Getty Images
جوفرا آرچر کی وہ گیند جس لینتھ پر آئی، شاید ایسے ہتک آمیز چھکے کی حق دار نہ تھی جو بالآخر اسے نصیب ہوا، مگر فخر زمان اتنی روانی سے اپنی ایڑیوں پر گھومے کہ وہ باؤنڈری کے پرے سائٹ سکرین سے ٹکرا کر ہی رک پائی۔
یہ سال بھر کے انتظار کے بعد آرچر کی انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی تھی اور کپتان نے انہیں پاور پلے کا سب سے کڑا اوور تھما دیا تھا۔ فخر سے پہلے بابر اعظم نے بھی ان سے کچھ ایسا ہی سلوک کیا۔ یہ آرچر کی ورلڈ سٹیج پر واپسی کے بعد پانچویں گیند تھی جو سائٹ سکرین سے ٹکرا کر تھمی تھی۔
پاکستانی بیٹنگ یہاں یہ اعلان کرنا چاہ رہی تھی کہ اب ان کا مائنڈ سیٹ بدل چکا ہے اور آئرلینڈ سے شکست نے دل پر وہ زخم چھوڑے ہیں کہ گویا اب اٹھ کر دنیا سے لڑنے کا وقت آ چکا ہے۔ کچھ روز پہلے اپنے انٹرویو میں بھی فخر زمان نے یہی نشاندہی کی تھی۔
فخر زمان اور بابر اعظم نے آرچر کے پہلے اوور کے ساتھ جو سلوک کیا، وہ اتنے لمبے انتظار کے بعد لَوٹنے والے انگلش سٹار فاسٹ بولر کے شایانِ شان نہ تھا۔ فخر اور بابر کی اس پارٹنرشپ نے اوپنرز کی خالی ہاتھ واپسی کا خوب مداوا کیا اور میچ میں پاکستان کی راہ درست کی۔
یہ وہ راہ تھی جس سے پاکستان میچ کے شروع میں بھٹکا تھا اور جاس بٹلر کو وہ لینتھ فراہم کر بیٹھا جہاں سے وہ ایسی دھماکے دار اننگز کھیل پاتے۔
پہلے دو اوورز میں پاکستان کی بولنگ نپی تُلی تھی مگر تیسرے ہی اوور میں جاس بٹلر نے شاہین آفریدی کو آڑے ہاتھوں لیا۔ فل لینتھ سے سوئنگ ڈھونڈنے کی خواہش میں تین بار آفریدی کو باؤنڈری کی سیر کرنا پڑی۔
بٹلر کا عزم بہت واضح تھا۔ یہاں، بابر اعظم نے سپن کو اٹیک میں لانے کا فیصلہ کیا اور عماد وسیم کی پہلی ہی گیند نے اسے درست بھی ثابت کر دیا۔ فِل سالٹ دھوکہ کھا گئے اور پہلی کامیابی پاکستان کے نام ہوئی۔
لیکن پھر اگلے ہی اوور میں بابر اعظم نے وہ فیصلہ کر دیا جس نے سارا دباؤ پلٹا دیا۔ حارث رؤف کو پاور پلے بولر بنانے کی دیرینہ خواہش ایک بار پھر جاگی اور وِل جیکس نے ان کے ساتھ وہی کیا جو اس آئی پی ایل سیزن میں وہ فاسٹ بولرز سے کرتے آئے ہیں۔
Getty Images’مگر ٹرافی کے لیے صرف اچھا سکواڈ کافی نہیں‘آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ: 15 رکنی پاکستانی سکواڈ کا اعلان، ٹورنامنٹ کا شیڈول، فارمیٹ اور وہ سب کچھ جو آپ جاننا چاہتے ہیں’یہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں شاداب خان کی سب سے بُری بولنگ پرفارمنس تھی‘
