’ہم فضا کی بلندی سے سمندر میں جا گرے‘: پاکستان میں ایڈونچر سپورٹس کتنے محفوظ ہیں؟

بی بی سی اردو  |  Apr 01, 2024

’میں اپنے بچے کو نہ تو اٹھا سکتی ہوں اور نہ ہی فیڈ کروا سکتی ہوں۔ حادثے کے بعد پانچ دن تک حرکت نہیں کر سکی تھی، میری کمر میں متعدد فریکچر ہوئے اور میری پسلی کو نقصان پہنچا۔‘

یہ الفاظ ہیں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ساحل سمندر پر ’موٹر گلائیڈنگ‘ کے دوران حادثے کا شکار ہونی والی خاتون مسکان ادریس کا جو اب بھی بستر پر اپنی بحالی کی جنگ لڑ رہی ہیں۔

مسکان ادریس نے بتایا کہ ایڈونچر سپورٹ میں اس حادثے کے بعد ان کی چار گھنٹوں پر محیط ایک سرجری ہوئی جس میں ان کی ریڑھ کمر میں دو راڈ ڈالے گئے اور بارہ پیچ لگے ہیں۔

اپنے اس حادثے کے متعلق بات کرتے ہوئے مسکان ادریس کا کہنا ہے کہ وہ 25 فروری کو اتوار کی چھٹی کے روز اپنے گیارہ ماہ کے بچے، خاوند اور ساس کے ہمراہ شام چھ بجے موٹر گلائیڈنگ کے لیے کراچی کے علاقے ایچ ایم آر واٹر فرنٹ پہنچی جہاں انھوں نے پہلے سے ہی اس ایڈونچر سپورٹس سے لطف اندوز ہونے کے لیے کراچی گلائیڈنگ کلب سے آن لائن بکنگ کروا رکھی تھی۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’وہاں پہنچ کر ہمیں پتا چلا کہ میں آخری شریک کار ہوں اور یہ کہ اس کا وقت ختم ہو رہا ہے۔ مجھے وہاں پر لائف جیکٹ، ہیلمنٹ اور سیلفی سٹک فراہم کی گئی۔‘

مسکان ادریس کا دعویٰ ہے کہ فراہم کردہ ساز و سامان چیک کیے بغیر ہی ’مجھے جلدی میں فضا میں بھیج دیا گیا تھا۔ اڑھائی منٹ بعد جب میں کافی اونچائی پر تھی تو اچانک پیرا شوٹ (موٹر کے ساتھ منسلک) کی تار پنکھے میں پھنس گئی اوراچانک رک گئی اور موٹر سمندر میں گر گئی۔‘

مسکان ادریس کا کہنا ہے کہ میں اپنی بیلٹ کھولنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔ ’مگر میرا پاؤں موٹر کے پیڈل میں پھنس گیا تھا۔ میں آٹھ، نو منٹ تک مدد کے لیے پکارتی رہی اور کوشش کرتی رہی تھی۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ خوش قسمتی سے وہاں ایک ڈاکٹر جو اپنے خاندان کے ہمراہ اپنی نجی کشتی پر تفریح کر رہے تھے انھوں نے مدد کی مگر ’کراچی گلائیڈنگ کلب کے پاس ایسے حادثے کی صورت میں کوئی بھی ہنگامی امدادی منصوبہ موجود نہیں تھا۔‘

مسکان ادریس کا کہنا ہے کہ حادثہ کہیں بھی کسی بھی وقت ہوسکتا ہے مگر یہ کراچی گلائیڈنگ کلب کی ذمہ داری تھی کہ وہ حادثے کے بعد اپنے کاہگ اور اپنے انسٹریکٹر کی حفاظت کو یقینی بناتے مگر ان کے پاس ’کوئی بھی امدادی منصوبہ اور وسائل نہیں تھے۔‘

ادھر کراچی گلائیڈنگ کلب کے بانی محمد طلال نے خاتون کے اس الزام کو مکمل طور پر مسترد کیا ہے کہ حادثہ کی وجہ کلب کی کوئی نا اہلی تھی۔

محمد طلال کا دعویٰ ہے کہ حادثہ کی بنیادی وجہ پتنگ کی ڈور تھی کیونکہ پتنگ کی ڈور نے موٹر کی تار کاٹ دی تھی جس سے انسٹریکٹر کے پاس موجود آدھا کنٹرول ختم ہو گیا تھا۔

