Getty Imagesسابق کرکٹرز کا کہنا ہے کہ ابرار احمد، محمد نواز اور شاداب خان ورلڈ کپ میں حریف ٹیموں کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتے ہیں
چار اکتوبر 2012 کو پاکستان ٹی 20 ورلڈ کپ کا مسلسل چوتھا سیمی فائنل کھیل رہا تھا۔ کولمبو کے پریماداسا کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے اس میچ میں سری لنکا نے پاکستان کو میچ جیتنے کے لیے صرف 140 رنز کا ہدف دیا تھا۔
پاکستان کی ٹیم میں محمد حفیظ، عمران نذیر، ناصر جمشید، شعیب ملک، عمر اکمل اور شاہد آفریدی جیسے بلے باز موجود تھے لیکن رنگنا ہیراتھ اور اجانتھا مینڈیس کی گھومتی گیندوں نے پاکستان کے لیے اس ہدف کا تعاقب مشکل بنا دیا اور پاکستان یہ میچ 16 رنز سے ہار کر ورلڈ کپ سے باہر ہو گیا۔
اب 12 برس بعد ایک مرتبہ پھر سری لنکا ٹی 20 ورلڈ کپ کے میزبانوں میں شامل ہے اور پاکستان نے اپنے سارے میچز یہاں کھیلنے ہیں۔
سنہالی سپورٹس کلب اور آر پریماداسا انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم، کولمبو کے یہ وہ دو کرکٹ گراؤنڈ ہیں، جہاں پاکستان کی ٹیم ٹی 20 ورلڈ کپ کے سارے میچز کھیلے گی۔ پاکستان کے پاس موجود سپن بولنگ آپشنز کی وجہ سے سری لنکا کی کنڈیشنز کو پاکستان کے لیے سازگار قرار دیا جا رہا ہے۔
بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ سپن بولنگ آپشنز سے مالا مال پاکستان کو جہاں روایتی طور پر سری لنکا کی سپن بولنگ کے لیے سازگار وکٹوں سے مدد ملے گی، وہیں ایک ہی مقام پر قیام اُسے دوسری ٹیموں کے مقابلے میں مدد دے گا۔
خیال رہے کہ گذشتہ برس پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستان آنے سے انکار کے بعد انڈیا نے اپنے سارے میچز دبئی میں کھیلے تھے۔ اُس وقت بعض ماہرین نے یہ کہا تھا کہ ایک ہی سٹیڈیم میں سارے میچز کھیلنے سے انڈیا کو فائدہ ہوا تھا۔
پاکستان کے سپن اٹیک میں ابرار احمد، محمد نواز، شاداب خان اور صائم ایوب بھی شامل ہیں جبکہ سب کی نظریں منفرد بولنگ ایکشن رکھنے والے عثمان طارق پر بھی ہوں گی۔
بعض کرکٹ مبصرین کا کہنا ہے کہ عثمان طارق اپنے منفرد بولنگ ایکشن کی وجہ سے پاکستان کا خفیہ ہتھیار ہو سکتے ہیں۔
Getty Imagesگروپ اے میں پاکستان، انڈیا، نیدر لینڈز، نمیبیا اور امریکہ شامل ہیںپاکستان اپنے میچز کہاں کھیلے گا؟
یوں تو گروپ اے میں موجود پاکستان کی ٹیم نے 15 فروری کو انڈیا کے خلاف اس پول کے سب سے اہم میچ سے بائیکاٹ کا اعلان کا رکھا ہے لیکن اس میچ سے پہلے پاکستان کو نیدرلینڈز اور امریکہ کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
پاکستان کی ٹیم سات فروری کو سنہالی سپورٹس کلب میں دوپہر ڈیڑھ بجے نیدرلینڈز کے خلاف میدان میں اُترے گی۔ دس فروری کو رات ساڑھے نو بجے سنہالی سپورٹس کلب میں اس کا مقابلہ امریکہ سے ہو گا جبکہ 15 فروری کو اس کا پریماداسا سٹیڈیم میں انڈیا کے ساتھ میچ شیڈول ہے جس کا پاکستان نے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے۔
پاکستان کی ٹیم اپنے آخری پول میچ میں 18 فروری کو نمیبیا کے خلاف مدِمقابل ہو گی، یہ میچ شام ساڑھے پانچ بجے سنہالی سپورٹس کلب کولمبو میں کھیلا جائے گا۔
