دنیا کا طاقتور ترین کمپیوٹر جو مستقبل میں کمپنیوں اور ممالک کی کامیابی اور ناکامی کی پیش گوئی کر سکے گا

بی بی سی اردو  |  Jan 11, 2026

BBCولو تیل کے ڈرم جتنی گول ڈسکس کی سیریز ہے جو سینکڑوں سیاہ کنٹرول تاروں سے جڑی ہوئی ہے

یہ ایک سنہری فانوس کی طرح دکھائی دیتا ہے اور اس نے اپنے اندر کائنات کی سب سے سرد جگہ بھی بنا رکھی ہے۔ جو میں دیکھ رہا ہوں وہ صرف دنیا کا سب سے طاقت ور کمپیوٹر ہی نہیں بلکہ وہ ٹیکنالوجی ہے جو فنانشل سکیورٹی، بٹ کوئن، حکومتی رازوں، عالمی معیشت اور دیگر شعبوں کے لیے اہم ہے۔

کوانٹم کمپیوٹنگ، جو کہ روایتی کمپیوٹر کے مقابلے میں بہت ہی زیادہ تیز ہے، کے پاس اس بات کی کُنجی ہے کہ وہ یہ بتا سکے کہ 21 ویں صدی کے باقی ماندہ عرصے میں کون سی کمپنیاں اور ملک کامیاب ہوں گے اور کون سے ناکامی سے دوچار ہوں گے۔

کیلیفورنیا میں گوگل کے دفتر میں میرے سامنے ’ولو‘ نامی یہ کمپیوٹر موجود ہے، جو ہوا میں ایک میٹر بلندی پر معلق ہے۔ سچ پوچھیں تو یہ ویسا نہیں تھا جو میں نے سوچا تھا۔

ہولوگرافک ہیڈ کیمرے یا دماغ پڑھنے والی چپس تو دور کی بات ہے یہاں کوئی سکرین یا کی بورڈز تک نہیں ہیں۔

’ولو‘ ایک تیل کے ڈرم کے برابر سائز کے گول ڈسکس کا ایک سلسلہ ہے، جو سینکڑوں سیاہ کنٹرول تاروں کے ذریعے جڑا ہوا ہے۔ یہ تاریں ایک کانسی رنگ کے مائع ہیلیم کے باتھ ریفریجریٹر میں اترتی ہیں، جو کوانٹم مائیکروچِپ کو مطلق صفر سے ایک ہزارواں درجے اوپر کے درجہ حرارت پر برقرار رکھتا ہے۔‘

یہ بالکل 80 کی دہائی جیسا لگتا ہے اور محسوس بھی ہوتا ہے، لیکن اگر کوانٹم کی صلاحیت حقیقت بن جائے تو میرے سامنے موجود دھات اور تار کی جیلی فش جیسی ساخت دنیا کو کئی طریقوں سے بدل دے گی۔

جب ہم ہائی سکیورٹی دروازے سے گزرے تو گوگل کے کوانٹم چیف ہارٹمٹ نیون نے کہا ’ہمارے کوانٹم اے آئی لیب میں خوش آمدید۔‘

BBC

نیون ایک افسانوی شخصیت ہیں، وہ ٹیکنالوجی کے ماہر بھی ہیں اور ٹیکنو موسیقی کے شوقین بھی۔ انھوں نے ایسا لباس پہنا ہے جیسے وہ برننگ مین میوزک فیسٹیول سے سنوبورڈنگ کرتے ہوئے سیدھا یہاں آئے ہوں۔ شاید کسی متوازی کائنات میں انھوں نے ایسا ہی کیا ہو، اس پر مزید بات بعد میں کریں گے۔

ان کا مشن یہ ہے کہ فزکس کے نظریات کو فعال کوانٹم کمپیوٹرز میں تبدیل کیا جائے ’تاکہ وہ مسائل حل کیے جا سکیں جو عام طور پر ناقابل حل ہیں۔‘

نیون کا دعویٰ ہے کہ ان فانوسوں کی کارکردگی دنیا میں سب سے بہترین ہے لیکن وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ جانبدار ہیں۔

جدید سائنس کا پوشیدہ مرکز

ہماری گفتگو کا زیادہ حصہ ان چیزوں کے بارے میں ہے جنھیں اس محدود لیب میں فلمانے کی اجازت نہیں۔ اس اہم ٹیکنالوجی پر برآمدی کنٹرولز اور خفیہ پن لاگو ہوتا ہے اور یہ تجارتی و معاشی برتری کی دوڑ کا مرکز ہے۔