محمد طلال کا کہنا ہےکہ ’انسٹریکٹر انتہائی تربیت یافتہ تھے اس لیے حادثے کے وقت ہوا کا رخ خشکی کی طرف تھا لیکن انھوں نے اس کی لینڈنگ پانی میں کی تھی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ہماری امدادی ٹیم موجود تھی لائف گارڈ ساحل پر تھے جو فوراً ہی حرکت میں آگئے تھے۔ مگر سمندر میں جس مقام پر خاتون اور ہمارے انسٹریکٹر موجود تھے وہاں پہچنے کے لیے کچھ وقت درکار تھا اور اسی دوران خاتون کو ایک نجی کشتی نے ریسیکو کر لیا تھا۔

پاکستان میں گلائیڈنگ ایسوسی ایشن (پی ایچ پی اے) کے صدر سید سجاد حسین شاہ کہتے ہیں کہ اس حادثے پر ان کی گہری نظر رہی ہے اور انھیں بھی یہ معلومات ملی ہیں کہ اس حادثے کی وجہ پتنگ کی ڈور تھی۔

وہ بتاتے ہیں کہ اس سے قبل بھی ایسا ہی ایک حادثہ صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور کے علاقے خانپور میں بھی ہوچکا ہے جہاں پتنگ کی ڈور نے موٹر کی تار کاٹ دی تھی۔

بی بی سی نے اس حادثے اور اس ایڈونچر سپورٹس کی سیفٹی سے متعلق قواعد جاننے کے لیے سندھ حکومت اور کراچی انتظامیہ سے رابطہ کیا تو ان کے الگ الگ ترجمانوں کا کہنا تھا کہ انھوں نے کراچی گلائیڈنگ کلب کو اس قسم کی ایڈونچر سپورٹس سرگرمیوں کے لیے کوئی لائسنس جاری نہیں کیا ہے یہ ان کے دائرہ کار میں نہیں آتا، یہ سول ایوسی ایشن کا دائرہ کار ہے۔

جبکہ سول ایوسی ایشن کے ترجمان سیف اللہ خان نے بتایا کہ سول ایوسی ایشن نے کراچی کلائیڈنگ کلب کو کوئی لائنس جاری نہیں کیا ہے۔ ڈی ایچاے کراچی سے رابطہ کرنے پر کوئی جواب نہیں ملا۔ ان کے ایک افیسر نے کہا کہ وہ اس معاملے پر بات کرنے کے مجاذ نہیں ہیں۔

اس واقعے نے پاکستان میں ایڈونچر سپورٹس سے جڑے خدشات اور سوالات کو جنم دیا ہے لیکن اس سے پہلے یہ جانتے ہیں کہ ایڈونچر سپورٹس کون کون سے ہیں اور کہاں ہیں؟

BBCپاکستان میں کون کون سی ایڈونچر سپورٹس ہیں اور کہاں ہیں؟

ساجد حسین گلگت بلتستان کے شعبہ سیاحت کے ڈائریکٹر ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ پاکستان میں ایڈونچر سپورٹس تو کافی ہیں اور شاید ہر ایڈونچر سپورٹس کے لیے پاکستان خصوصاًگلگت بلتستان میں فضا سازگار ہے۔ اس وقت پاکستان میں گلائیڈنگ کے علاوہ کوہ پیمائی، واٹر رافٹنگ، آئس ہاکی، پولو اور ٹرافی ہنٹنگ کے ایڈونچر سپورٹس ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال 15 ہزار کے قریب ایڈونچر سپورٹس میں دلچسپی رکھنے والے کھلاڑیوں نے گلگت بلتستان کا رخ کیا تھا۔ جس میں سب سے زیادہ کوہ پیما تھے جبکہ اس کے بعد پیرا گلائیڈنگ، آئس ہاکی، واٹر رافٹنگ اور ٹرافی ہنٹنگ شامل تھی۔

ان میں دس ہزار نے کوہ پیمائی کی تھی جبکہ باقیوں نے پیرا گلائیڈنگ، واٹر رافٹنگ، آئس ہاکی اور دیگر کھیل کھیلے تھے۔

