Getty Imagesفوج کے سابق افسر کو سب سے پہلے راولپنڈی کی ایک مقامی عدالت نے عمر قید کی سزا سُنائی تھی
پاکستان میں توہین مذہب کے مقدمات میں اکثر ایسی مثالیں بھی سامنے آتی رہی ہیں جن میں ایک مقام پر یہ علم ہوتا ہے کہ تنازع کی اصل وجہ کوئی ذاتی چپقلش تھی۔
نومبر 2020 میں پنجاب کے شہر خوشاب میں توہین مذہب کا الزام لگا کر اپنے ہی بینک کے مینیجر کو قتل کرنے والے سکیورٹی گارڈ کا کیس ہو یا پھر سیالکوٹ میں سری لنکن مینیجر کا قتل، توہین مذہب کے کیسز میں اکثر وجوہات وہ نہیں ہوتیں جو بظاہر ابتدا میں الزام لگانے والوں کی جانب سے بتائی جاتی ہیں۔
حال ہی میں راولپنڈی میں ایک ایسا مقدمہ سامنے آیا ہے جو لڑائی جھگڑے سے شروع ہوا اور بات توہین مذہب کے الزام سے ہوتی ہوئی اس مقام پر پہنچی جہاں ایک عدالت نے کرنل کے رینک پر ریٹائر ہونے والے سابق فوجی افسر کو سزا بھی سنا دی۔
تاہم پھر یہ معاملہ ہائیکورٹ میں پہنچا جہاں ناصرف پولیس کی تفتیش پر سوال اٹھے بلکہ عدالت سے سزا پانے والے سابق فوجی افسر کو بری بھی کر دیا گیا۔
یاد رہے کہ ایسا ہی ایک معاملہ 2023 میں بھی سامنے آیا تھا جب کراچی ایئرپورٹ پر دو ملازمین کے درمیان گاڑی کی پارکنگ پر تنازع شروع ہوا جس کے بعد ایک ملازم نے دوسرے پر توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگا دیا اور بعد میں اس پر معافی بھی مانگی۔
لیکن راولپنڈی میں سابق فوجی افسر پر توہین کا الزام کیسے لگا اور اگر یہ معاملہ صرف لڑائی جھگڑے کا ہی تھا تو انھیں سزا کیوں ہوئی اور پھر وہ بری کیسے ہوئے؟
لال کرتی کے ریسٹورنٹ میں جھگڑا اور توہین مذہب کا مقدمہ
اس مقدمے میں اہم بات یہ ہے کہ سابق فوجی افسر کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کیا، جس کے بعد سب سے پہلے راولپنڈی کی ایک مقامی عدالت کی جانب سے انھیں عمر قید کی سزا سنائی گئی لیکن عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ چونکہ مجرم کا ارادہ غیر واضح تھا اس لیے اسے سزائے موت کی بجائے عمر قید کی سزا سنائی جاتی ہے۔
لیکن جب اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر ہوئی تو لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس جواد نے یہ مقدمہ ری ریمانڈ کر دیا کہ مجرم کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کا مقدمہ درج ہے جس میں جرم ثابت ہونے پر صرف موت کی سزا مقرر ہے۔
Getty Imagesپاکستان میں توہینِ مذہب کے معاملے پر ماضی میں پُرتشدد مظاہرے ہوتے رہے ہیں
لاہور ہائی کورٹ کے اس حکم کے بعد یہ مقدمہ راولپنڈی کے ایک اور ایڈیشنل سیشن جج کے پاس بھیجا گیا، جنھوں نے ایک ہفتے کے اندر اندر اس مقدمے کا ٹرائل مکمل کرکے مجرم کو سزائے موت سنا دی۔
پھر یہ معاملہ اپیل میں ڈویژن بینچ کے پاس پہنچتا ہے، جہاں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس صداقت علی خان اور طارق باجوہ پر مشتمل بینچ نے سماعت کی تو مقدمے میں اپیل کنندہ کے وکیل عرفان ملک نے اپیل کے حق میں دلائل دیتے ہوئے عدالت میں دعویٰ کیا کہ ان کے موکل اپنی اہلیہ کے ہمراہ راولپنڈی میں لال کرتی کی ایک مارکیٹ میں واقع ریسٹورنٹ پر موجود تھے جب تین چار لڑکوں نے ان کی اہلیہ پر آوازیں کسنا شروع کر دیں۔
وکیل کا موقف تھا کہ ان کے موکل نے جب لڑکوں کو روکنے کی کوشش کی تو پہلے ان کے موکل کو گالیاں دی گئیں اور پھر ان پر مبینہ طور پر حملہ کر دیا گیا جس میں وہ زخمی بھی ہوئے۔
وکیل عرفان ملک کے مطابق ان کے موکل نے، جو فوج سے کرنل کے رینک سے ریٹائرڈ ہیں، نے حملہ آوروں سے کہا کہ وہ اس واقعہ کی شکایت فوج کے متعقلہ حکام کو بھی کریں گے تاکہ ان کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔
توہینِ مذہب کے الزام سے بری ہونے والے روپوشی کی زندگی گزارنے پر مجبور: ’ایسا لگتا ہے کسی بھی وقت مار دیا جاؤں گا‘خواتین سے دوستی، واٹس ایپ گروپس اور سوشل میڈیا: توہینِ مذہب کے مقدمات میں گرفتار پاکستانی نوجوانوں کی کہانیاں اور الزاماتتوہین رسالت کے الزام میں سزائے موت پانے والی خاتون باعزت بری، ہائیکورٹ کا رہا کرنے کا حکمتوہینِ مذہب کے مقدمات درج کروانے والا مبینہ گینگ اور ’ایمان‘ نامی پُراسرار کردار: اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکمنامے میں کیا ہے؟
