گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ کی خوبصورت وادی چپورسن جو بارہ گاؤں اور تقریباً چار ہزار آبادی پر مشتمل ہے، گذشتہ سال جولائی سے خوف و ہراس کی کیفیت میں ہے۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق وہ رات کو سوتے وقت بھی جوتے اور مکمل لباس پہن کر سوتے ہیں اور گھروں کے دروازے بند نہیں کرتے، کیونکہ انھیں ہر وقت یہ خدشہ رہتا ہے کہ کسی بھی لمحے جان بچانے کے لیے بھاگنا پڑ سکتا ہے۔
اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ جولائی 2024 سے وقفے وقفے سے زیرِ زمین مختلف مقامات پر اور مختلف شدت کے دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں، جس نے لوگوں کو شدید خوفزدہ کر رکھا ہے۔
چپورسن کی یہ وادی بلند پہاڑوں میں گھری ہوئی ہے اور اپنی قدرتی خوبصورتی کے باعث سیاحوں میں مقبول ہے، مگر مسلسل دھماکوں کی آوازوں نے یہاں کے باسیوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
مقامی لوگوں کا خیال تھا کہ رواں سال 19 جنوری کو شمالی علاقہ جات میں آنے والے 5.8 شدت کے زلزلے، جس کا مرکز چپورسن بتایا گیا تھا، کے بعد یہ دھماکے ختم ہو جائیں گے۔ تاہم ان کے مطابق یہ آوازیں اب بھی سنائی دے رہی ہیں اور لوگ غیر یقینی صورتحال میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
حکومتی اداروں نے ان دھماکوں کی آوازوں کی تصدیق کی ہے اور مختلف محکمے اس حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں ان دھماکوں کی وجوہات کو سائنسی قرار دیا گیا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ ان کے ممکنہ نقصانات سے بچنے کے لیے مختلف تدابیر موجود ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ مقامی آبادی ان دھماکوں کے بارے میں کیا سوچتی ہے اور ان کے خدشات کیا ہیں؟ اس کے بعد ہم دیکھیں گے کہ سائنس ان آوازوں کی کیا وضاحت پیش کرتی ہے۔
ساری آبادی تناؤ کا شکار ہے
وادی چپورسن کے رہائشی 42 سالہ حیدر بدخشانی نے بتایا کہ گذشتہ سال جولائی میں پہلی مرتبہ زیرِ زمین دھماکے کی آواز سنائی دی تھی۔ اس کے بعد یہ دھماکے وقفے وقفے سے سنائی دیتے رہے ہیں، جو عموماً رات کے وقت ہوتے ہیں۔ ان کی شدت کبھی زیادہ اور کبھی کم ہوتی ہے۔
حیدر کے مطابق یہ دھماکے کسی ایک مقام پر نہیں بلکہ مختلف جگہوں پر ہوتے ہیں۔ وہ رشید گاؤں کے رہائشی ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر دھماکہ ان کے گاؤں کے قریب ہوتا ہے تو آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، جبکہ دوسرے گاؤں کے قریب ہونے پر وہاں کے لوگ زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اکثر اوقات ان دھماکوں کے ساتھ جھٹکے بھی محسوس ہوتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس طرح کی صوتحال انھوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی اور نہ ہی ان کے آباؤ اجداد اس بارے میں کچھ بتا سکے ہیں۔ حیدر کے مطابق سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے لوگ علاقے میں آتے جاتے رہے ہیں، وجوہات تو بیان کرتے ہیں لیکن کوئی عملی حل نہیں بتاتے۔ اس صورتحال نے مقامی آبادی کو مستقل خوف میں مبتلا کر رکھا ہے۔