سید سجاد حسین شاہ بتاتے ہیں کہ گلائیڈنگ عموماً دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک موٹر گلائیڈنگ اور دوسرا پیرا گلائیڈنگ۔پیرا گلائیڈنگ میں کوئی موٹر نہیں لگی ہوتی ہے اور پائلٹ خود ہی پہاڑوں پر اونچائی سے اپنے ساتھ لگائے ہوئے پروں کے ساتھ چھلانگ لگاتا ہے اور مختلف پہاڑوں کے درمیان میں سفر کرتے ہوئے منزل مقصود تک پہنچتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک خطرناک کھیل ہے اس کے لیے خصوصی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان میں اس کے تقریباً دو سو افراد کے پاس لائنس ہیں جو عموماً پہاڑوں پر یہ مہم جوئی کرتے ہیں۔

موٹر گلائیڈنگ میں زمین سے فضا میں سفر کیا جاتا ہے۔ ایسا ایک موٹر کے ساتھ منسلک پیراشوٹکی مدد سے کیا جاتا ہے۔ عموماً اس کھیل میں ایک انسٹریکٹر یا پائلٹ بھی ہوتا ہے۔ جو کسی کو بھی موٹر کی مدد سے فضا میں لے جاتا ہے۔ موٹر گلائیڈنگ کے لیے پاکستان میں تقریباً 20 ادارے مختلف مقامات پر کام کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیا بھر میں گلائیڈنگ کی بہت زیادہ شہرت ہے۔ پاکستان اور پھر کراچی کے ساحلوں پر گلائیڈنگ کے بہت موا قع ہیں۔ باقی تمام دنیا میں گلائیڈنگ سے بڑے پیسے کمائے جارہے ہیں۔ ان کے مطابق دبئی میں گلائیڈنگ سے روزانہ ساڑھے تین کروڑ روپے کمائے جارہے ہیں۔ سنگاپور میں بھی دو سے تین ملین ڈالر کا کاروبار ہوتا ہے۔

Getty Imagesمختلف ایڈونچر سپورٹس میں کس قسم کے خطرات ہوتے ہیں؟

ساجد حسین کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی خطرناک کھیل ہوتے ہیں۔ پیرا گلائیڈنگ میں کھلاڑی اونچائی سے چھلانگ لگاتا ہے کوئی مشینی کنٹرول نہیں ہوتا، اس کو اپنی مہارت پر انحصار کرنا ہوتا ہے۔ ’تھوڑا بہت بیلنس خراب ہوا تو بہت کچھ ہوسکتا ہے شاید دنیا بھر میں ایسا کچھ نہیں کہ اس موقع پر کوئی مدد کر سکے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہی صورتحال کوہ پیمائی کی ہے۔ اگر کے ٹو پر کوئی حادثہ ہو جائے تو شاید حادثے کے وقت مدد نہیں مل سکتی۔ آئس ہاکی قدرتی برف پر کھیلی جاتی ہے۔ واٹر رافٹنگ میں دریائے سندھ پر دو چپوؤں کے سہارے کشتی چلائی جاتی ہے، جو کہ انتہائی خطرناک ہے۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے الپائن کلب آف پاکستان کے سیکرٹری کرار حیدری کا کہنا ہے کہ ایڈونچر سپورٹس میں یہ کہنا کہ جب کھلاڑی یہ کھیل رہا ہو تو اس کے ساتھ کچھ انہونی کی صورت میں فوراً مدد مل سکے گی شاید یہ ممکن نہیں ہے۔ چاہے پھر وہ کھیل پیرا گلائیڈنگ ہو،کوہ پیمائی، یا رافٹنگ۔

ان کا کہنا تھا کہ جو کھلاڑی دریائے سندھ کے خطرناک دریا میں کشتی رانی کرتے ہیں انھیں اتنا تربیت یافتہ ضرور ہونا چاہیے کہ وہ خود ہی ہر طرح کے حالات سے نمٹ سکیں۔ اگر ایک کمزور مہم جو کے ٹو اور نانگا پربت کو فتح کرنے کی کوشش کرے گا تو پھر ’نقصان کا خدشہ رہے گا۔‘

