Getty Imagesامیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ایجنٹس اس جگہ کھڑے ہیں جہاں ایجنٹس نے 37 سالہ رینی نیکول گڈ کو 7 جنوری 2026 کو منیپولس، منیسوٹا، امریکہ میں ہلاک کر دیا تھا
امریکہ میں 37 سالہ رینی نکول گُڈ پر منیاپولس میں ہونے والی جان لیوا فائرنگ نے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کو جنم دیا ہے اور اس کے سبب امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ایجنسی (آئی سی ای) کو مزید سخت جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ وائٹ ہاؤس میں آنے کے بعد سے آئی سی ای نے ہزاروں گرفتاریاں کی ہیں، جو اکثر عوامی مقامات پر ہوئیں۔
ان کارروائیوں کے باعث آئی سی ای کے اہلکار ملک بھر میں مختلف کمیونٹیز کے اندر زیادہ نظر آنے لگے ہیں، جس کے نتیجے میں بعض مقامی رہائشیوں کی جانب سے مزاحمت سامنے آئی ہے جو ان کی کارروائیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔
آئی سی ای کیا ہے اور اسے کب بنایا گیا؟
آئی سی ای ٹرمپ انتظامیہ کے بڑے پیمانے پر ملک بدری کے منصوبے پر عمل درآمد میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے، جو ان کی انتخابی مہم کے اہم وعدوں میں سے ایک تھا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد آئی سی ای، اس کے بجٹ اور اس کے دائرۂ کار میں نمایاں توسیع کی گئی ہے۔ یہ ادارہ امیگریشن قوانین نافذ کرتا ہے اور غیر قانونی امیگریشن سے متعلق تحقیقات انجام دیتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ امریکہ سے غیر قانونی تارکینِ وطن کو نکالنے کے عمل میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔
آئی سی ای کا قیام 2002 کے ہوم لینڈ سکیورٹی ایکٹ کے تحت عمل میں آیا تھا، جو 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کے ردِعمل کے طور پر بنایا گیا۔ اس قانون کے تحت محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی (ڈی ایچ ایس) قائم کیا گیا، جس کے ذیلی اداروں میں آئی سی ای بھی شامل ہے۔
آئی سی ای کے ایجنٹس کے پاس لوگوں کو گرفتار کرنے کے لیے کیا اختیارات ہیں؟
آئی سی ای اپنے مشن کو عوامی تحفظ اور قومی سلامتی دونوں تک پھیلا ہوا سمجھتا ہے۔ تاہم اس کے اختیارات امریکہ کے عام مقامی پولیس محکموں سے مختلف ہیں۔
اس کے اہلکاروں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسے افراد کو روکیں، حراست میں لیں اور گرفتار کریں جن کے بارے میں انھیں شبہ ہو کہ وہ غیر قانونی طور پر امریکہ میں موجود ہیں۔
لیکن اہم بات یہ ہے کہ انھیں امریکی شہریوں کو گرفتار کرنے کا اختیار حاصل نہیں، سوائے چند محدود حالات کے مثلاً اگر کوئی شخص گرفتاری میں مداخلت کرے یا کسی افسر پر حملہ کرے۔
اس کے باوجود خبر رساں ادارے پروپبلکا کے مطابق ٹرمپ کی صدارت کے ابتدائی نو ماہ کے دوران 170 سے زائد ایسے واقعات پیش آئے جن میں وفاقی اہلکاروں نے امریکی شہریوں کو ان کی مرضی کے خلاف حراست میں رکھا۔
ان میں وہ امریکی شہری بھی شامل تھے جن پر اہلکاروں نے غیر قانونی تارکینِ وطن ہونے کا شبہ ظاہر کیا تھا۔
Getty Imagesایک آئی سی ای افسر نے رینی گڈ کو اس وقت گولی مار دی جب وہ گاڑی چلا رہی تھیںآئی سی ای کے پاس طاقت کے استمعال کے کیا اختیارات ہیں؟
آئی سی ای کے طاقت کے استعمال سے متعلق اقدامات امریکی آئین، امریکی قوانین اور محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی (ڈی ایچ ایس) کی اپنی پالیسی ہدایات کے امتزاج کے تحت طے کیے جاتے ہیں۔
