، یعنی ڈاکٹر فیصل یا ڈاکٹر عاصم شامل نہ ہوں، اسے عمران خان کا خاندان اور پی ٹی آئی مسترد کرتے ہیں۔‘
یاد رہے کہ دو مارچ کو پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں یہ درخواست دائر کی تھی کہ بانی پی ٹی آئی کو فوری طور پر آنکھوں کے علاج کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔
درخواست میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ جیل حکام عمران خان کو لاحق صحت کے سنگین مسائل پر توجہ نہیں دے رہے ہیں اور ان کے طبی معائنے خفیہ انداز میں کیے جا رہے ہیں جبکہ اُن کے ذاتی معالجین اور اہلخانے کو بھی اُن تک مکمل رسائی نہیں دی جا رہی ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس ارباب طاہر نے ریمارکس دیے تھے کہ ’شفا انٹرنیشنل ہسپتال بے شک دو گھنٹے کے لیے شفٹ کر دیں۔ ہم یہ نہیں کہیں گے تین دن یا تین ماہ رکھیں۔ دیکھ لیں (وہاں شفٹ نہ کر کے) یہ ساری ذمہ داری آپ لے رہے ہیں۔ اگر کل کچھ ہو گیا تو کیا آپ ذمہ داری لیں گے؟‘
اس پر ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کا کہنا تھا کہ ’ہم ذمہ داری لیں گے۔ بانی کی صحت کی موجودہ صورتحال تسلی بخش ہے اور اُن کا بہترین علاج ہو رہا ہے۔‘
سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن کیا ہے؟Getty Images
حکومت اور عمران خان کے وکلا کے مطابق عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی اس لیے متاثر ہوئی کیونکہ وہ سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن سے متاثرہ ہیں۔
برطانیہ میں صحت عامہ کے ادارے این ایچ ایس کی ویب سائٹ کے مطابق معمر افراد میں بینائی کمزور ہونے کی عمومی وجہ ریٹینل وین آکلوژن یعنی پردۂ چشم کی نس میں رکاوٹ پیدا ہونا ہے جس سے وہاں خون کا لوتھڑا بن سکتا ہے۔
آنکھ کے کالے حصے کے پیچھے واقع پتلی تہہ ریٹینا کہلاتی ہے جو کہ پرانے وقتوں کے کیمروں کی فلم جیسی ہوتی ہے۔ نس میں رکاوٹ پیدا ہونے سے آنکھ سے خون یا دوسرے مائع ریٹینا میں لیک ہوتے ہیں جس سے زخم بنتے ہیں، سوجن ہوتی ہے یا آکسیجن کی قلت بھی ہوتی ہے۔ یوں روشنی جذب کرنے والی خلیات کے کام میں خلل پیدا ہوتی ہے اور بینائی کمزور ہوتی ہے۔
این ایچ ایس کے مطابق یہ حالت 60 سال سے کم عمر افراد میں عام نہیں ہے۔
ریٹینل وین آکلوژن کی دو اقسام ہیں جن میں سے ایک سینٹرل رینیٹل وین آکلوژن کہلاتی ہے جس میں رکاوٹ مرکزی نس میں پیدا ہوتی ہے۔ این ایچ ایس کے مطابق اس حالت میں بینائی زیادہ بُری طرح متاثر ہوتی ہے۔
این ایچ ایس کی ویب سائٹ کے مطابق اس حالت کی وجوہات میں ہائی بلڈ پریشر، ہائی کالیسٹرول، گلاکوما، ذیابیطس، سگریٹ نوشی اور خون کی نایاب بیماریاں شامل ہیں۔
ماہرین کی رائے ہے کہ اس حالت کی جلد تشخیص ضروری ہے تاکہ اس کا علاج ممکن ہو سکے۔
عمران خان کی میڈیکل رپورٹ: ’ورٹیگو‘ اور ’ٹائنائٹس‘ کیا ہوتا ہے؟حکومتی دستاویزات کے مطابق اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی زندگی کیسی ہے؟عمران خان کی جیل میں پُش اپس لگانے کی تصویر کی حقیقت کیا ہے؟عمران خان جیلر ہے یا قیدی؟کارکنوں کے بھیس میں پولیس اہلکاروں کی ’خفیہ‘ میٹنگز میں شرکت: وہ سرکاری گواہ جن کے بیانات نو مئی مقدمات میں سزاؤں کی وجہ بنے