اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے علاج کے باوجود دائیں آنکھ میںصرف 15 فیصد بینائی رہ جانے کی شکایت کے بعد سپریم کورٹ نے چار دن کے اندر ان کا طبی معائنہ کرانے اور ان کی اپنے بیٹوں سے بات کروانے کا حکم دیا ہے۔
عمران خان کی یہ شکایت اس وقت سامنے آئی جب عدالتی حکم پر اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کرنے کے بعد بیرسٹر سلمان صفدر کی رپورٹ پر عدالت میں سماعت ہوئی۔
عمران خان نے جیل میں اپنی مصروفیات، مشکلات اور سہولیات سے متعلق بیرسٹر سلمان صفدر کو کیا بتایا اور انھوں نے خود کیا دیکھا، یہ انھوں نے اپنی رپورٹ میں درج کیا ہے۔
اپنی رپورٹ میں سلمان صفدر نے لکھا ہے کہ وہ دوپہر دو بجے اڈیالہ جیل پہنچے اور دو بج کر 35 منٹ پر ایک کمرے میں سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈٹ جیل کی موجودگی میں ان کی عمران خان سے ملاقات ہوئی۔
ملاقات کے آغاز پر بیرسٹر سلمان صفدر نے عمران خان کو اپنے آنے کا مقصد بتایا اور یہ بھی کہا کہ عدالت کے حکم پر وہ ان حالات کا جائزہ لیں گے جن میں عمران خان کو رکھا گیا ہے۔
اپنی بیماری کے بارے میں عمران خان نے کیا بتایا؟
عدالت میں جمع کرائی گئی بیرسٹر سلمان صفدر کی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے بتایا کی کہ گذشتہ تین ماہ سے انھیں نظر میں کمی کی شکایت ہے ’حالانکہ اکتوبر 2025 تک ان کی نظر بالکل ٹھیک تھی۔‘
رپورٹ کے مطابق عمران خان نے بیرسٹر سلمان صفدر کو بتایا کہ انھوں نے جیل سپرنٹنڈنٹ ساجد بیگ سے شکایت کی کہ انھیں دھندلا نظر آتا ہے لیکن جیل حکام نے کوئی بھی کارروائی نہ کی۔ ’وقت گزرنے کے ساتھ انھیں دائیں آنکھ سے نظر آنا بالکل ہی بند ہو گیا۔ اس کے بعد پمز سے ایک ڈاکٹر کو ان کے معائنے کے لیے بلایا گیا۔‘
بیرسٹر سلمان کی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ علاج اور انجیکشن کے باوجود ان کی دائیں آنکھ صرف 15 فیصد ہی کام کرتی ہے۔
رپورٹ میں وکیل نے لکھا ہے کہ عمران خان اپنی بینائی کم ہونے اور بر وقت طبی امداد نہ ملنے پر واضح طور پر پریشان تھے۔ ’ملاقات کی دوران ان کی آنکھوں سے پانی بہتا رہا اور وہ ٹشو سے اسے صاف کرتے رہے۔‘
رپورٹ میں درج ہے کہ جیل سپرنٹنڈنٹ نے سلمان صفدر کو بتایا کہ پمز ہسپتال کے ڈاکٹر محمد عارف عمران خان کی دیکھ بھال کر رہے ہیں اور جیل میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر دن میں تین بار عمران خان کا بلڈ پریشر اور آکسیجن لیول چیک کرتے ہیں۔
وکیل کے مطابق عمران خان نے کہا کہ ان کی عمر کے لحاظ سے باقاعدگی سے خون کے ٹیسٹ کرانے کی ضرورت ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ’انھوں نے کہا کہ پہلے ذاتی ڈاکٹروں ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف کو ان تک رسائی دی جاتی تھی لیکن جب سے انھیں نظر کم آنے کی شکایت پیدا ہوئی تب سے ان کے ذاتی ڈاکٹروں کو رسائی نہیں دی گئی۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’تین ماہ تک تو انھیں صرف آنکھوں میں ڈالنے کے لیے قطرے دیے جاتے رہے جس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور ان کی دائیں آنکھ کی نظر بہت زیادہ کم ہو گئی۔‘
