پاکستان ایسے ایسے ہونہار طالب علموں سے لیس ہے جن میں کچھ نیا کر دکھانے کی صلاحیت موجود ہے۔ بس انہیں ضرورت ہے تو صرف تھوڑی توجہ اور حکومتی سپورٹ کی۔
جیسا کہ حال ہی میں ایک پاکستانی طالبہ نے بہترین کارنامہ سرانجام دیا ہے۔
پاکستان کی قابل صلاحیت طالبہ نے ملک میں پہلی بار شمسی توانائی سے چلنے والی کشتی تیار کر کے عوام کی خاص توجہ حاصل کی ہے، مذکورہ کشتی میں تمام جدید قسم کی سہولیات موجود ہیں۔
نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں نیشنل کالج آف آرٹس (این سی اے ) لاہور کی طالبہ فاطمہ اقبال بطور مہمان شریک ہوئیں اور اپنی جدید اور لگژری واٹر کرافٹ (کشتی) کی تیاری کے حوالے سے ناظرین کو آگاہ کیا۔
طالبہ نے بتایا کہ یہ منصوبہ میں نے اپنے فائنل ایئر کیلئے منتخب کیا تھا تاکہ مستقبل میں پاکستان میں سیاحوں کو آمدورفت کے لیے جدید اور آسان سہولیات فراہم کی جاسکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کشتی پر 70 لاکھ روپے لاگت آئی ہے اور اسے تیار کرنے میں چھ ماہ کا وقت لگا۔ کشتی میں 6افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے اور گھومنے پھرنے کے علاوہ مچھلی کے شکار کیلئے بھی تمام سہولیات موجود ہیں۔
جدید لگژری کشتی تیار کرنے والی طالبہ فاطمہ اقبال نے بتایا کہ میں نے کشتی کا ایسا ماڈل تیار کیا ہے جو دنیا میں کسی بھی خوبصورت اور جدید واٹر کرافٹ کے مقابلہ میں کسی سے کم نہیں۔