وینڈربلٹ یونیورسٹی لا سکول کے کریمنل جسٹس پروگرام کے ڈائریکٹر کرس سلوبوگنکا کہنا ہے کہ ’آئین کے تحت، قانون نافذ کرنے والے ادارے صرف اسی صورت میں مہلک طاقت استعمال کر سکتے ہیں جب کوئی شخص خود ان کے لیے یا دوسرے لوگوں کے لیے سنگین خطرہ بن رہا ہو یا اس شخص نے کوئی پرتشدد جرم کیا ہو۔‘
امریکی ویزے کے لیے 15 ہزار ڈالر تک کے ویزا بانڈ کی شرط والے ممالک کی تعداد میں اضافہ، بنگلہ دیش اور نیپال بھی فہرست میں شاملنیو یارک کے میئر زہران ممدانی کے چیف کونسل جو القاعدہ کے رکن احمد الدربی کا کیس لڑ چکے ہیں وہ امریکی شہری بننے ہی والے تھے جب ٹرمپ نے اُن کی حلف برداری کی تقریبات منسوخ کیںایچ ون بی: امریکہ کا وہ ویزا پروگرام جس پر ٹرمپ کے حامی آپس میں الجھ رہے ہیں
سنہ 2023 کے ایک ڈی ایچ ایس پالیسی میمو کے مطابق وفاقی قانون نافذ کرنے والے اہلکار صرف اسی وقت مہلک طاقت استعمال کر سکتے ہیں جب یہ ضروری ہو اور جب کسی افسر کو یہ یقین ہو کہ جس شخص کے خلاف طاقت استعمال کی جا رہی ہے وہ خود اس افسر یا کسی دوسرے شخص کے لیے موت یا سنگین جسمانی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
آئی ای سی کا دائرہِ کار کیا ہے؟
عام طور پر محکمہ آئی سی ای امریکہ کے اندر کام کرتا ہے، جبکہ اس کا کچھ عملہ بیرونِ ملک بھی تعینات ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ایک دوسری ایجنسی، یو ایس کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن، تکنیکی طور پر امریکہ کی سرحدوں کی نگرانی کرتی ہے۔
تاہم یہ کردار بتدریج ایک دوسرے سے جڑتے جا رہے ہیں کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ نے امیگریشن کے نفاذ میں حصہ لینے کے لیے مختلف وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اہلکاروں کو شامل کیا ہے۔
بارڈر پٹرول کے افسران اب زیادہ تر امریکہ کے اندر کارروائیاں کرتے ہیں اور آئی سی ای کے ساتھ چھاپوں میں حصہ لیتے ہیں۔
آئی سی ای اور دیگر ایجنسیوں نے لاس اینجلس، شکاگو اور اب منیاپولس جیسے شہروں میں سینکڑوں افسران تعینات کیے ہیں، یہ تعیناتیاں دیگر وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اشتراک سے کی گئی ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تازہ ترین آپریشن کے تحت تقریباً 2,000 وفاقی افسران منیاپولس میں تعینات کیے جائیں گے۔
آئی سی ای کی جانب سے حراست میں لیے گئے لوگوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟
ٹرمپ دور میں ملک بدری (ڈی پورٹیشن) کا پیمانہ خاصا وسیع رہا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق 20 جنوری سے 10 دسمبر 2025 کے درمیان605,000 افراد کو ملک بدر کیا گیا۔
انتظامیہ نے یہ بھی بتایا کہ 19لاکھ تارکینِ وطن نے ’رضاکارانہ طور پر خود ملک چھوڑا‘ جو ایک جارحانہ عوامی آگاہی مہم کے بعد ہوا، جس کا مقصد لوگوں کو گرفتاری یا حراست سے بچنے کے لیے خود ہی ملک چھوڑنے کی ترغیب دینا تھا۔
جب کسی تارکِ وطن کا سامنا آئی سی ای سے ہوتا ہے تو مختلف نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
بعض اوقات کسی فرد کو عارضی طور پر حراست میں لے کر پوچھ گچھ کے بعد رہا کر دیا جاتا ہے۔ بعض دفعہ آئی سی ای اس شخص کو حراست میں لے کر کسی بڑے حراستی مرکز میں منتقل کر دیتی ہے، جو امریکہ بھر میں موجود ہیں۔
بہت سے تارکینِ وطن حراست کے دوران قانونی حیثیت حاصل کرنے کے لیے جدوجہد جاری رکھتے ہیں لیکن اگر وہ کامیاب نہ ہوں تو بالآخر انھیں ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔
سیراکیوز یونیورسٹی کے ٹرانزیکشنل ریکارڈز ایکسیس کلیئرنگ ہاؤس کے امیگریشن پروجیکٹ کے حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 30 نومبر 2025 تک تقریباً 65,000 افراد آئی سی اے کی حراست میں تھے۔
