چین میں میانمار کے جرائم پیشہ خاندان کے 11 اراکین کو سزائے موت، بیجنگ نے سرحد پار منظم مافیا کے خلاف کیسے کارروائی کی؟

بی بی سی اردو  |  Feb 01, 2026

چین نے شمالی میانمار کے ایک منظم جرائم پیشہ خاندان کے 11 افراد کو سزائے موت دے دی ہے۔ ان افراد کو گزشتہ ستمبر میں عدالت کی جانب سے سزائے موت سُنائی گئی تھی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق چین دنیا میں سب سے زیادہ افراد کو سزائے موت دینے والا مُلک ہے۔ تاہم آج تک چین میں سزائے موت پانے والے افراد کی کُل تعداد کے بارے میں کسی کو علم نہیں کیونکہ ان اعداد و شمار کو ریاستی راز سمجھا جاتا ہے۔

عموماً حکومتی اہلکاروں کو کرپشن یعنی بدعنوانی پر سزا دی جاتی ہے، مگر حال ہی میں سزائے موت پانے والے میانمار کے ’منگ‘ خاندان پر لگائے گئے الزامات کہیں زیادہ سنگین تھے۔

منگ، باؤ، وی اور لیو خاندان سنہ 2009 سے میانمار کے صوبہ شان کے سرحدی قصبے ’لاوکہینگ‘ پر قابض ہیں۔ یہ علاقہ غربت کا شکار ہے اور طویل عرصے تک نسلی باغی گروہ ایم این ڈی اے اے کے زیرِِ اثر رہا ہے، جسے فوجی آپریشن کے ذریعے جنرل من آنگ ہلائنگ (جو اب میانمار کے فوجی حکمران ہیں) نے وہاں سے نکالا۔

اس کے بعد یہ چار خاندان طاقت میں آئے اور انھوں نے افیون اور میتھامفیٹامین کی پیداوار چھوڑ کر جوا خانوں اور پھر آن لائن فراڈ کے نئے کاروبار میں قدم رکھا۔

یہ خاندان میانمار کی فوج کے قریب رہا ہے۔ دسمبر سنہ 2021 میں فوجی بغاوت کے بعد جنرل من آنگ ہلائنگ نے لیو خاندان کے سربراہ لیو ژینگ شیانگ کو دارالحکومت نائپیداؤ میں بلایا اور ریاستی ترقی میں غیر معمولی خدمات پر انہیں اعزازی خطاب دیا۔

لیو خاندان کا ’فُلی لائٹ‘ گروپ پورے میانمار میں منافع بخش کاروبار چلا رہا تھا، جبکہ دیگر خاندانوں کے افراد فوجی حمایت یافتہ سیاسی جماعت یو ایس ڈی پی کے امیدوار بھی رہے۔

دنیا میں سزائے موت کی شرح دس سال میں سب سے بلند مگر چین کے اعدادوشمار آج بھی ’پراسرار‘ایران نے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی سے مبینہ روابط کے الزام میں چار افراد کو پھانسی دے دیایواؤ ہاکامادا: 56 برس سے سزائے موت کے منتظر جاپانی باکسر کو عدالت نے بری کر دیاقطر میں ’جاسوسی‘ کے الزام میں سزائے موت پانے والے انڈین بحریہ کے آٹھ سابق افسران رہا، سات واپس انڈیا پہنچ گئے

تاہم صوبہ شان کے قصبے لاوکہینگ میں ان خاندانوں کے قائم کردہ دھوکہ دہی کے مراکز انتہائی سفاک تھے۔ یہاں تشدد معمول تھا۔ ہزاروں چینی کارکنوں کو اچھی تنخواہ کے وعدے پر لایا گیا، انھیں زبردستی ’پگ بچرنگ‘ نامی پیچیدہ آن لائن فراڈ سکیمیں چلانے پر مجبور کیا گیا، جن کے زیادہ تر شکار بھی چینی شہری تھے۔ اس کے بعد متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ کی شکایات سوشل میڈیا پر تیزی سے بڑھنے لگیں۔

سب سے بدنام مرکز ’کروچنگ ٹائیگر ولا‘ تھا، جسے منگ خاندان چلاتا تھا۔ اکتوبر 2023 میں مبینہ طور پر فرار کی کوشش کے دوران محافظوں نے کئی چینی شہریوں کو قتل کر دیا جس کے بعد چینی حکام نے براہِ راست کارروائی کی۔

