پاکستان میں کس کس کو سرکاری اعزاز سے نوازا گیا اور اس پر اعتراض کیوں؟

بی بی سی اردو  |  Mar 25, 2025

پاکستان میں 23 مارچ کو ہر سال کی طرح اس بار بھی مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ان کی خدمات کے اعتراف میں سرکاری اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ تاہم اس بار بھی بعض ناموں پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔

ایوارڈ کی تقسیم کے حوالے سے گذشتہ روز ایوانِ صدر میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی شخصیات کو نشانِ پاکستان، نشانِ امتیاز، نشانِ خدمت سمیت دیگر اعزازات سے نوازا۔

مجموعی طور پر آصف زرداری نے 23 مارچ یومِ پاکستان کے دن مختلف شعبوں میں 69 ملکی اور غیر ملکی شخصیات کو سول ایوارڈز سے نوازا۔ ان میں ایک سابق وزیر اعظم کے علاوہ کئی صحافیوں کے نام بھی شامل ہیں۔

چند برسوں سے جب بھی یہ موقع آتا ہے تو ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی سامنے آ جاتا ہے کہ ان ایوارڈز میں ’سفارش‘ اور ’دباؤ‘ کا بھی عمل دخل ہوتا ہے۔

اس بار کس کس کو سرکاری اعزاز سے نوازا گیا؟

صدر زرداری نے پاکستان کے سابق وزیراعظم اور اپنے سسر ذوالفقار علی بھٹو کو ایوارڈ سے نوازا ہے جو ان کی بیٹی صنم بھٹو نے وصول کیا۔

ایوان صدر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ذوالفقار علی بھٹو کو ملک، جمہوریت اور عوام کی نمایاں خدمت کے اعتراف میں بعد از مرگ نشان پاکستان سے نوازا گیا۔‘

صدر اور گورنرز سے ایوارڈ وصول کرنے والوں میں اس بار بھی چند صحافی شامل ہیں۔

صحافیوں میں ایوارڈ حاصل کرنے والی نمایاں شخصیات میں منیب فاروق، سلمان غنی، حسن ایوب، کامران شاہد، سید مزمل سہروردی، نصراللہ اور سرور منیر راؤ ملک شامل ہیں۔ ایوارڈ کی تقریب میں بتایا گیا کہ یہ صحافی مصدقہ خبریں چلاتے ہیں اور بہت جانفشانی سے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔

مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کو تمغہ امتیاز سے نوازا گیا جن میں سید شکیل شاہ، اشہد جواد، امین محمد لاکھانی، ریحان مہتاب چاولہ، سید جواد حسین جعفری، پروفیسر ڈاکٹر عثمان قمر، ڈاکٹر سارہ قریشی، ڈاکٹر اکرام اللہ اور محمد یوسف خان شامل ہیں۔

اس بار حکومت نے بہت سی شخصیات کو یہ ایوارڈ دیے لیکن کچھ ناموں کو اس حتمی فہرست سے نکال بھی دیا جو خود گذشتہ سال 14 اگست کو جاری کی گئی تھی۔

14 اگست کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کارکردگی دکھانے اور گراں قدر خدمات سرانجام دینے والے افراد کے لیے سرکاری اعزازات کا اعلان معمول کی بات ہے لیکن گذشتہ برس کی طرح اس برس بھی یہ سرکاری فہرست اس وقت موضوع بحث بن گئی جب اس میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانی عمر فاروق کا نام دکھائی دیا۔

عمر فاروق نامی اس کاروباری شخصیت نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران خان کو دیا جانے والا خصوصی گفٹ سیٹ، جس میں ایک گھڑی بھی شامل تھی، سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر کے ذریعے سابق وزیر اعظم کی اہلیہ کی قریبی دوست فرح خان سے دبئی میں دو ملین ڈالر کے عوض خریدا۔

عمر فاورق کو سماجی شعبے میں خدمات سرانجام دینے پر ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔

جب ان کی اس ایوارڈ کے لیے گذشتہ برس 14 اگست کو نامزدگی ہوئی تھی تو کیبینٹ ڈویژن کے ایک افسر نے بی بی سی کو تصدیق کی تھی کہ یہ وہی شخصیت ہیں جن کا نام عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں سعودی ولی عہد کی جانب سے سابق وزیراعظم کو تحفے میں ملنے والی بیش قیمت گھڑی کے خریدار کے طور پر سامنے آیا تھا۔

