مارک ٹلی کی وفات: وہ صحافی جنھوں نے بھٹو کی پھانسی اور بابری مسجد کے انہدام جیسی سینکڑوں کہانیاں لوگوں تک پہنچائیں

بی بی سی اردو  |  Jan 25, 2026

Getty Imagesمارک ٹلی 25 برس تک بی بی سی کے ساتھ وابستہ رہا، اُن کا شمار جنوبی ایشیا کے ممالک کی کوریج کرنے والے بڑے صحافیوں میں ہوتا تھا

’میں ہر شام جج کے پاس جاتا تھا، وہ مجھے کہتے کہ وہ سب کچھ بتائیں گے لیکن اگر یہ سب کچھ شائع ہوا تو میں اس معلومات سے مکر جاؤں گا۔ یہ میرے لیے بہت مشکل صورتحال تھی۔‘

یہ الفاظ ہیں براڈ کاسٹر، سینیئر صحافی اور بی بی سی کے انڈیا میں سابق نامہ نگار مارک ٹلی کے جو ماضی میں پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور ان کے خلاف ہونے والی عدالتی کارروائی کی بھی کوریج کر چکے ہیں۔

مارک ٹلی اتوار کو 90 برس کی عمر میں وفات پا گئے ہیں۔

سنہ 2009 میں بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اُنھوں نے اپنے صحافتی کریئر کے دوران بڑی خبروں، ہنگاموں، انڈیا اور پاکستان میں ہونے والے بڑے واقعات کی کوریج کے دوران پیش آنے والے واقعات اور مشکلات پر کھل کر اظہار خیال کیا تھا۔

مارک ٹلی کے بقول ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے پہلے اور بعد کے معاملات کی کوریج نے اُنھیں بہت شہرت دی۔

ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی کوریج سے متعلق اُن کا کہنا تھا کہ ’ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے جڑے واقعات میری کہانی نہیں تھی، یہ بھٹو کی کہانی تھی۔ لہٰذا جب لوگ یہ کہتے ہیں کہ میں بہت بڑا صحافی ہوں تو مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں میں مغرور نہ ہو جاؤں۔‘

مارک ٹلی کا شمار دُنیا کے معروف صحافیوں میں ہوتا تھا اور اُنھیں انڈیا میں ’بی بی سی کی آواز‘ سمجھا جاتا تھا۔

بی بی سی نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز کے عبوری سی ای او جوناتھن منرو نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہمیں سر مارک ٹلی کے انتقال کا سن کر دکھ ہوا ہے۔ غیر ملکی نامہ نگاروں کے علمبرداروں میں سے ایک کے طور پر اُنھوں نے اپنی رپورٹنگ کے ذریعے انڈیا کے حالات کو برطانیہ اور پوری دُنیا کے سامنے رکھا۔‘

Getty Imagesمارک ٹلی نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف عدالتی کارروائی کی بھی کوریج کی تھیجب آیا نے کہا کہ ’یہ تمھاری نہیں بلکہ ملازموں کی زبان ہے‘

مارک ٹلی سنہ 1935 میں کولکتہ میں پیدا ہوئے تھے۔ اُن کے والد ایک تاجر تھے جبکہ اُن کی والدہ کی پیدائش بنگال میں ہوئی تھی۔

اُن کا خاندان کئی نسلوں سے انڈیا میں کاروبار سے منسلک تھا۔

مارک ٹلی کی پرورش ایک انگریز آیا نے کی، جنھوں نے ایک مرتبہ اُنھیں خاندانی ڈرائیور کی نقل کرتے ہوئے ہندی میں گنتی سنانے پر ڈانٹ کر کہا کہ ’یہ تمہاری نہیں بلکہ ملازموں کی زبان‘ ہے۔

لیکن آخر کار وہ روانی سے ہندی بولنے لگے اور اُن کا شمار روانی سے ہندی بولنے والے غیر ملکی صحافیوں میں ہونے لگا۔

بابری مسجد انہدام کے تیس سال: جب صحافیوں نے عمارت گرانے کی ریہرسل، ہتھیاروں کے لیے فون ہوتے دیکھے ذوالفقار علی بھٹو: ’مجھے داڑھی کاٹنے دیں، میں مولوی کی طرح اس دنیا سے نہیں جانا چاہتا‘ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا کیوں سنائی گئی اور اس فیصلے کو ’عدالتی قتل‘ کیوں قرار دیا جاتا ہے؟49 برس قبل ہونے والے اُس قتل کی رُوداد جو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی وجہ بنا

