کروڑوں کا کمرشل ٹائم اور اربوں کی سرمایہ کاری: ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان اور انڈیا کا میچ نہ ہونے سے براڈکاسٹرز پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

بی بی سی اردو  |  Feb 01, 2026

Getty Images

پاکستانی حکومت نے کرکٹ ٹیم کو ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت کی اجارت تو دے دی ہے لیکن ساتھ یہ اعلان بھی کیا ہے کہ وہ 15 فروری کو انڈیا کے خلاف اپنا میچ نہیں کھیلے گی۔

اتوار کو ایک بیان میں حکومت کا کہنا تھا کہ ’حکومت نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے، تاہم پاکستان کرکٹ ٹیم 15 فروری 2026 کو انڈیا کے خلاف میچ نہیں کھیلے گی۔‘

واضح رہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے انڈیا میں کھیلنے سے انکار پر بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے باہر کرتے ہوئے سکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا تھا، جسے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے ’نا انصافی‘ قرار دیا تھا۔

محسن نقوی کے اس بیان کے بعد ان کی اور وزیرِ اعظم کی ایک ملاقات بھی ہوئی تھی، تاہم اس ملاقات میں ورلڈ کپ میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا تھا۔

ٹی20 ورلڈ کپ میں انڈیا کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے فیصلے پر آئی سی سی کی جانب سے تاحال کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

سنہ 2011 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں انڈیا سے سیمی فائنل میں شکست کے بعد سے دونوں ٹیموں کے درمیان آئی سی سی کے ٹورنامنٹس میں کم از کم ایک میچ تو ضرور ہوا ہے اور ایسا ہونا محض اتفاق نہیں تھا۔

سنہ 2017 کی چیمیئنز ٹرافی سے قبل آئی سی سی کے اُس وقت کے چیئرمین ڈیو رچرڈسن نے برطانوی جریدے ’ٹیلی گراف‘ سے بات کرتے ہوئے تسلیم کیا تھا کہ آئی سی سی اِس بات کو یقینی بناتا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کو ایک ہی گروپ میں رکھا جائے۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’یہ (میچ) آئی سی سی کے نقطۂ نظر سے انتہائی اہم ہے۔ یہ دنیا بھر میں دیکھا جاتا ہے اور مداح ابھی سے اس کا انتظار بھی کرنے لگے ہیں۔ یہ ٹورنامنٹ کے لیے بھی بہترین ہے کیونکہ یہ اس کی مقبولیت میں اضافہ کرنے کے لیے اہم ہے۔‘

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر: سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

اس معاملے میں کرکٹ براڈکاسٹرز، یعنی میری اور آپ کی ٹی وی اور فون سکرینز پر میچ دکھانے والوں کا ووٹ بھی انتہائی اہم رہا ہے۔

آئی سی سی کی جانب سے جاری اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو پاکستان اور انڈیا کے درمیان کھیلے گئے متعدد میچز تاریخ میں سب سے زیادہ دیکھنے جانے والے میچوں میں سے ایک رہے ہیں۔

یہ اعداد و شمار عموماً انڈیا کی مارکیٹ سے لیے جاتے ہیں اور اس حوالے سے پاکستان سمیت دیگر ممالک میں بھی اس میچ کی ویورشپ بہت زیادہ رہتی ہے اور اس کا کمرشل ایئرٹائم ایڈورٹائزنگ کی دنیا میں انتہائی قیمتی سمجھا جاتا ہے۔

لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان میچ کیا آئی سی سی کے لیے واقعی اتنے اہم ہیں جتنے پاکستان میں کچھ تجزیہ کاروں کی جانب سے بتائے جا رہے ہیں؟

اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہم نے پاکستان اور انڈیا اس کرکٹ براڈکاسٹرز، ایڈورٹائزرز اور اس سے متعلقہ معاملات پر رپورٹ کرنے والوں سے بات کی ہے۔ لیکن اس سب سے پہلے تاریخ کے اُس موڑ پر جاتے ہیں جب کرکٹ چلانے والوں کو آئی سی سی ٹورنامنٹس کی کامیابی کے لیے ایک ارب کی آبادی والے ملک انڈیا کی اہمیت کا صحیح معنوں میں ادراک ہوا تھا۔

