پاکستان کے ساتھ مئی کی لڑائی کے بعد انڈیا کے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ کیوں کیا گیا؟

بی بی سی اردو  |  Feb 02, 2026

Getty Images

انڈین وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن نے مالی سال 2027-2026 کا مرکزی بجٹ پیش کیا ہے اور اس میں وزارتِ دفاع کے بجٹ میں گذشتہ برس کے مقابلے 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جو اب 85 ارب 40 کروڑ ڈالرز تک پہنچ چکا ہے۔

لوک سبھا میں پیش کیے جانے والے بجٹ میں آئندہ مالی سال میں مختلف وزارتوں کے لیے مختص رقم کا تعین کیا جاتا ہے۔

انڈین وزارتِ دفاع نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں بتایا کہ آئندہ بجٹ میں اضافے کا مقصد دفاعی شعبے میں جدت لانا، نئی ٹیکنالوجی کا حصول اور وسائل کے بہتر استعمال کے لیے آسان خریداری پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔

ہتھیاروں اور سازو سامان کی خرید و فروخت کے بجٹ میں 21 اعشاریہ 84 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

ڈیفینس سروسز میں روزمرہ کے آپریشنل اخراجات، ایندھن، مرمت اور تنخواہوں کی مد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے، جب گذشتہ سال مئی میں انڈیا کا پاکستان کے ساتھ فوجی تنازع ہوا تھا۔

گذشتہ برس اپریل میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں مسلح عسکریت پسندوں کے ہاتھوں 26 افراد کی ہلاکت کے بعد انڈیا نے پاکستان میں عسکریت پسندوں کے کیمپوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ انڈیا نے اسے ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا تھا۔

اس کے بعد انڈیا اور پاکستان کے مابین فوجی تصادم شروع ہو گیا تھا۔ انڈین فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی فوج کے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) کی طرف سے جنگ بندی کی درخواست کے بعد فوجی تصادم رک گیا تھا۔

Getty Images

اس کے بعد سے ہی یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ انڈیا اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کر سکتا ہے۔

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے دفاعی بجٹ میں اضافے کا خیر مقدم کیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’دفاعی بجٹ میں اضافے سے انڈیا کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہو گا۔ دفاعی شعبے کے لیے 85 ارب 40 کروڑ ڈالرز مختص کرنے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کے شکر گزار ہیں۔‘

کیا دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ انڈیا کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ اس حوالے سے ماہرین مختلف آرا رکھتے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کار راہول بیدی کہتے ہیں کہ مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور یہ بھی تشویشناک بات ہے کہ روپے کی قدر بھی گر رہی ہے۔

اُن کے بقول اگر اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو بجٹ میں 15 فیصد اضافے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔

کیا اس اضافے سے انڈین فوج کو جدید بنایا جا سکتا ہے؟

گذشتہ برس انڈیا اور پاکستان کے درمیان تنازع میں ایک الگ ہی طرح کی لڑائی دیکھی گئی تھی، جس میں ڈرونز اور ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا تھا۔

گذشتہ مہینے ایک تقریب میں انڈیا کے چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل علی چوہان نے کہا تھا کہ ان کی افواج ’نیٹ سینٹرک‘ سے ’ڈیٹا سینٹرک‘ جنگ کی طرف بڑھ رہی ہیں، جہاں انھیں مستقبل کے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا سہارا لینا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جدید سینسرز اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی جنگ کے میدان میں مزید شفافیت لا رہے ہیں، جس کے سبب حریفوں کو سرپرائز دینا مشکل ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق حریفوں پر ٹیکنالوجی کی برتری اب جیت کے لیے ضروری ہے۔

انڈیا یورپ معاہدہ، برطانوی وزیراعظم کا دورہِ چین اور ’ٹرمپ کے خلاف بڑھتی عالمی مزاحمت‘انڈیا کے یوم جمہوریہ پر فضاؤں میں اُڑتے رفال اور کرنل صوفیہ کے لیے میڈل کی منظوری زیرِ بحثکیا پاکستان کی امریکہ پالیسی واقعی کامیاب رہی ہے؟حد نگاہ میں کمی یا لینڈنگ میں پائلٹ کی غلطی، انڈیا میں طیارہ حادثہ جس نے کئی سوالات جنم دیے

وہ ایسے بیانات پہلے بھی دے چکے ہیں، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ انڈیا کا موجودہ بجٹ فوج کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے؟ دفاعی تجزیہ کار راہل بیدی کہتے ہیں کہ انڈیا کو 114 نئے لڑاکا طیاروں اور چھ نئی آبدوزوں کے معاہدے کرنے ہیں۔

