’تہاڈا بیلنس تے نئیں مُک گیا‘: اسلام آباد میں پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کی نیلامی کے دوران کیا کچھ ہوتا رہا؟

بی بی سی اردو  |  Jan 09, 2026

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی سرد شام جب جناح کنوینشن سینٹر میں پاکستان سپر لیگ میں دو نئی ٹیموں کو شامل کرنے کی غرض سے تقریب کا آغاز ہوا تو نیلامی کے عمل کو آگے بڑھانے اور سٹیج پر میزبانی کے فرائض انجام دینے کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کو مدعو کیا گیا۔

وسیم اکرم کرکٹ گراؤنڈ والی انرجی سٹیج پر لے آئے اور پوری تقریب کے دوران وہ اپنے مخصوص انداز میں سٹیج پر ایک سے دوسری جانب آتے جاتے اور چٹکلے سُناتے نظر آئے۔

’تہاڈا بیلنس تے نئیں مک گیا؟ (آپ کا بیلنس تو نہیں ختم ہو گیا)‘۔ جب وسیم اکرم کی جانب سے ٹیلی کام کپمنی ’جاز‘ کے نمائندوں سے، جو بولی کے پہلے راؤنڈ میں ابتدا میں خاموش تھے، یہ سوال پوچھا گیا تو پورے حال میں قہقہے بلند ہوئے۔

سٹیج پر اُن کے ساتھ شریک میزبان سدرہ اقبال اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر سلمان نصیر بھی موجود تھے۔ سٹیج کی دوسری جانب ہال میں سامنے دس میزیں لگی ہوئی تھیں جن پر نیلامی میں حصہ لینے والی کمپنیوں کے نمائندے براجمان تھے۔

تاہم اُن میں سے ایک میز خالی تھی۔ ملتان سلطانز کے سابق مالک علی ترین، جو ابتدائی طور پر نیلامی میں حصہ لینے والے دس نمائندوں میں شال تھے، نے نیلامی کا باقاعدہ عمل شروع ہونے سے پہلے ہی اس سے دستبرداری کا اعلان کر دیا تھا اور یوں اُن کی میز خالی رہی۔

کنونشن سینٹر کے حال کے باہر استقبالیہ کو بھرپور طریقے سے سجایا گیا تھا جہاں ایک طرف پی ایس ایل کا لوگو اور تمام ٹیموں کے لوگو لگے تھے تو دوسری طرف ایک دیوار پر تمام ٹیموں کے کھلاڑیوں کے پوسٹرز آویزاں تھے۔

اس نیلامی کو پاکستان ٹیلی ویژن سمیت دیگر نجی چینلوں پر براہ راست نشر کیا جا رہا تھا، اور ہال میں ہر جانب میڈیا نمائندگان اور اُن کے کیمرے موجود تھے۔

میوزک اور روشنیوں کی مدد سے ایک ڈرامائی سا ماحول تخلیق کیا گیا تھا۔

ایک نیلام کار کی طرح وسیم اکرم کے ذمے نیلامی کا ہتھوڑا پٹخنے کی ذمہ داری بھی تھی۔ یہ اُس وقت کرنا ہوتا ہے جب بولی کو حتمی کرنے کے لیے آخری گنتی کا اختتام ہوتا ہے۔ دو میں سے پہلی فرینچائز کی فروخت کے لیے ہونے والے پہلے راونڈ میں وسیم اکرم کو نیلامی کا ہتھوڑا چلانے کا موقع نسبتاً جلدی مل گیا۔

پہلے راونڈمیں پی سی بی کی جانب سے بنیادی قیمت 110 کروڑ روپے رکھی گئی۔ ابتدا میں بہت سے نمائندوں نے اپنی بولیاں لگائیں۔ ایف کے ایس گروپ ان میں سب سے آگے رہا۔ وہ پانچ سے دس کروڑ کی چھلانگیں لگاتے بھی نظر آئے۔

ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ ایک ٹیم خریدنے کا ارادہ کر کے آئے ہیں۔ اس راونڈ میں جیتنے والے کے پاس ٹیموں کے چھ میں سے ایک نام کا انتخاب کرنے کا پہلا حق موجود تھا۔ آئی ٹو سی نامی ایک گروپ نے ایف کے ایس کا مقابلہ کیا۔

دونوں ایک دوسرے کے مقابلے میں بولیاں لگاتے رہے۔ درمیان میں انویریکس اور پرزم گروپ نے بھی ایک موقع پر اپنی بولیاں لگائیں لیکن آخر میں مقابلہ آئی ٹو سی اور ایف کے ایس گروپ کے درمیان آ گیا۔