عدالت کو جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے یہ بھی کہا کہ ’73 سال عمر ہونے کی وجہ سے انھیں یہ ضرورت بھی محسوس ہوتی ہے کہ ان کے دانتوں کا معائنہ کرایا جائے لیکن بار بار درخواست کے باوجود دو سال کے دوران کسی بھی دانتوں کے ڈاکٹر نے ان کا معائنہ نہیں کیا۔‘
Getty Imagesبیرسٹر سلمان صفدر نے سپریم کورٹ کے احکامات پر اڈیالہ جیل راولپنڈی جا کر عمران خان سے ملاقات کیعمران خان جیل میں دن بھر کیا کرتے ہیں؟
عمران خان نے اپنی روز مرہ کی جو مصروفیات بتائیں وہ بھی رپورٹ میں درج ہیں۔
ان کے مطابق، عمران خان صبح نو بج کر 45 منٹ پر ناشتہ کرتے ہیں۔ پھر تقریباً ساڑھے 11 بجے تک قرآن پڑھتے ہیں۔ اس کے بعد وہ ورزش کے لیے دستیاب سامان پر ورزش کرتے ہیں۔ اس سامان میں ایک ورزش کرنے والی سائیکل ہے، نو کلو گرام وزن والے دو ڈمبل اور ایک بار۔
دوپہر ایک بج کر 15 منٹ پر غسل کرنے کے بعد عمران خان کو احاطے میں چہل قدمی کی اجازت دی جاتی ہے۔ ان کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ بیٹھے رہیں یا چلیں پھریں۔
دوپہر کا کھانا عمران خان دوپہر ساڑھے تین بجے سے لے کر چار بجے تک کھاتے ہیں۔ شام کے پانچ بجے انھیں ایک بار پھر چہل قدمی کی اجازت دی جاتی ہے۔
شام ساڑھے پانچ سے اگلی صبح 10 بجے تک انھیں جیل کی کوٹھڑی میں بند رکھا جاتا ہے۔
سلمان صفدر کی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے انھیں بتایا کہ صبح ناشے میں وہ کافی کا ایک کپ، دلیہ اور چند کھجوریں لیتے ہیں۔ دوپہر کے کھانے میں کیا کھانا ہے، اس کی ہفتہ وار ترتیب بھی عمران خان خود بناتے ہیں اور اخراجات ان کا خاندان ادا کرتا ہے۔ اس میں دو دن چکن، دو دن گوشت، دو دن دال اور دو دن چاٹ یا اس نوع کا ہلکا پھلکا کھانا ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ انھیں پینے کے لیے نیسلے کا بوتل والا پانی دیا جاتا ہے۔ رات کے کھانے میں وہ صرف پھل، دودھ اور کھجوریں لیتے ہیں۔
عمران خان کا علاج ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں ان کی رضامندی سے ہوا: پمز انتظامیہکیا عمران خان کو اڈیالہ جیل سے کہیں اور منتقل کیا جا سکتا ہے؟ڈی جی آئی ایس پی آر کی ’جارحانہ‘ پریس کانفرنس میں عمران خان کا نام لیے بغیر تنقید: ’ادارے کے لیے مناسب نہیں کہ ایسے لب و لہجے میں بات کی جائے‘عمران خان سے قبل پاکستان میں کب کب سابق وزرائے اعظم کو ’قومی سلامتی کا خطرہ‘ قرار دیا گیا؟عمران خان کی جیل کی کوٹھڑی میں کیا کچھ ہے؟
رپورٹ میں عمران خان کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ جیل کی ان کی کوٹھڑی میں ایک کرسی، میز، بیڈ اور ہینگر ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ دن اور رات کے وقت روشنی اور ہوا کا مناسب انتظام ہے۔ یہ بھی بتایا کہ جیل کی کوٹھڑی میں کوئی برتن یا چمچ کانٹے وغیرہ نہیں رکھے جاتے۔
سلمان صفدر کے مطابق عمران خان نے انھیں بتایا کہ کپڑے دھونے، صفائی کرنے، بستر کی چادریں بدلنے اور غسل خانہ صاف کرنے میں مدد کے لیے انھیں ایک مشقتی دیا گیا ہے۔