اس جدید سائنس کے مرکز میں کیلیفورنیا کا ماحول نمایاں ہے، خاص طور پر یہاں موجود فن پاروں اور رنگوں میں۔ ہر کوانٹم کمپیوٹر کو ایک نام دیا جاتا ہے، جیسے یاکوشیما یا مینڈوسینو۔ دیواروں پر مختلف گرافٹی انداز کی تصاویر بنی ہیں، جن پر روشن موسم سرما کی دھوپ پڑ رہی ہے۔

نیون نے گوگل کا تازہ ترین کوانٹم چپ ’ولو‘ اٹھا کر دکھایا جس نے دو اہم سنگ میل حاصل کیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس چپ نے یہ بحث ہمیشہ کے لیے ختم کر دی ہے کہ کیا کوانٹم کمپیوٹرز وہ کام کر سکتے ہیں جو کلاسیکی کمپیوٹرز نہیں کر سکتے۔

ولو نے ایسا مسئلہ بھی چند منٹوں میں حل کر لیا، دنیا کا بہترین کمپیوٹر جسے حل کرتے ہوئے ہزاروں کھربوں سال لیتا، کائنات کی عمر سے بھی زیادہ وقت۔

یہ نظریاتی نتیجہ حال ہی میں کوانٹم ایکو الگورتھم پر لاگو کیا گیا، جو روایتی کمپیوٹرز کے لیے ناممکن ہے، اس نے مالیکیولز کی ساخت کو سمجھنے میں مدد دی اور اس کے لیے وہی ٹیکنالوجی استعمال کی جو ایم آر آئی مشینوں میں استعمال ہوتی ہے۔

’کوانٹم کمپیوٹر کا قہر‘ کیا ہے اور کیا ہمیں اس سے ڈرنا چاہیے؟مائیکروسافٹ کے مشہور وال پیپر ’بلس‘ کے پیچھے محبت کی کہانیچھوٹے انسانی دماغ جو کمپیوٹر کی طرح کام کریں گےانڈیا میں ’آن لائن گیمنگ‘ پر پابندی سے متعلق نیا قانون: ’کئی لوگ ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے اور کچھ نے خودکشی بھی کی‘

نیون ان تمام طریقوں کا ذکر کرتے ہیں جن کے بارے میں انھیں یقین ہے کہ ولو چپ انسانیت کو درپیش بہت سے مسائل حل کرنے میں مدد کرے گی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ہمیں ادویات کو زیادہ مؤثر طریقے سے دریافت کرنے میں مدد دے گی۔ یہ ہمیں خوراک کی پیداوار کو زیادہ مؤثر بنانے میں مدد دے گی، توانائی پیدا کرنے، توانائی کی ترسیل کرنے، توانائی ذخیرہ کرنے میں مدد دے گی۔ ماحولیاتی تبدیلی اور انسانی بھوک جیسے مسائل حل کرنے میں مدد دے گی۔‘

وہ مزید بتاتے ہیں کہ ’یہ ہمیں فطرت کو بہتر انداز میں سمجھنے کے قابل بناتی ہے اور پھر اس کے رازوں کو کھول کر ایسی ٹیکنالوجیز بنانے کی اہلیت دیتی ہے جو ہم سب کے لیے زندگی خوش گوار بنائیں۔‘

کچھ محققین کا ماننا ہے کہ اصل مصنوعی ذہانت صرف کوانٹم کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتی ہے۔

ایک عام کمپیوٹر کا ڈیٹا صرف دو حالتوں میں ہی محفوظ اور پراسس ہوتا ہے، صفر یا ایک۔ کمپیوٹر کی زبان میں اسے بٹس کہا جاتا ہے۔

لیکن کوانٹم کمپیوٹنگ کی صلاحیت رکھنے والا کمپیوٹر جو ڈیٹا محفوظ اور پراسس کرتا ہے وہ کئی حالتوں میں رہ سکتا ہے۔ بٹس کی طرز پر کوانٹم کمپیوٹنگ کے انفارمیشن یونٹ کو کیوبٹس کہتےہیں۔

