ہسپتال میں تبدیل ہوجانے والے بچے جو چھ سال بعد حقیقی ماؤں سے جا ملے

بی بی سی اردو  |  Apr 05, 2025

24 دسمبر، 2018 روتھ یووانی سیزا اور ماریا ایلیٹا چلکون التامیرانو کی زندگی میں سب سے زیادہ خوشگوار دنوں میں سے ایک تھا۔

اس دن دونوں نے پیرو کے ایک جنرل ہسپتال میں دو بچوں کو جنم دیا۔

یہ کرسمس کا بہترین تحفہ تھا لیکن یہ خوشی صدمے اور تلخی میں بدل گئی جب برسوں بعد ڈی این اے ٹیسٹ سے پتہ چلا کہ ان کے بچے ہسپتال میں بدل گئے تھے۔

25 مارچ کو ایک عدالت نے فیصلہ سنایا ہےکہ ان نابالغ بچوں کو جو اب 6 سال کی عمر تک پہنچ چکے ہیں، انھیں اپنی حیاتیاتی ماؤں کے پاس واپس جانا چاہیے۔

ماریا ایلیٹا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرا بیٹا وہاں سے نہیں جانا چاہتا تھا اور دوسرا بچہ بھی اپنی ماں کے پاس واپس جانا چاہتا ہے۔‘

’میرا بچہ رو رہا تھا۔‘

روتھ نے بھی اس کی تصدیق کی اور بتایا میں نے اسے کہا کہ ’تمہیں اپنی حقیقی ماں کے ساتھ جانا ہے لیکن میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گی۔‘

اس حقیقت کے باوجود کہ فیصلے میں یہ طے کیا گیا ہے کہ انھیں ماہرین کی مدد فراہم کی جانی چاہیے کیونکہ ’بچوں کے ان خاندانوں کے ساتھ جذباتی تعلقات بن چکے ہیں جو ان کے حیاتیاتی رشتے نہیں تھے۔‘

مائیں اس بات پر نالاں کہ انھیں نفسیاتی یا معاشی مدد نہیں مل رہی ہے اور مطالبہ کرتی ہیں کہ ہسپتال اس غلطی کی ذمہ داری قبول کرے جس نے ان کی زندگیوں کو تبدیل کردیا ہے اور خطرہ ہے کہ اس سے بچوں پر ناقابل تلافی اثر پڑے گا۔

بی بی سی منڈو سے بات کرتے ہوئے ہسپتال کی ڈائریکٹر ڈیانا بولیوار نے جو کچھ ہوا اسے ’انتہائی افسوسناک‘ قرار دیا اور کہا کہ جب یہ واقعات پیش آئے تو ہسپتال میں ’بجٹ کی سطح پر بہت سی خامیاں‘ تھیں اور ’ان کے پاس شناخت کا مناسب نظام نہیں تھا۔‘

انھوں نے یقین دلایا کہ ہسپتال دونوں خاندانوں کو خصوصی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے اور عدالتوں کی طرف سے قائم کردہ معاوضے کو قبول کرے گا۔

خاندانوں نے معاوضے کے لیے مقدمہ دائر کیا ہے، لیکن عدالتی عمل ان کی پہنچ سے باہر اخراجات کا سبب بن سکتا ہے اور ان کی تکلیف کو طول دے سکتا ہے۔

دوسروں کی طرح دو بچے

دونوں خواتین جنرل ہسپتال سے باہر نکلیں ان کا خیال تھا کہ جو ان کے بچے ان کی گود میں ہیں وہ ان کے اپنے ہیں۔

ماریا ایلیٹا کے مطابق انھوں نے اس بچے کی شناخت کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا جسے انھیں دیا گیا تھا لیکن ہسپتال کے عملے نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ ان کا بیٹا ہے۔

وہ بچے کو لے کر پیرو کے جنگل میں چیرینوس کی ایک الگ تھلگ برادری میں اپنے گھر واپس آ گئیں۔

وہاں انھوں نے اپنے پہلے اور اکلوتے بچے کی پرورش ان معمولی وسائل سے شروع کی جو وہ کھیت کے ذریعے وہ کماتی تھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا گیا، میرے شوہر کے گھر والے کبھی کبھی پوچھتے تھے کہ وہ ان کی طرح سرخ کیوں نہیں ہے، لیکن ہم یقین کر چکے تھے کہ وہ ہمارا بیٹا ہے۔‘

جین شہر میں روتھ یووانی نے اس بات کو یقینی بنایا کہ دوسرا بچہ صحت مند اور اچھی پرورش پائے اور انھیں اس بات کا بھی یقین ہو گیا کہ یہ ان کا اپنا بچہ کا ہے۔

سب کچھ اس وقت بدل گیا جب انھوں نے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد اپنے بچے کی کفالت کے لیے اپنے ساتھی کے خلاف خرچے کا دعویٰ دائر کرنے کا فیصلہ کیا۔

روتھ یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ انھوں نے پیٹرنٹی ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔

ٹیسٹ سے پتہ چلا کہ بچہ اس جوڑے کا نہیں تھا۔

یہ سب ناقابل یقین تھا روتھ نے دوبارہ ٹیسٹ کروایا جس کا نتیجہ وہی نکلا۔

دوسری جانب ماریا ایلیٹا اور ان کے شوہر جارج لوئس واسکیز نے اس سب سے بے خبر رہتے ہوئے چیرینوس کے دیہی علاقوں میں اپنے ننھے بچے کی پرورش کی۔

لیکن ان کے لیے بھی صورتحال بدلنے کا آغاز اپریل 2023 سے ہوا، جب انھیں پراسیکیوٹر کے دفتر سے ایک خط موصول ہوا، جس میں انھیں ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کے لیے طلب کیا گیا تھا۔

پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے یہ جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کیا تھا کہ بچوں کی پیدائش کے دن ہسپتال میں کیا ہوا تھا۔

’مجھے اور میرے شوہر کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ ہمارا چھوٹا لڑکا ہمارا بیٹا نہیں ہے۔‘

جارج کہتے ہیں کہ ’جب انھوں نے نمونے لیے، تو میں نے ڈیوسیٹو سے اس بات کی تصدیق کرنے کو کہا کہ یہ ہمارا ہے۔ میں نتیجہ بھی نہیں جاننا چاہتا تھا۔

75 سال بعد سکھ بہن کی اپنے مسلمان بھائی سے ملاقات: ’بیماری کے دوران دعا کی کہ ہمیں دوبارہ ملنے کا موقع ملے‘صارم برنی پر بچوں کی سمگلنگ کا الزام: وہ امریکی ای میل جس نے’سماجی کارکن‘ کو سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیاایک ویڈیو کال جو وہ کبھی نہیں بھولیں گے

پھرماریا ایلیٹا اور روتھ رابطے میں آئیں۔

ماریا ایلیٹا اور ان کا بچہ ہر بار جب بھی پراسیکیوٹر کے دفتر میں پیش ہونے کے لیے شہر جانا پڑتا تھا تو جین میں روتھ کے گھر پر رہتا تھا۔

ایک دن پراسیکیوٹر کے دفتر نے ان دونوں کو ایک ویڈیو کال میں شرکت کے لیے بلایا اور روتھ نے اپنے گھر سے مل کر اس کا سامنا کرنے کی پیش کش کی۔

ماریا ایلیٹا یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’اس وقت مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ویڈیو کال کیا ہوتی ہے۔‘

وہ بچہ جس کی پرورش کے لیے دونوں جوڑوں نے چار سال اتنی محبت کے ساتھ کی تھی وہ دراصل دوسرے کا تھا۔

اس کے بعد جارج لوئس واسکیز نے اس کی وجہ سے اپنی تکلیف کا بتایا۔

یہ دونوں خاندان ایک دوسرے سے ملنے جاتے رہے۔

ماریا ایلیٹا اس چھوٹی سی وائنری کی بدولت زندہ رہتی ہیں جہاں وہ اپنے کھیت کی مصنوعات فروخت کرنے کا انتظام کرتی ہیں، جبکہ روتھ ، گھروں، کاروباروں، جو کچھ بھی باہر آتا ہے، کی صفائی کا کام کرتی ہیں۔

اسی طرح یہ دونوں بچے اور ان کی مائیں دوست بن گئیں۔ ان کے جذبات ایک جیسے تھے پھر بچوں کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر والدین جھیل میں ایک ساتھ گئے۔

لیکن دونوں بچے اپنی پرورش کرنے والی ماوؤں کے پاس ہی رہے۔

جب تک جین کی پہلی فیملی کورٹ کا فیصلہ نہیں آیا، جس نے حکم دیا کہ انھیں ان کے حیاتیاتی خاندانوں کے حوالے کیا جائے اور سول رجسٹری کو حکم دیا کہ وہ ان کی نئی اور حقیقی فائل جمع کریں۔

بالآخر 28 مارچ کو یہ بچے اپنی پالنے والی ماوؤں سے جدا ہو گئے۔

’ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے‘Getty Images

اس کے بعد سے چیزیں آسان نہیں ہیں۔ دونوں چھوٹے بچے روتے ہیں اور ’اپنی ماں‘ کے پاس واپس جانے کے لیے کہتے ہیں۔

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انھیں نہ تو وہ نفسیاتی مدد ملی ہے جو جج نے انھیں فراہم کرنے کا حکم دیا ہے اور نہ ہی ہسپتال یا کسی دوسرے ادارے سے کوئی کال موصول ہوئی ہے۔

جارج لوئس واسکیز بتاتے ہیں کہ 'جب وہ زیادہ دیر رو رہے ہوتے ہیں تو میں انھیں چہل قدمی کے لیے لے جاتا ہوں تاکہ یہ دیکھ سکوں کہ آیا ان کا دھیان بٹتا ہے یا نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ بے بسی سے صدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔

روتھ کا کہنا ہے کہ ’ہمارے پاس کوئی نہیں، کچھ بھی نہیں ہے۔‘

ماریا ایلیٹا کی طرح، وہ اب اس بیٹے کے ساتھ کھوئے ہوئے وقت کی تلافی کرنا چاہتی ہیں جس سے وہ پیدائش کے وقت محروم تھیں، لیکن چھ سال تک پرورش پانے والے بچے کے ساتھ تعلقات کھوئے بغیر جیسے وہ ان کا اپنا ہو۔

وہ روتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’کئی سال ہو گئے ہیں لیکن میں اپنے بیٹے کو پیار نہیں دے پائی اور اب میں اسے پیار دینا چاہتی ہوں۔‘

اب، روزی کمانے کے لیے اپنی روزمرہ کی جدوجہد میں، انھوں نے جنگل میں رہنے والے چھوٹے لڑکے کو اس کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کے لیے شہر منتقل کرنے کا بھی ذکر کیا ہے، جو ان کے مطابق پہلے سے ہی ’ان کا بھائی‘ ہے۔

بات بات پر بھڑک اُٹھنے والے والدین سے کیسے نمٹا جائے؟22 ماہ کی عمر میں خاندان سے بچھڑنے والی خاتون کی 51 برس کے بعد والدین سے ملاقات’چین میں ہزاروں بچے والدین سے جدا کیے جا رہے ہیں‘امریکہ کے ایسے ڈراپ باکس جہاں نوزائیدہ بچوں کو بلا سوال چھوڑا جا سکتا ہے
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More