Getty Images
بنگلہ دیش کی جانب سے جے ایف-17 تھنڈر طیارے کی ’خریداری میں دلچپسی‘ کے اظہار کے بعد ذرائع ابلاغ پر یہ اطلاعات بھی منظرِ عام پر آ رہی ہیں کہ سعودی عرب بھی پاکستان سے یہ لڑاکا طیارے حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
جمعرات کو خبر رساں ادارے روئٹرز نے دو پاکستانی ذرائع سے بات چیت کی بنیاد پر یہ خبر دی تھی کہ سعودی عرب اپنے اتحادی پاکستان کو دیے گئے دو ارب ڈالر کے قرضے کو جے ایف تھنڈر لڑاکا طیاروں کے معاہدے میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔
پاکستانی اور سعودی حکام کی جانب سے تاحال اس خبر کی تردید یا تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
جمعرات کو پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان سے جب اِن اطلاعات کے حوالے سے پوچھا گیا تو انھوں نے بھی تردید یا تصدیق کرنے کے بجائے اس معاملے پر اپنی لاعلمی کا اظہار کیا۔
اپنے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک دفاع کے شعبے سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کرتے ہیں۔ ’میں کسی پلیٹ فارمیا کسی سسٹم (طیارے) اور اس کی مالی ایڈجسٹمنٹ سے آگاہ نہیں ہوں۔ ہم ایسی پیش رفت کی تصدیق اس کے مکمل ہونے پر ہی کرتے ہیں۔‘
اگرچہ اس معاملے پر حکومتی وضاحت باقی ہے تاہم انڈیا اور پاکستان میں بہت سے لوگ یہ سوالات بھی اُٹھاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ سعودی عرب پاکستان سے جے ایف-17 تھنڈر طیارے حاصل کرنے میں دلچپسی کیوں لے گا جبکہ اس کے پاس پہلے سے ہی اس سے ’کہیں بہتر اور جدید‘ طیارے موجود ہیں اور یہ بھی کہ امریکہ سعودی عرب کو ایف 35 جیسا جدید لڑاکا طیارہ فروخت کرنے پر بھی رضامند ہے؟
ان سوالات کے جوابات جاننے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ سعودی عرب کے پاس ابھی کون کون سے لڑاکا طیارے موجود ہیں؟ اور جے ایف-17 طیارے میں ایسی کیا خصوصیات ہیں؟
سعودی فضائیہ کے پاس موجود لڑاکا طیارےGetty Images
ورلڈ ڈائریکٹری آف ماڈرن ملٹری ایئرکرافٹ (ڈبلیو ڈی ایم ایم اے) کے مطابق سعودی عرب کے پاس اس وقت کُل 709 طیارے کا بیڑا ہے، جن میں 362 لڑاکا طیارے بھی شامل ہیں۔
دنیا کی بڑی قوتوں کی عسکری طاقت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ’وار پاور‘ کے مطابق سعودی ایئرفورس کے پاس اِس وقت موجود سب سے جدید طیارے ٹائی فون (یورو فائٹر) ہیں، جو کہ 5۔4 ملٹی رول لڑاکا جہاز ہیں اور اپنی برق رفتاری اور طاقتور سینسر سسٹم کی وجہ سے معروف ہیں۔
اس کے علاوہ سعودی عرب کے پاس ایف 15 ایس اور ایف 15 سی جیسے فورتھ جنریشن لڑاکا طیارے بھی موجود ہیں، جو کہ اپنے ویپنز سسٹم اور طاقتور انجنز کے حوالے سے مشہور ہیں۔
’وار پاور‘ کے مطابق سعودی عرب کے پاس برطانیہ سے حاصل کردہ ’ٹورناڈو آئی ڈی ایس‘ طیارے بھی موجود ہیں، جو کہ اٹلی اور برطانیہ نے مل کر بنائے تھے۔
ان کے علاوہ سعودی عرب کے پاس متعدد دیگر جنیگ ہیلی کاپٹرز، ایئر ٹینکرز اور تربیتی طیارے بھی موجود ہیں۔
رواں برس نومبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ففتھ جنریشن ایف 35 طیارے بھی سعودی عرب کو فروخت کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا، جو کہ ایک سُپر سونک طیارہ ہے اور دنیا کے جدید ترین لڑاکا طیارے کے طور پر جانا جاتا ہے۔
