برطانوی رائل ایئرفورس کے تجربہ کار اہلکار ایک مشق کے دوران تقریباً ایک ہزار فُٹ کی بلندی سے زمین پر گِرے تھے۔ اس واقعے میں وہ زندہ تو بچ گئے لیکن ان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل سی گئی۔
چالیس سالہ روب بگڈن نے جنوری 2016 میں ایک مشق کے دوران اپنے پیراشوٹ کے ساتھ تقریباً پانچ ہزار فُٹ کی بلندی سے ایک جہاز سے چھلانگ لگائی تھی۔ لیکن وہ تھوڑی ہی دیر بعد فضا میں ہی اپنے ایک ساتھی کے ساتھ ٹکرا گئے۔
اس واقعے کے بعد جب ان کی آنکھ کھلی تو انھوں نے خود کو ہسپتال کے ایک بستر پر لیٹا ہوا پایا، اتنی بلندی سے گِرنے کے بعد گردن سے نیچے تک ان کا پورا جسم مفلوج ہو چکا تھا۔
اس واقعے کے دس برس بعد روب کہتے ہیں کہ ’آپ کو معلوم ہے مجھے یہ واقعہ ذرا سا بھی یاد نہیں ہے اور میں اس سے مطمئن ہوں۔‘
گلیمورگن کے رہائشی روب نے سنہ 2008 میں بطور فزیکل انسٹرکٹر رائل ایئرفورس میں شمولیت اختیار کی تھی اور بعد میں سنہ 2015 میں انھوں نے پیراشوٹ انسٹرکٹر کے طور پر کام کرنے کا فیصلہ کیا۔
وہ حادثے والے دن کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اس دن میں جہاز کی طرف پیدل چلتا ہوا گیا تھا، وہ آخری دن تھا جب میں باآسانی اپنے پیروں پر خود چل سکتا تھا۔ یہ سوچنے میں بہت عجیب لگتا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ پہلے پہل تو جہاز سے چھلانگ لگانے کے بعد ’سب درست‘ ہی تھا ’لیکن پھر میری آنکھ فینکس، ایریزونا کے ایک ہسپتال میں کھلی۔‘
روب کو بتایا گیا کہ جہاز سے چھلانگ لگانے کے بعد آسمان پر تقریباً ایک ہزار فُٹ کی بلندی پر ایک ٹکراؤ ہوا تھا۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس ٹکراؤ سے میری گردن ٹوٹ گئی تھی۔‘
’ہم خوش قمست رہے کہ ہم ریت پر گِرے تھے۔‘
اس حادثے کا شکار بننے والے دوسرے شخص روب کے ایک دوست ہی تھے۔
اس حادثے کے بعد روب بیہوش ہو گئے تھے جبکہ ان کے دوست ہوش میں رہے۔ لیکن ان کے گردے اور دیگر ہڈیوں پر گہری چوٹیں آئی تھیں۔
روب سمجھتے ہیں کہ ’میں خوش قسمت رہا کہ میری جان بچ گئی۔‘
برطانوی رائل ایئر فورس کےسابق اہلکار بتاتے ہیں کہ جہاں وہ گِرے وہاں برطانیہ کی سپیشل فورسز کے اہلکاروں سمیت متعدد ’باصلاحیت افراد‘ موجود تھے۔
جب ان افراد نے یہ حادثہ دیکھا تو فوراً مدد کے لیے دوڑے۔
روب کہتے ہیں ’ان کی عدم موجودگی میں شاید میں زندہ نہیں بچتا۔‘
’کرکٹرز ہاتھ نہیں ملاتے لیکن یہ ساتھ کھڑے ہیں‘: دبئی ایئر شو میں پاکستان اور انڈین فضائیہ کے افسران کی تصاویر پر بحثصدر کے تکیے سمیت ایئر فورس ون سے چیزیں چرانے سے باز رہیں، امریکی صحافیوں کو تنبیہ’آئی پیڈ چھوڑو اور دھیان دو‘: جب ایک مسافر طیارہ امریکی صدر کے ’ایئر فورس ون‘ کے نزدیک آ گیاپاکستانی فضائیہ کو حیران کرنے والے سکواڈرن لیڈر دیوایا جن کی قبر دشمن ملک کے کھیت میں ہے
’میں ان کا بہت شکر گزار ہوں۔ یہ ایک چھوٹا سا ہی لفظ ہے لیکن اس کے علاوہ اور میں کہہ بھی کیا سکتا ہوں۔‘
