انڈین کسان پاکستان کی سرحد پر لگی باڑ سے پریشان: میری، میرے ٹریکٹر یہاں تک کہ روٹی سبزی کی بھی چیکنگ ہوتی ہے‘

بی بی سی اردو  |  Feb 22, 2026

انگریز سنگھ انڈین ریاست پنجاب کت ترن تارن ضلع کے ایک سرحدی گاؤں کے کسان ہیں۔ لیکن ان کے لیے کاشت کاری کرنا باقی کسانوں کے مقابلے میں کافی مشکل ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ انھیں ہفتے میں صرف تین دن ہی اپنے کھیتوں پر کام کرنے کی اجازت ملتی ہے۔ اس کی وجہہے ان کی بیس ایکڑ زمین جو اس سرحدی باڑ کے دوسری جانب واقع ہے جو انڈیا کی حکومت نے پاکستان کے ساتھ سرحد پر لگا رکھی ہے۔

انگریز سنگھ کی زمین سرحد اور خاردار تاروں کے درمیان واقع ہے۔ انھیں اپنے کھیت پر کام کرنے کے لیے صبح پانچ بجے سے ہی تیاری کرنی پڑتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ میری 20 ایکڑ زمین خارداد تاروں کے اس پار ہے تو مجھے فینسنگ کے گیٹ پر سات بجے پہنچنا پڑتا ہے جہاں میری، میرے ٹریکٹر، سامان، یہاں تک کی روٹی اور سبزی کی بھی باریکی سے چیکنگ کی جاتی ہے۔

یہ مرحلہ پورا ہوتے ہوتے دس سے گیارہ بج جاتے ہیں اور شام چار بجے تک ہی کام کرنے کی اجازت ہے۔ بروقت گیٹ پر پہنچنے کے لیے وقت سے بہت پہلے واپس آنا پڑتا ہے اور ایک بار پھر چیکنگ کے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے۔

انگریز سنگھ کہتے ہیں کہ کھیتی 24 گھنٹے دیکھ بھال مانگتی ہے۔ پورا وقت نہ ملنے کے سبب پیداوار ہمیشہ خراب ہوتی ہے۔

اس سرحدی گاؤں کے بیشتر کسانوں کی زمینیں خاردار تاروں کے اُس پار ہیں۔

ایسی ہی مشکل کا سامنا ہرچند سنگھ کو بھی ہے جو امرتسر کے ایک گاوں میں رہتے ہیں۔ ان کی زمین بھی اسی طرح خاردار باڑ کے پار واقع ہے۔

ہرچند سنگھ نے بتایا کہ ’ہفتے میں تین دن گیٹ کھلتا ہے تو تین دن میں دس بارہ گھنٹے ہی ملتے ہیں۔ ایک دن میں چار گھنٹے سے زیادہ وقت نہیں ملتا اس لیے فصل پوری ہو نہیں پاتی۔‘

کسانوں کے لیے فینسنگ عبور کرنے کے لیے شناختی کارڈ بنے ہوئے ہیں لیکن اگر وہاں مزدور لے جانا ہے تو پہلے ان کی درخواست دینی پڑتی ہے، پھر سرپنچ سے اس کی اٹیسٹیشن کروانی پڑتی ہے اور اس کے بعد بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی پوسٹ پر جانا پڑتا ہے جس کے بعد کمپنی کمانڈر اس کی تصدیق کرتا ہے۔

’اس کے بعد ہم گیٹ پر جاتے ہیں، وہاں جو گارڈ ہوتے ہیں وہ ان کے نام لکھتے ہیں، ان کا شناختی کارڈ اور ثبوت وغیرہ لیتے ہیں۔ چار پانچ گھنٹے اسی عمل میں گزر جاتے ہیں۔‘

انڈین پنجاب کے سرحدی اضلاع کے کسان کئی عشروں سے یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ سرحد کے نزدیک انڈیا کی حدود میں جو خاردار تاروں کی باڑ لگائی گئی ہے، اسے سرحد کے اور نزدیک لگا دیا جائے تاکہ وہ کسی مشکل کے بغیر اپنے کھیتوں میں کام کر سکیں۔

