Getty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈین نژاد وکیل کشیپ پٹیل کو ملک کے خفیہ ادارے ایف بی آئی (فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن) کا نیا ڈائریکٹر مقرر کیا ہے۔
انھوں نے ہندو مذہب کی مقدس کتاب گیتا پر ہاتھ رکھ کر اپنے عہدے کا حلف لیا۔
کشیپ پٹیل نے چارج سنبھالنے کے بعد کہا ’آپ انڈین نژاد والدین کی امریکہ میں پیدا ہونے والی پہلی نسل کے بچے سے مخاطب ہیں جو دنیا کے عظیم ترین ملک میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کی قیادت کرنے جا رہا ہے۔ ایسا دنیا میں کہیں اور نہیں ہو سکتا۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ایف بی آئی کے اندر اور باہر لوگوں کا احتساب کیا جائے گا۔‘
خیال کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کے کٹر حامی کاش پٹیل امریکی فیڈرل بیورو میں بہت سی ایسی تبدیلیاں کر سکتے ہیں جو طویل عرصے سے ان کا ہدف رہی ہے۔
کشیپ پٹیل کا کہنا تھا کہ ’میں امریکی خواب جی رہا ہوں اور اگر کوئی سمجھتا ہے کہ امریکی خواب مر چکا ہے تو وہ میری طرف دیکھے۔‘
پٹیل ڈونلڈ ٹرمپ کے کٹر حامی اور امریکی حکومت کے اعلیٰ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ناقد رہے ہیں۔
انھوں نے کرسٹوفر رے کی جگہ لی ہے جنھیں ٹرمپ نے 2017 میں ایف بی آئی کا ڈائریکٹر مقرر کیا تھا۔ رے نے گذشتہ ماہ ٹرمپ کے افتتاح سے قبل استعفیٰ دے دیا تھا۔
جب ایف بی آئی نے ٹرمپ کے خلاف خفیہ ریکارڈ رکھنے کے معاملے کی تحقیقات میں مدد کی تو ٹرمپ نے کرسٹوفر رے کی حمایت کرنا چھوڑ دی اور عندیہ دیا تھا کہ وہ رے کو عہدے سے ہٹا دیں گے۔
Getty Imagesکشیپ پٹیل کو ڈونلڈ ٹرمپ کے انتہائی وفادار ساتھیوں میں شمار کیا جاتا ہے
یاد رہے دسمبر 2024 میں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کے خفیہ ادارے ایف بی آئی کی سربراہی کے لیے کشیپ پٹیل کا نام تجویز کیا، تب سے ان کی نامزدگی متنازع رہی ہے۔
ٹرمپ کے ناقدین نے سوال کیا تھا کہ آیا اتنی اہم ایجنسی کی قیادت کرنے کے کشیپ پٹیل اہل ہیں بھی یا نہیں۔
ٹرمپ نے ان کی نامزدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشیپ پٹیل’سب سے پہلے امریکہ‘ پر یقین رکھنے والے ایک ماہر وکیل، تفتیش کار، اور سماجی کارکن ہیں۔ انھوں نے اپنے پورے کریئر میں بدعنوانی کو بے نقاب کرنے اور انصاف اور امریکی عوام کے تحفظ کے لیے انتھک محنت کی ہے۔
تاہم دوسری جانب کشیپ پٹیل کے بارے میں، جنھیں ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں ان کے انتہائی وفادار ساتھی کی حیثیت سے جانا گیا، یہ خدشات بھی موجود ہیں کہ آیا ان کے ذریعے ٹرمپ ایک اہم اور غیر سیاسی سکیورٹی ادارے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال تو نہیں کرنا چاہتے۔
اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈین نژاد وویک راماسامی کو ایلون مسک کے ساتھ حکومتی کارکردگی بہتر بنانے والے ادارےکے محکمے میں کام کرنے کے لیے مقرر کیا تھا۔
کشیپ پٹیل کون ہیں؟
44سالہ کشیپ پٹیل کو ڈونلڈ ٹرمپ کے انتہائی وفادار ساتھیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ٹرمپ کی جیت کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ کشیپ پٹیل کو امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا سربراہ مقرر کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ جان ریڈکلف کو سی آئی اے کے سربراہ کے لیے نامزد کریں گے۔
کشیپ پٹیل امریکی وزیر دفاع کرسٹوفر ملر کے چیف آف سٹاف کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس سے پہلے وہ صدر کے نائب معاون اور قومی سلامتی کونسل میں انسداد دہشت گردی کے سینیئر ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق کشیپ پٹیل نے ٹرمپ انتظامیہ کے دوران مختلف اہم سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب شدت پسند تنظیم داعش کے رہنما البغدادی اور القاعدہ کے قاسم الریمی کو ہلاک کیا گیا تھا۔
کشیپ پٹیل امریکہ کی نیشنل انٹیلیجنس کے پرنسپل ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اپنے دور میں انھوں نے 17 انٹیلیجنس ایجنسیوں کے آپریشنز کی نگرانی کی اور صدر کو روزانہ کی بنیاد پر بریفنگ دیتے تھے۔
