BBC
القادر ٹرسٹ کیس، القادر یونیورسٹی کیس، 190 ملین پاؤنڈ کیس، 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس۔۔۔
گذشتہ دو سال کے دوران اِن الفاظ کا تواتر سے استعمال آپ نے مقامی اور بین الاقوامی میڈیا میں نشر اور شائع ہونے والی خبروں میں دیکھا اور سُنا ہو گا۔
اس سے قطع نظر کہ عدالت میں زیر سماعت اس کیس کا فیصلہ کیا آتا ہے، بی بی سی اُردو نے حال ہی میں القادر یونیورسٹی کا دورہ کیا ہے۔
یہ یونیورسٹی اسلام آباد سے تقریبا 85 کلومیٹر دور جی ٹی روڈ پر ضلع جہلم کی تحصیل سوہاوہ میں تعمیر کی گئی ہے۔ 458 کنال رقبے پر محیط یہ یونیورسٹی پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے اور اس کے ارگرد کوئی باقاعدہ آبادی نہیں ہے۔
BBCیہ یونیورسٹی اسلام آباد سے تقریبا 85 کلومیٹر دور جی ٹی روڈ پر ضلع جہلم کی تحصیل سوہاوہ میں تعمیر کی گئی ہے
یہیونیورسٹیالقادر ٹرسٹ کے زیر انتظام چلتی ہے اور القادر ٹرسٹ کے چیئرمین سابق وزیر اعظم عمران خان ہیں جبکہ اُن کی بیوی بشری بی بیبورڈ اف ٹرسٹیزکی رُکن ہیں۔
القادر یونیورسٹی کا سنگ بنیاد سنہ 2019 میں عمران خان نے رکھا تھا جبکہ اس یونیورسٹی میں کلاسز کا باقاعدہ آغاز سنہ 2021 میں ہوا تھا اور ابتدا میں اس یونیورسٹیمیں پڑھنے والے طلبا کی تعداد 30 کے قریب تھی۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ اس یونیورسٹی میں کوئی بھی طالبعلم زیر تعلیم نہیں ہے۔ تاہم جب بی بی سی کی ٹیم القادر یونیورسٹی پہنچی تو وہاں کے حالاتوفاقی وزیر اطلاعات کے دعوے سے کچھ مختلف تھے۔
یہاں پر موجود طلبا میں لڑکیاں بھی شامل تھیں جبکہ یونیورسٹی میں کافی چہل پہل تھی۔
BBCوفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ اس یونیورسٹی میں کوئی بھی طالبعلم زیر تعلیم نہیں ہے
اس یونیورسٹی میں مینجمنٹ سائنسز اور اسلامک سٹڈیزکی تعلیم دی جاتی ہے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اس یونیورسٹی میں روحانیت اور فلسفےکی تعلیم بھی دی جائے گی تاہم اس بارے میں اس یونیورسٹی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ روحانیت اور فلسفہ بھی اسلامک سٹڈیز میں ہی آتے ہیں۔
نواز شریف اور عمران خان: کرکٹ سے سیاست اور رفاقت سے عداوت تک کا سفرعمران خان اور نواز شریف: دونوں کی وہ مماثلت جو مٹ نہیں سکتی!’وعدہ معاف گواہ نہیں بنوں گا‘: عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کیس سے ملک ریاض کا کیا تعلق ہے؟نو مئی کے مقدمات میں رہائی پانے والوں کا وزیر اعلی ہاؤس میں ’ہیروز ویلکم‘: ’بعض جنگجو نہیں چاہتے کہ صلح صفائی کا ماحول پیدا ہو‘
انتظامیہ کے مطابق یونیورسٹی میں فی الحال طلبا کی تعداد200 سے زائد ہے جن کی اکثریت ملک کے دور دراز علاقوں سے آئی ہے اور اُن میں سے 90 فیصد طلبا اور طالبات سکالر شپ پر یعنی مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
BBCانتظامیہ کے مطابق یونیورسٹی میں فی الحال طلبا کی تعداد200 سے زائد ہے
جب بی بی سی کی ٹیم یہاں پہنچی تو یہاں مختلف کلاسز ہو رہی تھیں جبکہ چند طلبا و طالبات کمپیوٹر لیب اور لائبریری میں مصروف تھے۔
اس یونیورسٹی کے چار بلاک ہیں، گراؤنڈ اور فرسٹ فلور پر کلاس رومز ہیں جبکہ سکینڈ فلور کی ایک حصے میں طلبا کا ہاسٹل جبکہ دوسری جانب طالبات کا ہاسٹل ہے۔ طالبعلموں کی سہولت کے لیے یہاں پر میس (کینٹین) بھی بنایا گیا ہے۔
طلبا کے خدشاتBBCیونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبا اور طالبات تعلیمی معیار سے مطمئن لیکن 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے کو القادر یونیورسٹی کے ساتھ جوڑنے پر کافی پریشان دکھائی دیے
یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبا اور طالبات سے بات ہوئی تو وہ یہاں کے تعلیمی معیار سے بڑی حد تک مطمئن نظر آئے۔ تاہم وہ 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے کو القادر یونیورسٹی کے ساتھ جوڑنے پر کافی پریشان دکھائی دیے۔
کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے طالبعلم شمس السلام نے بتایا کہ اُن کا ذاتی طور پر سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی یونیورسٹی میں سیاست پڑھائی جاتی ہے۔