پاکستان کو سری لنکا کی کنڈیشنز سے کتنا فائدہ ہو گا؟ سپنرز کے لیے سازگار سمجھی جانے والی سری لنکا کی پچز میں کتنا سکور دفاع کے قابل ہو گا اور پاکستان کے کون سے بولرز ان کنڈیشنز میں کارگر ثابت ہو سکتے ہیں؟
یہ جاننے کے لیے بی بی سی نے سابق سپنرز اور تجزیہ کاروں سے بات کی۔
لیکن اس سے پہلے ماضی میں پاکستان کی جانب سے سری لنکا میں کھیلے جانے والے میچز اور اُن کے نتائج پر نظر ڈالتے ہیں۔
عمر گل کے یارکرز، آفریدی اور اجمل کی گھومتی گیندیں،ٹی 20 کرکٹ میں پاکستانی ٹیم کا سنہرا دور اور پھر تنزلی کی کہانی’پاکستان کا ٹرافی جیتنا اب صرف ٹیم ہی کے ہاتھ نہیں رہا‘’اگر بنگلہ دیش کی جگہ انڈیا مطالبہ کرتا۔۔۔‘ ٹی 20 ورلڈ کپ پر ناصر حسین کا تبصرہ زیرِ بحثپاکستان کے میچ کھیلنے سے انکار کے باوجود انڈین ٹیم سری لنکا کیوں جا رہی ہے؟’بلے بازوں نے مایوس نہ کیا تو سپنرز سنبھال لیں گے‘
گذشتہ ماہ پاکستان نے سری لنکا میں تین میچوں پر مشتمل ٹی 20 سیریز کھیلی تھی، جو ایک، ایک سے برابر رہی تھی۔
روایتی طور پر سری لنکا کی پچز کو بلے بازی کے لیے مشکل سمجھا جاتا ہے اور یہاں سپنرز کا عمل دخل رہتا ہے لیکن بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹی 20 کرکٹ ورلڈ کپ کی منتظم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ہے۔ لہذا وہ اس بات کا خیال رکھے گا کہ بلے بازی اور بولنگ کے درمیان توازن برقرار رہے۔
پاکستان کا سری لنکا میں ٹی 20 ریکارڈ مجموعی طور پر اچھا رہا۔ کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق پاکستان نے سنہ 2009 اور 2015 میں کھیلی جانے والی ٹی 20 سیریز میں بھی کامیابی حاصل کی تھی۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق آف سپنر توصیف احمد کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سری لنکا کی کنڈیشنز پاکستان کے لیے فائدہ مند ہوں گی لیکن واحد پریشانی پاکستان کی بلے بازی ہے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان نے بلے بازی اچھی کر لی تو اس کے پاس ایسے سپنرز موجود ہیں، جو کسی بھی ٹیم کو مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔
’سری لنکا کی پچز میں گیند جلدی پرانا ہو جاتا ہے لیکن دیگر ٹیموں کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو پاکستان کا سپن اٹیک بہت بہتر ہے اور یہ پاکستان کے لیے ایڈوانٹیج ہو گا۔‘
توصیف احمد کا کہنا تھا کہ اگر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کی ٹیم نے 160 سے 170 رنز بنا لیے تو پاکستان کی بولنگ لائن کسی بھی ٹیم کو دباؤ میں لا سکتی ہے۔
Getty Imagesمنفرد بولنگ ایکشن کی وجہ سے عثمان طارق کو بھی حریف ٹیموں کے لیے مشکل قرار دیا جا رہا ہے’سپن اٹیک رنز بھی روک رہا ہے اور وکٹیں بھی لے رہا ہے‘
پاکستان کے لیے سنہ 2010 کا ورلڈ کپ کھیلنے والے آف سپنر عبد الرحمان کہتے ہیں کہ پاکستان کا سپن اٹیک پچھلے چھ ماہ سے بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ہمارا سپن اٹیک ہوم کنڈیشنز اور دیگر ممالک میں بھی بہت اچھا پرفارم کر رہا ہے اور یہ صرف چھوٹی ٹیموں کے خلاف نہیں بلکہ اس فارمیٹ میں نمبر ون سمجھی جانے والی ٹیموں کو بھی اس نے مشکل میں ڈال رکھا ہے۔
