مداح کے قتل کے الزام میں قید انڈین اداکار درشن ’جیل میں بھی وی آئی پی‘

بی بی سی اردو  |  Aug 26, 2024

اپنے ایک فین کے قتل کے الزام میں قید انڈین فلم سٹار درشن تہوگودیپا ایک بار پھر خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ ان کی ایک وائرل تصویر ہے جو مبینہ طور پر جیل سے لیک ہوئی ہے۔

اس تصویر میں بظاہر درشن اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کے ایک ہاتھ میں سگریٹ اور دوسرے میں کافی مگ ہے۔

اس تصویر کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کنڑ اداکار کو جیل میں خصوصی مراعات حاصل ہیں۔

تاہم انڈین ریاست کرناٹک کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ تصویر کے منظر عام پر آنے کے بعد پولیس نے ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر جیل کے سات اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔

جی پرمیشور کا کہنا ہے کہ یہ ایک ’سنگین سکیورٹی لیپس‘ ہے جس کے حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہے۔

خیال رہے کہ درشن تہوگودیپا جنوبی انڈین فلم انڈسٹری کے سپر سٹار ہیں اور وہ ان 17 افراد میں شامل ہیں جنھیں رینوکا سوامی نامی ایک 33 سالہ نوجوان کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

25 اگست کو ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ درشن کو جیل میں خصوصی مراعات حاصل ہیں۔ اسی دوران ایک ویڈیو کال بھی منظر عام پر آئی جس میں مبینہ طور پر درشن جیل میں اپنے ایک فین سے بات کر رہے تھے۔

اس پر ریاست کے محکمہ جیل خانہ جات نے تحقیقات شروع کیں اور اس کے بعد وزیر داخلہ نے جیل کے سات اہلکاروں کی معطلی کا اعلان کیا۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ نے اب درشن سمیت قتل کے مقدمے میں دیگر ملزمان کو دوسری جیلوں میں منتقل کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

اس معاملے پر سوشل میڈیا صارفین نے بھی تبصرے کیے ہیں۔ بعض صارفین نے ناراضی ظاہر کی کہ انھیں جیل میں بھی ’وی آئی پی کی طرح رکھا جا رہا ہے۔‘ جبکہ انڈیا کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق مقتول نوجوان کے والد ذمہ داران کو سزائیں دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں اس تصویر پر حیرت ہے۔ ہمیں شک ہے کہ وہ جیل میں ہیں بھی یا نہیں۔‘ ان کے مطابق جیل کو جیل جیسا ہی ہونا چاہیے تاہم انھیں دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ کسی تفریحی رزارٹ میں قیام پذیر ہیں۔

جب درشن کو اپنے فین کے قتل کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا

درشن کی ڈرامائی گرفتاری کسی فلم کی کہانی جیسی ہے۔ وہ ان 17 افراد میں شامل ہیں جنھیں رینوکا سوامی نامی ایک 33 سالہ نوجوان کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

یہ نوجوان اداکار درشن کا مداح تھا اور اس کی لاش ایک نالے سے برآمد ہوئی تھی۔

اس ہفتے کے اوائل میں بنگلورو شہر کے پولیس کمشنر بی دیانندا نے کہا تھا کہ رینوکا سوامی کو ’انتہائی وحشیانہ اور ظالمانہ طریقے سے قتل کیا گیا‘۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ 47 سالہ اداکار ایک فارمیسی کمپنی میں کام کرنے والے رینوکا سوامی سے ناراض تھے کیونکہ انھوں نے مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر ایک اداکارہ پاوترا گوڑا کو فحش پیغامات بھیجے تھے۔ انڈین میڈیا کے مطابق یہ اداکارہ درشن کی گرل فرینڈ ہیں۔

ملزمان کے خلاف قتل، اغوا اور شواہد کو مسخ کرنے اور مجرمانہ سازش کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

درشن کے وکیل رنگناتھ ریڈی نے بی بی سی کو بتایا کہ اداکار نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات سے انکار کیا۔

انھوں نے کہا کہ ’اس وقت یہ محض الزامات ہیں۔ پولیس کے پاس درشن کے خلاف کوئی براہ راست ثبوت نہیں ہے۔ یہ واقعاتی شواہد کا معاملہ ہے۔‘

وکیل ریڈی نے اس دعوے کو بھی جھوٹا قرار دیا کہ پاوترا کی شادی درشن سے ہوئی تھی۔

پولیس 11 جون کو میسورو شہر کے اس ہوٹل میں پہنچی جہاں درشن اپنی نئی فلم ’ڈیول‘ کی شوٹنگ کے دوران ٹھہرے ہوئے تھے۔ تب سے ان کی ڈرامائی گرفتاری اور اس کے بعد کے واقعات ریاست میں شہ سرخیوں میں ہیں۔