ان کے مطابق ’انڈیا اور جرمنی کے درمیان چھ آبدوزوں کے حصول کے لیے 10 ارب ڈالر کا معاہدہ ہے، 114 نئے لڑاکا طیارے بھی خریدے جائیں گے۔ تاہم اب تک یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ 30 سے 35 ارب ڈالر کا یہ معاہدہ کیا کس کے ساتھ جائے گا۔‘

’ان تمام پیسوں کی ادائیگی ایک ساتھ نہیں کرنی ہوگی بلکہ اس کی بجٹنگ ہوگی اور اس پر مذاکرات بھی ہوں گے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’آپریشن سندور کے بعد سے فوج کے سربراہ، چیف آف ڈیفینس فورسز، وزیرِ دفاع اور وزیرِ اعظم یہ کہہ رہے ہیں کہ فوج کو ٹیکنالوجی کے خطوط پر جدید بنایا جائے گا۔ اس کے لیے پیسوں کی ضرورت ہوگی اور دفاعی بجٹ میں 15 فیصد کا اضافہ اسے پورا نہیں کر سکتا۔‘

کیا انڈیا کی فوج کو جدید بنانے کے لیے آبدوزوں اور لڑاکا طیاروں کی خریداری کافی ہوگی؟ دفاعی تجزیہ کار راہل بیدی کہتے ہیں کہ ’آج ہیلی کاپٹروں، لڑاکا طیاروں، آبدوزوں، ڈرونز اور سائبر وار کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اس وقت ہمیں آبدوزوں اور لڑاکا طیاروں کی کمی کا سامنا ہے۔'

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’انڈین فضائیہ کو 42 سکواڈرنز رکھنے کی اجازت ہے اور اس وقت ان کے پاس 29 یا 30 سکواڈرنز موجود ہیں۔ ایک سکواڈرن میں تقریباً 20 جہاز ہوتے ہیں، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ابھی 250 سے 300 جہازوں کی ضرورت ہے۔‘

’آبدوزیں پرانی ہو چکی ہیں انھیں تبدیل کرنا ہوگا۔ ہیلی کاپٹر اور تربیتی طیارے پرانے ہو چکے ہیں ان کی تبدیلی بھی ضروری ہے۔‘

انڈیا کے دفاعی بجٹ کا پاکستان اور چین سے موازنہ

گذشتہ برس مئی کی لڑائی کے بعد پاکستان نے جون میں اپنے دفاعی بجٹ میں 20 اعشاریہ دو فیصد اضافہ کیا تھا اور یہ بجٹ 428 ارب روپے کے اضافے کے بعد 2550 ارب روپے ہو گیا تھا۔

اسی طرح سنہ 2024 میں چین کا دفاعی بجٹ اس کی 110 کھرب کی جی ڈی پی کا ایک اعشاریہ سات فیصد تھا، دوسری جانب بنگلہ دیش کا سنہ 2024 کا دفاعی بجٹ اس کی 450 ارب ڈالر کی جی ڈی پی کا صفر اعشاریہ نو فیصد تھا۔

Getty Images

دوسری جانب انڈیا کا دفاعی بجٹ اس کی تقریباً چار کھرب ڈالر کا ایک اعشاریہ نو فیصد ہے۔

ان تمام اعداد و شمار کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ انڈیا کا دفاعی بجٹ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں زیادہ ہے، لیکن چین کے مقابلے میں کم ہے۔

راہل بیدی کہتے ہیں کہ ’چین کا بجٹ ہم سے بہت زیادہ ہے۔ پاکستان کے بجٹ کو بھی ہمیں کم نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ چین پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت انڈیا کے متعدد پڑوسیوں کو مدد فراہم کر رہا ہے۔‘

دفاعی تجزیہ کار کے مطابق ’اگر انڈیا کو اپنی فوج کو جدید بنانا ہے تو دفاعی بجٹ جی ڈی پی کا تین فیصد ہونا چاہیے۔‘

بجٹ میں چابہار بندرگاہ کے لیے کوئی رقم مختص نہیں

دریں اثنا انڈیا نے اپنے بجٹ میں ایران میں موجود چابہار بندرگاہ کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی ہے۔ گذشتہ سال کے بجٹ میں انڈیا نے اس کے لیے 400 کروڑ روپے مختص کیے تھے۔