’سپن بولنگ اٹیک رنز بھی روک رہا ہے اور وکٹیں بھی لے رہا اور یہی وجہ ہے کہ حالیہ عرصے میں پاکستان کی جیت کی شرح میں بھی اضافہ ہوا۔‘
عبد الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ٹیم سری لنکا میں کھیلنے کا وسیع تجربہ رکھتی ہے، پاکستان کی ٹیم وہاں ورلڈ کپ بھی کھیل چکی ہے۔ لہذا اس تجربے کا پاکستان کو بہت فائدہ ہو گا۔
خیال رہے کہ پاکستان کی ٹی 20 ٹیم نے ہوم سیریز میں آسٹریلیا کو تین میچوں کی سیریز میں کلین سویپ کیا تو اس سے پہلے سری لنکا میں کھیلی جانے والی ٹی 20 سیریز کو ایک، ایک سے برابر کیا۔
پاکستان نے اکتوبر، نومبر میں جنوبی افریقہ کے خلاف ٹی 20 سیریز بھی دو، ایک سے اپنے نام کی تھی۔
نومبر میں پاکستان میں کھیلی جانے والی سہ فریقی ٹی 20 سیریز میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ ستمبر میں متحدہ عرب امارات میں کھیلے جانے والے ایشیا کپ میں پاکستان رنر اپ رہا تھا۔
پاکستان ٹی 20 رینکنگ میں کچھ ماہ پہلے تک آٹھویں نمبر پر جا پہنچا تھا تاہم اب یہ ٹی 20 عالمی رینکنگ میں چھٹے نمبر پر ہے۔
Getty Images’ٹی 20 کرکٹ میں کچھ بھی ہو سکتا ہے‘
توصیف احمد کہتے ہیں کہ پاکستان ابرار، محمد نواز اور صائم ایوب جبکہ ایک پیسرز اور ایک آل راؤنڈر کو میدان میں اُتارے گا۔
نیدرلینڈز اور امریکہ کے خلاف ابتدائی میچز کا ذکر کرتے ہوئے توصیف احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ان دونوں میچز میں زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا لیکن ٹی 20 کرکٹ میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
خیال رہے کہ 2024 میں امریکہ میں کھیلے جانے والے ٹی 20 ورلڈ کپ میں امریکہ نے پاکستان کو شکست دے کر اپ سیٹ کر دیا تھا، بعدازاں انڈیا نے بھی گروپ میچ میں پاکستان کو شکست دے دی تھی جس کی وجہ سے پاکستان اگلے مرحلے تک بھی کوالیفائی نہیں کر سکا تھا۔
عبد الرحمان کہتے ہیں کہ سری لنکن پچز میں ٹرن اور باؤنس دونوں ملتا ہے اور اگر فلیٹ پچ بھی بنائی جائے اور سپنر اچھا ہو تو پھر بھی اُسے مدد ملتی ہے۔
توصیف احمد کہتے ہیں کہ پاکستان کے پاس عثمان طارق کی صورت میں ایک منفرد بولنگ ایکشن رکھنے والا سپنر موجود ہے اور وہ دیگر ٹیموں کے لیے بہت مشکلات کھڑی کرے گا۔
عثمان طارق کے بولنگ ایکشن پر اُٹھائے جانے والے سوالات پر توصیف احمد کا کہنا تھا کہ وہ خود سپنر رہے ہیں اور اپنے تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتے ہیں کہ عثمان طارق کے بولنگ ایکشن میں کوئی مسئلہ نہیں۔
’جب بھی انگلینڈ یا آسٹریلیا کے کسی بلے باز سے کوئی بولر نہیں کھیلا جاتا تو وہ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں، عثمان طارق کو جہاں موقع ملے اسے وہاں کھلانا چاہیے۔‘
