یونا بومبر: بلا کے ذہین ریاضی دان اور امریکہ میں دہشت کی علامت جو اپنی ایک تحریر کے ذریعے پکڑے گئے

بی بی سی اردو  |  Apr 02, 2024

Getty Images

3 اپریل 1996 کو جب ایف بی آئی نے دو دہائی تک کی طویل کھوج کے بعد بالآخر ’یونا بومبر‘ نامی قاتل کو پکڑا تو ان کی تحویل سے کئی جریدے، کوڈڈ ڈائری، دھماکہ خیز مواد اور دو مکمل بم برآمد ہوئے۔

20 سال تک امریکی حکام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے والے 81 سالہ ٹیڈ کزنسکی ایک زمانے میں امریکہ میں دہشت کی علامت تھے۔ وہ جون 2023 کے دوران جیل میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔

ٹیڈ نے 1978 سے 1995 تک متعدد بم بنا کر مختلف مقامات پر ارسال کیے جن سے مجموعی طور پر تین افراد ہلاک جبکہ 23 زخمی ہوئے۔

ہارورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ٹیڈ ایک ماہر ریاضی دان تھے جنھیں امریکی حکام مونٹانا ریاست میں ایک دور دراز مقام پر موجود کیبن سے گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

گرفتاری کے بعد ٹیڈ نے اپنے جرائم کو تسلیم کیا اور 1996 میں انھیں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

کئی دہائیوں تک ٹیڈ اور ان کی دہشت پھیلانے کی وجوہات امریکہ میں توجہ کا مرکز رہی اور ان پر متعدد ڈاکومینٹریز بھی بنی ہیں۔

گذشتہ 30 سال سے ٹیڈ امریکہ کی مختلف جیلوں میں قید رہے۔ حالیہ برسوں میں وہ نارتھ کیرولینا کے فیڈرل میڈیکل سینٹر بٹنر میں قید تھے۔

AFPٹیڈ کزنسکی

امریکی جیل بیورو کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک روز جیل کے محافظوں نے ٹیڈ کو مردہ حالت میں پایا۔ خبر رساں ادارے اے پی کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹیڈ نے خودکشی کی تھی جس کی تصدیق چار متعلقہ ذرائع نے کی۔ 1998 میں انھوں نے انڈرویئر کے ساتھ لٹک کر اپنی جان لینے کی کوشش کی تھی۔

تاہم جیل کے ترجمان کے مطابق ان کی زندگی بچانے کی کوشش کی گئی اور ان کو مقامی ہسپتال بھی منتقل کیا گیا جہاں ان کو مردہ قرار دیا گیا۔

ٹیڈ کزنسکی کی پُرتشدد مہم

ٹیڈ کزنسکی کی پرتشدد مہم نے امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ان کی وجہ سے کئی لوگ زندگی بھر کے لیے معذور ہو گئے اور امریکہ میں خطوط بھیجنے کا طریقہ بدل دیا گیا۔

یونابومبر کو ڈھونڈنے کے لیے 200 مشتبہ افراد کی تفتیش کی گئی، ہزاروں انٹرویو ہوئے اور ہیلپ لائن پر کی جانے والی 20 ہزار فون کالز کا جائزہ لیا گیا۔ اس سب کے باوجود تفتیش کاروں کو صرف یہ معلوم تھا کہ یونابومبر کوئی درمیانی عمر کا شخص ہے جس کا ادبی پس منظر ہے۔ مگر تمام راستے بند گلی ثابت ہوتے تھے۔

ان کے جرائم کا انکشاف اس وقت ہوا جب 1995 میں انھوں نے امریکی اخبارات واشنگٹن پوسٹ اور نیو یارک ٹائمز کو مجبور کیا کہ وہ ان کا ایک مضمون شائع کریں۔ اس مضمون کا عنوان ’انڈسٹریئل سوسائٹی اینڈ اٹس فیوچر‘ تھا۔

ٹیڈ کزنسکی نے امریکی اخبارات کو لکھا تھا کہ اگر ان کا مضمون کسی تبدیلی کے بغیر چھاپ دیا گیا تو وہ اپنی پرتشدد مہم ختم کر دیں گے۔