شدید سردی کے عالم میں، جہاں درجہ حرارت منفی بیس تک گر جاتا ہے، لوگ گھروں کے دروازے بند نہیں کرتے تاکہ کسی بھی وقت جان بچانے کے لیے بھاگ سکیں۔ اس خوف کا شکار خواتین، بچے، مرد اور بزرگ سب ہیں۔ حیدر کا کہنا ہے کہ ایسی فضا میں معمول کی زندگی گزارنا ممکن نہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ 19 جنوری کو آنے والے زلزلے میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم بڑی تعداد میں گھروں کو نقصان پہنچا۔ مقامی لوگوں کو امید تھی کہ اس کے بعد دھماکے رک جائیں گے، لیکن یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
Getty Images’زلزلے او ر دھماکوں کی وجوہات زیرِ زمین فالٹ ہے‘
سرکاری اور نجی اداروں کی رپورٹ کے مطابق علاقے میں تقریباً تین سو گھروں کو نقصان پہنچا ہے، جن میں سے 102 مکانات مکمل طور پر مہندم ہو چکے ہیں جبکہ باقی کو جزوی نقصان ہوا ہے۔
مقامی کمیونٹی تنظیم کے صدر فاضل بیگ کے مطابق دھماکوں کے آغاز کے بعد سے کئی خاندان ٹینٹوں میں رہائش پذیر ہیں۔ لوگ اپنے گھروں کے سامنے یا محفوظ مقامات پر ٹینٹ لگا لیتے ہیں اور جب دھماکوں کی آوازیں آتی ہیں تو وہاں منتقل ہو جاتے ہیں۔ زلزلے کے بعد متعدد خاندان اپنے گھروں سے نکل کر دوسرے مقامات پر منتقل ہو گئے ہیں کیونکہ ان کے مکانات رہائش کے قابل نہیں رہے۔
واضح رہے کہ 19 جنوری 2026 کو صبح 11:21 بجے گلگت بلتستان کے بارشال کے قریب 5.6 شدت کا زلزلہ آیا جس نے چپورسن، ہنزہ اور دیگر شمالی اضلاع میں شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ اس زلزلے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے جبکہ گھروں، مویشی خانوں اور بنیادی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔ چپورسن میں سینکڑوں مکانات متاثر یا تباہ قرار پائے، سرکاری دفاتر اور سکولوں کی عمارتوں میں دراڑیں پڑ گئیں، جس کے باعث کچھ ادارے بند کر دیے گئے۔ سڑکیں، پانی و بجلی کی فراہمی اور صحت مراکز بھی متاثر ہوئے، جس سے امدادی کاموں میں مشکلات پیش آئیں۔
شیشپر گلیشئیر کی جھیل پھٹنے سے چار سال میں پانچ مرتبہ سیلاب آیا مگر ’حکومتی وعدے آج بھی پورے نہیں ہوئے‘پاکستان کے پگھلتے گلیشیئرز کیسے پہاڑوں پر بسنے والی زندگیاں نگل رہے ہیںگلیشیئر پگھلنے سے37 سال پہلے لاپتہ ہونے والے جرمن کوہ پیما کی لاش برآمدپاکستان میں تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز خطرناک سیلابی ریلوں میں کیوں بدل رہے ہیں؟
پاکستان کے سرکاری ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ ’یہ دھماکے اور زلزلہ زیرِ زمین فالٹ لائنز کی سرگرمیوں کا نتیجہ ہیں۔‘ جیولوجیکل سروے آف پاکستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر نوید منور کے مطابق اگست سے اکتوبر 2025 کے دوران چپورسن کے مکینوں نے پراسرار دھماکہ دار آوازوں اور زمینی جھٹکوں کا سامنا کیا، جو زیادہ تر رات کے وقت سنائی دیتے تھے۔
ان کے مطابق ’نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی درخواست پر جیولوجیکل سروے کی ٹیم نے علاقے کا دورہ کیا اور ایک تفصیلی رپورٹ تیار کی۔‘