ان خطرات سے نمٹنے کے لیے کیا کیا جاتا ہے؟

حیدری کا کہنا کہ ایڈونچر سپورٹس کے قوانین موجود ہے، یہ ضرور ہے کہ ان میں بہتری کی گنجائش ہر وقت موجود رہتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ قوانین کے علاوہ ہر ایڈونچر سپورٹس کے اپنے ایس او پیز ہیں۔ ان ایس او پیز پر عمل در آمد کیا جائے تو اس سے بھی حادثات میں بہت زیادہ کمی دیکھی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایڈونچر سپورٹس میں حادثات کی کمی کے لیے کھلاڑی کی صلاحیت کا امتحان لیا جاسکتا ہے۔ ’ایڈونچر سپورٹس کے لیے خصوصی تربیتی ادارے قائم ہونے چاہییں جہاں پر ایڈونچر سپورٹس کے شوقین افراد کو تربیت فراہم کی جائے۔ اس طرح امدادی سرگرمیوں کے لیے خصوصی ٹیمیں بھی تیار کی جاسکتی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی کھلاڑیوں کے پاس عموماً انشورنس کی سہولت موجود ہوتی ہے جبکہ پاکستانی کھلاڑیوں کے پاس یہ نہیں ہوتی ہے۔ اس لیے اب یہ پابندی عائد کی جانے چاہیے کہ ہر کھلاڑی کے پاس انشورنس کی پالیسی موجود ہو تاکہ کسی بھی حادثے کی صورت میں امدادی سرگرمی کی جا سکے۔

پاکستان میں بغیر انشورنس کے کوہ پیمائی پر مکمل پابندی ہے اور کسی بھی کوہ پیما کو انشورنس کے بغیر پہاڑ پر جانے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔ اس طرح کی پابندی دیگر ایڈونچر سپورٹس میں بھی لاگو کی جاسکتی ہے۔

’پاکستان میں ایڈونچر سپورٹس کو ریگولیٹ نہیں کیا جا رہا‘

سید سجاد حسین شاہ کا کہنا ہے کہ اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ ایڈونچر سپورٹس میں خطرات ہیں اور دنیا بھر میں اس کے حادثات ہوتے رہتے ہیں۔ مگر دنیا بھر میں اس کو ریگولیٹ کیا گیا ہے مگر پاکستان میں ابھی تک اس کو ریگولیٹ نہیں کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایڈونچر سپورٹس میں حادثے کو روکنا اتنا ممکن نہیں ہے مگر کسی بھی حادثے سے بچنے کے لیے اقدامات ضرور کیے جاسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انسانی استعداد کار میں اضافہ کر کے امدادی سرگرمیوں کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔

’اب دیکھیں کراچی حادثہ پتنگ کی ڈور کیوجہ سے ہوا ہے اب اگر یہ ریگولیٹ ہوتا مناسب قوانین موجود ہوتے تو جس علاقے میں موٹر گلائیڈنگ ہو رہی تھی وہاں پر پتنگ کو اڑنے سے روکا جاتا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ریگولیٹ نہ ہونے کی بنا پر کوئی بھی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہے، پوری دنیا میں گلائیڈنگ ایسوسی ایشن سول ایویشن اور شہری حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے اور اس کا لائسنس گلائیڈنگ ایسوسی ایشن جاری کرتی ہے مگر پاکستان میں ایسا نہیں ہے جس کی بنا پر مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

سید سجاد حسین شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف گلائیڈنگ ہی نہیں بلکہ ہر طرح کے ایڈونچر سپورٹس کے لیے بہت مواقع موجود ہیں۔ مگر اس کے لیے مختلف اداروں کو مل کر کام کرنے کے علاوہ مناسب قوانین بنانا ہوں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قدرتی، خوبصورت مقامات دبئی، سنگاپور سے زیادہ خوبصورت اور بہتر ہیں۔ ’اگر پاکستان میں ایڈونچر سپورٹس کی بہتر منصوبہ بندی کی جائے، سہولتیں حفاظتی اقدامات اور قوانین بڑھائے جائیں تو نہ صرف پاکستانی بلکہ غیر ملکی کھلاڑی بھی یہاں تفریح کے لیے آئیں گے جس سے پاکستان کی معیشت کو بہت زیادہ فائدہ مل سکتا ہے۔‘

خطروں کے کھلاڑی: ہنزہ کے وہ نوجوان جو جان بوجھ کر ’مشکل‘ کو چنتے ہیںوائٹ واٹر کیاکنگ کیا ہے اور امریکی مہم جوؤں نے اس کھیل کے لیے پاکستان کا رخ کیوں کیا؟کے ٹو بیس کیمپ تک موٹر سائیکل ایڈونچر پر تنقید کیوں کی جا رہی ہے؟عمارہ کرن، پاکستانی پیرا گلائیڈر’سو دو سو زیادہ لے لو بھائی لینڈ کروا دو‘
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More