AFP via Getty Imagesگذشتہ سال 25 ستمبر کو پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر واشنگٹن کے دورے پر گئے تھے۔ وہاں انھوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بھی ملاقات کی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسری بار وائٹ ہاؤس میں آنے سے دو ماہ قبل، گزشتہ سال جنوری میں، انڈین وزیر خارجہ جے شنکر نے کہا تھا کہ انڈیا ٹرمپ کی واپسی سے ’پریشان‘ نہیں ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’میں جانتا ہوں کہ بہت سے ملک آج امریکہ کے بارے میں پریشان ہیں، لیکن سچ کہوں تو ہم ان ممالک میں شامل نہیں۔‘
تاہم، جنوری 2025 کے بعد جب سے ٹرمپ نے دوبارہ وائٹ ہاؤس میں قدم رکھا، انڈیا اور امریکہ کے تعلقات میں گرم جوشی نہیں آئی۔ دوسری جانب، امریکہ کے پاکستان سے سرد تعلقات مسلسل بہتر ہوتے جا رہے ہیں۔
22 جنوری کو پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے ڈیووس میں ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کی سرکاری تقریب میں شرکت کی، جہاں پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔
غزہ کی تعمیر نو کے لیے بنائے گئے اس بورڈ میں شمولیت کے موقع پر شہباز شریف نے ٹرمپ کے ساتھ دستخط کیے تو اس دوران دونوں کے درمیان گرم جوشی کی تصاویر وائرل ہو گئیں۔
تاہم، اس بورڈ آف پیس کے بارے میں انڈیا نے کوئی بات نہیں کی ہے۔ ٹرمپ نے انڈیا کو بھی اس میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔
ایک سال سے انڈیا اور امریکہ کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ پہلے فاصلہ تب بڑھا جب ٹرمپ نے انڈیا پر اضافی محصولات عائد کیے اور پھر گذشتہ سال مئی میں انڈیا اور پاکستان کی تنازع کے بعدحالات مزید تلخ ہو گئے۔
کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا فائدہ پاکستان نے اٹھایا، اور وہ تعلقات بہتر کر لیے جو ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت میں سرد ہو گئے تھے۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟Harun Ozalp/Anadolu via Getty Imagesڈیووس میں بورڈ آف پیس کی سرکاری تقریب کے دوران پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ’کل کو ٹرمپ تنازعِ کشمیر کو بھی بورڈ میں لا سکتے ہیں‘: غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت اور انڈیا کی ’اُلجھن‘’لاتعلقی کے بعد ثالثی‘: ’ڈیل میکر‘ ٹرمپ انڈیا اور پاکستان سے کیا چاہتے ہیں؟ڈونلڈ ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ’دو گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی ملاقات‘ جس میں آئی ایس آئی سربراہ بھی موجود تھے ’پاکستان اور انڈیا کی جنگ کے دوران پانچ طیارے گرائے گئے‘: امریکی صدر ٹرمپ کا دعویٰ اور کانگریس کا مودی سے سوال
21 جنوری کو تھنک ٹینک ٹکشاشلہ انسٹی ٹیوشن کے ڈائیریکٹر نتن پائی نے ایکس پر لکھا تھا: ’میں ان تبصروں پر حیران ہوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات سنبھالنے میں نئی دہلی غلطی کر رہا ہے۔ اس طرح کا استدلال مکمل غلط ہے۔ ان میں سے کوئی بھی بات ویسی نہیں جیسی بتائی جا رہی ہے۔ فاتح کا ساتھ دینا ہی سمجھ داری ہوتی ہے۔ انڈیا کے تجارتی مذاکرات ہمیشہ سے ہی مشکل تھے کیوں کہ اس میں شامل مفاد بہت بڑے ہیں۔ انڈیا پاکستان تعلقات میں امریکی مداخلت تسلیم نہ کرنا ایک بنیادی اصول ہے۔‘
