جب مدھوبالا نے دلیپ کمار کو عدالت میں گھسیٹا: ’ہاں، میں مدھوبالا سے محبت کرتا ہوں اور ہمیشہ کروں گا‘

بی بی سی اردو  |  Feb 24, 2026

Madhur Bhushanمغل اعظم کو انڈین فلم انڈسٹری کی بہترین فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔

یہ سچ ہے کہ پوری کائنات میں محبت سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز نہیں۔ لیکن جب کچھ غلط ہو جاتا ہے تو تاریخ کے اوراق کھلتے ہیں اور محبت کی ناکامی کے دردناک انجام کی ہزاروں کہانیاں یاد دلاتے ہیں۔

مجھے اس دور کے دو عظیم اداکاروں، دلیپ کمار اور مدھوبالا کے درمیان بے مثال محبت کی دل دہلا دینے والی کہانی یاد آ رہی ہے، جس کا آخری صفحہ عدالتی کارروائی میں لکھا گیا تھا۔

یہ کہانی تقریباً 64-65 سال پرانی ہے۔ ہدایت کار رام دریانی کی فلم ’ترانہ‘ (1957) کے لیے دلیپ کمار کو ہیرو اور مدھوبالا کو ہیروئن کے طور پر سائن کیا گیا تھا۔ جب ہیرو اور ہیروئن آمنے سامنے آئے تو یہ جادو تھا۔

Madhur Bhushanمدھو بالا’محبت کا اقرار‘

کہا جاتا ہے کہ اس آغاز میں گلاب کے ایک پھول نے بہت اہم کردار ادا کیا۔

مدھوبالا نے یہ گلاب دلیپ کمار کو ان کے میک اپ روم میں ایک چٹھی کے ساتھ بھیجا جو ان دنوں محبت کا ایک مقبول آلہ تھا۔

کارڈ پر لکھا تھا کہ ’اگر تم مجھ سے محبت کا اقرار کرتے ہو تو یہ گلاب قبول کرو۔‘ دلیپ کمار کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی اور انھوں نے گلاب کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔

مدھوبالا کی فطرت میں زبردست رومانویت اور سنجیدگی کا شاندار امتزاج تھا۔ مدھوبالا کی پیدائش 14 فروری 1933 کو ہوئی تھی اور یہی وہ دن تھا جسے دنیا بھر میں محبت کرنے والوں نے ’ویلنٹائن ڈے‘ کے طور پر منایا۔

جب یہ سلسلہ شروع ہوا تو مدھوبالا کی عمر بمشکل 17 سال تھی۔ 17 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی مدھوبالا کو کمال امروہی اور پریم ناتھ کی محبت ہو چکی تھی۔

شاہ رخ خان کی پہلی فلم جس کا پرنٹ خراب ہو گیا تھا’آٹھ سال سے بالی ووڈ میں کام نہیں ملا‘: اے آر رحمان کے شکوے نے فلم انڈسٹری میں فرقہ واریت پر بحث چھیڑ دیدھرمیندر کی وفات: انڈین سینیما کے ’ہیمین‘ جن کے مداحوں میں نواز شریف بھی شاملڈمپل کپاڈیا سے عامر خان تک، وہ معروف انڈین شخصیات جن کے رشتہ دار پاکستان میں رہتے ہیںمدھوبالا کی جانب سے پہلBBCمدھوبالا

مدھوبالا جو اپنی نوعمری میں ناکام محبت کے سانحات سے گزری تھیں، اس بار اس رشتے کو لے کر کافی سنجیدہ تھیں۔ وہ اس محبت میں دیوانگی کی حد تک جنونی تھی۔

بھلے ہی مدھوبالا نے اس محبت کی شروعات کی ہو لیکن دلیپ کمار کا جذبہ بھی کم نہیں تھا۔

ان کے لیے مدھوبالا کے بغیر ایک دن بھی گزارنا تقریباً ناممکن ہو گیا تھا۔

حالات ایسے تھے کہ وہ اپنی ہی فلم کی شوٹنگ چھوڑ کر وہاں چلے گئے جہاں مدھوبالا کی شوٹنگ چل رہی تھی۔

مدھوبالا کے والد عطاء اللہ خان بہت سخت آدمی تھے۔ وہ ہمیشہ اپنی بیٹی پر گہری نظر رکھتے تھے۔

فلمی دنیا کے تمام مرد کردار ان کے شک کی زد میں تھے۔

دلیپ کمار بھی اس شک سے مستثنیٰ نہیں تھے۔ پھر بھی معاملات اس مقام پر پہنچ گئے کہ اس رشتے کو باقاعدہ نام دیا جا سکتا ہے۔

