خدارا اس بچے کو معاف کردیں، سوشل میڈیا نے سیلاب متاثرہ یتیم کا غم بڑھا دیا

ہماری ویب  |  Aug 31, 2025

سوشل میڈیا کی جھوٹی خبر نے ضلع بونیر کے گاؤں بشونئی کے یتیم بچے کے غم میں اضافہ اور اس کے ورثا کو کرب میں مبتلا کردیا۔

یوم آزادی کے ایک دن بعد 15 اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب سے ضلع بونیر کا گاؤں بشونئی سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں 83 افراد جاں بحق ہوئے، جاں بحق افراد میں 9 سالہ اذان کے خاندان کے بھی 19 افراد جاں بحق ہوئے جن میں اذان کے والدین، تین بھائی، دادی، چچیاں اور کزن شامل تھے۔

سوشل میڈیا پر چلنے والی اس خبر نے اذان کے غم اور درد میں مزید اضافہ کردیا کہ سیلاب میں اذان کا تمام خاندان بہہ گیا اور ان کا اب کوئی والی وارث نہیں ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

اذان کے والد کے پانچ بھائی اور بھی ہیں جو اس سیلاب میں بچ گئے، اس وقت ان کے چچا بیرون ملک میں تھے اور حادثے کے تیسرے روز وہ وطن واپس آچکے ہیں، اذان کے چچا محمد خبیر جو مسقط میں محنت مزدوری کرتے ہیں، نے بتایا کہ ایک غم یہ تھا کہ سیلاب میں ہمارے خاندان کے 19 افراد جاں بحق ہوئے تو دوسری جانب سوشل میڈیا پر ہمارے بھتیجے اذان کے حوالے سے چلنے والی ویڈیو نے درد میں مزید اضافہ کردیا کہ اس بچے کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔

محمد خبیر نے کہا کہ ہم پانچ بھائی زندہ ہیں،سوشل میڈیا کی خبر کے بعد کئی لوگ یہاں آئے کہ یہ بچہ ہمارے حوالے کردیں، بیرون ملک سے بھی لوگ رابطے کررہے ہیں کہ بچہ ہمیں دے دیں۔ انہوں نے کہا کہ کون اپنے جگر کا ٹکرا کسی اور کو دے سکتا ہے؟

محمد خبیر کے مطابق ان کے پاس اللہ کا دیا ہوا سب کچھ ہے، بس اگر نہیں ہے تو وہ اذان کے والدین جو اس سانحہ میں جاں بحق ہوگئے ہیں، بچے کے چچا نے کہا کہ ہم اذان کو کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دیں گے، سب کچھ دیں گے اگر نہیں دے سکتے تو وہ ان کےحقیقی والدین، جو ہمارے بس میں نہیں ہے۔

بونیر میں یتیم ہونے والے بچے کی مثال بھی اسی المیے کو ظاہر کرتی ہے جہاں اچانک ہر کوئی اسے گود لینے کی خواہش کرتا ہے۔ بظاہر یہ ایک ہمدردانہ جذبہ ہے مگر اس کے پیچھے کئی بار شہرت، تعریف یا وقتی جذبات کا پہلو بھی چھپا ہوتا ہے۔ حالانکہ بچے کے اپنے قریبی رشتے دار ماموں اور چچا جیسے سرپرست موجود ہیں جنہوں نے اس بچے سے لاتعلقی کا اظہار نہیں کیا، پھر بھی لوگ بار بار اسے گود لینے کی بات کرتے ہیں جیسے یتیمی کو اپنی ہمدردی یا خدمت کے اظہار کا ذریعہ بنانا چاہتے ہوں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More