نتن پائی کے اس تبصرے کا جواب دیتے ہوئے امریکہ کی البانی یونیورسٹی میں سیاسیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر کرسٹوفر کلیری نے کہا: ’اگر تمام دنیا کو ہی خامیاں نظر آ رہی ہیں تو یہ اندازہ لگانا آسان ہے کہ مسئلہ کہاں ہے۔ میرے خیال میں نئی دہلی نے تین غلطیاں کیں:
2024 کے دوران انھوں نے بائیڈن کی رخصتی پر خوشی کا برملا اظہار کیا، یہ بات امریکہ میں محسوس کی گئی۔تجارتی مذاکرات کو غیر ضروری طول دیا گیا، جب کہ دوسروں نے ایسا نہیں کیا۔آپریشن سندور کے بعد وہ ٹرمپ کو کوئی علامتی یقین دہانی کرانے میں بھی مشکل کا شکار نظر آئے۔‘
پروفیسر کرسٹوفر نے لکھا: ’میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مسئلہ ٹرمپ ہی ہیں۔ اس وجہ سے انڈیا کی غلطی یہ ہے کہ وہ ایسے شخص کو سنبھالنے میں کوتاہی کر گئے جو بذات خود ایک مسئلہ ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ وہ مسائل کا شکار ہوں، لیکن یہ اس دنیا کی حقیقت ہے جہاں ہم رہ رہے ہیں۔‘
پروفیسر کرسٹوفر نے وہ ویڈیو بھی پوسٹ کی جس میں پاکستان ٹرمپ کے امن بورڈ میں شامل ہو رہا ہے اور شہباز شریف ٹرمپ کے ساتھ ڈیووس میں موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا: ’پاکستان کی امریکہ کے ساتھ سفارتی کامیابیوں کی ایک تاریخ رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان اکثر اندازہ لگا لیتا ہے کہ امریکی اقدامات کے ساتھ کھڑے ہونا واشنگٹن کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے فائدہ مند ہے، چاہے آگے چل کر اس سے مسائل ہی کیوں نہ پیدا ہوں۔ اسلام آباد اکثر یہ حساب لگا لیتا ہے کہ اگر آج کے مسائل کم ہو سکتے ہیں تو مستقبل میں آنے والی پریشانیوں سے مستقبل میں ہی نمٹا جائے گا۔‘
AFP via Getty Imagesٹرمپ کی دوسری مدت صدارت سے پہلے چین پر دباؤ ڈالنے کی امریکی حکمت عملی کے لیے انڈیا اہم سمجھا جاتا تھا
پاکستان کے سابق مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے گذشتہ سال ستمبر میں جریدے فارن افیئرز میں ایک طویل مضمون لکھا تھا۔ اس کا عنوان تھا ’امریکہ کو پاکستان پر داؤ کیوں لگانا چاہیے؟‘
معید یوسف نے لکھا: ’امریکہ نے انڈیا پر داؤ لگایا لیکن اسے کامیابی نہ ملی۔ دو دہائیاں گزر چکیں لیکن انڈیا خود کو خطے میں اور خطے سے باہر امریکی ترجیحات کے ساتھ مکمل ہم آہنگ کرنے کے قابل ہے اور نہ ہی اس کے لیے تیار۔‘
انڈیا امریکہ تعلقات میں تلخی شروع کہاں سے ہوئی؟
بین الاقوامی امور کے جریدے ’دی ڈپلومیٹ‘ کے مطابق سنہ 2025 میں انڈیا امریکہ تعلقات میں کچھ ایسا ہوا جس کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔
واشنگٹن کے ’قدرتی‘ شراکت دار سمجھے جانے والے انڈیا پر 50 فیصد کا سخت محصول لگا دیا گیا۔
اُسی وقت پاکستان نے وائٹ ہاؤس میں امریکہ کے نئے پسندیدہ اتحادی کے طور پر اپنی جگہ بنانی شروع کر دی۔