سلمان صفدر کو عمران خان نے کہا کہ وہ صفائی کے انتظامات سے مطمئن ہیں اور غسل خانے کی ضرورت کی اشیا بھی مانگنے پر فراہم کر دی جاتی ہیں۔ عمران خان نے بتایا کہ سردیوں کے دوران انھیں درمیانے سائز کا ہیٹر فراہم کیا جاتا ہے اور گرم پانی ہر وقت دستیاب رہتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان نے سلمان صفدر سے کہا کہ گرمیوں کے موسم میں حالات زندگی خاص طور پر مشکل ہو جاتے ہیں کیوں کہ ’ایک تو شدید گرمی اور حبس ہوتا ہے، دوسرا، مکھیاں اور مچھر کنٹرول کرنے کے انتظامات بھی ناکافی ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ وہ مچھروں کو بھگانے والا لوشن لگاتے ہیں اور ان کے پاس کمرے میں ایئر کولر بھی ہے لیکن زیادہ فائدہ نہیں ہوتا۔‘
عمران خان نے کہا کہ اس وجہ سے گرمیوں کا موسم خاص طور پر مشکل رہتا ہے اور ان کی نیند اور آرام متاثر ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سلمان صفدر کے پوچھنے پر عمران خان نے بتایا کہ انھیں فریج فراہم نہیں کیا گیا ہے بلکہ چیزیں ٹھنڈی رکھنے والا ایک ڈبہ دیا گیا ہے لیکن شدید موسم میں اس کا زیادہ فائدہ نہیں ہوتا۔ عمران خان نے اس پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور بتایا کہ گرمیوں کے مہینوں میں دو یا تین بار وہ فوڈ پوائزننگ کا شکار ہوئے۔
عدالت کو جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے سلمان صفدر کو بتایا کہ جو احاطہ انھیں دیا گیا ہے اس میں نگرانی کرنے والے 10 کیمرے ہیں، ایک کیمرے کی پہنچ وہاں تک ہے جہاں وہ شاور لیتے ہیں۔ لیکن ان کی کوٹھڑی کے اندر کوئی کیمرہ نہیں لگایا گیا۔
سلمان صفدر سے ملاقات میں عمران خان نے کس چیز کا مطالبہ کیا؟
رپورٹ میں درج ہے: عمران خان نے یہ شکایت بھی کی کہ انھیں اپنے وکیل اور قانونی ٹیم سے ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ جس کی وجہ سے وہ اپنے کیسز کی اپ ڈیٹ نہیں لے پا رہے اور اپنی ٹیم کو ہدایات نہیں دے پا رہے۔
سلمان صفدر کو عمران خان نے یہ بھی بتایا کہ ان کی بہنوں اور اہل خانہ کو بھی ان سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔ جب کہ نئے سپرنٹنڈنٹ جیل کی تعیناتی کے بعد انھیں ہر منگل کو 30 منٹ کے لیے اپنی بیگم بشریٰ بی بی سے ملنے دیا جاتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ عدالتی احکامات کے باوجود سنہ 2025 میں صرف دو بار ان کی برطانیہ میں موجود اپنے بیٹوں قاسم اور سلیمان سے ملاقات کرائی گئی۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان نے سلمان صفدر کو بتایا کہ ’انھیں زیادہ کسی چیز کی خواہش نہیں، وہ صرف ان چیزوں کی فراہمی کی توقع رکھتے ہیں جو ان کی بقا کے لیے ضروری ہیں۔‘
رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس بات چیت کے بعد سلمان صفدر سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے ہمراہ وہ حالات دیکھنے گئے جن میں عمران خان کو رکھا جا رہا ہے۔ جبکہ عمران خان اپنی اہلیہ سے ملاقات کے لیے چلے گئے۔
سلمان صفدر لکھتے ہیں کہ جس احاطے میں عمران خان کو رکھا گیا ہے اس کے گرد دیواریں 12 فٹ کی ہیں اور ان پر خاردار تاریں لگائی گئی ہیں۔ پوچھنے پر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل نے بتایا کہ یہاں پانچ وارڈر اور ایک نائب سپرنٹنڈٹ ہفتے کے ساتوں دن 24 گھنٹے موجود رہتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق احاطے میں ایک 12 ضرب 30 فٹ کا سبز قطعہ بھی ہے۔ بتایا گیا کہ یہاں دن کے وقت عمران خان ورزش کرتے ہیں، چہل قدمی کرتے ہیں اور دھوپ سینکتے ہیں۔