پنجاب کی ریاستی حکومت نے بتایا ہے کہ ریاست کے وزیراعلی نے کسانوں کے اس مطالبے پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے بات کی تھی اور انھوں نے بتایا ہے کہ مرکزی حکومت نے کسانوں کے اس مطالبے کو اصولی طور پر مان لیا ہے۔

انڈین پنجاب کی پاکستان کے ساتھ 532 کلومیٹر لمبی بین الاقوامی سرحد ہے جو فاضلکا، فیروزپور، ترن تارن، امرتسر، گرداسپور اور پٹھان کوٹ کے اضلاع سے ہو کر گزرتی ہے۔ یہ پورا خطہ انتہائی زرخیز ہے جہاں کے لوگوں کا بنیادی ذریعہ معاش کھیتی باڑی ہی ہے۔

انڈین پنجاب میں سکھ علیحدگی پسندی کی تحریک کے عروج کے دوران 1988 میں خاردار تاروں کی الیکٹرک فینسنگ کا کام شروع کیا گیا جو 1990 تک پورا ہو گیا لیکن زمین ناہموار ہونے کے سبب یہ باڑ کہیں تو سرحد کے بالکل نزدیک ہے لیکن کہیں کہیں اصل سرحد سے دو سے تین کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔

اس کے نتیجے میں کسانوں کی 21 ہزار 6 سو ایکڑاور 10 ہزار ایکڑ سرکاری زرعی زمین سرحد اور باڑ کے درمیان چلی گئی۔

ستلج کے سیلابی پانی میں بہہ کر پاکستان پہنچنے والے انڈین نوجوانوں پر قصور اور لاہور کی جیلوں میں کیا بیتی؟انڈین شہری کا سکھ رہنما کے قتل کی سازش کا اعتراف: ’مودی حکومت نے امریکی زمین پر کرائے کے قاتلوں کےذریعے قتل کی سازش تیار کی‘انڈین خاتون ’سربجیت کور‘ کی اپنے پاکستانی شوہر کے گھر واپسی: ’ہمیں پیار کرتے آٹھ سال ہو گئے تھے، یقین تھا کہ ہم ضرور ملیں گے‘100 روپے کی گندم چوری کا مقدمہ لیکن ملزم کی گرفتاری میں 45 سال کیوں لگے؟

پنجاب بارڈر کسان یونین کے سربراہ رگھبیر سنگھ بنگالہ کہتے ہیں کہ ’فینسنگ سے پہلے ایک ہائی پاور کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے سفارش کی تھی کہ خاردار تار انٹرنیشنل سرحد سے 50 سے 150 میٹر کے اندر لگائی جائے لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا اور یہ تار بالکل من مرضی سے کہیں 500 میٹر کی دوری پر تو کہیں ہزار اور کہیں کہیں پر تو دو دو کلومیٹر کی دوری پر لگا دی گئی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس سے یہ مشکل پیدا ہوئی کہ کسانوں کے اپنے ہی کھیتوں میں بارڈر سکیورٹی فورس نے گیٹ بنا رکھے ہیں جہاں سے انٹری کے لیے بی ایس ایف کی طرف سے ایک گیٹ پاس ایشو ہوتا ہے۔ ہمارے پاس حکومت کا جو شناختی کارڈ ہے اس کی کوئی اہمیت نہیں۔

سرحدی دیہاتوں کے کسانوں کا کہنا ہے کہ اب ریاست میں مسلح شدت پسندی ختم ہو چکی ہے اور نئی ٹیکنالوجی اور ڈرونز کی مدد سے سمگلنگ اور دراندازی وغیرہ پر بہتر طریقے سے نظر رکھی جا سکتی ہے، اس لیے اب سکیورٹی باڑ کو اتنی اندر کی طرف رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

کابل سنگھ ماہوا امرتسر کے ایک سرحدی گاؤں کے سرپنچ ہیں اور سرحدی کسانوں کی یونین کے علاقائی صدر بھی ہیں۔