جے ایف-17 تھنڈر
جے ایف 17 تھنڈر بلاک تھری ایک ایکٹو الیکٹرونکلی سکینڈ ایرے (اے ای ایس اے) ریڈار اور لانگ رینج بی وی آر سے لیس 4.5 جنریشن کا ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے، جو مختلف قسم کے جنگی مشنز میں حصے لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستان اب تک آذربائیجان، میانمار اور نائجریا کو یہ طیارے فروخت کر چکا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ عراق اور لیبیا سمیت کئی ممالک کے ساتھ اس طیارے کی فروخت کے معاہدے طے پا چکے ہیں، تاہم اس نوعیت کے دفاعی معاہدوں کی تفصیلات تاحال مبہم ہیں۔
بنگلہ دیش سمیت کئی ممالک پاکستانی جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیارے میں دلچسپی کیوں ظاہر کر رہے ہیں؟سعودی مخالفت اور فوج کے انخلا کے بعد کیا یمن میں متحدہ عرب اماراتکا اثر و رسوخ ختم ہو گیا ہے؟وینزویلا کے تیل کی کہانی: سعودی عرب سے بھی بڑے ثابت شدہ ذخائر مگر امریکہ کے لیے اُن کا حصول مشکل کیوں ہو گا؟سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان پنپتی وہ خاموش رقابت جسے یمن میں پیش آئے حالیہ واقعے نے تازہ کر دیا
پاکستان میں حکومتی حکام بھی دیگر ممالک کی ان لڑاکا طیاروں میں دلچسپی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کہتے ہیں کہ ’انڈیا سے جنگ میں ہمارے جہازوں (لڑاکا طیاروں) کی آزمائش ہو گئی ہے اور اس وقت ہمیں اتنے آرڈرز مل رہے ہیں کہ ہو سکتا ہے چھ ماہ بعد پاکستان کو آئی ایم ایف کی ضرورت ہی نہ پڑے۔‘
ایسے میں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ سعودی عرب کے جدید فضائی بیڑے میں پاکستان کے جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کی جگہ بن سکتی ہے۔
’مغرب پر انحصار کم کرنے کی کوشش‘Getty Images
سعودی عرب اور پاکستان دونوں نے ہی اب تک جے ایف 17 تھنڈر سے متعلق کسی معاہدے کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔ تاہم دونوں ممالک کی فضائیہ پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین سمجھتے ہیں کہ اگر اس نوعیت کا کوئی فیصلہ ہوتا ہے تو پاکستان اور چین کی مشترکہ کوششوں سے بننے والا طیارہ سعودی عرب کے لیے کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستانی فضائیہ کے سابق ایئر کموڈور خالد چشتی کہتے ہیں کہ ’کوئی بھی جہاز حاصل کرنے سے پہلے اپنی ضروریات دیکھی جاتی ہیں، جیسا کہ جہاز میں کیا صلاحیتیں موجود ہیں، اسے کِن ہتھیاروں سے لیس کیا جا سکتا ہے، خریداری میں بچت کتنی ہو گی اور طیارے مہیا کرنے والے ذریعہ کتنا قابلِ اعتبار ہے۔‘
ایئرکموڈور ریٹائرڈ خالد چشتی کے مطابق ’پاکستان ایک قابلِ اعتبار ذریعہ ہے اور اس حوالے سے جہازوں کی فراہمی میں کوئی رُکاوٹ نہیں آئے گی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ مغربی ممالک اکثر ایسے دفاعی آلات و مشینری کو دیگر ممالک پر دباؤ ڈالنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ ’کبھی فروخت کیے گئے جہازوں کو اپ گریڈ نہیں کرتے اور کبھی اس میں نصب آلات سپلائی کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔‘
’خاص طور پر امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلوں پر کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی اور اسی سبب دیگر ممالک میں اعتماد کی کمی پائی جاتی ہے۔‘