اس کی شروعات تب ہوئی جب نئی دہلی نے ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دعویٰ سر عام مسترد کر دیا کہ مئی 2025 میں پاکستان سے تنازع ختم کرانے میں انھوں نے ثالثی کرائی تھی۔
اس کے بعد انڈیا امریکہ تعلقات پر ایسی برف پڑی، مستقبل قریب میں جس کے پگھلنے کا امکان کم ہی نظر آتا ہے۔
نہ تو کواڈ سربراہ اجلاس ہوا نہ کوئی ایسا تجارتی معاہدہ جو انتہائی زیادہ محصول کے بوجھ تلے دبے انڈیا کو سکھ کا سانس فراہم کر سکتا۔
کشیدہ تعلقات مزید اُس وقت بگڑے جب نومبر میں امریکی ہاؤس پینل کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ’انڈیا سے چار روزہ تصادم کے دوران پاکستان کی عسکری کامیابی میں چینی ہتھیار نمایاں تھے۔‘
صدر ٹرمپ نے انڈیا کا نام لیے بغیر کئی بار کہا کہ جنگ کے دوران پانچ طیارے مار گرائے گئے۔ بعد کے بیانات میں انھوں نے یہ تعداد مزید بڑھا دی۔
انڈیا نے کسی طیارے کے گرنے کے بارے میں کوئی معلومات نہ دیں، کہا تو بس یہ کہ پاکستان کے طیارے کو نقصان پہنچا۔
ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انھوں نے انڈیا اور پاکستان کا تصادم رکوایا، انڈیا مسلسل اس کی تردید کرتا ہے۔
دی ڈپلومیٹ کے مضمون میں لکھا ہے انڈیا نے مئی 2025 کے تنازع میں ٹرمپ کی ثالثی کا دعویٰ مسترد کر کے ان کی ’سرعام توہین‘ کی۔ اس کے بعد سے انڈیا امریکہ تعلقات سرد مہری کا شکار ہوئے۔
جہاں انڈیا نے ٹرمپ کے دعوؤں کو اپنی خود مختاری کی توہین سمجھا، وہیں پاکستان نے اسے ایک بڑے موقع کے طور پر دیکھا۔
اسلام آباد نے ٹرمپ کے اس دعوے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا کہ انھوں نے انڈیا پاکستان تنازع ختم کرانے میں ثالثی کی ہے، حتیٰ کہ ٹرمپ کو نوبیل انعام کے لیے نامزد بھی کر دیا۔ یہ قدم پاکستان کے لیے خوب فائدہ مند ثابت ہوا۔
پاکستان سے قربتAFP via Getty Imagesیہ تصویر 2020 کی ہے جب ٹرمپ نے انڈیا کا دورہ کیا تھا اور احمدآباد میں ’نمستے ٹرمپ‘ کی ریلی منعقد ہوئی تھی
ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت سے پہلے چین پر دباؤ ڈالنے کی امریکی حکمت عملی کے لیے انڈیا اہم سمجھا جاتا تھا۔ دوسری جانب پاکستان کو چین کے حامی ملک کے طور پر دیکھا جاتا۔
لیکن اب امریکہ پاکستان تعلقات مضبوط ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات خراب ہو رہے ہیں۔ ٹرمپ نے انڈیا پر بھاری محصول عائد کیے ہیں (25 فیصد باہمی، اور روس سے تیل خریدنے کی سزا کے طور پر اضافی 25 فیصد)۔
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت انڈیا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی دو دہائیوں سے جاری امریکی پالیسی پلٹتی معلوم ہوتی ہے۔
اب ٹرمپ پاکستان اور اس کے آرمی چیف کی تعریف کرتے نظر آتے ہیں۔ دوسری جانب انڈیا ٹرمپ کا یہ دعویٰ مسترد کر چکا ہے کہ مئی میں انھوں نے دونوں ملکوں کی جنگ بند کرائی تھی۔
مشرق وسطیٰ میں بھی پاکستان کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ پاکستان ٹرمپ کے امن بورڈ میں شامل ہے۔ شمولیت کی دعوت انڈیا کو بھی ملی ہے لیکن ابھی تک مودی حکومت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
