’دی ہنڈرڈ‘ میں ابرار احمد کو شامل کرنے پر فرنچائز کی انڈین مالکن پر تنقید: ’انھیں ملک سے زیادہ پیسے کی پرواہ ہے‘

بی بی سی اردو  |  Mar 13, 2026

Getty Imagesانڈین پریمیئر لیگ کی فرنچائز سن رائزرز حیدر آباد، دی ہنڈرڈ لیگ میں سن رائزرز لیڈز کے نام سے حصہ لیتی ہے

ٹی 20 لیگ ’دی ہنڈرڈ‘ کی فرنچائز سن رائزرز لیڈز کی جانب سے پاکستان کرکٹ ٹیم کے سپنر ابرار احمد کو خریدنے کا معاملہ سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ کئی انڈین صارفین پاکستان اور انڈیا کی کشیدگی کے تناظر میں ابرار احمد کو ٹیم میں شامل کرنے پر فرنچائز کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

27 سالہ ابرار احمد کو سن رائزرز لیڈز نے ایک کروڑ نوے لاکھ برطانوی پاؤنڈز میں خریدا ہے، یہ رقم پاکستانی روپوں میں چھ کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے۔

فروری میں ذرائع نے بی بی سی سپورٹ کو بتایا تھا کہ دی ہنڈرڈ میں کھلاڑیوں کی نیلامی کے دوران انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) سے منسلک فرنچائزیں اپنی ٹیموں میں پاکستانی کرکٹرز کو شامل نہیں کریں گی۔

دی ہنڈرڈ میں شامل آٹھ ٹیموں میں سے چار، یعنی مانچسٹر سُپر جائنٹس، اہم آئی لندن، ساؤدرن بریو اور سنرائزرز لیڈز، جزوی طور پر اُن کمپنیوں کی ملکیت میں ہیں، جن کے پاس آئی پی ایل کی ٹیموں کا بھی کنٹرول ہے۔

خیال رہے کہ شاہین آفریدی، سلمان آغا، صائم ایوب، عثمان طارق اور حارث رؤف پاکستان سے تعلق رکھنے والے 63 مرد کرکٹرز میں سے ہیں جنھوں نے دی ہنڈرڈ کے لیے خود کو رجسٹر کروایا ہے۔ آفریدی اور رؤف نے گذشتہ ہنڈرڈ میں بھی حصہ لیا تھا۔

Getty Images27 سالہ ابرار احمد کو سن رائزرز لیڈز نے ایک کروڑ نوے لاکھ برطانوی پاؤنڈز میں خریدا ہے

شاہین شاہ آفریدی بعدازاں خود دستبردار ہو گئے تھے جس کے بعد دستیاب پاکستانی کھلاڑیوں کی تعداد 13 رہ گئی تھی۔ باقی پانچ کھلاڑیوں، جن میں حارث روف، شاداب خان اور صائم ایوب شامل تھے، میں کسی بھی فرنچائز نے دلچپسی نہیں دکھائی۔

پاکستانی کھلاڑیوں کو ٹیموں میں شامل نہ کرنے کی اطلاعات منظرِ عام پر آنے کے بعد انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے دی ہنڈرڈ کی آٹھوں فرنچائزز کو ایک خط لکھا تھا جس میں انھیں امتیازی سلوک کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرائی گئی تھی۔

عثمان طارق کو برمنگھم فینکس نے ایک لاکھ 40 ہزار پاؤنڈز میں شامل کیا۔ یہ فرنچائز کسی آئی پی ایل ٹیم سے منسلک نہیں ہے۔

’وہ ہمارا بھائی ہے‘: ’بہت سے انڈین بولرز سے بہتر‘ مستفیض الرحمان کی پاکستان سپر لیگ میں ’ڈائریکٹ سائننگ‘ٹرافی مندر لے جانے پر سوریا کمار اور جے شاہ تنقید کی زد میں: ’مسجد، چرچ یا گرودوارے کیوں نہیں گئے؟‘جموں و کشمیر کی ٹیم پہلی بار رنجی ٹرافی کی فاتح: ’عاقب نبی انڈین ٹیم میں آنے کے راستے پر ہیں‘’ورلڈ کپ میں ہماری ٹیم رن ریٹ پر باہر ہوئی‘: پاکستانی ٹیم کے دفاع پر محمد رضوان کو تنقید کا سامنا’پاکستانی کھلاڑیوں سے متعلق کوئی ہدایت نہیں ملی‘

ابرار احمد کی بیس پرائس 75 ہزار ڈالرز مقرر کی گئی تھی، اُنھیں خریدنے کے لیے سن رائزرز اور راکٹس نے بولی لگائی۔

سن رائزرز کے ہیڈ کوچ ڈینیئل ویٹوری نے بی بی سی سپورٹ کو ابرار احمد کے حوالے سے بتایا کہ وہ بہت منفرد بولر ہیں اور بہت سے مقامی کھلاڑیوں کے لیے اُنھیں کھیلنا اتنا آسان نہیں ہو گا۔

ویٹوری کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانی کھلاڑیوں کے بارے میں ہونے والی قیاس آرائیوں سے آگاہ ہیں، لیکن اُنھیں پاکستانی کھلاڑیوں کی بولی لگانے سے گریز کی کوئی ہدایات نہیں ملیں۔

ویٹوری کا مزید کہنا تھا کہ بین الاقوامی ٹیموں کے بہت اچھے سپنرز موجود تھے، لیکن ’ابرار ہماری ترجیح تھی۔‘

