پاکستان کے صوبہ پنجاب میں محکمہ تعلیم ان دنوں بظاہر بڑے اصلاحاتی دور سے گزر رہا ہے۔ موجودہ حکومت نے بڑے پیمانے پر سکولوں کو آؤٹ سورس یا یوں کہہ لیں کہ پرائیویٹ کرنے کا منصوبہ شروع کر رکھا ہے۔
اب تک تقریباً 10 ہزار سرکاری سکولوں کو پرائیویٹ افراد کو دینے کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ کام دو حصوں میں کیا گیا ہے۔ پہلے حصے میں تقریباً 6 ہزار جبکہ دوسرے حصے میں 4 ہزار سے زائد سکولوں کو آؤٹ سورس کیا گیا۔
اس حوالے سے سرکاری سکولوں کے اساتذہ کا احتجاج اور عدالتوں میں دائر کیے جانے والے مقدمے ابھی زیرِ التوا ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہوئی ہے کہ جن 10 ہزار سکولوں کو آؤٹ سورس کیا گیا ہے ان تمام سکولوں میں اساتذہ کی سیٹیں ختم کر دی گئی ہیں۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق اب پنجاب کے دس ہزار سرکاری سکولوں میں ایک بھی سرکاری استاد کی سیٹ نہیں رہی۔
دوسرے لفظوں میں پنجاب بھر میں تقریباً 44 ہزار اساتذہ کی سیٹیں ختم کر دی گئی ہیں۔ محکمہ تعلیم کے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق ’حکومت 7 اپریل سے صوبہ بھر میں اساتذہ کے تبادلوں کا آن لائن نظام شروع کر رہی ہے۔ جن سرکاری اساتذہ کی نوکریاں اُن سکولوں میں تھیں جو آؤٹ سورس کر دیے گئے ہیں ان کو دس دن کے اندر اندر ایسی جگہ کا انتخاب کرنا ہو گا جہاں وہ اپنا تبادلہ کروانا چاہتے ہیں۔‘
اس دوران اگر کوئی استاد اپنے تبادلے کی درخواست نہیں دیتا تو اس کی نوکری ختم تصور ہو گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرکاری طور پر جس سیٹ پر وہ کام کر رہا تھے وہ اب ختم ہو چکی ہے۔
پنجاب حکومت ایسا کیوں کر رہی ہے؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے پنجاب کے وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات نے کہا کہ حکومت نے بہت سوچ سمجھ کر صوبے کے نظامِ تعلیم میں اصلاحات لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
’سرکاری طور پر بتایا جا رہا تھا کہ صوبے میں دو لاکھ اساتذہ کی سیٹیں خالی پڑی ہیں، جبکہ ہم نے جب اعداد و شمار کو چیک کیا تو پتا چلا دیہاتوں میں کم اساتذہ اور شہروں میں زیادہ اساتذہ ہونے کی وجہ سے صورت حال خراب ہے۔‘
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’بغیر کوئی نئی بھرتی کیے ہم تمام صورت حال کو بیلینس کر رہے ہیں۔ یہ چوالیس ہزار اساتذہ کو اب اُن سیٹوں پر بھرتی کیا جائے گا جو خالی ہیں۔ اور یہ دس ہزار سکول پرائیوٹ طریقے سے چلائے جائیں گے جن کی مانیٹرنگ محکمہ تعلیم خود کرے گا۔‘
خیال رہے کہ پنجاب میں اس وقت سکولوں کے ساتھ ساتھ سرکاری ہسپتالوں کو بھی آؤٹ سورس کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ جبکہ حکومت کا ماننا ہے کہ اس سے نہ صرف اخراجات میں کمی ہو رہی ہے بلکہ لوگوں کو سہولیات بھی مزید اچھے طریقے سے دستیاب ہوں گی، لیکن حکومت اس سارے نظام کو خود مانیٹر بھی کر رہی ہو گی۔