یہاں کی ٹیم میں شامل ارکان نے حال ہی میں ’سپر کنڈکٹنگ کیوبٹس‘ پر اصل تحقیق کے لیے نوبل انعام حاصل کیا ہے، جن کا اس جگہ استعمال کیا جا رہا ہے۔

ولو چِپ میں 105 کیوبٹس ہیں۔ مائیکروسافٹ کی کوانٹم ٹیکنالوجی میں آٹھ کیوبٹس ہیں، لیکن یہ ایک مختلف طریقہ استعمال کرتی ہے۔

دنیا بھر میں دوڑ یہ ہے کہ ایک ’یوٹیلیٹی سکیل مشین‘ کے لیے 10 لاکھ کیوبٹس تک پہنچ جائیں جو کوانٹم کیمسٹری اور دوا سازی جیسے کام بغیر غلطی کے کر سکے۔ یہ ٹیکنالوجی بہت نازک ہے۔

یہاں جو کچھ ہو رہا ہے وہ دنیا بھر میں بغور دیکھا جا رہا ہے۔ نیشنل کوانٹم ٹیکنالوجی پروگرامز سٹریٹیجی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین، پروفیسر سر پیٹر نائٹ کہتے ہیں کہ ولو نے نئی راہیں کھولیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’تمام مشینیں ابھی بھی ابتدائی درجے میں ہیں، وہ غلطیاں کرتی ہیں اور انھیں اصلاح کی ضرورت ہے۔ بار بار مرمت کے دوران بہتری آنے سے ولو نے سب سے پہلے یہ ثابت کیا کہ آپ غلطی کی اصلاح کر سکتے ہیں۔‘

یہ ٹیکنالوجی کو اس سمت میں لے آتا ہے کہ وہ کھربوں آپریشنز کو درست طریقے سے انجام دے سکے۔ پہلے سمجھا جاتا تھا کہ ایسا دو دہائیوں میں ہو گا، لیکن اب شاید سات یا آٹھ سال میں ہو جائے۔

اگر اس صدی کی پہلی چوتھائی انٹرنیٹ اور پھر مصنوعی ذہانت کے عروج سے متعین ہوئی، تو اگلے 25سال یقینی طور پر کوانٹم دور کی شروعات ہوں گے۔

BBCیہ کام کیسے کرتا ہے؟

تصور کریں کہ آپ ہزاروں بند درازوں میں سے کسی ایک میں موجود ٹینس بال تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کلاسیکل کمپیوٹر ہر ایک کو ترتیب وار کھولتا ہے۔ لیکن ایک کوانٹم کمپیوٹر ان سب کو ایک ساتھ کھولتا ہے۔

یا اسی طرح عام کمپیوٹنگ میں 100 دروازے کھولنے کے لیے 100 چابیاں درکار ہونے کی بجائے، کوانٹم آپ کو ایک چابی سے تمام دروازے فوراً کھول دیتا ہے۔

یہ مشینیں ہر کسی کے لیے نہیں ہوں گی۔ وہ سکڑ کر فونز، مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والے چشموں یا لیپ ٹاپس میں نہیں آ سکتیں۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ ان کمپیوٹرز کی طاقت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ہر کوئی اس میں شامل ہو رہا ہے۔

میں نے این ویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ سے پوچھا کہ کیا یہ ٹیکنالوجی ان کے ماڈل کے لیے خطرہ ہے جو مصنوعی ذہانت کے لیے مخصوص چپس فرام کرتی ہے؟ انھوں نے جواب دیا ’نہیں، مستقبل کے کمپیوٹر میں کوانٹم پروسیسر شامل کیا جائے گا۔‘

اور برطانیہ کے اس شعبے کے ایک رہنما نے نشاندہی کی کہ کوانٹم دنیا ریاستی رازوں سے لے کر بٹ کوائن تک تقریباً ہر چیز کو سمجھنے کی طاقت رکھتی ہے۔

سر پیٹر کہتے ہیں کہ ’کوانٹم کمپیوٹنگ کے خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام کرپٹو کرنسی کو بھی دوبارہ جانچنا پڑے گا۔‘

این ویڈیا کے ایک بڑے شراکت دار نے گذشتہ سال کہا تھا کہ اگرچہ بٹ کوائن کے پاس ابھی چند سال باقی ہیں، لیکن ٹیکنالوجی کو دہائی کے آخر تک مضبوط بلاک چین کی طرف بڑھنا ہو گا۔