اس کے بعد سلمان کو کچن لے جایا گیا۔ کھانا پکانے کا سامان اور مصالحہ جات وہاں موجود تھے۔ سلمان صفدر نے لکھا ہے کہ وہاں صفائی کچھ زیادہ بہتر ہو سکتی تھی۔
سلمان صفدر نے عمران خان کی جیل کی کوٹھڑی میں کیا دیکھا؟
رپورٹ کے مطابق سلمان صفدر نے دیکھا کہ جیل کی کوٹھڑی میں ہائی وولٹیج کے تین لائٹ بلب، ایک چھت والا پنکھا، ایک گرم ہوا پھینکنے والا ہیٹر، دو میزیں، ایک دیوار گیر گھڑی، ایک بستر، ایک کرسی اور ایک چھوٹی الماری تھی۔
سلمان صفدر لکھتے ہیں کہ کوٹھڑی کی دیوار پر 32 انچ کا ٹی وی نصب تھا۔ جب اسے چلانے کی درخواست کی گئی تو معلوم ہوا کہ وہ کام نہیں کر رہا تھا۔ کپڑے لٹکانے کے لیے کوئی الماری نہیں تھی اس لیے عمران خان کے کپڑے بکھرے پڑے تھے۔
سلمان صفدر لکھتے ہیں کہ معائنہ کرنے پر انھیں وہ کرسی بھی غیر آرام دہ محسوس ہوئی جو عمران خان کی کوٹھڑی میں ہے۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان کے جیل کی کوٹھڑی میں جو بستر تھا اس پر ایک گدا، چار تکیے اور دو کمبل پڑے تھے۔ بستر کے نیچے جوتوں کے چار جوڑے رکھے تھے۔ فرش پر ایک قالین، جائے نماز، تسبیح اور دو تولیے بھی کمرے میں موجود تھے۔
رپورٹ میں لکھا ہے کہ عمران خان کی جیل کی کوٹھڑی میں 100 کتابیں، دو سیب، دو ڈمبیل، ٹشو پیپر، ائیرفریشنر، شیونگ جیل اور شیونگ کٹ پڑی تھی۔ غسل خانے کے واش بیسن میں گرم اور ٹھنڈے پانی کا انتظام تھا۔ ایک آئینہ بھی غسل خانے میں رکھا گیا تھا۔
سلمان صفدر لکھتے ہیں ٹوائلٹ جیل کے کمرے کے ساتھ ہی ہے لیکن اس میں ہوا باہر پھینکنے کا کوئی نظام نصب نہیں جبکہ صفائی بھی کچھ بہتر ہو سکتی تھی۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان نے اپنے تحفظ کے انتظامات، جیل کے اندر زندگی کے حالات اور کھانے کی فراہمی پر اطمینان کا اظہار کیا۔
رپورٹ میں سلمان صفدر نے سفارش کی کہ عمران خان کی آنکھ کی بیماری پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے اور ماہرین کی ایک ٹیم سے معائنہ کرایا جائے۔
’عمران خان کے ذاتی معالجین کو بھی ان تک رسائی دی جائے، عمران خان جو کتابیں چاہیں ان کی فراہمی یقینی بنائی جائے، عمران خان کو اپنے رشتہ داروں سے ملاقات اور بیٹوں سے بات کی اجازت دی جائے، وکلا سے ملاقات کی اجازت دی جائے، عمران خان کی کوٹھڑی میں مکھیوں اور مچھروں سے بچاؤ کے انتطامات کیے جائیں اور کھانا رکھنے کے لیے فریج فراہم کیا جائے۔‘
سلمان صفدر کی طرف سے عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کی روشنی میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا ہے کہ سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی موجودگی میں 16 فروری سے پہلے سابق وزیر اعظم عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کروایا جائے۔
عمران خان کا علاج ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں ان کی رضامندی سے ہوا: پمز انتظامیہعمران خان جیلر ہے یا قیدی؟عمران خان کی میڈیکل رپورٹ: ’ورٹیگو‘ اور ’ٹائنائٹس‘ کیا ہوتا ہے؟عمران خان کی جیل میں پُش اپس لگانے کی تصویر کی حقیقت کیا ہے؟حکومتی دستاویزات کے مطابق اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی زندگی کیسی ہے؟