2007 کا ورلڈ کپ اور انڈیا کی پہلے ہی راؤنڈ میں گھر واپسیGetty Images

’ہم ڈوب چکے ہیں۔‘

مارچ 2007 کے اواخر میں جب ون ڈے ورلڈ کپ میں انڈین کرکٹ ٹیم کو سری لنکا اور بنگلہ دیش سے پہلے ہی راؤنڈ میں اپ سیٹ شکست کا سامنا کرنے کے باعث گھر لوٹنا پڑا تو یہ الفاظ دہلی کے ایک مارکیٹنگ ایگزیکٹیو راج موہن سنگھ نے کہے تھے۔

انڈیا کا پہلے ہی راؤنڈ میں ورلڈ کپ سے نکل جانا نہ صرف انڈین فینز اور ایڈورٹائزرز کے لیے بلکہ خود آئی سی سی اور اس کے اُس وقت کے براڈ کاسٹر ’سونی‘ کے لیے بھی ایک بہت بڑا دھچکا تھا۔ اور یہ اتنا بڑا دھچکا تھا کہ ’سونی‘ اس کے بعد آئی سی سی کے براڈکاسٹنگ رائٹس حاصل کرنے کی دوڑ سے ہی دستبردار ہو گیا تھا۔

انڈیا کے میچوں کے لیے براڈکاسٹر ’سونی‘ نے انڈیا میں اشتہار کے لیے 10 سیکنڈ کا سلاٹ ’ڈیڑھ لاکھ انڈین روپے‘ جبکہ 16 اپریل کو ممکنہ پاکستان انڈیا میچ کے لیے 10 سیکنڈ کا سلاٹ ساڑھے چار لاکھ انڈین روپے میں بیچ رکھا تھا۔

کولا برانڈ ’پیپسی‘ نے انڈین کرکٹ ٹیم کے لیے 350 کروڑ کی ’بلیو بلین‘ نامی تشہیری مہم بنائی تھی، جو اسے مکمل طور پر ختم کرتے ہوئے انڈیا کی شکست کے حوالے سے ایک نیا اشتہار بنانا پڑا۔

اُدھر پاکستانی ٹیم آئرلینڈ اور ویسٹ انڈیز سے شکست کھا کر ورلڈ کپ سے باہر ہو چکی تھی۔

اس وقت کے پاکستان ایڈورٹائزنگ ایسوسی ایشن کے سربراہ مسعود ہاشمی نے خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کو بتایا تھا کہ ’ملک میں ایڈورٹائزرز کو دو سے تین ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔‘

یہ دنیائے کرکٹ میں ایک ایسا لمحہ تھا جب آئی سی سی ٹورنامنٹس کی مالی کامیابی میں انڈیا کی اہمیت کا صحیح معنوں میں ادراک ہوا تھا۔

پاکستان میں کچھ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ شاید اس کے بعد سے آئی سی سی نے پاکستان اور انڈیا کو ایک ہی گروپ میں رکھنے کی ریت کا آغاز کیا تھا۔

تاہم یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان سنہ 2009 اور سنہ 2010 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپس میں سرے سے میچ ہی نہیں ہوا تھا جبکہ سنہ 2011 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں بھی دونوں ٹیمیں صرف اس لیے آمنے سامنے آئی تھیں کیونکہ دونوں ٹیموں نے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کیا تھا۔

سنہ 2011 میں موہالی میں ہونے والے اس میچ کے حوالے سے جس قدر دلچپسی پائی جاتی تھی، ماہرین سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد سے براڈکاسٹرز کی جانب سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان میچوں کا ٹورنامنٹس کا لازمی جزو بنانے کی درخواست کی گئی۔

پاکستان انڈیا میچ کے کمرشل ایئر ٹائم کی کیا قیمت ہے؟Getty Images

ہر مارکیٹ میں براڈکاسٹرز مختلف طریقوں سے کماتے ہیں جیسے انڈیا میں سبسکرپشن اور ایڈورٹائزنگ وہ دو طریقے ہیں جن کے ذریعے براڈکاسٹر پیسے بناتے ہیں۔ آسٹریلیا اور انگلینڈ کی مارکیٹس میں سبسکرپشن کی اہمیت زیادہ ہے جبکہ پاکستان میں ایڈورٹائزرز اور کمرشل ایئر ٹائم اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔

ایک انڈسٹری ماہر نے بی بی سی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ انڈیا میں براڈکاسٹرز کے لیے 60 سے 65 فیصد رقمایڈورٹائزرز سے آ رہی ہے لیکن سبسکرپشن کی رقم کا بھی 30 سے 35 فیصد حصہ ہوتا ہے۔

