’مجھے تو اب یاد بھی نہیں کہ بچپن میں میں نے کیا شرارت کی تھی۔ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ 45 برس پہلے 100 روپے مالیت کی گندم چوری کے الزام میں میرے خلاف مقدمہ درج ہوا تھا تو میں خود پولیس کے پاس چلا جاتا۔‘
یہ کہنا ہے انڈیا کی ریاست مدھیہ پردیش سے تعلق رکھنے والے شہری سلیم میواتی کا۔
گذشتہ ہفتے، سات فروری کو مقامی پولیس 45 برس قبل درج کیے گئے چوری کے ایک مقدمے میں گرفتار کرنے کے لیے اُن کے گھر پہنچی تھی۔
یہ مقدمہ 100 روپے مالیت کی گندم کی چوری سے متعلق ہے۔
65 سالہ سلیم پر الزام ہے کہ دسمبر 1980 میں انھوں نے اپنے چھ دیگر دوستوں کے ساتھ مل کر دو مختلف کھیتوں سے گندم چرائی تھی۔ 45 برس قبل یہ مقدمہ منیک چند پٹیل اور لال چند پٹیل نامی افراد کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔
مدھیہ پردیش کے ضلع کھرگون میں تعینات سب ڈویژنل پولیس افسر شویتا شکلا نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ سلیم کے خلاف مقدمہ درحقیقت 100 روپے مالیت کی گندم کی چوری کا ہی ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ’ہمارے پاس موجود رپورٹ کے مطابق 1980 میں سلیم اور چھ دیگر افراد، جن کی عمریں 19 سے 20 برس کے درمیان تھیں، نے کھیتوں سے یہ گندم چرائی تھی۔ اس معاملے میں 45 برس قبل دو ایف آئی آرز درج کی گئی تھیں کیونکہ یہ معاملہ دو کھیتوں سے چوری کا تھا۔‘
پولیس ریکارڈ کے مطابق واقعے کے وقت سلیم کی عمر 19 سے 20 برسکے درمیان تھی، تاہم سلیم کے اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ سلیم سنہ 1967 میں پیدا ہوئے تھے اور جب یہ مبینہ واقعہ پیش آیا اُس وقت وہ نوعمر تھے۔
پولیس 45 سال بعد سلیم تک کیسے پہنچی؟
یہ معاملہ کچھ یوں ہے کہ چند برس قبل ریاست مدھیہ پردیش پولیس نے برسوں پرانے مقدمات کی ڈیجیٹلائزیئیشن کے عمل کا آغاز کیا تھا اور اسی دوران یہ غیر حل شدہ مقدمہ بھی سامنے آیا۔
مقامی پولیس چوکی کے انچارج متھن چوہان، جنھوں نے عدالت کے حکم پر اس مقدمے میں مفرور ملزمان کی تلاش شروع کی تھی، نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اتفاقاً سلیم کے بارے میں معلومات اسی مقدمے میں نامزد ایک اور ملزم کے اہلخانہ سے ملی تھیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں کل سات ملزمان تھے، جن میں سے دو اب وفات پا چکے ہیں، چار ضمانت پر ہیں جبکہ سلیم آخری اور چھٹے ملزم ہیں۔
متھن چوہان نے بتایا کہ ’ہم ان افراد کی تلاش کر رہے تھے جن کے خلاف اس مقدمے میں مستقل گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوئے تھے۔ ہمیں ایک شخص کا پتہ ضلع دیواس میں ملا۔ جب ہم اس کے گھر پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہ وفات پا چکا ہے۔ وہاں اہلخانہ سے گفتگو کے دوران ہمیں سلیم میواتی کے بارے میں معلومات ملیں۔ اس کے بعد ہم نے اُن سے رابطہ کیا اور اُن کے گھر پہنچ کر قانونی کارروائی کی۔‘
دوسری جانب سلیم کے اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ انھیں ماضی میں اس معاملے کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔
سلیم میواتی کی بہو عائشہ میواتی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جب سے یہ معاملہ سامنے آیا تب سے ہم صدمے میں ہیں۔ ہمیں کچھ سمجھ نہیں آیا۔ پولیس آئی اور کہا کہ وہ میرے سسر کو گرفتار کرے گی۔ ہمیں بتایا گیا کہ 45 برس پہلے میرے سسر نے 100 روپے مالیت کی گندم چرائی تھی۔‘
سلیم میواتی کی اہلیہ کہتی ہیں کہ یہ واقعہ اُن کے لیے حیران کن تھا۔
اہلیہ تسلیم نے کہا کہ ’اچانک پولیس آتی ہے اور تین بیٹیوں کے والد، ایک بیٹے کے باپ اور پوتوں کے دادا کو چور کہہ کر گاڑی میں لے جاتی ہے۔ ہمیں کچھ سمجھ نہیں آیا۔ ہم ان کے پیچھے تھانے تک گئے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’تھانے جا کر مجھے معلوم ہوا کہ یہ واقعہ میری شادی سے پہلے کا ہے، اور اُس وقت کا جب سلیم خود بچے تھے۔‘