تین تاش کا کھیلBBC

مدھوبالا کی بہن کے مطابق ان کی منگنی ہو گئی۔ دلیپ کمار کی بڑی بہن سکینہ آپا بھی رواج کے مطابق چندری لے کر مدھوبالا کے گھر پہنچی تھیں لیکن آخر کار ایک دن بات بگڑ گئی۔

’ترانہ‘ کے بعد اس جوڑی نے 1952 میں ’سنگ دل‘ اور 1954 میں ’امر‘ میں ایک ساتھ مرکزی کردار ادا کیا۔

کے آصف کی ’مغل اعظم‘ بھلے ہی 1960 میں ریلیز ہوئی ہو لیکن اس کی شوٹنگ 50 کی دہائی سے جاری تھی۔

ان فلموں کی شوٹنگ کے دوران دلیپ کمار کے ذہن میں عطا اللہ خان کے لیے ایک عجیب سا ناپسندیدگی کا احساس پہلے ہی پیدا ہو چکا تھا۔

اس کی وجہ مدھوبالا کی زندگی میں خان صاحب کی مسلسل مداخلت تھی۔ شوٹنگ کے دوران بھی ڈائریکٹر ان کی مداخلت سے پریشان ہو جاتے تھے۔

کے آصف خان صاحب اس قدر ناراض تھے کہ انھوں نے اپنے ایک پی آر او دوست تارک گاندھی کی مدد لی تاکہ انھیں سیٹ سے دور رکھا جائے اور خان صاحب کو تین تاش کے کھیل میں مصروف رکھا جس سے وہ بہت محظوظ ہوئے۔

جھگڑے کی صورتحالAFP GETTY

اس دن سیٹ پر دلیپ کمار اور مدھوبالا کے درمیان رومانوی ’سلیم انارکلی سین‘ شوٹ ہونا تھا۔ مدھوبالا کی سوانح عمری لکھنے والے صحافی موہندیپ کے مطابق ’آصف نے گاندھی کو 25 ہزار روپے دیے اور کہا انھیں کھیل جیتنے دو۔‘

حقیقت یہ ہے کہ اس گیم کے فاتح آصف تھے جنھوں نے اس دن اپنی پسند کے مطابق رومانوی مناظر شوٹ کیے اور عطا اللہ خان جوئے میں جیتنے والے نوٹ گنتے رہے۔

دلیپ کمار کو یہ تمام پابندیاں اور خان صاحب کی عادتیں بالکل پسند نہیں تھیں۔

انھوں نے مدھوبالا سے صاف کہہ دیا تھا کہ شادی کے لیے انھیں فلموں میں کام کرنا چھوڑنا ہو گا لیکن ساتھ ہی اپنے والد سے تمام رشتے توڑنا ہوں گے۔

مدھوبالا کو اپنے والد کی سختی کے باوجود ان سے بہت پیار تھا۔

یہی وہ مسئلہ ہے جس کی وجہ سے اکثر ان دونوں محبت کرنے والوں کے درمیان جھگڑا رہتا تھا۔

شوٹنگ کا مقامSaira Banoدلیپ کمار اور سائرہ بانو

1956 میں پروڈیوسر ڈائریکٹر بی آر چوپڑا نے اپنی فلم ’نیا دور‘ کی منصوبہ بندی کی۔ اس فلم کے لیے دلیپ کمار کے ساتھ مدھو بالا کو کاسٹ کیا گیا تھا۔ شروعات اچھی تھی۔

کاردار سٹوڈیو میں شوٹنگ کے پہلے دس دنوں تک یہ کامیاب رہی۔ اس کے بعد آؤٹ ڈور شوٹنگ کا وقت آگیا۔

فلم کی زیادہ تر شوٹنگ بھوپال کے قریب بدھنی قصبہ میں تقریباً دو ماہ تک ہونے والی تھی۔

خان صاحب نے بی آر چوپڑا کی تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔ وہ چاہتے تھے کہ شوٹنگ گاؤں کے سیٹ ممبئی کے ایک سٹوڈیو میں کی جائے لیکن چوپڑا صاحب اس کے لیے بالکل تیار نہیں تھے۔

یہ تنازع یہاں تک بڑھ گیا کہ آخر کار غصے میں چوپڑا نے مدھوبالا کی جگہ وجیانتی مالا کو سائن کر لیا۔

