Getty Images
صوبہ پنجاب کے شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ کی مقامی عدالت نے گذشتہ سال مارچ میں بھائی کے ہاتھوں قتل ہونے والی خاتون ماریہ بی بی کے مقدمے میں ان کے والد اور بھائی کو مجرم قرار دیتے ہوئے پھانسی اور دس دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے جبکہ مقتولہ کی بھابھی اور بڑے بھائی کو بری کر دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ غیرت پر قتل پدرانہ نظام کی بنیاد پر ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ برس خاتون کے قتل کی مبینہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے مقتولہ کے بھائی اور والد کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمے درج کیے تھے۔
تین منٹ دورانیے کی اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ ایک شخص کسی خاتون کا گلا دبا رہا ہے جبکہ اس موقع پر ایک خاتون سمیت دیگر دو افراد بھی موجود تھے۔
پولیس کے مطابق مقامی گاؤں چک 477 ج ب میں یہ واقعہ گذشتہ مارچ میں پیش آیا تھا اور خفیہ ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے اپنی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کیا تھا۔
عدالتی فیصلے میں کیا کہا گیا؟
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحفیظ بھٹہ کی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مقتولہ کو قتل اس کے والد اور بھائی نے کیا اورعدالت دونوں کو مجرم قرار دیتی ہے جبکہ دوسرے بھائی اور بھابھی کو باعزت بری کیا جاتا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ’اس کیس میں والد کی موجودگی میں بھائی کا اپنی بہن کو قتل کرنا خاندان کی ملی بھگت کی نشاندہی کرتا ہے اور اس انتہائی خوفناک واردات کے بعد والد کا اپنے بیٹے کو پانی پلانا اس کو مزید سنگین بناتا ہے۔‘
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ اگرچہ والد نے خود اس قتل میں حصہ نہیں لیا مگر جب قتل ہوا تو اس وقت وہ موقع پر موجود تھے۔
’انھوں نے اپنے بیٹے کو روکنے کی کوشش نہیں کی اور دوسروں کی حوصلہ شکنی کی جیسے کہ مقتولہ کا بڑا بھائی اور بھابھی جن کو بری کر دیا گیا۔‘
فیصلے کے مطابق ’والد کا کہنا کہ یہ میری بیٹی ہے اور مجھے پتا ہے کہ اس کے ساتھ کیا کرنا ہے، قتل کرنے کی منظوری دینا ہے۔‘‘
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ والد کا کہنا کہ یہ میری بیٹی ہے اور مجھے پتا ہے کہ اس کے ساتھ کیا کرنا ہے اور واردات کے بعدمجرم بیٹے کو پانی دینا ان کے مشترکہ ارادے کو ظاہر کرتا ہے۔
عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ’اس طرح کے چونکا دینے والے جرائم پر کسی قسم کی نرمی معاشرے کے لیے بڑے پیمانے پر نقصاں دہ ثابت ہوسکتا ہے اور خواتین کے خلاف تشدد کو معمول بنا سکتا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ والد مقتولہ کا سرپرست تھے اور یہ اسکی ذمہ داری تھی کہ وہ مقتولہ کی جان ومال کا تحفظ کرتے مگرمجرم نے والد کے ناطے اہم مذہبی اور سماجی ذمہ داری نہیں نبھائی۔
عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کو اچانک اشتعال انگیزی کے نام پر قبول نہیں کرسکتے، یہ اکثر پہلے سے سوچا سمجھا منصوبہ ہوتا ہےاور غیر ت کے نام پر قتل قبول نہیں ہیں۔ مجرموں کو اس کے قانونی تقاضوں کا سامنا کرنا ہوگا۔‘
وقوعہ کب اور کیسے ہوا؟
ٹوبہ ٹیک سنگھ پولیس نے گذشتہ برس 17 مارچ کو پیش آنے والے اس واقعے کا مقدمہ سب انسپکٹر احمد رضا کی مدعیت میں 24 مارچ کو درج کیا گیا تھا۔
اس ایف آئی آر میں کہا گیا کہ پولیس ایک مخبر نے اطلاع دی کہ ایک ملزم نے اپنی 22 سالہ بہن کا گلا دبا کر انھیں قتل کر کے لاش دفن کر دی۔
ایف آئی آر کے مطابق اس وقوعہ کے بارے میں اہل علاقہ جانتے تھے لیکن کسی نے پولیس کو اطلاع نہیں دی اور نہ ہی کسی سے ذکر کیا۔
ایس ایس پی عبادت نثار کا کہنا تھا کہ پولیس سے یہ وقوعہ چھپانے کی کوشش کی گئی تھی۔ ان کے مطابق مبینہ طور پر خاتون کو قتل کرنے کے بعد مسجد میں جنازے کااعلان یہ کہتے ہوئے کروایا گیا کہ خاتون کو ہیضہ ہوا اور وہ وفات پا گئیں۔ جس کے بعد رات ہی میں تمام رسومات ادا کر کے ان کی تدفین کر دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کی ویڈیو بنانے والے اور واردات کرنے والے سب افراد نے اس واقعے کو چھیایا تھا اور یہی وجہ ہے کہ اس ایف آئی آر میں شہادتیں چھپانے کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