روانی سے ہندی بولنے کی وجہ سے وہ انڈیا میں تیزی سے مقبول ہوئے اور اُنھیں ’ٹلی صاحب‘ کے نام سے پکارا جانے لگا۔

انڈیا کے لیے ان کی محبت نے انھیں ملک کے سیاست دانوں، ایڈیٹروں، سماجی کارکنوں اور اعلی عہدے داروں کے قریب کیا۔

بی بی سی میں ایک انتطامی افسر سے مایہ ناز نامہ نگار تک

دوسری جنگ عظیم کے فوراً بعد نو سال کی عمر میں اُنھیں تعلیم کے لیے برطانیہ بھیجا گیا۔ اُنھوں نے کیمبرج میں تاریخ اور مذہب کی تعلیم حاصل کی۔

اُنھیں 1965 میں بی بی سی کے لیے انڈیا بھیجا گیا۔ پہلے وہ ایک انتظامی معاون کے طور پر کام کرتے رہے لیکں وقت کے ساتھ ساتھ اُنھوں نے رپورٹنگ بھی شروع کر دی۔

اُن کے بولنے کا انداز غیر معمولی تھا، لیکن انڈیا کے ساتھ اُن کے تعلق نے بہت جلد اُنھیں ترقی کی نئی منازل تک پہنچایا۔

کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ انڈیا میں غربت اور ذات پات کی بنیاد پر عدم مساوات پر بہت زیادہ رپورٹنگ کرتے تھے۔ لیکن بہت سے افراد کا یہ ماننا ہے کہ وہ مذہبی رواداری اور برداشت پر یقین رکھتے تو جو 1947 میں آزاد انڈیا کی اساس تھی۔

سنہ 2016 میں اُنھوں نے ایک انڈین اخبار کو بتایا کہ ’اس ملک کے سیکولر کلچر کو اہمیت دینا، ہر مذہب کو پنپنے کی اجازت دینا واقعی اہم ہے۔ ہمیں ہندو اکثریت پر اصرار کر کے اسے خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔‘

Getty Imagesانھیں انڈیا میں ’ٹلی صاحب‘ پکارا جاتا تھااندرا گاندھی کی جانب سے 24 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم

مارک ٹلی خبر کی تلاش میں نہ صرف انڈیا بھر بلکہ اس کے ہمسایہ ممالک پاکستان اور بنگلہ دیش کا بھی تواتر سے سفر کرتے تھے۔

اُنھیں سنہ 1975 میں انڈیا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اُس وقت کی وزیر اعظم نے 24 گھنٹوں کے نوٹس پر ملک سے نکلنے کا حکم دیا تھا۔ لیکن وہ 18 ماہ بعد واپس آئے اور دہلی میں رہائش اختیار کی۔

اُنھوں نے دہلی میں بی بی سی کے بیورو کے سربراہ کے طور پر 20 سال سے زیادہ عرصہ گزارا، جس میں نہ صرف انڈیا بلکہ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک سے رپورٹنگ بھی اُن کی ذمے داریوں میں شامل تھی۔

اُنھوں نے بنگلہ دیش کے قیام، پاکستان میں فوجی حکمرانی کے ادوار، سری لنکا میں تامل ٹائیگرز کی بغاوت اور افغانستان میں سوویت یونین کے حملوں کے دوران بھی رپورٹنگ کی۔

مارک ٹلی کو انڈیا کے دو بڑے اعلی سول اعزازات پدما شری اور پدم بھوشن سے نوازا گیا۔ سنہ 2002 میں اُنھیں صحافتی خدمات پر برطانوی حکومت نے نائٹ ہڈ ایوارڈ سے بھی نوازا۔

نائٹ ہڈ ایوارڈ برطانیہ کا ایک اعلیٰ ترین غیر فوجی اعزاز ہے۔

Getty Imagesانڈین حکومت نے انھیں ایک وقت پر 24 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم بھی دیا تھا