اس رپورٹ میں ان واقعات کو ’زلزلے کی تشکیل کا نتیجہ قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ کسی بڑی قدرتی آفت کا پیش خیمہ نہیں بلکہ فعال فالٹ لائنز اور موسمی تبدیلیوں کا اثر ہیں۔‘
جنوری میں یہ آوازیں دن اور رات میں متعدد مرتبہ سنی گئیں
جیولوجیکل سروے آف پاکستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر نوید منور کے مطابق چپورسن ویلی میں سنائی دینے والی پراسرار آوازیں یا دھماکے عام طور پر دو سے تین سیکنڈ تک جاری رہتے تھے۔ یہ آوازیں اکثر دھماکے جیسی محسوس ہوتیں، جبکہ بعض اوقات زمین میں ہلچل یا جھٹکے بھی محسوس کیے جاتے تھے۔
ابتدائی طور پر یہ واقعات ہر دو سے تین دن بعد پیش آتے تھے لیکن بعد میں ان کا وقفہ بڑھ کر پانچ سے سات دن ہو گیا۔ جنوری میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی اور یہ آوازیں دن اور رات میں متعدد مرتبہ سنائی دینے لگیں۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 67 فیصد واقعات رات 11 بجے سے 1 بجے کے درمیان ہوئے، تاہم بعد میں یہ دن کے وقت بھی سنائی دینے لگے۔
رپورٹ میں وادی کو تین مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا: بابا گنڈی زیارت جہاں شدت اور تعداد سب سے زیادہ رہی۔ اس کے بعد زوڈخن، شیر سبز، ریشت کے علاقوں میں شدت شدید رہی لیکن کرمین کے قریب کم ہوتی گئی۔ تاہم خیر آباد، رامینجی، امین آباد، یارزاریچ میں شدت نسبتاً کم رہی اور واقعات تقریباً 12 سے 15 دن میں ایک بار پیش آئے۔
جیولوجیکل و ٹیکٹونک پس منظر اور گلیشئیر کا پگھلناGetty Images
پاکستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ماہرین ڈاکٹر تنویر اور انعم بشیر نے چپورسن ویلی کا دورہ کرکے ایک رپورٹ مرتب کی ہے۔
انعم بشیر کے مطابق ’یہ آوازیں یا دھماکے دراصل زیرِ زمین کم گہرائی والے معمولی زلزلوں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ واقعات قراقرم تھرسٹ اور خداداد فالٹ کے فعال حصوں میں زمین کی معمولی حرکت (ٹیکٹونک ایڈجسٹمنٹ) کے نتیجے میں سامنے آئے ہیں اور ان کا تعلق کسی انسانی سرگرمی یا دھماکے سے نہیں ہے۔‘
انعم بشیر کا کہنا ہے کہ چپورسن وادی افغانستان کے وکھان کوریڈور اور چین کے ژن جیانگ کے قریب واقع ہے۔ ’یہ علاقہ انڈیا اور یوریشیا پلیٹ کی سرحد پر ہے اور زیادہ تر قراقرم اور خداداد فالٹ سے متاثر ہوتا ہے۔ یہاں مختلف قسم کی چٹانیں، آتش فشانی پتھر، گلیشیئرز اور برفانی تودوں کے آثار موجود ہیں۔‘
انعم بشیر کے مطابق ’موسم کی تبدیلی، برف کے جمنے اور پگھلنے کے عمل کے ساتھ زمین کے اندر موجود خالی جگہیں اس خطے کو غیر مستحکم بناتی ہیں۔ وادی ایک فعال کم گہرائی والے زلزلہ زون کا حصہ ہے، جہاں اکثر ہلکے زلزلے آتے رہتے ہیں۔‘
جبکہ جیولوجیکل سروے آف پاکستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر نوید منور مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’چپورسن ویلی قراقرم رینج کے شمالی حصے میں واقع ہے، جو انڈیا اور ایشیا پلیٹوں کے ٹکراؤ کا اہم علاقہ ہے۔ یہاں متعدد فعال فالٹس موجود ہیں، جن میں مین قراقرم تھرسٹ، مین مینٹل تھرسٹ، اپر ہنزہ فالٹ اور کیلک فالٹ۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’یہ فالٹس سخت چٹانوں کو نرم چٹانوں کے اوپر دھکیلتے ہیں جس کے نتیجے میں پتھر گرنے اور زمین کھسکنے کے واقعات عام ہیں اور انھی سے دھماکے جیسی آوازیں پیدا ہوتی ہیں۔‘