دلیپ کمار اس پورے معاملے میں چوپڑا صاحب کے ساتھ کھڑے تھے۔ انھیں لگا کہ عطا اللہ ان کی وجہ سے مدھوبالا کو بھوپال نہیں جانے دے رہے ہیں۔

شوٹنگ پر پابندی کا مقدمہMadhur Bhushanمدھوبالا کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انھیں پہلے سے دل کی بیماری تھی

جبکہ مدھوبالا کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ حقیقت میں مدھوبالا دل میں سوراخ کی وجہ سے بیمار تھیں اور انھوں نے اس بات کو نہ صرف دنیا بلکہ فلم انڈسٹری سے بھی خفیہ رکھا۔

انھیں باہر بھیجنے سے اس کی صحت خراب ہو سکتی تھی اور راز فاش ہو سکتا تھا۔

چوپڑا نے ایک آخری اشتہار کے ذریعے وجینتی مالا کو لینے کے اپنے فیصلے کا اعلان کیا۔

اس اشتہار میں مدھوبالا پر کاٹا لگا تھا اور ان کی جگہ وجینتی مالا کی تصویر چھپی تھی۔

عطا اللہ خان کا خون ابل پڑا اور اس کے جواب میں انھوں نے ایک اشتہار شائع کیا جس میں انھوں نے مدھوبالا کی تمام فلموں کے نام بتائے اور آخر میں ’نیا دور‘ کے نام پر کاٹا لگایا۔

اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر انھوں نے فلم کی شوٹنگ پر پابندی کے لیے عدالت میں کیس بھی دائر کر دیا۔

اس کیس کے جواب میں چوپڑا نے بھی فلم کی سائننگ اماؤنٹ کے طور پر مدھوبالا کو دیے گئے 30 ہزار روپے واپس لینے کے لیے کیس دائر کیا۔

’میں مدھو سے محبت کرتا ہوں‘Madhur Bhushanفلم مغل اعظم کی شوٹنگ کا ایک منظر

اس قانونی تنازعے کی سماعت کے دوران دلیپ کمار کو گواہی کے لیے بلایا گیا تھا۔

باقی تمام سوالات کے علاوہ ایک سوال یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا وہ ’مدھوبالا سے محبت کرتے ہیں؟‘

دلیپ کمار نے مجسٹریٹ آر ایس پرکھ کی عدالت میں کہا کہ ’ہاں، میں مادھو سے پیار کرتا ہوں اور ہمیشہ اس سے محبت کرتا رہوں گا۔‘

ستم ظریفی ہے کہ جس دن دلیپ کمار نے اپنی محبت کا کھلے عام اعلان کیا، اسی دن یہ محبت کی کہانی بھی اپنے اختتام کو پہنچی۔

اس پوری کہانی سے جڑی ایک بہت اہم بات یہ ہے کہ اس مبینہ اختتام کے بعد بھی دونوں نے فلم ’مغل اعظم‘ کی شوٹنگ میں ایک ساتھ کام کرنا جاری رکھا۔

محبت کے مناظر کو دیکھیں۔ فلم میں انھوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تک نہیں۔ لیکن ایک سین ایسا بھی تھا کہ سلیم غصے میں انارکلی کو تھپڑ مارتے ہیں۔

اس سین میں دلیپ کمار نے مدھوبالا کو اتنا زور سے تھپڑ مارا کہ سیٹ پر موجود ہر شخص حیران رہ گیا۔ مدھوبالا کو ہوش میں آنے میں کافی وقت لگا۔

شاہ رخ خان کی پہلی فلم جس کا پرنٹ خراب ہو گیا تھا’آٹھ سال سے بالی ووڈ میں کام نہیں ملا‘: اے آر رحمان کے شکوے نے فلم انڈسٹری میں فرقہ واریت پر بحث چھیڑ دیدھرمیندر کی آخری فلم ’اکیس‘ کا ’دھورندھر‘ سے موازنہ: ’میرے بیٹے کو پاکستان نے نہیں بلکہ جنگ نے مارا‘فلم دھورندھر پر میجر موہت اور چوہدری اسلم کے خاندانوں کو اعتراض: ’سنجے دت ان کے پسندیدہ اداکار تھے‘دھرمیندر کی وفات: انڈین سینیما کے ’ہیمین‘ جن کے مداحوں میں نواز شریف بھی شاملڈمپل کپاڈیا سے عامر خان تک، وہ معروف انڈین شخصیات جن کے رشتہ دار پاکستان میں رہتے ہیں
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More