سرکاری طور پر پولیس اداکار اور دیگر مشتبہ افراد کے خلاف حاصل کردہ ثبوتوں کے بارے میں کوئی تفصیلات نہیں دے رہی ہے لیکن مقامی پریس نے ان الزامات کو پولیس ذرائع سے منسوب کرتے ہوئے رپورٹ کیا ہے۔

ٹی وی چینلوں پر دھندلی سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی گئی ہے جس میں رپورٹروں کا دعویٰ ہے کہ اس میں رینوکا سوامی کے اغوا کو دکھایا گیا ہے۔

مرنے والے شخص کے پوسٹ مارٹم کی تفصیلات پر اس وقت بحث کی جا رہی ہے جب یہ خبریں سامنے آئیں کہ درشن نے قتل کی رات جو جوتے پہنے تھے وہ ان کی بیوی وجے لکشمی کے گھر سے ملے تھے تو انھوں نے عدالت سے حکم نامہ حاصل کیا کہ انھیں اس معاملہ سے الگ رکھا جائے۔

درشن کی نجی زندگی کے بارے میں بھی تحقیقات جاری ہیں جس میں ان کی بیوی وجے لکشمی کے ساتھ ان کے تعلقات اور پاوترا گوڑا کے ساتھ ان کا تعلق شامل ہے۔ اس کے علاوہ ماضی میں ان کے رویے کی کہانیاں خبروں اور سوشل میڈیا پر دہرائی جا رہی ہیں۔

پاوترا کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جنوری کی ایک پوسٹ جس میں اداکار کے ساتھ 10 سال طویل تعلقات کے بارے میں بات کی گئی ہے ان کی گرفتاری کے بعد سے وائرل ہو گئی ہے۔

کروڑوں روپے معاوضہ لینے والے اداکار

درشن اداکار سرینواس تھوگودیپا کے بیٹے ہیں جو 1970 کی دہائی میں منفی کردار وں میں مشہور اور کامیاب ہوئے تھے۔

پروڈیوسر یوگیش جو تین دہائیوں سے درشن کو جانتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اداکار نے اپنے والد کی وفات کے بعد اپنی ابتدائی زندگی میں بہت مشکلات کا سامنا کیا۔

ان کا پہلا کام ایک سنیمیٹوگرافر کے ساتھ تھا جو سیٹ پر لائٹنگ عملے کے طور پر 150 روپے یومیہ پر کام کرتے تھے۔

انھوں نے ایکشن ہیرو کا کردار ادا کرتے ہوئے ایک کامیاب کریئر بنایا۔ ان کی بہت سی فلموں میں ان کا کردار ایک بیچارے شخص کا تھا جس کی کہانی کو قانون ہاتھ میں لینے کے جواز کے طور پر پیش کیا گیا۔

ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک درشن نے انڈسٹری پر راج کیا۔

کنڑا فلم انڈسٹری کے سب سے زیادہ قابل اعتماد سٹار سمجھے جانے والے درشن نے تقریبا 60 فلموں میں اداکاری کی ہے اور ان میں سے کئی ہٹ فلمیں رہی ہیں۔

وہ کنڑ فلم انڈسٹری کے سب سے بڑے سٹار ہیں، جن کے مداحوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان کا چہرہ آٹو رکشہ کے پیچھے نظر آتا ہے اور ان کی فلموں کی نئی ریلیز کے موقع پر مداح ان کے ہورڈنگز پر دودھ ڈالتے نظر آتے ہیں۔

کنڑا فلم پروڈیوسر یوگیش دوارکیش کا کہنا ہے کہ ’درشن ایک ایسے اداکار ہیں جن کے ہونے سے فلموں کی غیر معمولی اوپننگ کی گارنٹی ہوتی ہے۔

’ان کی فلمیں 400 سینما گھروں میں 600-700 سکرینوں پر ریلیز ہوتی ہیں۔ ان کے مداح ان کی پوجا کرتے ہیں۔ وہ ایک ایسے سٹار ہیں جو ہر بار کامیاب ہوتے ہیں۔ ان کی تازہ ترین فلم’کتیرا‘ نے ایک ارب روپے سے زائد کی کمائی کی اور یہ ایک بڑی ہٹ فلم تھی۔‘