تاہم پاکستان میں ایڈورٹائزرز سے ملنے والی رقم ہی سب کچھ ہوتی ہے اس لیے یہاں آپ کو میچ کے دوران اشتہاروں کو کسی نہ کسی طرح فٹ کرنے کی جدوجہد دکھائی دیتی ہے۔

بی بی سی نے پاکستان اور انڈیا میں ایڈورٹائرزنگ کے لیے دیے گئے سلاٹس کی قیمت جاننے کے لیے دونوں ممالک میں میڈیا بائنگ کمپنیوں سے رابطہ کیا ہے۔

کسی بھی ون ڈے میچ میں کمرشل ایئر ٹائم 100 منٹ کے قریب ہوتا ہے جبکہ ٹی ٹوئنٹی میچ میں یہ دورانیہ 50 منٹ تک کا ہوتا ہے۔

انڈیا کے شہر بینگلورو کی ایک ٹرانزیکشن ایڈوائزری کمپنی ’ڈی اینڈ پی ایڈوائزری برانڈز‘ کو کمرشل ایئر ٹائم کے حوالے سے معلومات فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر سنتوش این نے بی بی سی کو بتایا کہ حالانکہ گذشتہ ایک دہائی میں انڈیا، پاکستان کے مابین میچ اکثر ون سائیڈڈ رہے ہیں لیکن اس کے باوجود اُن کی انڈیا میں کمرشل ایئر ٹائم کے اعتبار سے لاگت دیگر میچوں کے مقابلے میں زیادہ رہی ہے۔

سنتوش کہتے ہیں کہ ’اس کی وجہ ظاہر ہے دونوں ممالک کے درمیان ایک تاریخی پسِ منظر ہے۔ دونوں ہی ممالک کی آبادی اچھی خاصی ہے اور جو لوگ عموماً کرکٹ نہیں بھی دیکھتے وہ انڈیا پاکستان میچ ضرور دیکھتے ہیں۔‘

’اس لیے دونوں اطراف برانڈز یہی چاہتے ہیں کہ اُن کا اشتہار زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے، اس لیے انڈیا پاکستان میچ کے کمرشل ایئر ٹائم کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔‘

اُن کے مطابق ’نیویارک میں کھیلے گئے انڈیا پاکستان میچ میں 10 سیکنڈ سلاٹ کی قیمت 50 لاکھ تک چلی گئی تھی۔ 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں ایک 10 سیکنڈ کے سلاٹ کی قیمت 60 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔‘ یعنی ایک منٹ کا کمرشل ایئرٹائم لگ بھگ تین کروڑ 60 لاکھ کے قریب۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ براڈکاسٹرز کی جانب سے عموماً میچوں کے 80 فیصد کے قریب منٹس ٹورنامنٹس سے پہلے ہی فروخت کر دیے جاتے ہیں اور بعد میں 20 فیصد کی قیمت میچ کی اہمیت کے اعتبار سے بڑھائی یا کم کی جاتی ہے۔ اس لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ تمام منٹ ایک ہی قیمت پر فروخت ہوں۔

تاہم اُن کا کہنا تھا کہ انڈین پریمیئر لیگ میں سلاٹس کا جائزہ لیا جائے تو عموماً ممبئی اور چنئی کے درمیان میچ کے 10 سیکنڈ سلاٹ کی قیمت 30 سے 40 لاکھ کے درمیان چلی جاتی ہے۔

پاکستان میں ہم نے جب میڈیا بائنگ کمپنی مارشمیلو ایڈورٹائزنگ سے رابطہ کیا تو اس سے منسلک یوسف رشید نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان میں انڈیا پاکستان میچ کے لیے ایک منٹ کے سلاٹ کی قیمت حالیہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچ کے لیے 40 لاکھ تک تھی جبکہ 2019 کے ورلڈ کپ میچ میں یہ قیمت 60 لاکھ تک چلی گئی تھی۔‘

یہاں یہ بتانا بھی اہم ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق انڈیا میں ہونے والے ون ڈے ورلڈکپ 2023 میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے میچوں کے ’پیک‘ ویورشپ میں پاکستان انڈیا میچ پانچویں نمبر پر تھا جبکہ انڈیا آسٹریلیا فائنل، انڈیا جنوبی افریقہ میچ اور انڈیا نیوزی لینڈ کے گروپ میچ اور سیمی فائنل کی ویورشپ بہتر تھی۔