وسیم اکرم حتمی فیصلے سے قبل مزید نمائندوں کو بولی لگانے پر اُکسانے کی کوشش کرتے بھی نظر آئے۔ مزاحیہ انداز میں انھوں نے او زی گروپ کی طرف رُخ کر کے پوچھا ’تسی سیر کرن آئے او (آپ سیر کرنے آئے ہیں)‘۔

اس پر ہال میں ایک مرتبہ پھر قہقہہ بلند ہوا۔

سیالکوٹ کو ’کرکٹ ٹیم کا تحفہ‘ اور حیدر آباد میں ’سٹیڈیم کی تعمیر کا منصوبہ‘: پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کے مالکان کون ہیں؟علی ترین اور ’ملتان سلطانز‘ کو چلانے کا خرچہ: پی ایس ایل کی فرنچائزز پیسہ کیسے کماتی ہیں؟آئی پی ایل کی نیلامی میں کرکٹرز کے لیے کروڑوں روپے کی بولیاں: ’اب پی ایس ایل کو بھی کچھ نیا کرنا ہوگا‘غصے سے بھرا جشن، جوتے کی جانب اشارہ اور شکست پر انڈین کرکٹ بورڈ کی ٹویٹ: ’تم میرا نام کیوں نہیں لیتیں‘

پہلے راونڈ کا اختتام قریب آیا۔ وسیم اکرم کے بار بار پوچھنے پر کسی نے ہاتھ بلند نہ کیا تو انھوں نے 30 سیکنڈز کا فائنل کاؤنٹ ڈاؤن شروع کیا۔ جب انھوں نے نیلامی کا ہتھوڑا پٹخ کر جیتنے والے ایف کے ایس گروپ کی جانب اشارہ کیا تو ہال میں تالیاں گونج اٹھیں۔

ایف کے ایس گروپ کے نمائندوں نے اٹھ کر ایک دوسرے کو گلے لگایا۔ حال میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی سمیت پی سی بی کے دیگر عہدیداران اور باقی مہمانوں کے ساتھ وفاقی وزرا بھی موجود تھے۔

ایف کے ایس گروپ کے مالک فواد سرور کو سٹیج پر مدعو کیا گیا۔ اب تجسس یہ تھا کہ وہ چھ ناموں میں سے کس کا انتخاب کریں گے۔ میڈیا ہال میں زیادہ تر دو ناموں کی بازگشت تھی، فیصل آباد اور سیالکوٹ۔

فواد سرور سے جب پوچھا گیا تو انھوں نے بغیر ہچکچاہٹ حیدرآباد کا نام لیا۔ اس پر ایک مرتبہ پھر حال میں تالیاں گونجیں۔ یہ نام زیادہ تر لوگوں کی توقعات کے برعکس تھا۔ تاہم ایک صحافی نے کہا ’چلیں اچھا ہے اب حیدرآباد سٹیڈیم کی حالت بھی بہتر ہو جائے گی۔‘

حیدرآباد کا سٹیڈیم کسی دور میں انٹرنیشنل میچوں کی میزبانی بھی کر چکا ہے تاہم اب ایسا کرنے سے پہلے اسے بحالی کی ضرورت ہو گی۔

قواعد کے مطابق پہلے راونڈ میں جیتنے والا بڈر دوسرے راؤنڈ میں حصہ نہیں لے سکتا تھا، اس لیے اب میدان میں آٹھ بڈرز تھے۔

نیلامی کے پہلے راونڈ میں ایک بِڈر نے یہ کہہ کر اپنی بولی نہیں بڑھائی تھی کہ ’ہم دوسرے راونڈ میں دیکھیں گے۔‘ لیکن یہ کسی کو نہیں معلوم تھا کہ دوسرے راونڈ میں پی سی بی بنیادی قیمت کیا طے کرے گا۔

ایک وقفے کے بعد جب دوسرے راونڈ کا آغاز ہوا تو وسیم اکرم نے بنیادی قیمت والا لفافہ کھولا اور جس قیمت کا انھوں نے اعلان کیا وہ تھی 170 کروڑ روپے۔ یعنی اب جس کو یہ دوسری ٹیم خریدنی تھی اس کو اس سے زیادہ بولی لگانا تھی۔

یہ شاید بہت سے بِڈر کی توقعات سے زیادہ تھا۔ اس لیے ایک مرتبہ خاموشی چھا گئی۔ وسیم اکرم اور ان کے شریک میزبان بِڈرز کو قدم بڑھانے کی ترغیب دینے لگے۔ کچھ منٹ لگے لیکن جب سب نظریں پچھلے راونڈ میں بڑی بولیاں لگانے والوں کی طرف تھیں تو ایم نیکسٹ نامی بڈر نے ایک کروڑ کے اضافے کے ساتھ پہلی بولی لگائی۔

