اشنا شاہ کی فلم ’چِکڑ‘: ’یہ روایتی فلموں سے ہٹ کر حقیقت کے بہت قریب ہے‘

بی بی سی اردو  |  Feb 21, 2024

Getty Images

’مجھے اتنے عرصے کے دوران ایسی کوئی فلم پسند نہیں آئی کہ جس میں کام کرنے کا دل کیا ہو مگر اب یہ فلم ’چِکڑ‘ حقیقت کے بہت قریب ہے اور اس میں کام کر کے بہت اچھا لگا۔‘

یہ کہنا ہے پاکستانی اداکارہ اُشنا شاہ کا اپنی کرائم سسپنس فلم ’چِکڑ‘ کے بارے میں، جس میں اُشنا کے ساتھ عثمان مُختار، فریال محمود، نوشین شاہ، سلیم معراج، علی شیخ، عدنان شاہ ٹیپو سمیت ٹی وی اور تھیٹر کے دیگر تجربہ کار اداکار شامل ہیں۔

اُشنا نے مزید کہا کہ ’یہ فلم معاشرے کے اُن تلخ حقائق کے گرد گھومتی ہے کہ جن کو ہر انسان محسوس کر سکتا ہے چاہے وہ ایلیٹ طبقے سے تعلق رکھتا ہو یا نچلے طبقے سے۔‘

’چِکڑ‘ نام سنتے ہی پہلا خیال یہی آتا ہے کہ یہ شاید ہمارے معاشرے کے کسی روایتی سے کردار کے گرد گھومتی دکھائی دے گی، مگر فلم میں اہم کردار ادا کرنے والی اُشنا شاہ نے بتایا کہ اس فلم کا نام ’چِکڑ‘ ایک سین کی وجہ سے رکھا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ فلم کے ایک سین میں ایک ڈائیلاگ ہے کہ ’جب کوئی چِکڑ میں گرتا ہے تو بدبو باہر والے کو آتی ہے۔‘

یہ فلم آٹھ دن کی کہانی ہے، جس میں کوئی روایتی گانا اس طرح سے شامل نہیں کیا گیا کہ جیسے پاکستانی فلموں میں عام طور پر ہوتا ہے۔

فلم میں اُشنا کے شوہر کا کردار عثمان مختار نے ادا کیا ہے۔ عثمان مختار اس فلم میں ایس ایس پی پولیس افسر کے کردار میں دکھائی دے رہے ہیں اور وہ دونوں شہر سے دور ایک گاؤں میں قتل کی تحقیقات اور اس معاملہ کو حل کرنے کے لیے جاتے ہیں۔

کیفییہ پہن کر فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار

ریٹنگ حاصل کرنے کے لیے ہونے والی رمضان ٹرانمیشن کے خلاف بات کرنا ہو یا غزہ پر اسرائیلی حملوں سے متاثر ہونے والے فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنا، اُشنا شاہ مختلف سماجی اور بین الاقوامی مسائل پر آواز بلند کرتی نظر آتی ہیں اور اس کے لیے وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کرتی ہیں۔

جہاں دنیا بھر میں اسرائیل اور حماس کی اس جنگ پر بولنے پر نامور شخصیات کو کام سے ہاتھ دھونا پڑا وہی اشنا بغیر کسی خوف کے کھل کر بات کر رہیں ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے چِکڑ فلم کے پریمئر پر کیفییہ پہن کر فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

کراچی میں 27 اکتوبر 2023 کو ہونے والے سول سوسائٹی پاکستان کی جانب سے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے نکالی گئی ریلی میں اداکارہ اشنا شاہ نے شرکت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہر پاکستانی کو سڑکوں پر نکلنا چاہیے، جب تک فلسطین آزاد نہیں ہوگا ہم چُپ نہیں بیٹھیں گے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے معلوم ہے کہ میرے ساتھ کیا ہو گا، مگر میں اب یہ سب نہیں دیکھ سکتی، جب میں بغیر سوچے سمجھے بول دیتی ہوں میں کچھ سوچ کر نہیں بولتی۔‘