اس حادثے کے بعد روب کو متعدد آپریشنز سے گزرنا پڑا کیونکہ وہ اپنے آپ سانس نہیں لے پا رہے تھے اور ان کے جسم میں ایک پیس میکر بھی نصب کرنا پڑا۔
ان کی آنکھ اور گردن بھی آپریشن کے ذریعے درست کی گئی تھی۔ اس وقت تک روب بالکل مفلوج ہو چکے تھے اور ’کبھی ہوش اور کبھی بیہوشی‘ کی حالت میں تھے۔
حادثے کے تقریباً تین ہفتوں بعد انھیں برمنگھم کے کوئن ایلزبتھ ہسپتال لایا گیا، جہاں علاج کا ایک ’طویل سفر‘ شروع ہوا۔
یہاں آ کر ہی روب کو معلوم ہوا کہ وہ اپنے جسم کو حرکت نہیں دے سکتے۔ انھیں بتایا گیا کہ ان کی ریڑھ کی ہڈی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’میری چاروں پسلیاں کام نہیں کرتیں۔‘
’لیکن میں بہت ضدی ہوں۔ میں سوچتا ہوں کہ میں ہمیشہ ٹھیک ہوں، اس کا مطلب یہ ہے کہ میں کبھی ہار نہیں مانوں گا۔‘
کچھ عرصے بعد روب خود سانس لینے کے قابل ہوگئے اور ایک برس بعد وہ خود کھانا کھانے کے قابل ہوگئے۔
اس کے بعد انھوں نے دوسروں کی کم مدد لینے کا فیصلہ کیا اور وہ اپنے جسم کو تھوڑی حرکت دینے کے قابل ہوئے۔
’دوستوں کے شکر گزار‘
آج بھی روب کو ہر وقت مدد کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اب وہ جِم جانے، اپنے کتے ڈینزل کو ٹہلانے اور اپنے دوستوں کے ساتھ پب جانے کے قابل ہوگئے ہیں۔
ڈینزل ان کی مدد کے لیے موجود رہتا ہے لیکن روب ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اگر آس پاس کوئی مرغی ہو تو پھر ڈینزل بالکل کوئی بات نہیں سنتا۔‘
’لیکن اس کے بغیر میں مکمل طور پر بے مدد ہو جاتا ہوں، وہ میرا بہترین دوست ہے، ساتھی ہے اور محافظ ہے۔ اس نے مجھے باہر نکلنے اور نئے دوست بنانے میں مدد دی۔‘
علاج کے لیے روب کو رائل ایئرفورس کے فنڈ سے مدد ملتی رہی ہے۔
حادثے سے قبل ہی روب نے اپنی زندگی کا پہلا فلیٹ لیا تھا لیکن وہ کبھی وہاں دوبارہ نہیں آ پائے، کیونکہ انھیں اپنی جسمانی حالت کے سبب ایک خصوصی گھر کی ضرورت تھی۔ اس کے بعد ایئر فورس کے فنڈ سے انھیں نیا گھر خریدنے میں مدد ملی۔
’اب مجھے ایک نئے گھر تک رسائی ہے، جہاں میرا بیڈ روم ہے، ایک لیونگ روم ہے جہاں میں صوفے پر بیٹھ سکتا ہوں، میں ایک پب کے برابر میں رہتا ہوں جو کہ ایک اچھی بات ہے۔‘
روب نے رائل ایئرفورس کو خیرباد کہہ دیا ہے اور ایک مختلف زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ اپنے تمام دوستوں کے ’شکر گزار' ہیں، جنھوں نے کبھی انھیں تنہا نہیں رہنے دیا۔‘
امریکی صدر کا طیارہ ’ایئر فورس ون‘ اندر سے کیسا ہے؟انڈین فضائیہ جس کی ابتدا ایک مسلمان افسر سمیت صرف چھ پائلٹوں سے کراچی میں ہوئیتیجس طیارہ گِر کر تباہ اور انڈین پائلٹ کی ہلاکت: عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟ریٹائرڈ ایئر مارشل جواد سعید پر ’آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کی معلومات‘ شئیر کرنے کا الزام رفال بمقابلہ جے 10 سی: پاکستانی اور انڈین جنگی طیاروں کی وہ ’ڈاگ فائٹ‘ جس پر دنیا بھر کی نظریں ہیں