’اگلی صف میں مرد کھڑے ہوتے ہیں، پیچھے کھڑا ہونا معیوب سمجھا جاتا ہے‘: پاکستان میں خواتین کے لیے مساجد میں جگہ کیوں نہیں؟

بی بی سی اردو  |  Mar 20, 2026

Getty Imagesجن مساجد کا میں نے مزید جائزہ لیا ان میں سے کچھ میں خواتین کے لیے صرف ایک چھوٹا سا کمرہ مختص تھا

گذشتہ برس مجھے رمضان کا مہینہ برطانیہ میں گزارنے کا موقع ملا۔ وہاں اس بات نے مجھے خاص طور پر متاثر کیا کہ تقریباً ہر مسجد میں خواتین کے لیے علیحدہ اور باقاعدہ جگہ موجود تھی اور بڑی تعداد میں عورتیں نماز اور تراویح کے لیے مساجد کا رُخ کرتی تھیں۔ یہ منظر نہ صرف حوصلہ افزا تھا بلکہ ایک ایسے سماجی توازن کی عکاسی کرتا تھا جس کی کمی ہمیں پاکستان میں شدت سے محسوس ہوتی ہے۔

رواں ماہ رمضان میں یہ سوال میرے ذہن میں بار بار اُبھرتا رہا کہ آخر پاکستان میں خواتین کو مسجد میں نماز ادا کرنے سے متعلق سہولیات کا معیار کیا ہے؟

اسی جستجو میں، میں نے اپنے اردگرد کی مساجد کا رخ کیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ وہاں خواتین کے لیے کیا سہولیات موجود ہیں۔

اپنے گھر کے قریب کئی مساجد کا جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوا کہ بہت سے مساجد میں ایسی کوئی سہولت یکسر میسر ہی نہیں تھی۔ کچھ فاصلے پر جا کر بالآخر ایک مسجد ملی جہاں بتایا گیا کہ خواتین کے لیے اوپر علیحدہ جگہ موجود ہے۔

وہاں پہنچ کر دیکھا تو واقعی چند خواتین نماز ادا کر رہی تھیں، مگر یہ سہولت محدود اور کم رسائی والی محسوس ہوئی۔

جن مساجد کا میں نے مزید جائزہ لیا، ان میں سے کچھ میں خواتین کے لیے صرف ایک چھوٹا سا کمرہ مختص تھا، جہاں نہ تو مناسب سہولیات موجود تھیں اور نہ ہی صفائی کا خاطر خواہ انتظام۔ بعض جگہوں پر داخل ہونے کا راستہ بھی غیر مناسب اور گندا تھا، جو خواتین کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتا ہے۔

اس کے علاوہ کئی مساجد میں خواتین کے لیے جگہ مسجد کی پہلی منزل پر تھی، جہاں پہنچنے کے لیے صرف سیڑھیاں تھیں، جس کی وجہ سے بزرگ خواتین اور خصوصی ضروریات رکھنے والی خواتین کے لیے وہاں جانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

BBCکئی مساجد میں خواتین کے لیے جگہ مسجد کی پہلی منزل پر تھی

پاکستان جیسے ملک میں جہاں 95 فیصد آبادی مسلم ہے، مساجد میں خواتین کے لیے جگہ کا نہ ہونا ایک حیران کن حقیقت ہے۔ اور یہ صرف میرا ذاتی تجربہ نہیں بلکہ بہت سی خواتین کا مشترکہ احساس ہے۔

اسی کمی کے باعث خواتین نے اپنی سطح پر متبادل انتظامات کیے ہیں۔ اکثر محلوں میں عورتیں تراویح کے لیے کسی ایک گھر یا مخصوص جگہ پر جمع ہو جاتی ہیں۔ تاہم یہ سب کچھ ان کا ذاتی اقدام ہوتا ہے، نہ کہ کسی منظم یا ادارہ جاتی سہولت کا حصہ۔

مزید یہ کہ جن مساجد میں خواتین کے لیے جگہ موجود بھی ہے وہ اکثر اُن کے گھروں سے کافی فاصلے پر ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے وہاں باقاعدگی سے جانا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