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ وہ ایک کردار کے لیے دو کروڑ روپے وصول کرتے ہیں۔ مقامی فلم انڈسٹری میں عام طور پر اتنی رقم نہیں دی جاتی کیونکہ فلموں کا بجٹ کم ہوتا ہے اور یہ فلمیں اکثر پڑوسی جنوبی ریاستوں میں بھی ریلیز نہیں ہوتی ہیں۔

مداحوں سے معافی

یوگیش کا کہنا ہے کہ جب وہ ہٹ فلمیں دیتے رہے تو ان کے مداحوں نے پیار سے انھیں ’دی باس‘ اور ’چیلنجنگ سٹار‘ کا لقب دیا کیونکہ ’ان کے لیے کچھ بھی آسان نہیں تھا، سب کچھ ایک چیلنج تھا۔‘

لیکن کھجنے کہتے ہیں کہ ’وہ اس سٹارڈم کو سنبھال نہیں سکے اور یہ نہیں جانتے تھے کہ کامیابی ملنے کے بعد کس طرح کا برتاؤ کرنا ہے۔‘

اداکار کو 2011 میں گرفتار کیا گیا تھا اور وجے لکشمی کے گھریلو تشدد کے الزام کے بعد انھوں نے چار ہفتے جیل میں گزارے تھے۔

اس وقت کی خبروں میں ان کی پولیس شکایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ درشن نے ان پر حملہ کیا اور انھیں ریوالور سے دھمکایا۔ اس کے علاوہ سگریٹ سے ان کے جسم کو داغا۔

انھوں نے کہا کہ اس بدنامی کے باوجود انڈسٹری اور ان کے مداحوں نے ان کی حمایت جاری رکھی۔ ان کی فلم سارتھی جو جیل میں رہتے ہوئے ریلیز ہوئی تھی ایک بڑی ہٹ ثابت ہوئی۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی بیوی نے ان کے خلاف مقدمہ واپس لے لیا تھا جس کے بعد انھیں رہا کر دیا گیا تھا۔

باہر آنے کے بعد انھوں نے بطور شکریہ ریاست بھر کا سفر کیا اور اپنے مداحوں سے معافی مانگی۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’براہ مہربانی مجھے معاف کر دیں، میں نے ایک بری مثال قائم کی ہے۔‘

کھجنے کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد انڈسٹری میں کچھ لوگ جنھوں نے پہلے ان کی حمایت کی تھی انھوں نے ان سے دوری اختیار کرنا شروع کر دی لیکن اس سے باکس آفس پر ان کی کامیابی پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

اور اب ان پر سنگین الزامات کے باوجود انڈسٹری خاموش ہے۔ صرف مٹھی بھر اداکاروں نے اس معاملے کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔

کھجنے کہتے ہیں کہ بعض معاملوں میں خاموشی کی وجہ کاروباری مفادات ہو سکتے ہیں۔

’انڈسٹری خاموش ہے کیونکہ ڈیڑھ ارب روپے ان کے سر ہیں۔ اگر وہ جیل جاتے ہیں تو ان کی تین فلموں کو تاخیر کا شکار ہونا پڑے گا یا ملتوی کرنا پڑے گا۔ اس لیے وہ ان پر پابندی لگانے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔‘

یوگیش تسلیم کرتے ہیں کہ درشن کی گرفتاری انڈسٹری کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے اور ان کا کہنا ہے کہ پابندی کا مطالبہ قبل از وقت ہے کیونکہ ’اس کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور ایک شخص اس وقت تک بے قصور ہے جب تک کہ وہ قصوروار ثابت نہیں ہوتا‘۔

انھوں نے کہا کہ ’میری صرف ایک درخواست ہے کہ میڈیا ٹرائل نہیں بلکہ قانونی ٹرائل ہونے دیا جائے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ وہ بے قصور ہیں، لیکن درشن کو ولن کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، اسے مقدمے سے پہلے ہی مجرم قرار دیا جا رہا ہے۔‘

انڈین کامیڈین بھارتی سنگھ گھر سے منشیات برآمد ہونے پر گرفتاربرہنہ احتجاج کرنے والی اداکارہ گرفتار20 سالہ اداکارہ تونیشا کی ٹی وی شو کے سیٹ پر موت، ساتھی اداکار پر خودکشی کے لیے اکسانے کا مقدمہ’آج میں خود کو انڈیا کی بیٹی کہنے پر شرمندہ ہوں‘جیا خان کو خودکشی پر اُکسانے کے مقدمے میں اداکارہ کے دوست سورج پنچولی 10 سال بعد بریسابق انڈین اداکارہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والے شخص کو قید
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More