سوشل میڈیا پر بحث اور ماہرین کی رائے جاننے سے قبل ایک نظر دوڑاتے ہیں کہ اس ایوارڈ کے لیے نامزدگی کیسے کی جاتی ہے؟

سول اور صدارتی ایوارڈز کے لیے نامزدگی کیسے ہوتی ہے؟

آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ اس کا طریقہ کار کیا ہوتا ہے اور اس میں کتنی شفافیت ہوتی ہے اور یہ کہ اس معاملے میں ’سفارش‘ بھلا کیسے چل جاتی ہے۔

ان سوالات کے جواب جاننے کے لیے ہم نے حکومت کی اس مخصوص کمیٹی کے ایک سابق سربراہ عرفان صدیقی سے رابطہ کیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ایوارڈز کے لیے چناؤ اور اس کی فہرست کو حتمی شکل دینے کے لیے وفاقی حکومت ایک کمیٹی بناتی ہے۔ اس کیمٹی کے پاس مختلف شعبوں میں کام کرنے والی شخصیات کے ناموں کی فہرستیں جاتی ہیں۔

’حکومت کی متعلقہ وزارتیں اپنے تجویز کردہ نام چیف سیکریٹریز کو اور وہ اسے کابینہ ڈویژن کو دیتے ہیں جو کہ آگے اس مخصوص حکومتی کمیٹی کو پہنچاتی ہیں۔‘

عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ کمیٹی کو ناموں کی فہرست کے ساتھ متعلقہ افراد کی پروفائلز اور خدمات کی تفصیلات بھی بھجوائی جاتی ہیں جنھیں دیکھنے کے بعد کمیٹی فیصلہ کرتی ہے کہ مذکورہ نام ایوارڈ کا اہل ہے یا نہیں اور اگر ہے تو اسے کون سا ایوارڈ دیا جائے۔

سنہ 2014 میں اس کمیٹی کی سربراہی کرنے والے سینیٹر عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ ’اس سے اوپر بھی ایک بات ہے۔ کمیٹی کا سربراہ یا ممبران ایوارڈز کی فہرست میں نااہل افراد کو بھی اپنے اثر و رسوخ سے شامل کرتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’یہاں سفارش چلتی ہے اور ٹِکا کر چلتی ہے۔ چہیتا پن بھی چلتا ہے اور کہیں کہیں میرٹ بھی چلتا ہے۔‘

لیکن یہاں یہ وضاحت کرتے چلیں کہ سفارشیں بھی دو طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ جس میں حکومتی کمیٹی کو کہا جاتا ہے کہ کہیں نہ کہیں کسی مخصوص شخصیت کو اعزاز دے دیا جائے۔ لیکن دوسری وہ سفارش ہوتی ہے جس میں بیوروکریٹس کی جانب سے تجویز نہیں ہوتی۔

ہر سال ایوان صدر میں منعقد ہونے والی اس پروقار تقریب کو دیکھیں تو بہت سے ایسے نام بھی شامل ہوتے ہیں جنھیں بعد از مرگ ایواڈ دیا جاتا ہے۔

شاید ان کی زندگی میں ان کی خدمات حکومت کی کمیٹی اور متعلقہ وزارتوں سے اوجھل ہوتی ہیں یا ان کی ترجیح میں شامل نہیں ہوتیں۔ اس کی ایک مثال سعادت حسن منٹو ہیں جن کی وفات کے دہائیوں بعد ان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔

’یہ ایوارڈز بتا رہے ہیں کہ نظام کیسے تنزلی کی طرف جا رہا ہے‘

صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کے مطابق یہ ایک روایتی تقریب ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ آئین میں بہت واضح لکھا ہے کہ کن کو یہ ایوارڈ دیے جا سکتے ہیں۔

ان کے مطابق ایک بار 1973 کے آئین کے معماروں میں سے ایک عبداالحفیظ پیرزادہ نے سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی ایک تقریر کا حوالہ دیا تھا تھا جس میں سرحدوں کی حفاظت اور نرسنگ کے شعبے کے علاوہ ایوارڈ پر انھوں نے تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ ’جو ہم کر رہے ہیں یہ ہمارے فرائض میں شامل ہے۔‘