ایف بی آئی اور امریکی اٹارنی جنرل نے امریکی اخبارات کو تجویز دی کہ وہ ان کا مضمون چھاپ دیں۔

35 ہزار الفاظ پر مشتمل اس مضمون میں جدید طرز زندگی پر تنقید کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے امریکی عوام بے اختیار ہو رہے ہیں۔

AFP35 ہزار الفاظ پر مشتمل اس مضمون میں جدید طرز زندگی پر تنقید کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے امریکی عوام بے اختیار ہو رہے ہیں۔

تاہم یہ مضمون پڑھنے کے بعد ٹیڈ کے بھائی نے ان کی شناخت کر لی اور ایف بی آئی کو مطلع کیا جو کئی برسوں سے اس نامعلوم مجرم کی تلاش میں تھے جو خطوط کے ذریعے مختلف مقامات پر بم ارسال کر رہا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ امریکی تاریخ میں کسی بھی مجرم کی یہ سب سے طویل تلاش تھی۔

اس کے علاوہ ایف بی آئی کے ماہرین کو ان کے لکھنے کے انداز اور الفاظ کے چناؤ سے بھی شواہد ملے۔ جیسے یہ کہ انھوں نے کچھ لفظوں کے غلط سپیلنگ لکھے تھے اور الفاظ کا چناؤ درمیانی عمر کے کسی شخص جیسا تھا۔ ایسے شواہد بھی ملے تھے کہ یہ شخص کافی پڑھا لکھا ہے۔

اپریل 1996 میں امریکی حکام نے آخرکار ٹیڈ کو گرفتار کر لیا۔ وہ امریکی ریاست مونٹانا میں لنکن کے مقام کے قریب ہی ایک چھوٹے سے کیبن میں رہائش پذیر تھے۔

اس جگہ سے حکام کو متعدد جرنلز، ایک کوڈ والی ڈائری، دھماکہ خیز مواد اور دو تیار بم ملے۔

ٹیڈ کے بارے میں کئی لوگوں نے یہ گمان بھی کیا کہ وہ کسی سیاسی انقلاب کا پرچار کر رہے تھے تاہم خود انھوں نے کبھی بھی انقلابی ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔

اپنی ڈائری میں انھوں نے لکھا کہ وہ انسانیت کی بہتری کے لیے نہیں بلکہ انتقام کے جذبے کے تحت یہ سب کر رہے تھے۔

ان کے جرائم کا آغاز اس وقت ہوا جب ان کے بھائیوں نے ان کو خاندانی کاروبار سے نکال دیا۔ اس کی وجہ ٹیڈ کی جانب سے ایک خاتون ساتھی کو گالیوں سے بھرپور تحریر ارسال کرنا تھا جنھوں نے دو بار ملاقات کے بعد ان کو چھوڑ دیا تھا۔

ٹیڈ مونٹانا کے دور دراز مقام پر منتقل ہو گئے جہاں انھوں نے اپنے ہاتھوں سے ایک کیبن بنایا تھا۔ اس کیبن میں بجلی یا حدت کا انتظام نہیں تھا۔

حلموں کا آغاز

ٹیڈ نے سب سے پہلے الینوئے ریاست کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کو نشانہ بنایا جہاں ایک سال میں دو بم پھٹے جن میں دو افراد زخمی ہوئے۔

نومبر 1979 میں ایک امریکی جہاز میں بم پھٹا جس میں 16 افراد دھویں کی وجہ سے متاثر ہوئے۔

ان ابتدائی حملوں کی وجہ سے ایف بی آئی نے نامعلوم مجرم کو ’یونا بومبر‘ کا نام دیا کیونکہ وہ یونیورسٹیوں اور فضائی کمپنیوں کو ہدف بنا رہے تھے۔

آنے والے برسوں میں انھوں نے 13 مزید حملے کیے جن میں تین افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں ایک کمپیوٹر رینٹل سٹور کے مالک ہیو سکرٹون، ایڈورٹائزنگ ایگزیکٹیو تھامس موسر اور لکڑی کی صنعت کے لیے لابی کرنے والے گلبرٹ مرے شامل تھے۔

