Getty Images'ہماری خود مختاری پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں‘: قطر
غیر متوقع طور پر بہت سی خلیجی ریاستیں نہ چاہتے ہوئے بھی مشرقِ وسطیٰ میں لڑی جانے والی نئی جنگ میں فرنٹ لائن پر آ گئی ہیں، اور اس صورتحال پر وہ شدید برہم بھی ہیں۔
ایران نے امریکی و اسرائیلی فضائی حملوں کا جواب دیتے ہوئے گذشتہ چار روز کے دوران اپنے عرب پڑوسیوں پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون داغے ہیں۔
ایران جنگ پر تازہ ترین تفصیلات بی بی سی اُردو کے لائیو پیج پر
ایران کے اِن جوابی حملوں کا بنیادی ہدف سعودی عرب سمیت اِن تمام خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈے ہیں، لیکن اب وقت کے ساتھ ساتھ ان خلیجی ممالک میں موجود سویلین انفراسٹرکچر اور توانائی (تیل و گیس) کے بنیادی ڈھانچے بھی ایرانی حملوں کی زد میں آ رہے ہیں۔
اور بلاواسطہ اِن جوابی حملوں کی مدد سے ایران خلیجی ممالک سے متعلق دنیا میں پائے جانے والے اِس تصور کو بھی نشانہ بنا رہا ہے کہ یہ ممالک سفر، سیاحت اور معیشت کے اعتبار سے محفوظ ہیں۔
ساتھ ہی ساتھ یہ جوابی حملے خلیجی ممالک میں تیل اور گیس کی صنعت کو بھی بُری طرح متاثر کر رہے ہیں، جو اس خطے میں معیشت کی بنیاد ہے۔
عرب حکومتیں پہلے روز سے ہی یہ جنگ نہیں چاہتی تھیں اور خلیجی رہنماؤں نے اس کو روکنے کی کوششیں بھی کیں۔
تو اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایران کے اس نوعیت کے جوابی حملے خلیجی ریاستوں کو بھی اس جنگ میں کھینچ لیں گے؟
قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے منگل کو ایک پریس بریفنگ میں کہا ’تمام ریڈ لائنز (سُرخ لکیریں) پہلے ہی عبور کی جا چکی ہیں۔‘
انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہماری خود مختاری اور سالمیتپر مسلسل حملے ہو رہے ہیں۔ ہمارے بنیادی انفراسٹرکچر پر حملے ہو رہے ہیں۔ ہمارے رہائشی علاقوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ اور ان حملوں کے اثرات بالکل واضح ہیں۔ جہاں تک ممکنہ جوابی کارروائی کا تعلق ہے، تو ہماری قیادت کے پاس تمام موجود ہیں۔ لیکن ہم یہ بالکل واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ایسے حملے نہ تو نظرانداز کیے جا سکتے ہیں اور نہ ہی ان کا جواب دیے بغیر انھیں چھوڑا جا سکتا ہے۔‘
Reutersدبئی میں جبلِ علی بندرگاہ کا ایک حصہ بھی ایرانی میزائل کا ملبہ گرنے سے متاثر ہوا اور وہاں آگ بھڑک اٹھی
دوسری جانب سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ ایرانی حملوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے ’سعودی پریس ایجنسی‘ نے منگل کو سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی زیر قیادت ہونے والے کابینہ اجلاس سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی ہے۔
خبررساں ادارے کے مطابق سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
اس موقع پر سعودی کابینہ نے زور دیا کہ مملکت ’اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لانے کے لیے تیار ہے تاکہ اُن اتحادی ممالک کی حمایت کی جا سکے‘ جو ایران کی جانب سے کسی ممکنہ حملے کا جواب دے رہے ہیں۔
ایران کی جانب سے جوابی کارروائیوں کے دوران خلیجی ریاستوں پر داغے جانے والے زیادہ تر میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ہدف پر پہنچنے سے قبل ہی تباہ کر دیا جاتا ہے مگر تباہ ہونے والے میزائلوں کا ملبہ آتشزدگی اور ہلاکتوں کا سبب بنتا ہے۔
تاہم ڈرون، جو دفاعی نظام سے زیادہ آسانی سے گزر جاتے ہیں، اکثر معمولی نقصان پہنچاتے ہیں اور یہی صورتحال خلیج میں تجارت، سفر اور سیاحت کے نظام کو درہم برہم کیے ہوئے ہے۔