انھوں نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’فینسنگ کے کھیتوں میں پریشانی ہی پریشانی ہے۔ کافی جدوجہد کے بعد حکومت نے کسانوں کو معاوضے کے طور پر دس ہزار روپے فی ایکڑ سالانہ دینے کا فیصلہ کیا۔ اول تو یہ معاوضہ ناکافی ہے اور دوسرے یہ معاوضہ کبھی وقت پر نہیں ملتا۔ پچھلے دو برس سے یہ معاوضہ نہیں ملا ہے۔‘

ماضی میں کسانوں نے حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا اگر باڑ پیچھے نہیں ہٹائی جا سکتی تو انھیں ان کی زمین کا مارکٹ ریٹ کے حساب سے معاوضہ دے دیا جائے یا انھیں کہیں مناسب جگہ پر اتنی ہی زمین دے دی جائے۔ اس کے بارے میں بات چیت بھی ہوئی لیکن بات آگے نہ بڑھ سکی۔

پنجاب کی ریاستی حکومت نے بھی کئی بار انڈیا کی مرکزی حکومت سے درخواست کی کہ باڑ کو کھیتوں سے ہٹا کر بارڈر کے نزدیک لگا دیا جائے۔ پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت اب کسانوں کے اس مطالبے پر مثبت طریقے سے غور کر رہی ہے۔

ریاستی حکومت کے ترجمان کلدیپ سنگھ دھاریوال نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وزیراعلی بھگونت سنگھ مان نے مرکزی وزیر داخلہ سے چند ہفتے قبل ملاقات کی تھی۔ انھوں نے سرحد کے کسانوں کے معاملے پر بھی ان سے بات کی۔

وزیر داخلہ نے وزیراعلی بگھونت سنگھ مان کو بتایا ہے کہ حکومت نے فینسنگ کو سرحد کے دو سو میٹر قریب لگانے پر اصولی طور پر اتفاق کر لیا ہے۔ اگر اس کا نفاذ ہو گیا تو سرحد کے کسانوں کو بہت بڑا ریلیف مل جائے گا، ان کا برسوں پرانا مسئلہ حل ہو جائے گا۔‘

35 برس پہلے لگائی گئی خار دار تاروں کی فینسنگ بھی اب پرانی پڑ چکی ہے اور اس کی جگہ اب نئی فینس لگانے کی تیاریاں چل رہی ہیں۔

ترن تارن کے کسان رہنما رگھبیر سنگھ بنگالہ کا کہنا ہے کہ باڑ کو پیچھے ہٹانے کا یہ ایک بہترین موقع ہے۔ تاہم وہ بہت پر امید نہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ’باڑ لگانے کے لیے اربوں روپے ٹھیکے داروں کو دیے جا رہے ہیں اور ان سے کہا جا رہا ہے کہ پرانی جگہ پر ہی نئی فینس لگاؤ۔‘

ہم خوش تھے کہ باڑ اب ڈیڑھ سو میٹر پر لگائی جائے گی لیکن ایسا نہیں لگ رہا ہے۔ جو تار پانچ سو، سات سو، ہزار، دو ہزار میٹر پر لگے ہیں ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی۔‘

’پوائنٹ بلینک شاٹ‘: وزیر اعلیٰ آسام کی وائرل اے آئی ویڈیو پر تنقید، ’جیل جانے کو تیار ہوں مگر ہمیشہ بنگلہ دیشی دراندازوں کے خلاف رہوں گا‘’میرا نام محمد دیپک ہے‘: انڈیا میں مسلمان بزرگ دکاندار کو مشتعل ہجوم سے بچانے والے جم مالک کا چرچاکاجل اور ارمان کا قتل: ’ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ہمارے گاؤں میں بھی ایسا ہوگا‘’کھیتوں میں گئے لیکن گھر واپس نہیں لوٹ سکے‘: پاکستانی جیلوں میں قید انڈین نوجوانوں کی کہانیوائسرائے کا تحفہ: گولڈن ٹیمپل کی 122 سال پرانی گھڑی دوبارہ چل پڑیگولڈن ٹیمپل میں کُلّی کرنے پر گرفتاری: ’میں نے وضو کیا اور غلطی سے منھ سے نکلا پانی تالاب میں جا گرا‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More