مارک ٹلی سے پوچھا گیا کہ کوئی بھی نیا صحافی آپ کی طرح بننا چاہتا ہے، تو اُن کا کہنا تھا کہ ’پتا نہیں لوگ ایسا کیوں کہتے ہیں۔ میرا کریئر صرف میری محنت کا نتیجہ نہیں، یہ میری قسمت اور میرے خدا کی طرف سے تھا۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’جب میں نے انڈیا میں صحافت شروع کی تھی تو ٹی وی بہت کم تھا۔ ریڈیو صرف حکومت کے کنٹرول میں تھا، لوگ کہتے تھے کہ آل انڈیا ریڈیو سرکاری ریڈیو ہے۔ جو لوگ مختلف نقطہ نظر سے خبریں سننا چاہتے تھے وہ بی بی سی سنتے تھے۔ میں بی بی سی سے وابستہ تھا اور اسی وجہ سے میں مشہور ہوا۔‘

اپنے کریئر کی سب سے بہترین سٹوری سے متعلق پوچھے گئے سوال پر مارک ٹلی کا کہنا تھا کہ ’میں نے بی بی سی کے لیے کراچی سے درہ خیبر تک ٹرین کے سفر کے بارے میں ایک فلم بنائی۔ پشاور سے درہ خیبر تک تاریخی ریلوے لائن کئی سالوں سے بند تھی۔ ہم نے پاکستان ریلوے سے اسے دوبارہ کھولنے کی درخواست کی اور اُنھوں نے اس پر اتفاق کیا۔‘

جب مشتعل ہجوم نے بابری مسجد کے انہدام کے دوران ٹلی کو یرغمال بنا لیا

دسمبر 1992 میں مارک ٹلی کو اُس وقت مشکل صورتحال سے گزرنا پڑا جب ہندو کار سیوک تاریخی بابری مسجد کو گرانے کے لیے جمع ہونا شروع ہوئے۔

مارک ٹلی بھی کچھ دیگر غیر ملکی صحافیوں کے ساتھ وہاں موجود تھے۔ ہندو انتہا پسند ویشوا ہندو پریشد اس معاملے پر بی بی سی کی کوریج سے خوش نہیں تھی۔

ہجوم میں شامل کچھ افراد نے ’مارک ٹلی مردہ باد‘ جیسے نعرے بھی لگائے اور اُنھیں دھمکیاں بھی دی گئیں۔

کارسیوکوں کے ایک گروپ نے دشرتھ محل مندر کے قریب مارک اور دیگر صحافیوں کو گھیر لیا اور اُنھیں یرغمال بنا لیا۔ خوش قسمتی سے مندر کا پجاری مارک کو جانتا تھا، جو کارسیوکوں کو انھیں رہا کرنے پر راضی کرنے میں کامیاب رہا۔

لیکن اس سے قبل مارک ٹلی اور دیگر صحافیوں کو کئی گھنٹوں تک ایک کمرے میں یرغمال رکھا گیا۔

Getty Imagesمارک ٹلی نے ٹرین میں کراچی سے خیبر پاس کا سفر بھی کیا تھاامریش پوری کے ساتھ فلم کی خواہش

بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں مارک ٹلی کا کہنا تھا کہ وہ انڈین فلموں کے شوقین ہیں جبکہ اوم کارہ اور تارے زمین پر اُن کی پسندیدہ فلموں میں شامل ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ مجھے امریش پوری بھی بہت پسند تھے جبکہ نصیر الدین شاہ اور سیف علی خان بھی اچھے اداکار ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’جب مجھے نائٹ کا اعزاز ملا تو صحافیوں نے مجھ سے پوچھا کہ میری اور کیا خواہشات ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ میں ہندی فلم میں ایک چھوٹا سا کردار کرنا چاہتا ہوں، لیکن اس میں امریش پوری کو ہونا چاہیے۔‘

مارک ٹلی کے بقول کچھ روز بعد اُنھیں امریش پوری کا فون آیا اور اُنھوں نے کہا کہ آپ کی خواہش جلد پوری ہونے والی ہے۔ لیکن افسوس کہ اس کے فوری بعد امریش پوری وفات پا گئے۔

’انڈین صدر کی گھبراہٹ اور اندرا گاندھی کی موت کی خبر دینے میں تاخیر‘: جب انڈین وزیر اعظم کی لاش ہسپتال لائی گئی’ہر طرف موت اور تباہی تھی‘: جب آپریشن بلیو سٹار کے بعد تعفن زدہ لاشیں ’شراب پلا کر اٹھوائی گئیں‘49 برس قبل ہونے والے اُس قتل کی رُوداد جو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی وجہ بناذوالفقار علی بھٹو: ’مجھے داڑھی کاٹنے دیں، میں مولوی کی طرح اس دنیا سے نہیں جانا چاہتا‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More