مظہر عباس کے مطابق پاکستان میں اس وقت یہ ایوارڈ ’سیاسی رشوت کے طور پر اور نوازنے کے لیے زیادہ دیا جاتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس تقریب کو اب ’ایوارڈ دینے کا اور نوازنے کا جمعہ بازار بنا دیا ہے۔‘

مظہر عباس کے مطابق ماضی میں کچھ لوگوں کی ایسی مثالیں بھی ہیں کہ انھوں نے یہ ایوراڈ لینے سے انکار کیا ہے۔ تاہم ان کی رائے میں زیادہ تر لوگ یہ ایوارڈ لے لیتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ایوارڈ کی ایک شان ہوتی ہے اور یہ واضح ہونا چاہیے کہ کس کو کن خدمات کے عوض یہ ایوارڈ دیا جا رہا ہے۔‘

’صحافت کے خاروگُل‘ کے مصنف اور سینیئر صحافی اشرف شاد نے بی بی سی کو بتایا کہ ایوارڈ سے نوازنے کا یہ سلسلہ مستقل ایک ہی لگے بندھے انداز میں چلا آ رہا ہے۔

اشرف شاد نے کہا کہ اب حکومت تو کبھی ایسے شخص کو ایوارڈ دے گی نہیں کہ جو اس کی حقیقی کارکردگی پر بات کرے یا اس کی خامیوں کو آشکار کرے۔

ان کے مطابق اس وقت دو چار نہیں بلکہ میڈیا کا بڑا حصہ حکومت اور اسکے اداروں کے ہاتھوں میں ہی ہے۔ ایوارڈ سے متعلق اشرف شاد کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ’حکومت نے ان ایوراڈ کا کوئی کارخانہ خریدا ہوا ہے، کوئی بھی ملک میں آتا ہے تو اسے بھی ایوارڈ پہنا دیا جاتا ہے۔‘

ان کی رائے میں ’ایوارڈ کی تقریب اب یہ کوئی سنجیدہ معاملہ نہیں رہ گیا ہے۔ پتا نہیں کیوں اس چیز کو لوگگلے میںڈال کر فخر محسوسکرتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا جب صحافت ہی اس طرح نہ ہو رہی ہو تو پھر ایوارڈ کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے۔ بظاہر ایسی تقریبات پر ہی ملک چل رہا ہے۔‘

سوشل میڈیا پر ردعمل: ’لگے ہاتھوں ایک اور تمغہ جمہوریت بھی دے دیا جاتا‘

اس بار کی ایوارڈ تقریب دیکھ کر سابق صدر عارف علوی فوری طور پر سوشل میڈیا پر نمودار ہوئے۔ انھوں نے اپنے دور میں ایک تقریب سے صحافی ارشد شریف کو ایوارڈ دینے پر لکھا کہ انھیں خوشی ہے کہ انھوں نے پاکستان کے عوام کی طرف سے میرٹ پر ایوارڈ دیا تھا۔

صحافی مطیع اللہ جان نے اس ایوارڈ تقریب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’لگے ہاتھوں ایک اور تمغہ جمہوریت بھی دے دیا جاتا۔‘

یاد رہے کہ سابق وزیراعظم بینظیر کے پہلے دور حکومت میں اس وقت کے آرمی چیف اسلم بیگ کو تمغہ جمہوریت سے نوازا گیا تھا۔

صحافی ماجد نظامی نے لکھا کہ جعلی بینک اکاؤنٹس سکینڈل کے شہرت یافتہ، سندھ میں شوگر ملوں کے مالک، اومنی گروپ کے سربراہ اور آصف علی زرداری کے قریبی دوست خواجہ انور مجید کو پاکستان کے دوسرے بڑے سول اعزاز ’ہلال امتیاز‘ سے نوازا کیا گیا ہے۔ انھوں نے تجویز دی ہے کہ ان کی خدمات پر تو انھیں نشان امتیاز دینا چاہیے تھا۔

ناروے میں مقیم صحافی عفت حسن رضوی نے عمر فاروق کو ایوارڈ دیے جانے پر تبصرہ کیا کہ ’کیا خدمات کا اعتراف کیا گیا ہے۔‘

انھوں نے لکھا کہ ناروے میں فراڈ کے الزام میں مفرور ملزم کو پاکستان میں سول ایوارڈ دیا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More