اور ایران کی حکمتِ عملی بھی بظاہر یہی ہے، یعنی اپنے عرب پڑوسیوں کے لیے خطرات بڑھانا تاکہ وہ امریکہ پر جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔
چیف آف سٹاف کے ہاتھ پر بندھی ڈیوائس اور حملوں کی نگرانی کرتے ٹرمپ: انتہائی حساس ’وار روم‘ کی کہانی بیان کرتی چار تصاویرایران کے اتحادی روس اور چین اس کی مدد کیوں نہیں کر پا رہے؟
فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایران نے تقریباً اتنے ہی میزائل اور ڈرون متحدہ عرب امارات پر داغے ہیں جتنے کہ اسرائیل پر۔ متحدہ عرب امارات خلیج کا سب سے بڑا تجارتی اور سیاحتی مرکز ہے۔
خطے کی اہم تیل اور گیس کی صنعت کو ایران اپنے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہے، کیونکہ اس میں خلل ڈالنا عالمی معیشت کو جھٹکا دے سکتا ہے۔
تاہم اس ایرانی حکمتِ عملی کا الٹا اثر بھی ہو سکتا ہے۔ ایران خطرہ مول لے رہا ہے مگر اس کا اثر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خلیجی ریاستیں واشنگٹن کے مزید قریب ہو جائیں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ خلیجی ریاستیں کسی نہ کسی شکل میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف اس جنگ کا حصہ بن جائیں۔
تاحال خلیجی ریاستوں نے امریکہ کو اپنی سرزمین یا فضاؤں سے ایران پر حملے کرنے کی اجازت نہیں دی ہے، مگر یہ صورتحال اب بدل سکتی ہے اور وہ کسی بھی وقت ایران کے خلاف ہونے والی فوجی کارروائیوں میں شریک ہونے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
فی الحال خلیجی ممالک اپنی توجہ اپنے دفاع پر مرکوز کیے ہوئے ہیں، لیکن یہ سب اس بات پر منحصر ہے کہ جنگ اور حملے مزید کتنی دیر تک جاری رہتے ہیں۔
کچھ ریاستیں اس جنگ میں اسرائیل کا ساتھ دینے کے تاثر سے بدستور گریزاں ہوں گی۔ اسرائیل کی غزہ میں کی گئی مہلک اور تباہ کن کارروائیوں، اور لبنان و شام جیسے ممالک میں اس کی فوجی مداخلت نے عربوں کے ساتھ اس کے تعلقات کو مزید کشیدہ کیا ہے۔
جب اسرائیل نے گذشتہ سال قطر پر حملہ کر کے وہاں حماس کی قیادت کے چند اراکین کو قتل کرنے کی کوشش کی، تو عرب ریاستیں شدید غصے میں آ گئی تھیں۔
تاہم اس کے باوجود اب یہ واضح ہے کہ ایران کے جوابی حملوں نے خلیجی ریاستوں کے درمیان اتحاد کو مزید مضبوط کیا ہے۔
خلیج تعاون کونسل کے چھ رکن ممالک، بشمول سعودی عرب، کویت، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور عمان، نے اتوار کو ہنگامی اجلاس میں یکجہتی کا اظہار کیا اور عہد کیا کہ وہ ’اپنی سلامتی اور استحکام کے دفاع اور اپنی سرزمین، شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے، بشمول جارحیت کا جواب دینے کا آپشن۔‘
اماراتی صدر کے سیینئر سفارتی مشیر انور قرقاش نے ایران سے اپیل کی ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لے۔ انھوں نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’آپ کی جنگ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ نہیں ہے۔اپنے پڑوسیوں کے ساتھ عقل و ذمہ داری کے ساتھ پیش آئیں، اس سے پہلے کہ (آپ کی عالمی سطح پر) تنہائی اور جاری کشیدگی کا دائرہ وسیع ہو جائے۔‘
چیف آف سٹاف کے ہاتھ پر بندھی ڈیوائس اور حملوں کی نگرانی کرتے ٹرمپ: انتہائی حساس ’وار روم‘ کی کہانی بیان کرتی چار تصاویرایران کے اتحادی روس اور چین اس کی مدد کیوں نہیں کر پا رہے؟ٹرمپ کا جُوا، نیتن یاہو کی کرسی یا ایران کی بقا میں فتح: تیزی سے پھیلتی جنگ میں جیت کا معیار کیا ہو گا؟خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کے دوران لوگوں نے کیا دیکھا: ’خود کو خطرے سے دور سمجھتے تھے، سوچا نہیں تھا یہ دن دیکھنا پڑے گا‘