انڈیا میں جمعرات کو برکس کے وزرائے خارجہ کے دو روزہ اجلاس کا پہلا دن بظاہر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی نذر ہوا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ اس اجلاس میں جنگ کے بعد ایران اور متحدہ عرب امارات پہلی بار آمنے سامنے آئے۔
اجلاس کے آغاز میں جہاں انڈین وزیر خارجہ نے بین الاقوامی پانیوں، بشمول آبنائے ہرمز، میں ’محفوظ اور بلا رکاوٹ سمندری آمدورفت‘ کی ضرورت پر زور دیا تو وہیں دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ متحدہ عرب امارات پر خاصے برہم نظر آئے۔
یاد رہے کہ برکس میں برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں تاہم 2024 میں روس کے شہر قازان میں ہونے والے برکس سربراہی اجلاس کے دوران اس کی رکنیت میں توسیع کی گئی تھی۔
نئے اراکین میں مصر، ایتھوپیا، ایران، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا کو شامل کیا گیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اجلاس میں کیا کہا؟
ایران اور متحدہ عرب امارات 2024 سے برکس کے رکن ممالک ہیں۔
ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب پر میزائل حملے کیے جس کے بعد سے ان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے اور آج کے اجلاس میں بھی یہ صورتحال دیکھنے کو ملی۔
انڈین وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے جمعرات کے روز برکس ممالک کے اجلاس کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ ’ہم ایسے وقت میں مل رہے ہیں جب بین الاقوامی تعلقات میں نمایاں اتار چڑھاؤ پایا جاتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’خاص طور پر ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک کی جانب سے یہ توقع بڑھ رہی ہے کہ برکس تعمیری اور استحکام پیدا کرنے والا کردار ادا کرے گا۔‘
پاکستان برکس میں شامل کیوں نہ ہوسکا اور کیا اس اتحاد میں وسعت انڈیا کے لیے پریشانی کا باعث ہے؟انڈیا کو برکس کے اندر امریکہ اور اسرائیل کا ’ٹروجن ہارس‘ کیوں کہا گیا؟ایران، امریکہ کا پاکستان کی ثالثی پر اعتماد مگر چند امریکی حلقوں میں تشویش: کیا بطور ثالث پاکستان کے اثر و رسوخ کو نقصان پہنچ سکتا ہے؟ٹرمپ کی برکس ممالک کو ’دھمکی‘ لیکن کیا امریکی ڈالر کی جگہ کوئی اور کرنسی لے سکتی ہے؟
اس موقع پر ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے متحدہ عرب امارات پر ایران کے خلاف فوجی حملوں میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے اسرائیل کے ساتھ اپنے ’اتحاد پر نظرِثانی‘ کرنی چاہیے۔
اس اجلاس میں ہونے والی تقریروں کی تفصیلات تو ابھی تک باقاعدہ طور پر جاری نہیں کی گئی تاہم ایران کے سرکاری میڈیا نے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے بیان کے حوالے سے کچھ تفصیلات شیئر کی ہیں۔
Getty Imagesگزشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران اسرائیل انڈیا کے ایک اہم دفاعی شراکت دار کے طور پر ابھرا
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق جمعرات کے روز نئی دہلی میں برکس کے وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران عباس عراقچی نے کہا کہ ’مجھے یہ کہنا ہو گا کہ متحدہ عرب امارات میرے ملک کے خلاف جارحیت میں براہِ راست شامل تھا، انھوں نے اپنی سرزمین کو ہمارے خلاف توپ خانے اور دیگر سازوسامان کے استعمال کے لیے مہیا کیا۔‘
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ’اتحاد کی خاطر میں نے اپنے (برکس) بیان میں متحدہ عرب امارات کا نام نہیں لیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات میرے ملک کے خلاف جارحیت میں براہِ راست ملوث تھا۔ جب حملے شروع ہوئے تو انھوں نے مذمت کا بیان تک جاری نہیں کیا۔‘
ایرانی میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے یہ بیان اماراتی نمائندے کے تبصرے کے جواب میں دیا تاہم ایران کے سرکاری میڈیا نے یہ نہیں بتایا کہ اماراتی نمائندے نے کیا کہا تھا۔
انھوں نے 2020 میں معمول پر آنے والے یو اے ای اور اسرائیل کے تعلقات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل کے ساتھ آپ کے اتحاد نے بھی آپ کو تحفظ فراہم نہیں کیا، لہٰذا ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کریں۔‘
مزید برآں، ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کے لیے کھلی ہے تاہم صرف اُن جہازوں کے لیے جو ایرانی حکام کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ برکس اجلاس میں شرکت کے لیے عباس عراقچی کی انڈیا آمد کے چند گھنٹے بعد ہی اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’نیتن یاہو نے فروری کے آخر میں ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکی حملوں کے دوران یو اے ای کا خفیہ دورہ کیا تھا۔‘