یہ توقع رکھتے ہوئے کہ آنے والی نسلیں اس سے فائدہ اٹھائیں گی، ریاستی ادارے ملک میں اور ملک سے باہر موجود ڈیٹا جمع کر رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی صنعت سے وابستہ ذرائع اس عمل کو ’ابھی جمع کرو بعد میں سمجھو‘ کہتے ہیں۔

عالمی دوڑ

گزشتہ سال جیان وی نے اسی طرح کی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے زوچونگژی 3.0کوانٹم کمپیوٹر تیار کیا۔ اگرچہ اس کا طریقہ کار ویلو سے مختلف تھا تاہم انھوں نے اسی طرح کے نتائج کا دعویٰ کیا۔

خزاں میں اسے تجارتی استعمال کے لیے کھولا گیا۔ یہ سب کچھ دوسری جنگ عظیم کے دوران پہلا جوہری ہتھیار بنانے کے مین ہٹن پروجیکٹ یا 21 ویں صدی کی خلائی دوڑ جیسا محسوس ہوتا ہے۔

برطانیہ کوانٹم تحقیق کے سائنسی مراکز میں سے ایک ہے۔ یہ ایک برطانوی سائنسدان ہی تھے جنھوں نےسپر کنڈکٹنگ کیوبٹس پر اصل تحقیق کی تھی۔

یہاں درجنوں کمپنیاں اور جدید تحقیق موجود ہے۔ آنے والے ہفتوں میں حکومت اس حوالے سے نمایاں سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

یہ معیشت، فوجی استعمال اور جغرافیائی سیاست کے لیے نہایت اہم ہے۔ امید ہے کہ برطانیہ اس میدان میں تیسری طاقت بن جائے گا۔

متوازی دنیا

ولو لیب میں شاید اس سے بھی زیادہ وجودی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ گذشتہ سال نیون نے تجویز دی تھی کہ ولو کی بے مثال رفتار نے ملٹی ورس کے وجود کے کچھ تصورات کی تائید کی۔ بنیادی طور پر اس رفتار کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ولو نے اپنی کمپیوٹ پاور کے لیے متوازی کائناتوں سے فائدہ اٹھایا۔ تمام سائنسدان اس بات کو قبول نہیں کرتے۔

وہ مجھے بتاتے ہیں کہ ’ابھی بھی ایک پرجوش بحث جاری ہے۔ جیسا کہ آپ نے لیب کے دورے میں سیکھا ہے، کوانٹم کمپیوٹرز اتنے طاقت ور ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ایک گھڑی کے چکر میں یہ بیک وقت دو سے 105 کمبینیشنز کو چھو سکتے ہیں۔ یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ یہ مختلف چیزیں کہاں ہیں؟ کوانٹم میکینکس کا ایک ورژن ہے جس پر غور کرنا چاہیے، کئی دنیاؤں کی تشکیل،متوازی کائناتیں یا متوازی حقیقت۔‘

نیون محتاط انداز میں کہتے ہیں کہ ولو نے یہ ثابت نہیں کیا تھا، لیکن وہ ’اشارہ دے رہی تھی کہ ہمیں اس خیال کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔‘

یہ دنیا کی سرحدوں، ٹیکنالوجی اور ترقی کی سب سے بڑی سرحد ہے اور برطانوی حکومت جلد ہی ولو اور چینیوں کے برابر آنے میں کروڑوں ڈالر لگا دے گی۔

یہ سائنس فکشن جیسا لگتا ہے جو تیزی سے معاشی حقیقت بنتا جا رہا ہے۔

سپر کمپیوٹر سے بھی طاقتور کوانٹم کمپیوٹر کی تحقیق میں امید افزا پیش رفتکوانٹم کمپیوٹر: امریکہ، چین اور انڈیا سمیت عالمی طاقتیں اس کی دوڑ میں کیوں؟’کوانٹم کمپیوٹر کا قہر‘ کیا ہے اور کیا ہمیں اس سے ڈرنا چاہیے؟کیا کوانٹم فزکس ’روح‘ کے راز کو سمجھ جائے گی؟کوانٹم فزکس کے ماہر جنھوں نے دنیا کو ’تمام برائیوں کی جڑ‘ کے بارے میں خبردار کیاکولوسس: پراسرار سپر کمپیوٹر جسے چلانے کے لیے 10 لاکھ گیلن پانی اور 150 میگاواٹ بجلی درکار ہو گی
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More