شاداب خان کی بولنگ ایک بار پھر سوالوں کی زد میں آئی جب بٹلر نے ان کی بے قاعدہ لینتھ کو جی بھر کے نشانہ بنایا اور انگلش بیٹنگ کا ارادہ بھی واضح کر دیا کہ وہ اس پچ پر کہاں تک جاںا چاہتے تھے۔
لیکن جہاں تک وہ جانا چاہتے تھے، وہاں تک رسائی ممکن نہ ہو پائی کہ حسبِ عادت پاکستانی پیسرز نے ڈیتھ اوورز میں عمدہ کم بیک کیا اور بہترین انگلش بیٹنگ لائن کو اس ٹوٹل تک محدود کر لیا جو اس پچ کے حساب سے غیر معمولی نہیں تھا۔
ڈیتھ اوورز میں ایسا کم بیک شاید اتنی آسانی سے نہ ہو پاتا اگر عماد وسیم اپنے سپیل میں انگلش بلے بازوں کو جکڑے نہ رکھتے۔ دوسرے اینڈ سے رنز بہنے کے باوجود عماد کے ڈسپلن نے انگلش بیٹنگ کو محبوس کئے رکھا۔
سو، جب عماد کا سپیل ختم ہوا تو انگلینڈ کے لئے ضروری تھا کہ اس حبس کو توڑے۔ مگر اس کوشش میں ارادے اور قسمت کا صحیح تال میل نہ ہو پایا اور سکور بورڈ پر وہ ٹوٹل ابھرا جو پاکستان کی تجربہ کار بیٹنگ کے لئے ناممکن نہیں تھا۔
لیکن انگلش بولنگ کا ابتدائی ڈسپلن پاکستان سے بہت بہتر رہا اور سپن سے اٹیک کرنے کا فیصلہ بھی کامیاب رہا کہ اس پچ کا رویہ ناقابلِ اعتبار تھا۔ کچھ گیندیں پچ سے گرفت لے رہی تھیں تو کچھ نہیں۔
انگلش بولرز نے ڈسپلن برقرار رکھتے ہوئے مڈل اوورز میں پاکستانی بیٹنگ پر جال ڈال دیا اور نئے مائنڈ سیٹ سے ایڈجسٹ ہونے کی کوشش میں وہ انہدام رقم ہوا جو ماضی میں پاکستان کی 'شہرت' سا بن گیا تھا۔
آرچر کے اگلے تین اوورز پہلے اوور سے بالکل مختلف ثابت ہوئے اور پہلے اوور میں پندرہ رنز دینے والے بولر نے اپنے کوٹے کے باقی تین اوورز میں صرف تیرہ رنز دئیے جن کے عوض دو اہم ترین وکٹیں بھی حاصل کی جو یہاں پاکستان کے لئے فیصلہ کن ہو سکتی تھیں۔
پاکستانی بیٹنگ کا مائنڈ سیٹ بہرحال قابلِ تعریف تھا کہ سب بلے بازوں نے خول سے نکل کر جارحانہ کرکٹ کھیلنے کی کوشش کی۔ اور جب سوچ میں اس طرح کا انقلابی بدلاؤ لانے کا تجربہ کیا جاتا ہے تو یقیناً شروع میں کچھ ناکامیاں بھی ہوتی ہیں۔
گو یہ کہا جا سکتا ہے کہ تین پاکستانی بلے باز غلط مواقع پر غلط شاٹ کھیل کر آؤٹ ہوئے مگر حقیقت یہی ہے کہ بٹلر نے بیٹنگ میں جو عزم دکھایا تھا، آرچر نے وہی بولنگ میں نبھایا اور پاکستان کی کہانی کو پلٹا دیا۔
’یہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں شاداب خان کی سب سے بُری بولنگ پرفارمنس تھی‘شاہد آفریدی ٹی 20 ورلڈ کپ کے نئے سفیر بن گئے: ’سریش رائنا نے لالا کے سوئے ہوئے فینز کو جگا دیا‘آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ: 15 رکنی پاکستانی سکواڈ کا اعلان، ٹورنامنٹ کا شیڈول، فارمیٹ اور وہ سب کچھ جو آپ جاننا چاہتے ہیں’مگر ٹرافی کے لیے صرف اچھا سکواڈ کافی نہیں‘