’ہماری نیک نامی کو نقصان پہنچایا گیا‘انڈین اداکار راجپال یادو جیل میں قید اور مدد کی اپیلیں: ’جب ہم مشکلمیں تھے اس وقت ان کا گھر ہمارے لیے لنگر خانہ تھا‘جب تیل سے مالا مال دبئی، ابوظہبی اور عمان پاکستان یا انڈیا کا حصہ بنتے بنتے رہ گئے100 روپے رشوت لینے کا ملزم 39 سال بعد باعزت بری، ’انصاف ملا مگر بیوی چلی گئی، سب کچھ کھو دیا‘لکھنؤ کے نوابوں کا ایسٹ انڈیا کمپنی کو دیا گیا قرض جس کا چند روپوں کا سُود آج بھی ان کے ورثا حاصل کرتے ہیں
سلیم میواتی کا تعلق اصل میں ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع کھرگون کے گاؤں بالسامند کنکڑ سے ہے۔ شادی کے بعد وہ ضلع دھار کے گاؤں باگ منتقل ہو گئے، جو اُن کے سسرال کے گاؤں سے تقریباً 70 سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ تاہم سلیم کے دیگر رشتہ دار اب بھی بالسامند کنکڑ میں رہائش پذیر ہیں۔
سلیم میواتی کی اہلیہ تسلیم کہتی ہیں کہ یہ اُن کی سمجھ سے باہر ہے کہ پولیس اور انتظامیہ اتنے برسوں تک کیا کرتی رہی؟
انھوں نے کہا کہ ’دیکھیں، لمحہ بھر کے لیے مان بھی لیں کہ بچپن کی شرارت میں انھوں نے کچھ کیا بھی ہو۔ ہم شادی کے بعد سے اُسی گاؤں سے محض 70-80 کلومیٹر دور رہ رہے ہیں۔ میرے شوہر کا پورا خاندان اب بھی بالسامند میں رہتا ہے۔ اگر پولیس نے کبھی درست طریقے سے کارروائی کی ہوتی تو یا تو ہمیں کوئی سمن ملتا یا ہمارے وہ رشتہ دار، جو اب بھی بالسامند میں رہتے ہیں، وہ ہمیں اطلاع دیتے، مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔‘
سلیم کے اہلِخانہ کا کہنا ہے کہ مقامی میڈیا نے جس طرح سلیم کو مفرور اور قانون سے بھاگا ہوا شخص ظاہر کیا ہے، وہ غلط ہے اور اس سے اُن کے خاندان کی سماجی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔
تسلیم میواتی نے کہا کہ ’ہم کہیں چھپے ہوئے نہیں تھے۔ مجھے تو پتا بھی نہیں کہ میرے شوہر نے بچپن میں کیا کیا تھا۔ جس وقت کی بات ہو رہی ہے، اُس وقت وہ 13 یا 14 برس کے ہوں گے۔ لیکن پولیس کی کارروائی اور میڈیا میں جس طرح مقدمے کو پیش کیا گیا، اس سے ایسا لگتا ہے جیسے میرے شوہر سلیم کوئی خطرناک مجرم ہوں۔ حقیقت میں وہ ایک عام آدمی ہیں، جو اپنے خاندان کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔‘
’فریقین میں صلح‘
سلیم میواتی کو سات فروری کو اس مقدمے میں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے۔ اُن پر درج مقدمہ تعزیراتِ ہند کی دفعہ 379 کے تحت درج ہے۔
گرفتاری سے قبل سلیم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں اب بوڑھا ہو گیا ہوں۔ مجھے ذیابیطس اور بلڈ پریشر کی بیماریاں لاحق ہیں۔ میرے پوتے پوتیاں بڑے ہو چکے ہیں۔ جن لوگوں نے مقدمہ درج کروایا تھا وہ بھی اب عمر رسیدہ ہیں۔ یہ بہت پرانا مقدمہ تھا اور نہ ہمارے پاس ہمت تھی نہ اُن کے پاس کہ وہ اس کیس کو عدالتوں میں برسوں تک لڑ سکیں، اور اسی لیے اب گرفتاری سے قبل ہم (فریقین) نے سمجھوتہ کر لیا ہے۔‘
قانونی ماہرین کے مطابق چوری جیسے مقدمات میں فریقین کے درمیان باہمی رضامندی سے کارروائی ختم کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ عدالت اس کی اجازت دے۔
جب بی بی سی نے منیک چند پٹیل (مدعی مقدمہ) کے اہلِخانہ سے بات کی، تو انھوں نے بھی تصدیق کی کہ دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ ہو گیا ہے۔
منیک چند پٹیل کے بیٹے راجندر پٹیل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرے والد اب تقریباً 80 برس کے ہیں اور یہ مقدمہ بھی 45 برس پرانا ہے۔ اس وقت شاید یہ رقم (100 روپے) بڑی لگتی ہو، لیکن آج یہ معمولی بات ہے۔ دونوں فریقین بوڑھے ہیں، اس لیے انھوں نے آپس میں بات کر کے سمجھوتہ کر لیا اور مقدمہ ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔‘
100 روپے رشوت لینے کا ملزم 39 سال بعد باعزت بری، ’انصاف ملا مگر بیوی چلی گئی، سب کچھ کھو دیا‘’نقصان معمولی نوعیت کا تھا‘: لاہور پولیس نے جج کے چیمبر سے دو سیب اور ایک ہینڈواش کی چوری کا مقدمہ خارج کر دیابرطانیہ سے ’چوری شدہ‘ رینج روور کی کراچی میں موجودگی کا انکشاف: ’یہ گاڑی یقینی طور پر زمینی راستے سے تو آئی نہیں ہو گی‘’دو دن میں دو بار چوری‘: سندھی گلوکار بیدل مسرور کے گھر میں گھی کے ڈبوں میں موجود لاکھوں روپے غائبکرپٹو ایکسچینج کی ایک غلطی جس نے صارفین کو اربوں ڈالر کے بٹ کوائن کا مالک بنا دیا