بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزین کیمپوں میں آتشزدگی کی تحقیقات شروع

اردو نیوز  |  Mar 06, 2023

بنگلہ دیشی حکام نے روہنگیا پناہ گزینوں کے کیمپوں میں آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا جس کے نتیجے میں 12 ہزار افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔

عرب نیوز کے مطابق آگ اتوار کی سہ پہر کوکس بازار میں لگی جو ایک جنوب مشرقی ساحلی ضلع اور دنیا کی سب سے بڑی پناہ گزینوں کی بستی ہے۔

اس بستی میں تقریباً 12 لاکھ روہنگیا مسلمان مقیم ہیں جنہوں نے ہمسایہ ملک میانمار میں تشدد اور ظلم و ستم سے بھاگ کر یہاں پناہ لے رکھی ہے۔

آگ کتوپالونگ اور بلوکھلی کیمپوں میں پھیل گئی جس سے تقریباً دو ہزار جھونپڑیاں جل کر خاکستر ہوگئیں۔

مہاجرین کی امداد اور وطن واپسی کے انتظامات کی نگرانی کرنے والے کمشنر میزان الرحمان نے بتایا کہ ’روہنگیا کیمپوں کے تین بلاکس میں آگ لگی جس سے لگ بھگ 12 ہزار افراد متاثر ہوئے۔ ان سب نے اپنی پناہ گاہ کھو دی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ ’کوکس بازار کی ضلعی انتظامیہ نے آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے سات رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کو تین دن میں رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔‘

میزان الررحمان نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’پناہ گاہوں کی بحالی کا کام پہلے ہی شروع ہو چکا ہے اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن نے روہنگیا میں رہائش کا سامان تقسیم کر دیا ہے جو اپنے گھروں کی تعمیر خود کریں گے۔‘

اقوام متحدہ کے چلڈرن فنڈ نے تخمینہ لگایا ہے کہ آگ سے متاثر ہونے والے پناہ گزینوں میں سے نصف تعداد بچوں کی تھی۔

کوکس بازار میں فائر سروس اور سول ڈیفنس ڈپارٹمنٹ کے ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر اتیش چکما نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’علاقے میں آتش گیر مواد سے پناہ گاہیں بنائی گئی ہیں۔ روہنگیا کیمپوں میں بہت زیادہ رش ہے اور عارضی گھر ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ بنائے گئے ہیں جن کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں رکھا گیا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس کے علاوہ ان پناہ گاہوں کی تعمیر کے لیے جو پلاسٹک کا مواد استعمال کیا گیا وہ انتہائی آتش گیر ہے۔ لہذا جب بھی ایک گھر میں آگ بھڑکتی ہے تو یہ تیزی سے پھیلتی ہے۔‘

اتیش چکما کے بقول ’کیمپوں کے اندر پانی کی شدید قلت ہے۔ اس وجہ سے ہمارے فائر فائٹرز کو آگ بجھانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

وزارت دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2021 اور دسمبر 2022 کے درمیان ان بستیوں میں آگ لگنے کے کم از کم 222 واقعات ریکارڈ کیے گئے تھے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More