نوید منور نے بتایا کہ ’دنیا کے دیگر علاقوں میں بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر سنہ 2010 میں عطا آباد جھیل کے اوور فلو اور سنہ 2022 کی شدید بارشوں کے بعد گوجال اور گلمت میں اسی طرح کے دھماکے اور جھٹکے ریکارڈ کیے گئے تھے۔
اُن کے کہنا تھا کہ ’رپورٹ کے مطابق سنہ 2025 میں چپورسن دریا میں غیر معمولی طور پر زیادہ پانی کا بہاؤ دیکھا گیا، جو گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کی وجہ سے تھا۔ اس سے زیرِ زمین پانی میں اضافہ ہوا جس نے فالٹس پر دباؤ کم کرکے چھوٹے زلزلوں کو جنم دیا۔ یہ واقعات فراسٹ کوئیکس بھی کہے جا سکتے ہیں یعنی زمین میں اچانک سردی کے اثر سے پیدا ہونے والے جھٹکے۔‘
نوید منور کے مطابق یہ واقعات مختلف علاقوں میں مختلف وجوہات سے پیدا ہوتے ہیں اور زیادہ تر رات کے وقت سنائی دیتے ہیں۔ چونکہ یہ علاقہ فعال فالٹ لائنز سے گھرا ہوا ہے اس لیے موسمی تبدیلیاں مستقبل میں ایسے واقعات کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ابتدائی رپورٹ کے بعد اب اس علاقے اور فالٹ لائنز کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ ایک تفصیلی رپورٹ تیار کی جا سکے۔‘
’قراقرم اور ہمالیہ کا وجود ہیزمینی پلیٹوں کے تصادم کا نتیجہ ہے‘
کامسیٹس یونیورسٹی ایبٹ آباد کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پہاڑی علاقوں میں موسم اور ماحولیات کے ماہر ڈاکٹر صدیق اللہ بیگ کے مطابق ’وادی چپورسن تقریباً 75 کلومیٹر پر محیط ہے اور یہ تین بڑی فالٹ لائن پلیٹوں پر مشتمل ہے۔ یہ فالٹ لائنز ایک دوسرے کو کھینچتی یا دھکیلتی ہیں، جس کے نتیجے میں زمین کے اندر توانائی جمع ہوتی ہے۔ جب یہ توانائی سطح پر خارج ہوتی ہے تو دھماکے جیسی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔‘
ڈاکٹر صدیق اللہ بیگ وضاحت کرتے ہیں کہ ’سائنسی طور پر ثابت ہے کہ تقریباً 50 ملین سال پہلے موجودہ قراقرم ہمالیہ زون ایک جزیرہ نما تھا۔ زمین کی سطح بڑی بڑی ٹیکٹونک پلیٹوں پر بنی تھی جو مسلسل حرکت میں رہتی ہیں۔ انڈین پلیٹ جنوب سے شمال کی طرف بڑھتی رہی اور بالآخر یوریشین پلیٹ سے ٹکرا گئی۔‘
اُن کے مطابق ’اس ٹکراؤ کے نتیجے میں انڈین پلیٹ نیچے دب گئی اور یوریشین پلیٹ اوپر اٹھ گئی۔ یہی عمل ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑوں کی تشکیل کا باعث بنا۔‘
ڈاکٹر صدیق اللہ بیگ نے کہا کہ ’یہ ٹکراؤ اور دباؤ کا عمل آج بھی جاری ہے۔ جب پلیٹیں ایک دوسرے کے نیچے یا ساتھ پھسلتی ہیں تو زمین کے اندر توانائی جمع ہوتی ہے، اور جب یہ توانائی اچانک خارج ہوتی ہے تو زلزلے کی لہریں پیدا ہوتی ہیں۔‘
وہ مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’19 جنوری 2026 کو گلگت بلتستان کے بارشال اور ہنزہ کے قریب 5.6 شدت کا زلزلہ آیا، جس کا مرکز تقریباً 35 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔ یہ واقعہ زمین کی پلیٹوں کی مسلسل حرکت کا نتیجہ تھا۔‘