اپیل کندہ کے وکیل کا دعویٰ تھا کہ ان لڑکوں کا ایک دوست کالعدم قرار دی جانے والی ایک سیاسی اورمذہبی جماعت کا عہدیدار تھا اور اس خوف سے کہ کہیں فوجی حکام ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کر دیں، ان حملہ آوروں نے لڑائی جھگڑے کے اس واقعے کو مذہبی رنگ دیتے ہوئے ان کے موکل کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کروا دیا۔
اپیل کندہ کے وکیل نے یہ الزام بھی لگایا کہ مقدمے کے مدعی نے بلواسطہ ان کے موکل کے خاندان سے پانچ کروڑ روپے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر ان کا یہ مطالبہ پورا کر دیا جائے تو وہ اس مقدمے سے دستبردار ہو جائیں گے۔
عدالت میں کیا ہوا؟
وکیل کا کہنا تھا کہ مدعی مقدمہ کے اس مطالبے کے بارے میں انھوں نے ٹرائل کورٹ کو بھی بتایا تھا اور درخواست کی تھی کہ مدعی مقدمہ اور متعلقہ پولیس افسران کو طلب کیا جائے لیکن ایسا نہیں ہوا۔
پراسیکیوشن اور اس مقدمے کے مدعی کے وکیل نے اپیل کنندہ کے وکیل کے دلائل سے اختلاف کیا اور کہا کہ پولیس نے مجرم کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ حقائق اور موقع سے ملنے والی شہادتوں اور عینی شاہدین کے بیانات کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا۔
عدالت نے جب پراسیکوشن سے استفسار کیا کہ مقدمے کے اندراج کے وقت جن افراد کے بیانات لیے گئے، ان کا اس مقدمے کے مدعی سے کیا تعلق ہے تو پراسیکوشن کی طرف سے بتایا گیا کہ ایف آئی آر اور پولیس کے ریکارڈ کے مطابق ان میں سے زیادہ تر گواہان مدعی مقدمہ کے جاننے والے تھے۔
جسٹس صداقت علی خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا اس واقعہ سے متعلق پراسیکوشن کو کوئی آزاد گواہ نہیں ملا جو کہ مدعی مقدمہ کے موقف کو تقویت دے سکے جس پر پراسیکوشن نے کوئی جواب نہیں دیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ جب درخواست گزار کی طرف سے بھی گواہان موجود تھے جن کا یہ کہنا تھا کہ یہ لڑائی جھگڑے کا معاملہ تھا، تو پھر ان کے بیانات کیوں ریکارڈ نہیں کیے گئے۔
عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ اپیل کنندہ کے بقول ان کے موکل کو لڑائی جھگڑے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا اور اس ضمن میں ان کے پاس عینی گواہ بھی موجود تھے لیکن پولیس نے تفتیش کے دوران ان کا بیان ریکارڈ کرنا مناسب نہیں سمجھا اور نہ ہی آزادانہ طور پر اس مقدمے کی تحقیقات کیں۔
عدالت کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پولیس نے نہ تو اس مقدمے کی تفتتیش کی اور نہ ہی اس مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا۔
Getty Imagesپاکستان میں توہین مذہب کے معاملے پر ماضی میں متعدد افراد پُرتشدد ہجوم کے ہاتھوں قتل بھی ہو چکے ہیں
عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا کہ اپیل کنندہ کے وکیل کے دلائل سے عدالت بھی کسی حد تک متفق ہے کہ پولیس کی پراسیکیوشن برانچ نے اس معاملے کو حقائق کے مطابق دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا۔
عدالت کا کہنا تھا کہ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ جب ملزم کو اس مقدمے میں گرفتار کیا گیا تو اس وقت اس کا بیانکیوں ریکارڈ نہیں کیا گیا جبکہ اپیل کنندہ نے بھی اپنے دلائل میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ تھانہ سول لائن پولیس میں درج ہونے والے اس مقدمے میں پولیس نے ملزم کی گرفتاری وقوعہ کے 24 گھنٹے کے بعد ظاہر کی۔
عدالت کا فیصلہ
عدالت نے راولپنڈی کے ایڈیشنل سیشن جج کی جانب سے سزائے موت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا اور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے بھی اس مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے حقائق کو سامنے رکھنے کے لیے اپنا جوڈیشل مائنڈ اپلائی نہیں کیا۔
ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر ٹرائل کورٹ، جس نے سب سے پہلے اس مقدمے کی سماعت کی، نے سزا کس بنیاد پر سنائی تھی؟
توہین رسالت کے الزام میں سزائے موت پانے والی خاتون باعزت بری، ہائیکورٹ کا رہا کرنے کا حکمتوہینِ مذہب کا جھوٹا الزام کون روکے گا؟توہین مذہب کے الزام کا خوف: ’لگتا ہے کسی بھی وقت کوئی ہمیں ختم کر دے گا‘’رؤف پڑھنے کے لیے تربت گیا تھا، توہین مذہب کے الزام اور قتل کا سوشل میڈیا سے پتا چلا‘اب ’دولے شاہ کے چوہے‘ کیوں نظر نہیں آتے؟گوجرانوالہ کے نوجوان کو توہینِ مذہب کے الزام پر سزائے موت: ’میں نے تو مدارس سے فتوے بھی لے کر دیے مگر کسی نے ایک نہ سنی‘