’اس یونیورسٹی میں میرے ڈھائی سال مکمل ہو چکے ہیں اور اب میں پانچویں سمسٹر میں زیر تعلیم ہوں۔ اگر خدانخواستہ اس کیس کا یونیورسٹی پر کوئی اثر ہوتا ہے یا اسے بند کر دیا جاتا ہے، تو میرا یہ سوال ہے کہ ہم بلوچستان سے آئے ہوئے طلبا کہاں جائیں گے؟‘
کچھ ایسے ہی خدشات کا اظہار گجرخان سے تعلق رکھنے والی مہرین تبسم نے کیا۔ مہرین القادر یونیورسٹی میں بی ایس منیجمنٹ کے پانچویں سمسٹر کی سٹوڈنٹ ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ہم یہاں اس یونیورسٹی میں اپنا بہت زیادہ وقت انویسٹ کر چکے ہیں، مگر غیریقینی کی اس صورتحال میں اگر کل کلاں کچھ ہو جاتا ہے تو اس کا ہماری تعلیم پر بہت بُرا اثر پڑے گا۔‘
میانوالی سے تعلق رکھنے والی علینہ خانزادی اسلامک سٹڈیز میں تیسرے سمسٹر میں زیر تعلیم ہیں۔ علینہ کے مطابق ’کسی بھی یونیورسٹی میں داخلہ لینا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ ایک سال کا وقت تو لگ ہی جاتا ہے، اگر کچھ ہوتا ہے اور یونیورسٹی بند ہوتی ہے تو اس کے بہت بُرے اثرات ہوں گے۔‘
اس یونیورسٹی میں زیر تعلیم طالبعلموں کا کہنا تھا کہ تعلیم کو سیاست سے الگ رکھا جائے کیونکہ اس مقدمے کو لے کر انھیں اپنے مستقبل کے حوالے سے کافی فکر ہے۔
چند طلبا کا کہنا تھا کہ وہ جب بھی اس مقدمے کے تناظر میں اپنی یونیورسٹی سے متعلق سوشل میڈیا پر پوسٹس دیکھتے ہیں تو وہ ذہنی طور پر پریشان ہو جاتے ہیں۔
مالی مشکلات سے دوچار القادر یونیورسٹیBBC
القادر یونیورسٹی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر امجد الرحمن اس یونیوسٹی کو درپیش مالی مشکلات کے باوجود کافی مطمئن دکھائی دیے۔
اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ القادر ٹرسٹ کی رجسٹریشن کا عمل مکمل نہ ہونے کے باعث فی الحال کوئی فنڈز موصول نہیں ہو رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اُن کے پاس ابھی تک وہی فنڈز موجود ہیں جو عمران خان کے بحثیت وزیر اعظم دور میں اکھٹے ہوئے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ القادر یونیورسٹی کا ماہانہ خرچ 40 سے 50 لاکھ کے درمیان ہے۔ انھوں نے کہا کہ القادر ٹرسٹ کی انتظامیہ نے تمام تر لوازمات پورے کر لیے تھے تا کہ مستحق لوگ اس ادارے کو عطیات دے سکیں اور اس ضمن میں جہلم میں انتظامیہ سے اجازت نامہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کے لیبر ڈیپارٹمنٹ کو بھی درخواست دی گئی تھی لیکن متعلقہ حکام نے ابھی تک اس بارے میں کوئی پیش رفت نہیں کی۔
انھوں نے کہا کہ متعقلہ اداروں کے اس رویے کے خلاف معاملہ ابھی تک عدالتوں میں ہے جس پر جلد فیصلہ ہونے کی امید ہے۔
انھوں نے کہا کہ فنڈنگ کی اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جب بھی کوئی شخصیت اس یونیورسٹی کے دورے پر آتی ہے تو انھیں کچھ سٹوڈنٹس کی کفالت یا ان کے اخراجات اپنے ذمہ لینے کی درخواست کی جاتی ہے جس پر عمومی طور پر عمل ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر امجد الرحمن کا کہنا تھا کہ اس یونیورسٹی میں زیادہ تر زیر تعلیم طالب علموں کا تعلق ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں سے ہے لیکن اُن کی سلیکشن میرٹ پر ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ان حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ’بعض اوقات کسی طالب علم کو کپڑوں کی ضرورت ہوتی ہے اور کسی کا کھانے کا خرچہ اٹھایا جانا ہوتا ہے، تو محتلف شخصیات جب بھی اس یونیورسٹی کے دورے پر آتی ہیں تو ان کے سامنے یہ معاملہ اٹھایا جاتا ہے۔‘
اس یونیورسٹی میں یا اس کے قریب پولیس کی کوئی چیک پوسٹ نہیں ہے جبکہ یونیورسٹی کے احاطے میں پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔
’فیصلہ لکھ لیا ہے‘: عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز کیس کا فیصلہ بار بار موخر کیوں ہو رہا ہے؟عمران خان کو ’ٹرمپ جیسا لیڈر‘ کہنے والے رچرڈ گرینل جنھیں ٹرمپ نے صدارتی ایلچی نامزد کیاامریکی صدارتی انتخاب کا پاکستانی سیاست پر ممکنہ اثر: کیا ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ’دوست‘ عمران خان کو رہائی دلوا سکتے ہیں؟صفر سے فلسفہ حیات تک: انڈیا کی قدیم نالندہ یونیورسٹی جس نے دنیا بدل کر رکھ دیاڈیالہ سے آکسفرڈ تک۔۔۔