جن خواتین سے میں نے بات کی، ان کا کہنا تھا کہ مساجد میں بچوں کے لیے مناسب جگہ کا نہ ہونا بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے، جس کی وجہ سے خواتین کے لیے اجتماعی نماز میں شرکت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اسلام آباد کی مسجد میں موجود ایک خاتون نے مجھے بتایا کہ ’مجھے 20 سے 25 منٹ لگ جاتے ہیں تراویح پڑھنے آنے کے لیے، میرے گھر کے قریب مردوں کے لیے تو دو، تین جامع مساجد ہیں لیکن خواتین کے لیے کوئی انتظام نہیں ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ شہر میں ایسی مساجد نہیں ہیں جہاں مرد و خواتین ساتھ نماز پڑھتے ہوں۔

’اگلی صف میں مرد حضرات کھڑے ہوتے ہیں اور آپ پیچھے نہیں کھڑے ہو سکتے کیونکہ اسے اسے معیوب بھی سمجھا جاتا ہے۔‘

مزید یہ کہ بعض مساجد میں مناسب پردے یا علیحدہ انتظام نہ ہونے کی وجہ سے گھروں کے مرد خواتین کو مسجد جانے سے روکتے ہیں، خاص طور پر جب خواتین کے لیے الگ داخلی راستہ موجود نہ ہو۔

BBCاسلام آباد میں چھوٹی بڑی 1331 مساجد موجود ہیں مگر صرف چند ہی میں خواتین کے لیے نماز پڑھنے کی سہولت موجود ہے

اسی تناظر میں، حیا حریم نے خواتین کے لیے ایک علیحدہ مرکز قائم کیا ہے، جہاں خواتین نہ صرف سیکھ سکتی ہیں بلکہ اجتماعی طور پر تراویح کی ادائیگی بھی کر سکتی ہیں۔

حیا حریم کے مطابق اس اقدام کے پیچھے ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ خواتین کو بھی ایسا ماحول میسر آنا چاہیے جہاں وہ مردوں کی طرح کمیونٹی بنا سکیں اور ایک مشترکہ جگہ میں عبادت کر سکیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ بعض خواتین دور دراز علاقوں سے صرف اس احساسِ یکجہتی کو محسوس کرنے کے لیے آتی ہیں جو اجتماعی عبادت میں حاصل ہوتا ہے۔

BBCحیا کریم

وزیرِ مذہبی امور سردار محمد یوسف کے مطابق صرف اسلام آباد کی حدود میں چھوٹی بڑی 1331 مساجد موجود ہیں مگر کوئی ایسا کوئی قانون موجود نہیں جو مساجد میں خواتین کے لیے علیحدہ جگہ کو لازمی قرار دے۔

انھوں نے بتایا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اور دیگر شہروں کی مساجد میں خواتین کے لیے مخصوص جگہیں شامل کی جائیں گی جبکہ نجی اداروں کے لیے بھی یہ لازمی قرار دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو اس حوالے سے قانون سازی بھی کی جا سکتی ہے۔

یہ صورتحال خواتین کے ساتھ ایک قسم کے امتیازی سلوک کی عکاسی کرتی ہے، جہاں انھیں عبادت کے لیے محفوظ اور پرسکون جگہ فراہم نہیں کی جاتی۔ یہ معاملہ صرف جگہ تک محدود نہیں بلکہ یہ عبادت کے حق، عوامی مقامات تک رسائی اور اسلام میں مساوات کے اصول سے بھی جڑا ہوا ہے۔

چونکہ اسلام مساوات اور خواتین کی معاشرتی شرکت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ خواتین کو بھی ایسی محفوظ جگہیں فراہم کی جائیں جہاں وہ نہ صرف عبادت کر سکیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر ایک مضبوط کمیونٹی بھی تشکیل دے سکیں۔

جب تک اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے جاتے، یہ حقیقت برقرار رہے گی کہ دیگر شعبوں کی طرح خواتین کو مسجد میں نماز اور تراویح ادا کرنے کے لیے بھی مردوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ جدوجہد کرنا پڑتی ہےشاید دس قدم نہیں، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔

وائرل کشمیری چوڑیاں جو ’کشمیری نہیں ہیں‘: ’یہ سب ٹک ٹاکرز کا کیا دھرا ہے‘عرب سادات کے پاس موجود پیغمبرِ اسلام اور دیگر شخصیات سے منسوب تبرکات لاہور کی بادشاہی مسجد کیسے پہنچے؟’خواتین کو کوئی کام پر نہیں رکھے گا‘: انڈین سپریم کورٹ نے ماہواری میں چھٹی کی درخواست مسترد کر دیاسلام آباد میں گھریلو تشدد کے نئے قانون میں ’طلاق اور دوسری شادی کی دھمکی‘ قابل سزا جرم کیوں ہے؟
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More