کیا پاکستان، انڈیا میچ انڈیا کے لیے بھی اہم ہے؟Getty Images

یہاں یہ بتاتے چلیں کہ اس صدی میں دنیا کی دیگر سپورٹس کی طرح کرکٹ میں بھی براڈکاسٹنگ رائٹس سے حاصل ہونے والے ریوینیو (آمدن) کی اہمیت میں ہر گزرتے سال کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ایک ممبرز بورڈ ہے، نہ کہ فٹبال کی فیفا کی طرح ایک گورننگ باڈی۔ آئی سی سی کی جانب سے اپنا کل ریوینیو کرکٹ کھیلنے والے ممالک میں شیئر کیا جاتا ہے اور اس کا تناسب پہلے سے طے ہوتا ہے۔

کرکٹ کے فنانسز پر گہری نظر رکھنے والے ’پرافٹ‘ میگزین سے منسلک صحافی عبداللہ نیازی کے مطابق ’سنہ 2023 میں پی سی بی کو آئی سی سی کی جانب سے 17 ملین ڈالر کی رقم دی گئی تھی جو تقریباً ساڑھے چار ارب کے آس پاس بنتا ہے۔ یہ رقم آئی سی سی نے براڈکاسٹنگ ڈیلز اور آئی سی سی ٹورنامنٹس سے کمائی ہوتی ہے اور اسے تمام ممالک میں ایک ماڈل کے تحت تقسیم کیا جاتا ہے۔‘

ظاہر ہے کہ آئی سی سی ٹورنامنٹ کو براڈکاسٹرز کے لیے منافع بخش بنانے کے لیے آئی سی سی کو پاکستان اور انڈیا کے درمیان میچ یقینی بنانا ہوتا ہے۔

تاہم براڈکاسٹنگ ڈیلز اور کرکٹ انتظامیہ سے منسلک ایک ماہر نے بی بی سی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’اس سے انڈیا کو براہ راست کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انڈیا اور پاکستان آپس میں کھیلتے ہیں یا نہیں۔‘

انڈیا آئی پی ایل کے باعث امیر ترین بورڈ ہے۔ انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کی ابھی انڈیا کے میچوں کے لیے براڈکاسٹ ڈیل 720 ملین ڈالر کی ہوئی ہے، جس میں 88 میچ شامل ہیں یعنی ہر میچ 8.1 ملین ڈالر کا ہے۔ اس معاہدے پاکستان اور انڈیا کے درمیان سیریز شامل نہیں ہے۔

اس کے برعکس پاکستان کی اگلے ڈھائی سال کے لیے کی گئی اپنے 60 میچوں کی براڈکاسٹ ڈیل کی کل لاگت لگ بھگ ساڑھے چھ ملین ڈالر ہے جو انٹرنیشل رائٹس کی رقم ملا کر نو ملین ڈالر کے قریب بنتی ہے۔ یعنی 60 میچوں کی نو ملین ڈالر کی لاگت اور انڈیا کا ایک میچ 8.1 ملین ڈالر کا۔

براڈکاسٹنگ ریوینیو کے ماہر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’آجبراڈکاٹسنگ ویلیو کے اعتبار سے آئی پی ایل کے ایک میچ کی لاگت 13.1 ملین ڈالر ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان سپر لیگ اپنے پورے سیزن کے 34 میچوں سے اس سے کام کماتی ہے۔

’آئی پی ایل کا مقابلہ اب این ایف ایل، این بی اے وغیرہ سے ہے، کرکٹ میں کسی سے ہے ہی نہیں۔ اس لیے انڈیا کے لیے پاکستان انڈیا میچ کا ہونا یا نہ ہونا زیادہ معنی نہیں رکھتا ہے۔‘

انڈین کرکٹر اجے جدیجہ کس راجہ کے جانشین بنے کہ راتوں رات مالا مال ہو گئے؟احمد آباد کا تاریخی ٹیسٹ میچ: جب عمران خان نے انڈین شائقین کے پتھراؤ پر فیلڈرز کو ہیلمٹ پہنا دیےمیچ فکسنگ کے الزامات سے انڈین کرکٹ کو بام عروج پر پہنچانے والے ’گاڈ آف دی آف سائیڈ‘ سورو گنگولی پاکستان کرکٹ ٹیم کو حفیظ کاردار یا عمران خان جیسا سخت گیر کپتان ہی کیوں چاہیے؟ایڈیڈاس اور پوما: دو بھائیوں کی دشمنی سے پیدا ہونے والی کمپنیاں جنھوں نے کھیلوں کی دنیا کی کایا ہی پلٹ دیدنیا کا ’تیز ترین‘ پاکستانی بولر جو صرف پانچ ٹیسٹ میچ ہی کھیل پایا
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More