لیکن ایف بی آئی کے لیے ان جرائم کا نامعلوم ماسٹر مائنڈ ایک پہیلی کی طرح تھا جو ایسی کوئی نشانی نہیں چھوڑتا تھا جس سے اس کی شناخت ہو سکے۔

ایف بی آئی کا اندازہ تھا کہ ان حملوں کے پیچھے چھپا شخص کوئی سائنس دان یا مکینک ہے۔

Getty Imagesایف بی آئی کا اندازہ تھا کہ حملوں کے پیچھے چھپا شخص کوئی سائنس دان یا مکینک تھا

ٹیڈ کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران تھامس موسر کی اہلیہ نے بتایا کہ ان کے شوہر جس دن ہلاک ہوئے اس دن انھوں نے اپنے خاندان کے ساتھ کرسمس درخت خریدنا تھا۔

انھوں نے اس حملے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ’وہ بہت ہلکی آواز میں کراہ رہا تھا۔ اس کے دائیں ہاتھ کی انگلیاں لٹک رہی تھیں۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ مدد آنے والی ہے۔‘

ٹیڈ نے یہ سب کیوں کیا؟

ٹیڈ کی گرفتاری کے بعد اس بات پر کافی بحث ہوئی کہ انھوں نے یہ سب کیوں کیا۔

جب ٹیڈ چھوٹے تھے تو ایک ٹیسٹ کے دوران انکشاف ہوا تھا کہ ان کا آئی کیو یعنی ذہانت کا سکور 167 ہے اور اس کا ثبوت اس وقت ملا جب انھوں نے ہارورڈ یونیورسٹی میں صرف 16 سال کی عمر میں داخلہ حاصل کیا جس کے لیے انھوں نے دو کلاسوں کو پڑھے بغیر ہی مکمل کیا۔

AFPٹیڈ نے ہارورڈ یونیورسٹی میں صرف 16 سال کی عمر میں داخلہ حاصل کیا

ایف بی آئی کے جن حکام نے ان سے تفتیش کی ان کے مطابق وہ بلا کے ذہین لیکن دماغی طور پر عجیب شخص تھے جو ایک بہترین نامعلوم قاتل بننا چاہتے تھے۔

جیل میں ان کا انٹرویو کرنے والے ایک ماہر نفسیات کے مطابق ان کو شیزوفرینیا تھا۔

سیلی جانسن نامی ماہر نفسیات نے 47 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں لکھا کہ ٹیڈ کا خیال تھا کہ جدید سوسائٹی اور ان کا خاندان ان کو بدنام کر رہا ہے اور ہراساں کر رہا ہے۔

تاہم ٹیڈ نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ وہ جانتے تھے کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور جب ان کی نمائندگی کرنے والے وکلا نے پاگل پن کے بنیاد پر کیس لڑنے کی کوشش کی تو ٹیڈ نے قید میں اپنی جان لینے کی کوشش کی۔

1999 میں ٹائمز میگزین کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ان کو کوئی دماغی مسئلہ نہیں ہے۔

’مجھے یقین ہے کہ میری ذہنی حالت بلکل ٹھیک ہے۔‘

جاوید اقبال: ’100 بچوں‘ کا سفاک قاتل کیا شہرت کا بھوکا ذہنی مریض تھا؟وہ بدترین امریکی سیریل کلر جو 93 عورتوں کا قاتل تھاگردن توڑ کر قتل کرنے والا لاہور کا مالشیا ’سیریل کِلر‘ کیسے بنا؟گوجرانوالہ کا ’سیریل کلر‘: ’چھت پر اینٹ نہ ملتی تو ڈھونڈ کر لاتا اور پھر قتل کرتا تھا‘تین لڑکیوں کا قاتل جو پولیس کو 30 سال بعد ایسی جگہ سے ملا جہاں سے توقع نہیں تھیاپنے چار بچوں کے قتل کے جرم میں 20 سال جیل میں گزارنے والی ماں جن کی رہائی سائنس کی بدولت ممکن ہوئی
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More