اس وقت ساری دنیا کی نگاہیں چین کے شہر تیانجِن پر ہے کیونکہ وہاں شنگھائی تعاون تنظیم (ايس سی او) کا اجلاس ہو رہا ہے اور روسی صدر ولادیمیر پوتن سمیت تقریباً ایک درجن رہنما موجود ہیں۔
لیکن ان سب سے قطع نظر انڈیا اور پاکستان میں سوشل میڈیا پر اس بات کا چرچا ہے کہ دونوں ممالک میں سے کس ملک کے سربراہ کو چین میں زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے اور ان کا استقبال کس طرح کیا گیا۔
اس کے متعلق طرح طرح کے دعوے پیش کیے جا رہے ہیں اور ان دعووں کی سچائی پر سوالیہ نشان کے ساتھ ان کے جواب بھی پیش کیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز سنیچر کو جہاں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف ایس سی او اجلاس میں شرکت کے لیے چین پہنچے اور سوشل میڈیا پر اپنی روانگی کی اطلاع شیئر کی وہیں انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی وہاں پہنچ کر اپنی آمد کی سوشل میڈیا پر ہی خبر دی۔
وزیر اعظم مودی نے تیانجن ایئرپورٹ پر اترنے کے بعد کئی تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ وہ ’ایس سی او کے اجلاس کے دوران مختلف ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کے منتظر ہیں۔‘
جبکہ شہباز شریف کے ایکس ہینڈل سے ان کی ایک تصویر پوسٹ کی گئی اور نسبتاً طویل پیغام لکھا گيا کہ وہ ’چین کے تاریخی دورے پر روانہ ہوئے۔ وزیراعظم تیانجن میں ایس سی او کی سربراہی میٹنگ میں شرکت کریں گے اور بیجنگ میں دوسری جنگ عظیم میں فاشزم پر فتح کی 80ویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کریں گے۔‘
ساتھ یہ بھی لکھا تھا کہ وہ صدر شی جن پنگ اور دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقات کے منتظر ہیں۔
مودی کی شی جن پنگ سے ملاقات
وزیر اعظم مودی نے صدر شی جن پنگ سے اتوار کے روز دو طرفہ ملاقات کی ہے اور اپنے استقبال پر چین کا شکریہ ادا کیا۔
انڈین وزیر اعظم مودی نے کہا: ’پرتپاک استقبال کے لیے میں آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔۔۔ ہم نے گذشتہ سال روس کے شہر کازان میں بہت معنی خیز بات چیت کی تھی۔‘
انھوں نے ملاقات میں کہا: ’ہمارے تعلقات کو مثبت سمت ملی ہے۔ سرحد پر امن اور استحکام کا ماحول پیدا ہوا ہے۔ کیلاش مانسروور یاترا دوبارہ شروع ہوئی ہے۔‘
’دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازیں بھی دوبارہ شروع کی جا رہی ہیں۔ 2.8 بلین لوگوں کے مفادات ہمارے ملکوں کے درمیان تعاون سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہم اپنے تعلقات کو آگے لے جانے کے لیے پرعزم ہیں۔‘
تاہم انڈیا میں سوشل میڈیا پر ایک حلقے کی جانب سے انھیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ انھوں نے چین کے سامنے ’سرینڈر‘ کر دیا ہے۔
کیا ٹرمپ کا غیر متوقع فیصلہ مودی کو چین کے قریب لا سکتا ہے؟ٹرمپ کی بے رخی کے بعد مودی کی نظریں چین پر: بدلتی صورتحال میں انڈیا کے پاس کیا راستے ہیں؟’انڈیا آؤٹ‘ مہم سے ریڈ کارپٹ ویلکم تک: چین سے قربت رکھنے والے مالدیپ کو مودی کیوں نہیں کھونا چاہتے؟انڈیا چین تعلقات: مودی کے بیجنگ سے متعلق ’مثبت بیانات‘ چیلنجز کو کم کرنے میں مددگار ہو سکتے؟
انڈین سوشل میڈیا صارفین وزیراعظم مودی سے پوچھ رہے رہیں کہ کیا انھوں نے حال ہی میں پاکستان کے ساتھ ہونے والی جھڑپ میں پاکستان کا ساتھ دینے والے چین کے سامنے سرینڈر کر دیا ہے؟
انھیں گلوان میں سنہ 2020 میں چینی اور انڈین فوجیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں مرنے والے 20 جوانوں کی لاشوں پر سمجھوتہ کرنے کے متعلق بھی طعنہ دیا جا رہا ہے۔