دوسری جانب یہ ساری پیشرفت ایسے موقع پر ہو رہی ہے جب انڈین وزیراعظم نریندر مودی جمعے کے روز متحدہ عرب امارات کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔
تو کیا ایسے میں انڈیا ایران، اسرائیل اور متحدہ عرب امارت کے درمیان پھنس گیا ہے؟
Getty Images
ایرانی میڈیا نے اس بات پر شکوک ظاہر کیے ہیں کہ آیا انڈیا میں برکس وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شریک ممالک اختلافات کے باعث کوئی حتمی اعلامیہ جاری کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے یا نہیں۔
اطلاعات ہیں کہ یہ اختلافات ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ہیں۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی موجودگی کے باعث ’مسائل اور رابطوں میں رکاوٹیں‘ پیدا ہوئی ہیں۔
دریں اثنا بدھ کے روز صومالیہ سے متحدہ عرب امارات جانے والا انڈین پرچم بردار جہاز عمانی پانیوں میں آتشزدگی کے بعد ڈوب گیا ہے جبکہ اس کے عملے کے تمام 14 ارکان کو عمانی کوسٹ گارڈ نے بچا لیا ہے۔
انڈیا نے اس حملے کی نوعیت یا اس کے ذمہ داروں کی تفصیل نہیں دی لیکن برطانوی میرین رسک مینجمنٹ گروپ وین گارڈ کے مطابق اس میں دھماکہ غالباً ڈرون یا میزائل حملے کے نتیجے میں ہوا۔
انڈین وزیر خارجہ جے شنکر نے کہا کہ ’جاری کشیدگی، سمندری نقل و حرکت کو درپیش خطرات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں خلل اس صورتحال کی نزاکت کو اجاگر کرتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’بین الاقوامی آبی گزرگاہوں بشمول آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے ذریعے محفوظ اور بلا رکاوٹ سمندری گزرگاہیں عالمی اقتصادی بہبود کے لیے نہایت اہم ہیں۔
کسی فریق کا نام لیے بغیر انھوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ ایسی پابندیاں ’بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق نہیں۔‘
برکس اجلاس کی میزبانی میں انڈیا کی مشکلات
انڈیا ایک ایسے وقت میں اس برس برکس کے سربراہی اجلاس کی قیادت کر رہا ہے جب اس کا رکن ملک ایران امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا سامنا کر رہا ہے۔
ایران چاہتا ہے کہ انڈیا کی صدارت میں برکس ممالک امریکہ اور اسرائیل کی سخت مذمت کریں جبکہ ایران کے معاملے پر انڈیا پہلے ہی تنقید کی زد میں ہے۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں سے قبل انڈین وزیرِ اعظم نے تل ابیب کا دورہ کیا تھا۔ اس کے بعد علی خامنہ ای کی ہلاکت پر انڈیا کے تاخیر سے ردعمل پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔
انڈیا اور متحدہ عرب امارات کے علاوہ تمام برکس رکن ممالک اسرائیل پر سخت تنقید کر رہے ہیں جبکہ زیادہ تر ممالک ایران کی حمایت کرتے ہیں۔
اور اسی چیلنج سے اس وقت وزرائے خارجہ کے اجلاس میں نمٹا جا رہا ہے تاہم ستمبر میں ہونے والے سربراہی اجلاس کے موقع پر صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
برکس گروپ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد سے جنگ کے معاملے پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنے میں ناکام رہا ہے۔
انڈیا کے لیے یہ صورتحال پیچیدہ ہے۔
انڈیا کے امریکہ اور اسرائیل دونوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ گزشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران اسرائیل انڈیا کے ایک اہم دفاعی شراکت دار کے طور پر ابھرا۔
انڈیا کے ایران کے ساتھ تاریخی روابط بھی ہیں اور وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے آنے والے تیل اور گیس پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔
انڈیا کے متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ بھی مضبوط اقتصادی تعلقات ہیں۔ ان خلیجی ممالک میں تقریباً ایک کروڑ انڈین کام کرتے ہیں۔
پاکستان برکس میں شامل کیوں نہ ہوسکا اور کیا اس اتحاد میں وسعت انڈیا کے لیے پریشانی کا باعث ہے؟انڈیا کو برکس کے اندر امریکہ اور اسرائیل کا ’ٹروجن ہارس‘ کیوں کہا گیا؟ٹرمپ کی برکس ممالک کو ’دھمکی‘ لیکن کیا امریکی ڈالر کی جگہ کوئی اور کرنسی لے سکتی ہے؟ایران، امریکہ کا پاکستان کی ثالثی پر اعتماد مگر چند امریکی حلقوں میں تشویش: کیا بطور ثالث پاکستان کے اثر و رسوخ کو نقصان پہنچ سکتا ہے؟امریکہ، اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ: ایک تنازع اور کامیابی کے دو متضاد دعوے