ورلڈ کپ میں پاکستان اور انڈیا کے میچ پر تاحال بے یقینی

اردو نیوز  |  Apr 07, 2023

انڈیا میں 50 اوورز کے کرکٹ ورلڈ کپ شروع ہونے میں صرف چھ ماہ کا وقت باقی رہ گیا ہے تاہم ابھی تک میگا ایونٹ پر خطے کی سیاست کی وجہ سے بے یقینی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق یہ صورت حال 2019 سے بالکل مختلف ہے جب انگلینڈ اور ویلز میں ورلڈ کپ میچز کا شیڈول معمول کے طریقہ کار کے تحت ایک سال قبل جاری کردیا گیا تھا۔

ماضی میں انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) میگا ایونٹ کی تین بار مشترکہ طور پر میزبانی کر چکا ہے اور رواں برس اکتوبر نومبر میں 10 ٹیموں کا ایونٹ منعقد کروانے کی راہ میں بظاہر دنیا کے امیرترین کرکٹ بورڈ کے لیے کوئی بڑی رکاوٹ نہیں ہے۔

تاہم انڈیا اور پاکستان کے سفارتی تعلقات میں تناؤ نے معاملات کو پیچیدہ بنا دیا ہے اور کرکٹ دو روایتی حریفوں کی جیوپولیٹیکل ٹشکراس فائر کی زد میں آگئی ہے جو ایک دوسرے کے خلاف صرف کسی بڑے ایونٹ میں ہی کھیلتے ہیں۔

انڈیا نے رواں برس ستمبر میں ایشیا کپ کھیلنے کے لیے پاکستان کا دورہ کرنے سے انکار کٖر دیا ہے اور منتظمین کی رضامندی کے بعد ہائبرڈ ماڈل کے تحت امکان یہ ہی ہے کہ انڈین ٹیم اپنے میچز کسی نیوٹرل وینیو پر کھیلے گی اور پاکستان بھی جواب میں ایسے ہی ردعمل کی توقع رکھتا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ان میڈیا رپورٹس کی تردید کی ہے کہ اس نے دبئی میں آئی سی سی کے بورڈ اجلاس میں اس طرح کا مطالبہ کیا تھا۔

ہائبرڈ ماڈل کے تحت امکان یہ ہی ہے کہ انڈین ٹیم ایشیا کپ میں اپنے میچز کسی نیوٹرل وینیو پر کھیلے گی (فائل فوٹو: اے ایف پی)تاہم گذشتہ ہفتے ایک بیان میں پی سی بی کا کہنا تھا کہ ’وہ مناسب وقت پر آئی سی سی کے پلیٹ فارم پر اسی طرح کے ’ہائبرڈ ماڈل‘ کے لیے اپنے موقف پر زور دے سکتا ہے۔‘ 

کیا پاکستان کو دورہ انڈیا کے لیے رضامند ہو جانا چاہیے، اس مقصد کے لیے بی سی سی آئی کو انڈین حکومت سے ویزے کے لیے این او سی حاصل کرنا ہوگی۔

اس ساری صورت حال سے واقفیت رکھنے والے ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ ’انڈیا سے ورلڈ کپ کے میچز کی منتقلی پر غور تک نہیں کیا گیا، اور وقت آنے پر میچز کے شیڈول کا اعلان کر دیا جائے گا۔‘

یاد رہے کہ 50 اوورز کا کرکٹ ورلڈ کپ رواں برس 5 اکتوبر سے انڈیا میں کھیلا جائے گا اور اس کا فائنل احمدآباد میں دنیا کے سب سے بڑے کرکٹ سٹیڈیم میں 19 نومبر کو کھیلا جائے گا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More