انڈیا نے 2017-18 کے مالی سال سے چابہار میں سرمایہ کاری شروع کی تھی اور یہ پہلا موقع ہے کہ ایران کے ساتھ اس مشترکہ منصوبے کے لیے بجٹ میں کوئی رقم نہیں رکھی گئی۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ انڈیا کے پیچھے ہٹنے کی بڑی وجہ امریکہ کا بڑھتا دباؤ اور بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال ہے۔ گذشتہ دو برسوں میں ایران کی عالمی سطح پر کمزور ہوتی پوزیشن کو بھی انڈیا کی جانب سے سرمایہ کاری جاری نہ رکھنے سے جوڑا جا رہا ہے۔

گذشتہ سال ستمبر میں امریکہ نے ایران کی چابہار بندرگاہ کی نگرانی اور آپریشن میں شامل اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

منوہر پریکر انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفنس اسٹڈیز کے بین الاقوامی امور کے ماہر ڈاکٹر مدثر قمر کہتے ہیں کہ 'چابہار سے متعلق امریکی پابندیوں سے انڈیا کو چھ ماہ کی چھوٹ ملی تھی جو آئندہ چند ماہ میں ختم ہو جائے گی۔ امریکی پابندیاں ہی انڈیا کی سب سے بڑی تشویش ہیں، اسی لیے انڈیا نے اس بجٹ میں چابہار کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی۔'

بین الاقوامی امور کے ماہر پروفیسر فضل الرحمٰن خان بھی انڈیا کے پیچھے ہٹنے کی یہی وجہ بیان کرتے ہیں۔ پروفیسر فضل الرحمٰن کے مطابق 'امریکہ نے انڈیا کو دی گئی رعایت واپس لے لی ہے۔ انڈیا اپنے تعلقات میں امریکہ کو ترجیح دیتا ہے، اس لیے وہ امریکہ کو ناراض کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دینا چاہتا۔'

تاہم ڈاکٹر مدثر قمر کا خیال ہے کہ اگر امریکی پابندیاں نرم ہونے کا کوئی امکان ہوتا تو انڈیا یقیناً چابہار میں سرمایہ کاری جاری رکھتا۔

حال ہی میں میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انڈیا سٹریٹیجک طور پر چابہار سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔

لیکن ان خبروں کے درمیان انڈیا نے اس ماہ ایک سرکاری بیان میں کہا تھا کہ وہ چابہار کی عملی صورتحال کے سلسلے میں ایران کے علاوہ امریکہ سے بھی رابطے میں ہے۔

پروفیسر فضل الرحمٰن کے مطابق 'عالمی جیو پولیٹیکل عدم استحکام نے خطرات بڑھا دیے ہیں۔ ایران کسی بھی وقت ایک اور بڑی جنگ کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے، اس لیے وہاں بڑی سرمایہ کاری خطرے سے خالی نہیں۔ ایران کی صورت حال کافی غیر مستحکم ہے اور کسی بھی وقت سنگین ہو سکتی ہے، اسی لیے انڈیا اسے خطرناک سمجھتا ہے۔'

تاہم ڈاکٹر قمر کے مطابق 'مجھے نہیں لگتا کہ یہ کہنا صحیح ہے کہ انڈیا اب پیچھے ہٹ رہا ہے کیونکہ 2016 میں چابہار میں سرمایہ کاری کے لیے انڈیا–ایران کے درمیان جو دس سالہ معاہدہ ہوا تھا وہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ انڈیا نے 2024 میں چابہار کو چلانے کے لیے ایک اور دس سالہ معاہدہ بھی کیا ہے۔ انڈیا مکمل طور پر دستبردار نہیں ہوگا۔'

ان کا ماننا ہے کہ انڈیا چابہار سے مکمل طور پر ہٹنے کے بجائے امریکہ سے مذاکرات کر کے سفارتی حل تلاش کرے گا۔

گاندھی کی لےپالک دلت بیٹی کی کہانی جس کی مخالفت ان کی بیوی نے بھی کی’جمہوریہ پریتالا‘: جب انڈیا کے سات دیہات نے مل کر اپنا الگ ملک بنا لیاپسند کی شادی سے انکار پر والدین کو انجیکشن لگا کر قتل کرنے کا الزام: ’توقع نہیں تھی بہن ایسی حرکت کرے گی‘سابق بوائے فرینڈ کی بیوی کو ’ایچ آئی وی سے متاثرہ خون کا ٹیکہ‘ لگانے والی نرس جسے ’بدلہ‘ مہنگا پڑ گیااب ’دولے شاہ کے چوہے‘ کیوں نظر نہیں آتے؟’میرے دشمن، میرے بھائی، میرے ہمسائے:‘ بالی وڈ میں انڈیا پاکستان جنگ پر مبنی ’بارڈر ٹو‘ جیسی فلموں کی ریلیز پر بحث
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More