خلاء کتنی وسیع ہے اور اس میں کتنے سیارے اور بلیک ہولز موجود ہے اس حوالے سے آج بھی سائنس کھوج کرنے میں مصروف ہے۔
اِسی طرح ایک اور حیرت انگیز مطالعہ سامنے آیا جب ناسا نے یہ معلوم کیا کہ خلاء میں ہماری زمین سے کئی نوری سال دور ایک سپر ارتھ نامی سیارہ وجود رکھتا ہے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے زمین سے 137 نوری سال کے فاصلے پر موجود سپر-ارتھ دریافت کی ہے جہاں پر زندگی کا وجود عین ممکن ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
TOI-715 b نامی یہ ایگزو سیارہ (نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے) ہماری زمین سے 1.5 گُنا بڑا ہے اور یہ اپنے مرکزی ستارے کے گرد ایک چھوٹا مدار رکھتا ہے۔
مرکزی ستارے سے اس سیارے کو مناسب درجہ حرارت ملتا ہے جس کے سبب زندگی کے لیے سب سے اہم عنصر یعنی پانی مائع صورت میں رہ سکتا ہے۔
سیارے کی دریافت کے بعد ماہرینِ فلکیات اب TOI-715 b کی خصوصیات کا جائزہ لینے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔
اس سیارے کی دریافت بین الاقوامی سائنس دانوں کی ٹیم نے کی جن کی رہنمائی یونیورسٹی آف برمنگھم نے کی۔
سائنس دانوں نے 2018 میں خلاء میں بھیجے جانے والے TESS نامی سیٹلائیٹ سے موصول ہونے والے اشاروں کے بعد زمین پر قائم ٹیلی اسکوپ کی مدد سے TOI-715 b کی جگہ کا تعین کرنے کی کوشش کی۔
مطالعے میں ٹیم کو معلوم ہوا کہ TOI-715 bکا زمین کے مقابلے میں اپنے ستارے کے گرد مدار بہت چھوٹا ہے اور سیارہ صرف 19 دنوں میں ایک چکر مکمل کر لیتا ہے۔
زمین کے حساب سے اس سیارے کا ایک سال 19 روز کا ہوتا ہے۔