حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ پلٹنے والے 3 نوجوان کون ہیں؟

ہماری ویب  |  Aug 07, 2024

بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد کے 16 سالہ اقتدار کا خاتمہ اور ان کی حکومت کو گرانے میں تین بنگالی طلبہ نے نمایاں کردار ادا کیا.

گزشتہ ماہ سرکاری ملازمتوں پر کوٹا سسٹم کے خلاف ملک کے تعلیمی اداروں میں احتجاج کی تحریک نے جنم لیا جس نے بالآخر حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ پلٹ دیا. اس تحریک میں سر خیل ڈھاکا یونیورسٹی کے تین طالبعلم ناہید اسلام، آصف محمود اور ابوبکر نمایاں کردار تھے.

بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق ان تینوں طالبعلم کا تعلق عام گھروں سے ہے اور سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں. البتہ جولائی کے مہینے میں کوٹا سسٹم کے خلاف احتجاج کرنے پر 19 جولائی کو پولیس محمد ناہید اسلام کو گھر سے اٹھا لے گئی بازیاب ہونے پر اب جسم کے مختلف حصوں پر چوٹ کے نشانات تھے جبکہ ناہید نے بتایا کہ سادہ کپڑوں میں کچھ لوگ آئے اور انھیں دوست کے گھر سے اٹھا کر لے گئے۔ ان کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جب ان کی آنکھ کھلی تو خود کو سڑک پر آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئے پایا.

اسی طرح 26 جولائی کو دوبارہ ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ تاہم اس بار پولیس کے سراغ رساں ونگ نے ناہید اسلام، آصف محمود اور ابوبکر کو اسپتال سے گرفتار کیا اور اس کا جواز سیکیورٹی وجوہات بتایا گیا۔

مقامی میڈیا رپورٹ کا کہنا ہے کہ ناہید کو لوہے کی سلاخوں سے مارا گیا جبکہ آصف کو انجکشن لگایا گیا جس کے باعث وہ کئی روز تک بے ہوش رہے. دونوں نوجوان کا کہنا ہے کہ ان پر تحریک روکنے کے لئے دباؤ ڈالا جاتا رہا لیکن وہ حسینہ واجد کے ظلم کے خلاف ڈٹے رہے.

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More