لیکن انھوں نے اپنے کریئر کا آغاز بطور وکیل کیا تھا اور قتل اور منشیات سے متعلق جرائم سے لے کر پیچیدہ مالیاتی جرائم تک کے مختلف مقدمات میں عدالت میں دلائل دیے۔
Getty Imagesکشیپ پٹیل کا انڈیا سے ’گہرا تعلق‘
کشیپ پٹیل کے والد انڈین گجرات سے امریکہ آئے تھے اور وہاں وہ ایک امریکی ایئرلائن میں کام کرتے تھے۔
امریکی محکمہ دفاع نے بتایا کہ کشیپ پٹیل نیویارک شہر کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے یونیورسٹی آف رچمنڈ سے گریجویشن کی اور اس کے بعد وہ نیویارک واپس آ گئے جہاں انھوں نے قانون میں گریجویشن کی۔
انھوں نے یونیورسٹی کالج لندن، برطانیہ سے بین الاقوامی قانون میں سرٹیفکیٹ بھی حاصل کیا۔ انھیں آئس ہاکی کھیلنا پسند ہے۔
کشیپ پٹیل ’ٹریسول‘ نامی کمپنی چلاتے ہیں۔ یہی وہ کمپنی تھی جس نے ٹرمپ کو ’امریکہ فرسٹ‘ جیسےمشورے دیے ہیں۔ اس کے لیے کمپنی نے گذشتہ دو سال میں فیس کے طور پر ایک کروڑ ڈالر سے زیادہ پیسے وصول کیے ہیں۔
کشیپ پٹیل نے اپنی کتاب ’گورنمنٹ گینگسٹر‘ میں ذکر کیا ہے کہ وہ امریکہ کے کوئنز اور لانگ آئی لینڈ میں پلے بڑھے ہیں۔ انھوں نے اس میں بتایا کہ ان کے والدین امیر نہیں تھے اور وہ انڈیا سے یہاں آئے تھے۔
انھوں نے کہا کہ ’بہت سے والدین کی طرح، میری ماں اور والد نے مجھے تعلیم پر توجہ مرکوز کرنے اور اپنے مذہب اور ورثے سے آگاہ رہنے کی ترغیب دی۔ اسی وجہ سے میرا انڈیا سے اتنا گہرا تعلق ہے۔‘
’گھنٹوں میں جنگ کا خاتمہ‘ اور اقتصادی محاذ آرائی کا خدشہ: ٹرمپ کا دوسرا صدارتی دور کیسا ہو گا؟امریکی صدارتی انتخاب کا پاکستانی سیاست پر ممکنہ اثر: کیا ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ’دوست‘ عمران خان کو رہائی دلوا سکتے ہیں؟قاتلانہ حملے، مقدمات اور ’سیاسی انتقام‘: ڈونلڈ ٹرمپ کی حیران کن سیاسی واپسی کیسے ممکن ہوئی؟میلانیا ٹرمپ: ’معمہ‘ سمجھی جانے والی خاتون اوّل اور سابقہ ماڈل جو نظروں سے اوجھل رہتی ہیںکیش فاؤنڈیشن
کشیپ پٹیل ’کاش فاؤنڈیشن‘ کے نام سے ایک این جی او بھی چلاتے ہیں۔ یہ این جی او فوجی اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فنڈ فراہم کرتی ہے۔
یہ تنظیم امریکی بچوں کے لیے وظائف اور حکومتی بدعنوانی کو بے نقاب کرنے والوں کی مدد پر رقم خرچ کرتی ہے۔ کشیپ پٹیل نے ایک انٹرویو میں کہا کہ این جی او نے سنہ 2021 میں امریکی پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی کرنے والوں کی مدد کی تھی۔
Getty Imagesٹرمپ کے اعلان پر تنقید اور تعریف
ڈیموکریٹ جماعت کے کانگریس رکن کرس مرفی نے کہا تھا کہ ’انھیں یہ خدشہ ہے کہ کاش پٹیل صرف ری پبلکنز کے مفادات کا ہی تحفظ کریں گے اور ہر امریکی شہری کے تحفظ کی پرواہ نہیں کریں گے۔‘
تاہم کچھ ری پبلکنز نے کشیپ پٹیل کی نامزدگی پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔
سپیکر مائیک جانسن نے اس نامزدگی کی بھرپور حمایت کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ’کشیپ پٹیل کو قومی سلامتی اور انٹیلیجنس میں بہت تجربہ حاصل ہے۔ وہ امریکہ فرسٹ کے وفادار رکن ہیں جو ایف بی آئی میں بہت ضروری تبدیلی متعارف کرائیں گے۔‘
سینیٹر بل ہیگرٹی نے کہا تھا کہ انھوں نے کشیپ پٹیل کی نامزدگی کے لیے ٹرمپ کی حوصلہ افزائی کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ایف بی آئی میں بہت سنجیدہ نوعیت کے مسائل ہیں، جنھیں امریکی عوام جانتے ہیں۔‘ ان کے مطابق وہ یکسر تبدیلی چاہتے ہیں اور کشیپ پٹیل ہی ایسے شخص ہی جو ایسا کر سکتے ہیں۔
’گھنٹوں میں جنگ کا خاتمہ‘ اور اقتصادی محاذ آرائی کا خدشہ: ٹرمپ کا دوسرا صدارتی دور کیسا ہو گا؟ڈونلڈ ٹرمپ: امریکہ کے ’رنگین مزاج ارب پتی‘ شخص سے دوسری بار صدارتی الیکشن میں ’فتح‘ کے اعلان تککیا مسلمان اور مسلم ممالک واقعی ڈونلڈ ٹرمپ کو پسند کرتے ہیں؟قاتلانہ حملے، مقدمات اور ’سیاسی انتقام‘: ڈونلڈ ٹرمپ کی حیران کن سیاسی واپسی کیسے ممکن ہوئی؟مارکو روبیو: امریکہ کے نامزد سیکرٹری خارجہ جنھیں ٹرمپ نے ’بے خوف جنگجو‘ قرار دیاایلون مسک: دنیا کے امیر ترین شخص کو ڈونلڈ ٹرمپ کی الیکشن میں فتح سے کیا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے؟