ڈرائیور کے بغیر مال بردار ٹرین کا ’فرار‘:100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھاگتی 53 بوگیوں والی ٹرین کو کیسے روکا گیا؟

بی بی سی اردو  |  Feb 27, 2024

انڈیا میں ریلوے حکام نے ایک مال بردار ٹرین کے بغیر ڈرائیور 70 کلومیٹر سے زیادہ سفر کرنے کے معاملے پر تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں ڈرائیور کے بغیر ایک تیز رفتار ٹرین کو کئی ریلوے سٹیشنوں سے انتہائی تیزرفتاری سے گزرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ مال بردار ٹرین اتوار کو جموں و کشمیر کے علاقے ’کٹھوعہ‘ سے پنجاب کے ضلع ہوشیار پور تک بغیر ڈرائیور چلتی رہی تھی۔

ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ وہ بمشکل اس ٹرین کو روکنے میں کامیاب ہوئے اور اس دوران کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

ریلوے حکام نے سرکاری نیوز ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کو بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق شام سات بج کر 25 منٹ سے رات نو بجے کے درمیان پیش آیا۔

اس ٹرین سے 53 مال بردار بوگیاں منسلک تھیں، جن میں پتھر اور چپس لدے ہوئے تھے، اور یہ سامان جموں کشمیر سے پنجاب لے جایا جا رہا تھا۔ حکام کے مطابق کٹھوعہ کے مقام پر ایک سٹیشن پر یہ ٹرین عملے کی تبدیلی کے لیے رُکی اور اس میں سوار ڈرائیور اور دیگر عملہ اس سے اُتر گیا۔ تاہم اسی اثنا میں یہ ریل ڈھلوان پر خودبخود سرکنے لگی اور اس نے رفتار پکڑ لی۔

ٹرین تقریباً 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے بڑھی اور اُس کے رُکنے سے قبل تقریباً پانچ سٹیشن عبور کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

چلتی ٹرین کے بارے میں اطلاع موصول ہونے کے بعد اہلکاروں نے اس کے راستے میں موجود ریلوے پھاٹکوں کو بند کر دیا۔

ریلوے حکام نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ’ریل کو اُس وقت کامیابی سے روکگیا جب ریلوے اہلکاروں نے ٹرین کو روکنے کے لیے پٹریوں پر لکڑی کے بلاک لگائے۔‘

لکڑی کے بلاکس نے ٹرین کی رفتار کو کم کرنے میں مدد کی۔

حکام نے پی ٹی آئی کو مزید بتایا کہ وہ ٹرین کے کٹھوعہ میں ایک دفعہ رُکنے کے بعد اس کے دوبارہ حرکت میں آنے کی صحیح وجہ کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔

’خدا کا فیصلہ‘ قرار دیا گیا بدترین حادثہ جس میں 130 مسافروں سمیت پوری ٹرین سمندر میں غائب ہو گئیلندن کی وہ ٹرین سروس جس میں صرف میّتیں اور ان کے ورثا سفر کرتے تھےدو لاکھ ڈالر تاوان لے کر پیراشوٹ کے ذریعے فرار ہونے والا ہائی جیکر جس کی شناخت 52 سال بعد بھی معمہ ہے
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More