یہ پہلے راونڈ میں زیادہ تر خاموش رہے تھے۔ ان کے مقابلے کے لیے ایک مرتبہ پھر آئی ٹو سی گروپ سامنے آئے۔ چھوٹے چھوٹے اضافوں کے ساتھ دونوں آگے بڑھ رہے تھے۔ عین اس وقت جب لگا کہ ایم نیکسٹ یہ بولی جیت جائے گا۔ او زی گروپ کی انٹری ہو گئی۔

انھوں نے ایک بڑی چھلانگ لگا کر باقی حریفوں کا مشکل میں ڈال دیا۔ لیکن ان کا مقابلہ ہوا ضرور۔ وسیم اکرم کو دو مرتبہ حتمی کاؤنٹ ڈاؤن درمیان میں روکنا پڑا۔ لیکن آخر میں بات او زی گروپ اور آئی ٹو سی گروپ کے مابین آ کر رکی۔ او زی گروپ نے 185 کروڑ کی بولی دی تو ایسا لگ رہا تھا کہ شاید اس سے اوپر کوئی نہ جا پائے۔

ایسا ہی ہوا۔

پہلے راونڈ میں جنھیں وسیم اکرم نے کہا تھا کہ ’آپ سیر کرنے آئے ہیں‘ وہ آخر میں سامنے آئے اور 185 کروڑ میں دوسری ٹیم کے مالک بن گئے۔ ان کے ساتھ آئے ان کے حامیوں نے پرجوش انداز میں خوشی کا اظہار کیا۔

ایک مرتبہ پھر وہی تجسس تھا کہ وہ کس ٹیم کا انتخاب کریں گے۔ اُن سے پوچھا گیا تو او زی گروپ کے مالک حمزہ مجید چوہدری نے کہا ’سیالکوٹ گیٹ ریڈی۔‘ اس مرتبہ بھی ہال سے اٹھنے والی تالیوں کی گونج زیادہ بلند تھی۔

نئی دونوں ٹیموں حیدرآباد اور سیالکوٹ کے مالکان کو باری باری سٹیج پر مدعو کر کے ان کو علامتی چابیاں پیش کی گئیں۔ تقریب کے اختتام پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے دونوں نئے مالکان نے کہا کہ ان کے لیے پی ایس ایل میں ٹیمیں خریدنا اعزاز کی بات ہے۔

اس تقریب میں پی سی بی چیئرمین محسن نقوی اور دیگر عہدیداران کے ہمراہ پاکستان میں امریکہ کی سفیر نیٹالی بیکر بھی موجود تھیں۔

ایف کے ایس گروپ کے مالک فواد سرور نے کہا کہ ’میرے لیے یہ ایک طرح کا بچپن کا خواب تھا۔۔۔ مجھے خوشی ہے اس عمل سے پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری بھی ہو رہی ہے اور ہم اس کا حصہ ہیں۔‘

پی ایس ایل کا آئندہ سیزن رواں برس مارچ میں شروع ہو رہا ہے اور اس مرتبہ پہلی مرتبہ اس سیزن میں چھ کے بجائے آٹھ ٹیمیں حصہ لیں گے۔ اس عرصے کے دوران نئی شامل ہونے والی ٹیموں کے مالکان اپنے اپنے ناموں کو حتمی شکل دیں گے اور لوگو تیار کریں گے۔

خیال رہے کہ ملتان سلطانز رواں برس کسی مالک کے پاس نہیں ہو گی اس لیے اسے پاکستان کرکٹ بورڈ رواں برس خود اس کو چلائے گا۔

سیالکوٹ کو ’کرکٹ ٹیم کا تحفہ‘ اور حیدر آباد میں ’سٹیڈیم کی تعمیر کا منصوبہ‘: پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کے مالکان کون ہیں؟غصے سے بھرا جشن، جوتے کی جانب اشارہ اور شکست پر انڈین کرکٹ بورڈ کی ٹویٹ: ’تم میرا نام کیوں نہیں لیتیں‘علی ترین اور ’ملتان سلطانز‘ کو چلانے کا خرچہ: پی ایس ایل کی فرنچائزز پیسہ کیسے کماتی ہیں؟آئی پی ایل کی نیلامی میں کرکٹرز کے لیے کروڑوں روپے کی بولیاں: ’اب پی ایس ایل کو بھی کچھ نیا کرنا ہوگا‘42 گیندوں پر سنچری اور 16 اوورز میں میچ ختم: ’سمیر منہاس نایاب ٹیلنٹ ہے‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More