صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے علاقے عیسیٰ نگری میں ایک معمولی ٹریفک حادثہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ایک خاتون نے اپنی گاڑی کو ٹکر مارنے پر فائرنگ کر دی۔سنیچر کو اس حادثے کے فوراً بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے خاتون اور ٹرک ڈرائیور کو گرفتار کر کے ایک ہی ایف آئی آر میں نامزد کر دیا ہے۔ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ خاتون کے زیرِاستعمال اسلحے کا لائسنس بھی زائد المیعاد تھا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک ٹرک نے ایک قیمتی گاڑی کو سائیڈ سے ٹکر مار دی۔ گاڑی میں سوار خاتون علیشہ عامر طیش میں آ کر گاڑی سے اتریں اور اپنی نائن ایم ایم پستول نکال کر ہوائی فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ ٹرک ڈرائیور ظفر اقبال اپنی جان بچانے کے لیے قریب ہی موجود پولیس اہلکاروں کے پیچھے جا چھپا۔
اطلاع ملتے ہی علاقے کی پولیس موقع پر پہنچی اور دونوں افراد کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا۔ پولیس کے مطابق خاتون نے پستول کا لائسنس پیش کیا، تاہم جانچ پڑتال پر معلوم ہوا کہ لائسنس زائد المیعاد ہے، جس پر مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔پولیس کی جانب سے درج مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ ڈرائیونگ کرنے والے غفلت اور لاپرواہی سے گاڑی چلا رہے تھے، جو حادثے کا سبب بنا۔ خاتون کی جانب سے فائرنگ کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 337 کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ غیر مؤثر لائسنس رکھنے پر اسلحہ قانون کی متعلقہ دفعات بھی شامل کی جا رہی ہیں۔واقعے کے بعد علیشہ عامر کو وویمن تھانے اور ظفر اقبال کو پی آئی بی پولیس سٹیشن منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ دونوں کی گاڑیاں بھی تحویل میں لے لی گئی ہیں۔رواں برس کے ابتدائی دو ماہ میں کراچی میں پیش آنے والے مختلف ٹریفک حادثات میں 150 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ (فائل فوٹو: سکرین گریب)خیال رہے کہ کراچی میں ٹرک، ڈمپر اور دیگر بھاری گاڑیوں کی بلا روک ٹوک نقل و حرکت سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔فلاحی اداروں کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں برس کے ابتدائی دو ماہ میں کراچی میں پیش آنے والے مختلف ٹریفک حادثات میں 150 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد ایسے واقعات کی ہے جن میں بڑی گاڑیاں ملوث تھیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تفتیش جاری ہے اور قانون کے مطابق دونوں فریقین کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