سوشل میڈیا پر ردِعمل

سوشل میڈیا پر جہاں انڈین صارفین ابرار احمد کے انتخاب پر سن رائز حیدرآباد کی مالک کاویہ مارن کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں تو وہیں پاکستانی صارفین اس پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔

سپورٹس جرنلسٹ وکرانت گپتا نے ایکس پر لکھا کہ برمنگھم فینکس کی جانب سے عثمان طارق کو خریدنے کے بعد ابرار احمد کو سن رائرز لیڈز نے خرید لیا ہے، یہ دی ہنڈرڈ لیگ میں انڈین فرنچائز ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ ایک انڈین ملکیت والی فرنچائز نے پاکستانی کھلاڑی ابرار احمد کو سائن کیا ہے، جنھوں نے ’کھلے عام انڈیا کا مذاق اُڑایا۔‘

کمل شرما نامی انڈین صارف نے لکھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ سن رائزرز حیدر آباد کو ملک سے زیادہ پیسے اور کھلاڑیوں کی پراہ ہے۔ انڈین عوام کو اس فرنچائز کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔‘

وپن تیواری نامی صارف نے لکھا کہ کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو مستفیض الرحمان کو سائن کرنے پر شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا تھا، حالانکہمستفیض الرحمان سے انڈین فینز کو کوئی شکوہ نہیں تھا۔ ’لیکن ابرار احمد کو سائن کرنا جنھوں نے کئی مواقع پر انڈیا کا مذاق اُڑایا، پر لوگوں کا غصہ جائز ہے۔‘

کیارا نامی صارف نے لکھا کہ ’ہر کوئی کاویہ مارن کو ٹرول کر رہا ہے، لیکن یہ کرکٹ کی جیت ہے، بی سی سی آئی کو دوسرے ممالک کی لیگز میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔‘

شہریار چیمہ نے لکھا کہ ابرار کا انتخاب زبردست ہے۔ ’وہ بہت اچھے بولر ہیں سن رائزرز لیڈز کے پاس اب سکواڈ میں ایک بہت اچھا پراسرار بولر ہے۔‘

عدنان نامی صارف نے لکھا کہ ’بات کھلاڑی کے معیار کی ہے اور ابرار اور عثمان دونوں بہترین ہیں۔‘

فرید خان نامی صارف نے لکھا کہ ’کاویہ مارن جنوبی انڈیا سے اور چنئی سے ہیں۔ جنوبی انڈیا کے لوگ پاکستانیوں سے محبت کرتے ہیں۔‘

Getty Imagesکاویہ مارن کون ہیں؟

کاویہ مارن انڈیا کے بڑے کاروباری گروپ ’سن گروپ‘ کے مالک اور چیئرمین کلانیتھی مارن کی صاحبزادی ہیں۔ انڈیا میڈیا کی رپورٹس کے مطابق کاویہ مارن سنہ 1992 میں چنئی میں پیدا ہوئیں۔

سن گروپ کی ویب سائٹ کے مطابق یہ گروپ قدرتی وسائل، الیکٹرونکس، ایسٹ مینجمنٹ اور گرین انفراسٹرکچر جیسے منصوبوں پر کام کرتا ہے۔

گروپ کے انڈیا، افریقہ، مشرق وسطی، جاپان اور چین میں بھی دفاتر ہیں۔

کاویہ مارن انڈین پریمیئر لیگ کی فرنچائز سن رائزز حیدر آباد کی شریک مالک اور چیف ایگزیکٹو آفیسر بھی ہیں اور سنہ 2018 سے فرنچائز کے معاملات دیکھ رہی ہیں۔

دی ہنڈرڈ لیگ کیا ہے؟

دی ہنڈرڈ لیگ کرکٹ کا ایک طرح سے نیا فارمیٹ ہے جسے 2021 میں متعارف کرایا گیا تھا۔ اس کا مقصد کرکٹ کو مزید دلچسپ اور تیز رفتار بنانا بتایا گیا ہے۔

اس لیگ میں آٹھ ٹیمیں شامل ہیں، جن میں ہر سکواڈ 15 کھلاڑیوں پر مشتمل ہے جس میں برطانیہ کے باہر سے چار کھلاڑیوں کو شامل کرنے کی اجازت ہے۔

ہر اننگز 100 گیندوں پر مشتمل ہوتی اور ایک بولر ایک میچ میں زیادہ سے زیادہ 20 گیندیں کروا سکتا ہے۔ اس میں 25 گیندوں کا پاور پلے بھی شامل ہوتا ہے۔

’ہمارا انتخاب کون کرتا ہے، کون نہیں یہ ہمارے ہاتھ میں نہیں‘: صاحبزادہ فرحان ’دی ہنڈرڈ‘ کھیلنے کے لیے پُرامیدپی ایس ایل نیلامی: نسیم شاہ سب سے مہنگے کھلاڑی، لاہور کی حارث رؤف اور فخر زمان کے لیے سات کروڑ سے زیادہ کی کامیاب بولی’وہ ہمارا بھائی ہے‘: ’بہت سے انڈین بولرز سے بہتر‘ مستفیض الرحمان کی پاکستان سپر لیگ میں ’ڈائریکٹ سائننگ‘افغان کرکٹرز کی مبینہ ہلاکت پر آئی سی سی کی مذمت جسے پاکستان میں ’ہینڈ شیک تنازع‘ کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے’اگر بنگلہ دیش کی جگہ انڈیا مطالبہ کرتا۔۔۔‘ ٹی 20 ورلڈ کپ پر ناصر حسین کا تبصرہ زیرِ بحث
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More