نشا بسوال دی ایشیا گروپ کی شراکت دار ہیں اور اوباما انتظامیہ کے دوران جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کی سابق امریکی معاون وزیر خارجہ رہی ہیں۔ گذشتہ سال نومبر میں انھوں نے بلوم برگ کو بتایا: ’پاکستان سے ایک مضبوط تعلق امریکہ کو یہ صلاحیت بھی دیتا ہے کہ وہ انڈیا پر دباؤ ڈال سکے۔ دنوں ممالک کو اپنی اپنی اہلیت کی بنیاد پر کھڑا ہونا ہو گا۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’جس حد تک امریکہ پاکستان پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور دباؤ ڈال سکتا ہے، اور بحران کے وقت ایسا کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات موجود ہوں، یہ ایک نہایت اہم پہلو ہے۔ آپ ایسا پاکستان نہیں چاہیں گے جو امریکی اثر سے مکمل طور پر باہر ہو۔‘
پاکستان اور امریکہ سرد جنگ دور سے ہی شراکت دار رہے ہیں۔ 1980 کی دہائی میں پاکستان نے سوویت یونین کے خلاف لڑنے والے افغان باغیوں کو مدد پہنچانے میں امریکہ کے ساتھ تعاون کیا۔ بعد میں پاکستان نے امریکہ کی نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لاسٹک معاونت فراہم کی۔
امریکہ اور پاکستان کی بڑھتی قربت کو انڈیا کے خلاف بھی دیکھا جا رہا ہے، لیکن سابق امریکی مشیر قومی سلامتی جان بولٹن نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو انٹرویو میں اس کا مختلف تجزیہ کیا۔
انھوں نے کہا: ’میرے خیال میں انڈیا امریکہ تعلقات 21 ویں صدی میں شاید ہمارے لیے سب سے اہم سٹریٹیجک تعلقات ہیں۔ لیکن پاکستان کے ساتھ تعلقات رکھنا بھی غیر اہم نہیں ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ چین پاکستان میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے، خصوصاً پاکستانی فوج کے ساتھ۔ مجھے اس بات پر تشویش ہے اور ظاہر ہے انڈیا کے لیے بھی یہ بات فکر کا باعث ہے۔‘
امریکہ کے سابق مشیر قومی سلامتی کا کہنا تھا: ’لہذا ہمارے مفادات ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں۔ طالبان اور افغانستان میں دیگر گروہوں کے خلاف ہمارے پاکستان کے ساتھ بھی کچھ مشترکہ مفادات ہیں۔ میرا یقین ہے کہ اگر ہم پاکستان کے ساتھ کام کر سکیں اور انھیں یہ یاد دلا سکیں کہ چین اُن کے لیے بھی اتنا ہی خطرہ ہے جتنا کہ انڈیا کے لیے، تو یہی آگے بڑھنے کی واحد بنیاد بن سکتی ہے۔ مجھے نہیں معلوم ٹرمپ بھی ایسا ہی سوچ رہے ہیں یا نہیں، لیکن اگر میں ان کا مشیر ہوتا، تو ان سے یہی بات کہتا۔‘
’پسندیدہ‘ فیلڈ مارشل، شہباز شریف اور ٹرمپ: ’خدا آپ کو سلامت رکھے، دنیا کو آپ کی سب سے زیادہ ضرورت تھی‘دلی سے دوری اور اسلام آباد سے قربت: ’پاکستان کو سمجھنا ہو گا کہ اس کا واسطہ ایک غیر روایتی امریکی صدر سے پڑا ہے‘مودی اور ٹرمپ کی فون کال: ’وزیراعظم نے بتا دیا کہ کشمیر پر ثالثی کبھی قبول نہیں کریں گے‘پاکستان کی صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کی سفارش: ایک ’شاندار چال‘ یا خطے کی صورتحال کے تناظر میں ’نامعقول‘ فیصلہ؟’مائی فرینڈ‘ سے ’ٹیرف کِنگ‘ تک: کیا ایف-35 کی پیشکش اور پاکستان کے ساتھ تنازع نے مودی اور ٹرمپ کے درمیان تعلقات میں دراڑ ڈال دی؟