عبدالرحمان کہتے ہیں کہ مخالف ٹیم کو دیکھتے ہوئے پاکستان اپنی فائنل الیون بنائے گا، اس وقت پاکستان کا ہر سپنر فارم میں ہے۔ ’ابرار بھی وکٹیں لے رہے ہیں جبکہ محمد نواز بھی بھرپور فارم میں ہیں۔‘
’میں خود سری لنکا میں کرکٹ کھیل چکا ہوں، وہاں ہر سپنر بولنگ سے لطف و اندوز ہوتا ہے۔ پاکستانی سپنرز کسی بھی حریف ٹیم کے بلے بازوں کو مشکل میں ڈالیں گے۔‘
Getty Imagesصائم ایوب آل راؤنڈرز کی ٹی 20 رینکنگ میں پہلی پوزیشن پر ہیں’ایک ہی گراؤنڈ پر بار بار کھیلنا ایڈوانٹیج ہے‘
عبدالرحمان کہتے ہیں کہ فی الحال یہ کہنا قبل ازوقت ہو گا کہ سری لنکا میں کتنے رنز کا دفاع ہو سکے گا۔
اُن کے بقول ابتدائی میچز سے اندازہ ہو جائے گا کہ وہاں پچز کیسا کھیل رہی ہیں، وہاں ٹرننگ ٹریکس بھی بن سکتا ہے اور فلیٹ وکٹ بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد ہی یہ تعین ہو سکے گا کہ کتنا سکور ہونا چاہیے۔
’پاکستان کی جسی بولنگ ہے، اس کے خلاف 150 سے زیادہ رنز نہیں بننے چاہیے کیونکہ اگر زیادہ رنز بن گئے تو پھر بیٹنگ لائن پر دباؤ آئے گا۔‘
اُن کے بقول صائم ایوب شروع میں ہی وکٹیں بھی لے رہے ہیں اور رنز بھی روک رہے ہیں جبکہ بعد میں ابرار احمد اور محمد نواز حریف ٹیموں پر مزید دباؤ ڈال رہے ہیں۔ لہذا یہ تین بولرز بھرپور فارم میں ہیں، جس کا پاکستان کو فائدہ ہو گا۔
وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے پاس اس وقت صائم ایوب کی صورت میں رائٹ آرم آف بریک، ابرار احمد مسٹری سپنر، محمد نواز لیفٹ آرم سپنر جبکہ عثمان طارق کی صورت میں منفرد بولنگ ایکشن والے بولر ہیں۔
’جب آپ کے پاس اتنی خصوصیات والے بولرز ہوں اور وہ اچھی کارکردگی بھی دکھا رہے ہوں تو پھر آپ کا تھنک ٹینک بہت مضبوط ہو جاتا ہے۔‘
توصیف احمد کہتے ہیں کہ سری لنکا کے چاروں طرف سمندر ہے، جس کی وجہ سے ہوا میں نمی کا تناسب زیادہ ہوتا ہے لیکن یہاں پچز اتنا بھی برا نہیں کھیلتیں اور آئی سی سی یقینی بنائے گا کہ پچز اچھی ہوں لیکن لیگ سپنر اور رسٹ سپنر کسی بھی پچ میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم کولمبو کے ہوٹل میں ہی رہے گی اور دیگر ٹیموں کو انڈیا سے سفر کر کے آنا پڑے گا۔
اُن کے بقول ایک ہی سٹیڈیم میں زیادہ میچز کھیلنے سے پاکستان کو کنڈیشنز کا دیگر ٹیموں کے مقابلے میں زیادہ بہتر پتہ ہو گا۔
’شکریہ پاکستان‘: شہباز شریف کا بیان اور بنگلہ دیش کا ردعمل، کیا انڈیا کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا دفاع ممکن ہے؟انڈین چینلز اس بار پی ایس ایل کے میچز کیوں نہیں دکھا سکیں گے؟کرکٹ میں ’سیاست اور پیسے کی کہانی‘: ٹی 20 ورلڈ کپ کے بحران میں آئی سی سی بے بس کیوں ہے؟انڈیا کے خلاف میچ سے دستبرداری کا پاکستان کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں سفر پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟کروڑوں کا کمرشل ٹائم اور اربوں کی سرمایہ کاری: ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان اور انڈیا کا میچ نہ ہونے سے براڈکاسٹرز پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟پاکستان کے میچ کھیلنے سے انکار کے باوجود انڈین ٹیم سری لنکا کیوں جا رہی ہے؟