چین کی حمایت سے نسلی باغی گروہ ایم این ڈی اے اے اور اس کے اتحادیوں نے میانمار فوج کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے لاوکہینگ پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا اور اعلان کیا کہ وہ دھوکہ دہی کے کاروبار کو مکمل طور پر ختم کریں گے۔

اس دوران چاروں خاندانوں کے سربراہان کو گرفتار کر کے ان کے 60 سے زائد رشتہ داروں اور ساتھیوں کو چینی پولیس کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق منگ خاندان کے سربراہ منگ شوئے چانگ نے گرفتاری کے بعد خودکشی کر لی۔

Getty Imagesسب سے بدنام مرکز 'کروچنگ ٹائیگر ولا' تھا، جسے منگ خاندان چلاتا تھا

چینی پولیس کی تفتیش کے دوران ایک خاندان کے رکن نے اعتراف کیا کہ انھوں نے اپنی طاقت دکھانے کے لیے کسی شخص کو بلا وجہ قتل کیا۔ یہ تفصیلات چین کی جانب سے ان خاندانوں کے خلاف سخت اقدامات کو جواز فراہم کرنے کے لیے سامنے لائی گئی ہیں۔

باؤ خاندان کے پانچ افراد کو بھی سزائے موت کا سامنا ہے، جبکہ وی اور لیو خاندانوں کے مقدمات کی سماعت ابھی جاری ہے۔ یہ چاروں خاندان نسلی طور پر چینی ہیں اور سرحد پار یونان صوبے کے حکام سے قریبی تعلق رکھتے تھے۔ ان کے جرائم چین کے لیے بہت قریب تھے، اسی لیے لاوکہینگ میں دھوکہ دہی کے کاروبار کے خلاف کی گئی کارروائی اب تک کی سب سے سخت اور فیصلہ کن ثابت ہوئی ہے۔

چین نے تھائی لینڈ اور کمبوڈیا پر بھی دباؤ ڈال کر دو بڑی کاروباری شخصیات کی حوالگی پر مجبور کیا ہے۔ ان میں شی ژی جیانگ شامل ہیں جنھوں نے میانمار کے جنگ زدہ کارن صوبے میں جرائم کی آماج گاہ کے طور پر ایک پورا شہر آباد کیا اور چن ژی جنھوں نے کمبوڈیا میں ’پرنس گروپ‘ کے ذریعے دولت اور طاقت حاصل کی۔

چینی حکومت نے دھوکہ دہی کے مراکز میں کام کرنے والے ہزاروں شہریوں کو واپس لا کر مقدمات کا سامنا کرنے پر مجبور کیا ہے۔

تاہم یہ کاروبار ختم نہیں ہوا بلکہ نئے انداز میں ڈھل گیا ہے۔ کمبوڈیا میں یہ اب بھی سب سے بڑا کاروبار سمجھا جاتا ہے، باوجود اس کے کہ چین اور امریکہ دونوں نے حکومت پر دباؤ ڈالا ہے کہ اس کے خلاف کارروائی کی جائے اور اسے بند کیا جائے۔

میانمار میں بھی یہ دھوکہ دہی کا کاروبار نئے علاقوں میں منتقل ہو رہا ہے حالانکہ سرحدی علاقے کے بڑے مراکز جیسے ’کے کے پارک‘ اور ’شوے کوکو‘ کو بند کر دیا گیا ہے۔

دنیا میں سزائے موت کی شرح دس سال میں سب سے بلند مگر چین کے اعدادوشمار آج بھی ’پراسرار‘ایواؤ ہاکامادا: 56 برس سے سزائے موت کے منتظر جاپانی باکسر کو عدالت نے بری کر دیاقطر میں ’جاسوسی‘ کے الزام میں سزائے موت پانے والے انڈین بحریہ کے آٹھ سابق افسران رہا، سات واپس انڈیا پہنچ گئےقطر میں انڈین بحریہ کے آٹھ سابق افسران کی گرفتاری پر مودی حکومت چُپ کیوں سادھے بیٹھی ہے؟ایران نے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی سے مبینہ روابط کے الزام میں چار افراد کو پھانسی دے دی
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More