ڈی پی او کا کہنا تھا کہ پولیس کی درخواست پر عدالت سے خصوصی اجازت لے کر مقتولہ کا پوسٹ مارٹم کروایا گیا۔
ڈسکہ میں زہرہ قدیر کا قتل: ’بیٹی کے سسرال میں دھلا فرش دیکھا تو چھٹی حِسّ نے کہا کچھ بہت برا ہو چکا ہے‘فلم کی کہانی کی طرح دوست کی لاش دفنا کر پلستر سے چھپانے والے قاتل کا راز کیسے فاش ہواآٹھویں جماعت کے بچے پر قتل کا الزام: ’اس نے سوچا کہ بچے کو قتل کرنے سے سکول بند ہو جائے گا اور پڑھنا نہیں پڑے گا‘سماجی کارکن مسرت عزیز کا قتل: ’بھائی نے سوشل میڈیا پر انٹرویو دینے سے منع کیا، مسرت نے کہا یہ ممکن نہیں‘مقتولہ کے بھائی نے درخواست میں کیا کہا؟
پولیس تھانہ صدر ٹوبہ ٹیک سنگھ نے تصدیق کی تھی کہ واقعہ سے متعلق پولیس کی جانب سے مقدمہ اندراجاور پوسٹ مارٹم کے بعد مقتولہ کے ایک اور بھائی نے بھی پولیس کو درخواست دی کہ ان کی بہن کا پوسٹ مارٹم کروایا جائے۔
انھوں نے اپنی درخواست میں ملزمان پر الزام لگایا کہ وہ مقتولہ کو ریپ کرتے تھے جس کے بارے میں انھوں نے (مقتولہ) درخواست گزار کی اہلیہ کو بتایا تھا۔
پولیس کو دی جانے والی اس درخواست میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ 17 اور 18 مارچ کی درمیانی شب رات مدعی اپنے اہلخانہ کے ہمراہ کمرے میں سو رہا تھا کہ اسے اپنی بہن کی چیخیں سنائی دیں اور اب وہ باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ اس کے بھائی اور والد نے مقتولہ کے ہاتھ اور پاؤں چارپائی سے باندھے ہوئے تھے۔
درخواست میں الزام لگایا تھا کہ مدعی کے بھائی نے اپنی بہن کے منہ پر زبردستی تکیہ رکھ کر ان کی سانس روک دی جس سے وہ موقع پر ہلاک ہو گئیں جس کے بعد ملزمان فرار ہو گئے۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اسے ملزمان نے دھمکی دی کہ اگر اس نے اس واقعے کے متعلق کسی کو بتایا تو اس کے بچوں کو مار دیا جائے گا جس پر وہ خوفزدہ ہو گیا۔
درخواست گزار نے یہ بھی کہا تھا کہ واقعے کے اگلے دن انھوں نے دو افراد کو اس بارے میں بتایا اور ان سب نے جب ملزمان سے واقعے کے متعلق پوچھا تو دونوں نے اپنا عمل تسلیم کیا اور ان سے معافی مانگنے لگے۔
درخواست میں وجہ عناد کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ مدعی کے بھائی اور والد اس کی ’بہن سے بدفعلی کرتے تھے‘ جس کے بارے میں مقتولہ نے ان کی اہلیہ کو بھی بتایا تھا۔‘
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کیا کہا گیا؟
ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ عبادت نثار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ لڑکی کے ایک بھائی کی جانب سے یہ الزام سامنے آیا تھا کہ اب کے بھائی یا والد کی طرف سے خاتون کو ریپ اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔
ڈی پی او نے کہا کہ ڈی این اے ٹیسٹ اور قبر کشائی کے بعد ہونے والے پوسٹ مارٹم میں کچھ ایسا سامنے نہیں آیا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’یہ محض الزام تھا۔ تفتیش میں پتا چلا کہ یہ الزام لگانے والا بھی ایسے کسی عمل یا واقعے کا جشم دید گواہ نہیں تھا۔‘
ڈی پی او کے مطابق سائنسی بنیادوں پر اس پہلو کی تحقیقات سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ قتل ہونے والی خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہو۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ٹوبہ ٹیک سنگھ عبادت نصار کے مطابق شواہد سے بظاہر یہ ’غیرت کے نام پر قتل‘ کا مقدمہ لگتا ہے جس کی تحقیقات پولیس نے مکمل کر لی ہیں اور جلد ہی عدالت میں چالان پیش کر دیا جائے۔
کوہستان میں ’نام نہاد غیرت‘ کے نام پر ایک اور لڑکا لڑکی قتل: ’وقوعہ پر پہنچے تو لاشیں خون میں لت پت پڑی تھیں‘کوہستان میں نام نہاد غیرت کے نام پر لڑکی کا قتل، تصاویر وائرل کرنے والے ملزم کی تلاش کے لیے ایف آئی اے سے مدد طلبباجوڑ میں مبینہ طور پر غیرت کے نام پر دو خواتین سمیت چار افراد قتلپسند کی شادی: ’قتل‘ کےبعد خاموشی سے دفنا دیا گیا