اشنا اس جنگ کو فلسطینیوں کی نسل کشی قرار دیتی ہیں۔ اُن کا ماننا ہے کہ ’اگر اس کو نہ روکا گیا تو کل کوئی دوسرا مسلم ملک فلسطین بن سکتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’سوشل میڈیا کی وجہ سے اب سچ چُھپ نہیں سکتا، کوئی سچ دیکھنا چاہے یا نہیں مگر حقیقت سب کے سامنے آرہی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیےجندو: ’کندھے پر اصل انسان کو اٹھایا، اپینڈکس آپریشن کے فوراً بعد ریت پر بھاگی‘، حمائمہ ملکمائی ری: ’شکر ہے تم نے عائشہ والی بے وقوفی نہیں کی، تم اپنے لیے کھڑی ہوئیں مایا‘’وکھری‘: ’یہ وہ کردار نہیں جس کے لیے کوئی بھی اداکارہ باآسانی راضی ہو جائے‘’اگر کسی رول کی ڈیمانڈ ہوئی تو آئٹم سونگ کروں گی‘

اُشنا آئے دن ہی سوشل میڈیا پر کبھی اپنے کنٹینٹ تو کبھی اپنی پہناوے کی وجہ سے خبروں میں رہتی ہیں، وہ ہر سماجی مسئلے پر بھی کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتی ہیں، جس کی وجہ سے اُن کو اکثر تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

گذشتہ سال اُنھیں اپنی شادی پر اپنے لباس کی وجہ سے کافی ٹرول کیا گیا۔ جس پر انھوں نے اپنا دفاع کیا او کہا کہ ’جو لوگ اُن پر تبصرہ کر رہے ہیں اُنھوں نے اُن کے جوڑے یا میک اپ کے پیسے نہیں دیے۔‘

اُشنا سے جب سوال کیا کہ اُن کے سوشل میڈیا کو دیکھ کر وہ ایک دبنگ شخصیت لگتی ہیں، تو کیا اُن کے مداح اُنھیں مستقبل میں کسی آئیٹم سونگ میں دیکھ سکتے ہیں جس پر اُن کا کہنا تھا ’اس بات کا انحصار کہانی پر ہے، اگر کسی رول کی ڈیمانڈ ہوئی تو میں وہ کروں گی مگر میں کچھ چیزیں کرنے میں دلی سکون بھی ضروری ہوتا ہے۔‘

اُشنا یوں تو کئی ڈراموں میں نظر آتی رہتی ہیں تاہم انھوں نے اپنے کرئیر کا آغاز 2013 میں ڈرامے ’میرے خوابوں کا دیا‘ سے کیا ان کے مقبول ڈراموں میں پری زاد، حبس، چیخ، الف اللہ اور انسان سمیت کئی دیگر ڈرامے شامل ہیں، یوں کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ اُشنا کو شوبز انڈسڑی میں پہچان بنانے میں ان ڈراموں کا اہم کردار رہا ہے۔

اشنا کا کہنا ہے کہ اب وہ ایسے رول کرنا چاہتی ہیں، جسے کرنے میں وہ چیلنج محسوس کریں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں ملٹیپل پرسینیلٹی کا رول کرنا چاہتی ہوں، یا پھر کسی تاریخی شخصیت کا کردار ادا کرنا چاہتی ہوں کیونکہ اس طرح کے رول کرنے کے لیے بہت محنت کرنی پڑتی ہے، اور میں اس طرح کے چیلنج لینا پسند کرتی ہوں۔‘

اُشنا نے پہلی فلم 2016 میں کی جس کا نام ’تیری میری لو سٹوری‘ ہے یہ فلم ریلز کے دو دن بعد ہی بند کر دی گئی تھی۔

اُشنا نے بتایا کہ تکنیکی وجوہات کی وجہ سے یہ فلم بند ہوئی تھی مگر اُن کو بہت دکھ تھا۔ اس فلم کے بعد اُنھوں نے ’پنجاب نہیں جاؤں گی‘ میں سپیشل اپیرینس دی۔ جس کے بعد اب وہ فلمی دنیا میں واپس آئیں ہیں۔

اسی بارے میںسٹینڈ اپ گرل: ’گانے، ڈانس اور گنڈاسہ نہیں لیکن پنجابی جُگت ضرور ہے جسے ناظرین سراہ رہے ہیں‘چینی لڑکی ’فاطمہ فینگ‘ کا کردار نبھانے والی ہورا بتول: ’لوگوں نے کہا تم اتنی صاف اردو کیسے بول لیتی ہو‘ڈرامہ ’ایک سو ایک طلاقیں‘: ’میں نے پہلے ایسا کردار کبھی نہیں کیا جو مجھ سے ملتا ہو‘ انوشے عباسی
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More