دیگر تجزیہ کار بھی سابق پاکستانی ایئر کموڈور سے اتفاق کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
ایئر یونیورسٹی سے منسلک ایئر کموڈور (ریٹائرڈ) ڈاکٹر عادل سلطان کہتے ہیں کہ جے ایف تھنڈر 17 کے حوالے سے سرکاری طور پر تو کوئی تصدیق نہیں کی گئی ہے لیکن پاکستان اور سعودی عرب نے گذشتہ برس ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے سبب ہو سکتا ہے کہ ’وہ چاہتے ہوں کہ دونوں ممالک کے پاس ایک جیسے سسٹم ہوں۔‘
’دنیا کے جو حالات چل رہے ہیں اور خاص طور پر امریکہ کا جو رویہ ہے اسے دیکھ کر متعدد ممالک اپنے ہتھیاروں کو متنوع کرنا چاہ رہے ہیں۔‘
’کل کو اگر دونوں ممالک (امریکہ اور سعودی عرب) کے درمیان تعلقات خراب ہوتے ہیں تو سعودی عرب پر اس کا براہ راست اثر پڑے گا۔‘
’جنگ میں آزمایا ہوا جہاز‘
تاہم برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر اور 'کنگ فیصل سینٹر فار ریسرچ اینڈ اسلامک سٹڈیز' سے منسلک ایسوسی ایٹ فیلو عمر کریم کہتے ہیں کہ ’اگر اس معاہدے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ جے ایف 17 تھنڈر، پاکستان کے ڈیفینس انڈسٹریل کمپلیکس اور معیشت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہو گی۔‘
عمر کریم کا خیال ہے کہ ’سعودی عرب کے پاس جے ایف 17 تھنڈر سے بہتر جہاز ہیں، مگر ہو سکتا ہے ریاض یہ جہاز کسی تیسرے فریق کو دینا چاہتا ہو۔‘
’میرے خیال میں وہ تیسرا فریق سوڈان ہو سکتا ہے کیونکہ سوڈان کی مسلح صلاحیتیں بڑھانا سودمند ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ کوردوفن کے شہری علاقوں میں ریپڈ سپوڑٹ فورسز کے مسلح گروہ دباؤ میں تیزی لا رہے ہیں۔‘
دوسری جانب دیگر تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ جے ایف 17 تھنڈر جنگ میں آزمایا ہوا لڑاکا طیارہ ہے۔
خیال رہے گذشتہ برس پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ کے دوران جے ایف 17 تھنڈر کو بھی استعمال کیا گیا تھا۔
ایئر کموڈور (ریٹائرڈ) خالد چشتی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’یہ جنگ میں آزمایا ہوا طیارہ ہے اور اگر سعودی عرب یہ جہاز حاصل کرتا ہے تو اس پر تربیت بھی پاکستانی فضائیہ دے گی۔‘
’دراصل یہ جہاز سعودی عرب کو مختلف وجوہات کی بنیاد پر سوٹ کرتے ہیں۔‘
ایئر کموڈور (ریٹائرڈ) ڈاکٹر عادل سلطان بھی سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب جے ایف 17 تھنڈر حاصل کر کے امریکہ پر انحصار کم کر سکتا ہے۔ ’انوکھی بات یہ ہے کہ یہ جہاز انڈیا کے خلاف جنگ میں استعمال ہو چکا ہے اور اس کی صلاحیتیں سب کے سامنے ہیں جو کہ آزمائی جا چکی ہیں۔‘
یمن میں اماراتی حمایت یافتہ رہنما پر ’غداری‘ کا الزام، سعودی اتحاد کے فضائی حملے: ’وہ ریاض آنے کی بجائے فرار ہو گئے‘ایران اور یو اے ای کا تین جزائر کی ملکیت پر تنازع: خلیجی ممالک کی معاملہ عالمی عدالت انصاف لے جانے کی دھمکیسعودی عرب میں شراب پر عائد پابندیوں میں نرمی، مزید دو شہروں میں شراب خانے کھولنے کا منصوبہسعودی عرب کو F-35 لڑاکا طیارے دینے کے امریکی فیصلے پر اسرائیل کو تشویش کیوں ہے؟صحافی خاشقجی کا قتل، ابراہیمی معاہدہ اور 10 کھرب ڈالر سرمایہ کاری: ٹرمپ اور سعودی ولی عہد کی ملاقات میں کیا ہوا؟