امیگریشن وکلا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جب آئی سی ای کسی فرد کو حراست میں لیتی ہے تو بعض اوقات خاندان کے افراد یا وکلا کو یہ معلوم کرنے میں کئی دن لگ جاتے ہیں کہ وہ شخص کہاں رکھا گیا ہے۔
Getty Imagesلوگ آئی سی ای کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے رینی گڈ کی یاد میں ایک ویجل کے مناظر جنھیں ایک امیگریشن افسر نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھاآئی سی ای پر ہونے والی تنقید اور اس کی مخالف کی وجوہات
بہت سی برادریوں نے اس وقت مزاحمت کی جب ائی سی ای اور دیگر ایجنسیوں جیسے بارڈر پٹرول نے مختلف کارروائیاں انجام دیں۔
اب یہ عام ہو چکا ہے کہ لوگ گرفتاریوں کے دوران آئی سی ای کے اہلکاروں کی ویڈیوز بناتے ہیں۔ آئی سی ای اور عوام کا آمنا سامنا اکثر جارحانہ یا پُرتشدد شکل بھی اختیار کر جاتا ہے۔
شکاگو، الینوائے میںآئی سی ای کی کارروائیوں کے دوران میڈیا اداروں کے ایک اتحاد نے بارڈر پٹرول کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔
ان کا الزام تھا کہ اہلکاروں نے صحافیوں، مذہبی رہنماؤں اور مظاہرین کے خلاف نامناسب طاقت استعمال کی۔
ایک وفاقی جج نے مدعیان کے حق میں فیصلہ دیا، تاہم بعد میں اپیل عدالت نے اس حکم کو کالعدم قرار دے دیا۔
منیاپولس میں ہونے والی فائرنگ پہلا واقعہ نہیں ہے جس میں امیگریشن کے نفاذ کی کارروائی کے دوران کسی فرد کو گولی لگنے سے زخمی کیا گیا ہو۔
لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق اکتوبر میں لاس اینجلس میں ایسے دو واقعات پیش آئے جن میں اہلکاروں نے ڈرائیوروں پر فائرنگ کی۔ ڈی ایچ ایس کا کہنا تھا کہ دونوں مواقع پر ڈرائیوروں نے اپنی گاڑیوں کے ذریعے اہلکاروں کو دھمکایا تھا۔
آئی سی ای کے افسران اور دیگر امیگریشن اہلکاروں کو اپنی کارروائیوں کے دوران ماسک پہننے پر بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاہم ڈی ایچ ایس کے عہدیداروں نے اس عمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے اہلکاروں کو ڈوکسنگ (ذاتی معلومات کے افشا) یا ہراسانی سے تحفظ ملتا ہے۔
امریکی آئی سی ای اور ملک بدری کے معاملے پر کیا موقف رکھتے ہیں؟
ایک سروے سے پتا چلتا ہے کہ امریکی شہریوں کا ٹرمپ کے امیگریشن کے قوانین کے نفاذ کے منصوبوں کے بارے میں ایک پیچیدہ نظریہ ہے۔
اکتوبر 2025میں پیو ریسرچ سینٹر کے ایک سروے کے مطابق تقریباً نصف سے زیادہ امریکیوں کا ماننا ہے کہ کسی نہ کسی حد تک غیرقانونی تارکینِ وطن کی ملک بدری ضروری ہے۔
یہ تقریبا وہی تعداد ہے جو پیو نے پچھلے مارچ میں دریافت کی تھی۔ لیکن اسی سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکیوں کو ٹرمپ کے طریقوں پر تشویش ہے۔
سروے سے پتا چلتا ہے کہ امریکی بالغان کی اکثریت، یعنی 53 فیصد، کا ماننا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ غیر مستند تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کے لیے ’بہت زیادہ‘ سخت اقدامات کر رہی ہے۔
تاہم تقریباً 36 فیصد امریکیوں نے اس طریقہ کار کی حمایت کی ہے۔
وہ امریکی شہری بننے ہی والے تھے جب ٹرمپ نے اُن کی حلف برداری کی تقریبات منسوخ کیںایچ ون بی: امریکہ کا وہ ویزا پروگرام جس پر ٹرمپ کے حامی آپس میں الجھ رہے ہیںامریکی ویزے کے لیے 15 ہزار ڈالر تک کے ویزا بانڈ کی شرط والے ممالک کی تعداد میں اضافہ، بنگلہ دیش اور نیپال بھی فہرست میں شامل’4 ماہ میں 27 ہزار ڈالر‘، مفت رہائش اور ٹکٹ: وہ امریکی ریاست جسے غیر ملکی ملازمین کی ضرورت رہتی ہے2025 میں امریکہ اور جرمنی سمیت دیگر ممالک میں امیگریشن میں کیا تبدیلیاں متوقع ہیں؟