ڈاکٹر صدیق اللہ بیگ کے مطابق ’انڈین پلیٹ آج بھی یوریشین پلیٹ سے ٹکرا رہی ہے اور ہر سال چند سینٹی میٹر حرکت کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑ مسلسل بلند ہو رہے ہیں اور اس خطے میں زلزلے بار بار آتے رہتے ہیں۔‘
BBCزلزلہ زون میں رہنے والے کون سی احتیاطی تدابیر اختیار کریں؟
آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے ہیڈ آف ایمرجنسی اعجاز کریم نے کہا ہے کہ ’دنیا میں کئی ایسے علاقے موجود ہیں جو فالٹ لائن پر واقع ہیں یا جہاں چھوٹے بڑے زلزلے آتے رہتے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہاں انسانی آبادی موجود ہے۔‘
ان کے مطابق ایسے مقامات پر صرف خطرے والے حصے سے لوگوں کو نکالا جاتا ہے، جبکہ قریبی علاقوں کے رہائشیوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔
اعجاز کریم نے بتایا کہ ’ان علاقوں میں باقاعدہ بلڈنگ کوڈز موجود ہوتے ہیں جن کے مطابق گھروں کی تعمیر کی جاتی ہے۔ اسی طرح زمین کے استعمال کے لیے گائیڈ لائنز تیار کی جاتی ہیں، جن میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ کس علاقے میں پارک قائم ہو گا، کس جگہ رہائشی تعمیرات ہوں گی اور کس جگہ دیگر سہولیات۔ اس کے لیے باقاعدہ تحقیقات اور سروے کیے جاتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایسے علاقوں میں جہاں درے اور نالے موجود ہوں وہاں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے، اس لیے وہاں تعمیرات نہیں کرنی چاہیں۔ اسی طرح آبشار کے قریب بھی تعمیرات خطرناک ہیں کیونکہ کسی زلزلے کی صورت میں آبشار ٹوٹ سکتی ہے۔ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے دریاؤں کے بند ہونے کا بھی خطرہ رہتا ہے۔‘
اعجاز کریم کے مطابق ان علاقوں میں ہمیشہ ہلکی تعمیرات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ایسی عمارتیں نہیں بنانی چاہیں جو انجینئرنگ کے معیار پر پوری نہ اتریں۔ گھروں کو ایسے مقامات پر بنایا جاتا ہے جہاں سے نکلنے کے راستے آسان ہوں تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں فوری انخلا ممکن ہو۔ اس مقصد کے لیے ہر علاقے اور وادی میں مشترکہ ماہرین کے سروے کیے جاتے ہیں جن میں مختلف شعبوں کے ماہرین شامل ہوتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ایسے مواقع پر مقامی کمیونٹیز کو بھی کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے تاکہ وہ ہنگامی حالات میں بہتر طریقے سے ردعمل دے سکیں۔‘
موسمیاتی تبدیلی اور ’زمین کی موت‘: چترال کا وہ ’جنت نظیر گاؤں‘ جہاں کے خوشحال کاشتکار راتوں رات کنگال ہو گئےشیشپر گلیشئیر کی جھیل پھٹنے سے چار سال میں پانچ مرتبہ سیلاب آیا مگر ’حکومتی وعدے آج بھی پورے نہیں ہوئے‘پاکستان میں تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز خطرناک سیلابی ریلوں میں کیوں بدل رہے ہیں؟گلیشیئر پگھلنے سے37 سال پہلے لاپتہ ہونے والے جرمن کوہ پیما کی لاش برآمدپگھلتے گلیشیئرز، گِرتے برفانی تودے اور سیاحوں کی عدم موجودگی: گلگت بلتستان میں کیا ہو رہا ہے؟پاکستان کے پگھلتے گلیشیئرز کیسے پہاڑوں پر بسنے والی زندگیاں نگل رہے ہیں