صحافی اور لیکچرر سوشانت سنگھ نے اپنا ایک مضمون ’سٹریٹجک سرینڈر‘ شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’اگر آپ ٹھوس شواہد کے ساتھ دیکھیں تو مودی حکومت کا چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کرنا کمزوری کی علامت ہے، جو کہ بیجنگ کی شرائط پر ہو رہا ہے۔‘
انھوں نے لکھا ’مودی کے 11 سال وزیراعظم رہنے کے بعد وہ اس بڑی ناکامی کے لیے کسی اور کو مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے۔‘
ڈرونز کے ذریعے مودی کا استقبال؟
بہت سے صارفین نے ایک تصویر پوسٹ کرکے دعویٰ کیا کہ چین میں ڈرونز کے ذریعے وزیر اعظم مودی کا استقبال کیا گیا۔ جبکہ کئی صارفین نے اسے فوٹو شاپ کردہ تصویر بتایا ہے اور لکھا ہے یہ 19 اپریل کو چین کے چونکنگ میں ہونے والا شو تھا۔
موہت چوہان نامی ایک صارف نے ڈرون کے ذریعے استقبال والی اصل اور فیک تصویر شئیر کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں لکھا کہ چینیوں کے برعکس وزیر اعظم مودی کے بگھتوں نے ان کے چین میں شاندار استقبال کے لیے زیادہ تیاری کر رکھی تھی۔
سرکازم جیوی نامی ایک صارف نے ایئرپورٹ پر وزیر اعظم مودی کے استقبال اور وزیر اعظم شہباز شریف کے استقبال کی دو تصاویر پوسٹ کرکے لکھا ’مودی کا بھی چین میں ویسا ہی استقبال ہوا جیسا پاکستان کے وزیرِاعظم کا ہوا۔‘
انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی نے چین میں وزیر اعظم مودی کی آمد کے حوالے سے دو ویڈوز شیئر کی ہیں جس میں سے ایک میں انڈین وزیراعظم ہندوستانی کلاسیکی موسیقی اور رقص کا لطف اٹھا رہے ہیں اور یہ پرفارمنس چین کے شہریوں نے پیش کی ہے۔
ایک دوسری ویڈیو میں ایک چینی خاتون جو اپنی بیٹی کے ساتھ ہیں، وزیر اعظم مودی سے ملنے پر بہت خوش ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان کے شوہر انڈیا سے ہیں۔
دی ہائی مونک نامی ایکس ہینڈل نے انڈین اور پاکستانی سربراہان کے استقبال کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ چین نے گالوان میں ہمارے فوجیوں کو ہلاک کیا۔ چین نے آپریشن سندور میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ دریں اثنا، بھگت اور مودی کے مداح صرف اس لیے فخر محسوس کرتے ہیں کہ مودی کا چین میں سرخ قالین پر استقبال ہوا۔
انھوں نے لکھا آپ کی معلومات کے لیے بتا دوں کہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا اسی طرح ریڈ کارپٹ کے ساتھ استقبال کیا گیا۔
واضح رہے کہ یہ انڈین وزیراعظم کا چین کا ایک لمبے عرصے کے بعد پہلا دورہ ہے۔ اگرچہ یہ ان کا چین کا چھٹا دورہ ہے لیکن یہ سات سال بعد ہو رہا ہے۔
اس دوران انڈیا اور چین کے درمیان کشیدگی دیکھی گئی ہے یہاں تک کہ انڈیا نے چین کے ساتھ پروازیں بھی منسوخ کر دیں اور ٹک ٹاک سمیت بہت سے چینی پلیٹ فارمز پر پابندی بھی لگا دی۔
یہ سب گالوان وادی میں دونوں طرف کے فوجیوں کے درمیان جھڑپ کے بعد ہوا اور کہا گیا کہ چین نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول عبور کر کے لداخ کے علاقے میں انڈیا کی سینکڑوں میل زمین پر قبضہ کر لیا ہے لیکن وزیر اعظم مودی نے آل پارٹی کانفرنس سے کہا تھا کہ ’نہ کوئی ہمارے علاقے میں داخل ہوا نہ ہی کسی پوسٹ پر قبضہ ہوا۔‘
انڈیا چین تعلقات: مودی کے بیجنگ سے متعلق ’مثبت بیانات‘ چیلنجز کو کم کرنے میں مددگار ہو سکتے؟کیا ٹرمپ کا غیر متوقع فیصلہ مودی کو چین کے قریب لا سکتا ہے؟ٹرمپ کی سرزنش، شی سے مصافحہ اور روسی تیل: انڈیا کی خارجہ پالیسی کا امتحانامریکی ’پابندیوں‘ کے بعد انڈیا کی چین سے تعلقات بحال کرنے کی کوشش: کیا پوتن مودی کی مشکل کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟انڈیا کے وزیر خارجہ کا پانچ سال میں چین کا پہلا دورہ کیا پاکستان سمیت امریکہ اور روس کے لیے بھی ایک پیغام ہے؟’انڈیا آؤٹ‘ مہم سے ریڈ کارپٹ ویلکم تک: چین سے قربت رکھنے والے مالدیپ کو مودی کیوں نہیں کھونا چاہتے؟