انتباہ: اس رپورٹ میں خودکشی سے متعلق خیالات کا ذکر ہے۔
’ہماری مالی حالت پہلے ہی کافی کمزور تھی اور کورونا کی عالمی وبا کے دوران تو حالات اتنے خراب ہوئے کہ ایک بار میں نے خودکشی کا بھی سوچ لیا تھا۔‘
یہ کہنا ہے کہ انڈیا کے ٹاپ ریئلٹی شو ’بِگ باس‘ سیزن 16 میں آخری راؤنڈ تک پہنچنے والی ارچنا گوتم کا۔
انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے میرٹھ ضلع کی رہائشی ارچنا کا تعلق انتہائی غریب خاندان سے ہے۔
جب انھوں نے بگ باس کے مقابلے میں حصہ لیا تو شائقین نے انھیں بہت پسند کیا۔ اگرچہ وہ فاتح نہیں بن سکیں لیکن شو میں چوتھے نمبر پر رہیں۔
ارچنا کی حقیقی زندگی کا سفر بھی بگ باس کے سفر کی طرح نشیب فراز سے بھرا ہوا ہے۔
نین دیپ رکشت نے بی بی سی ہندی کے لیے ارچنا کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی اور اس دوران انھوں نے اپنی زندگی اور بگ باس میں اپنے گزارے دنوں کا ذکر کیا۔
اپنی جدوجہد سے بھری زندگی کے بارے میں ارچنا کہتی ہیں: ’میں جس خاندان سے تعلق ہے وہاں تعلیم کا زیادہ رواج نہیں ہے۔ اس بات کا آپ اسی سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ میں نے گریجویشن مکمل کی ہے اور میں اپنے خاندان کی سب سے زیادہ پڑھی لکھی لڑکی ہوں۔‘
BBC’وہ سارے کام جو گاؤں کی عورتیں کرتی ہیں، میں نے کیے‘
ارچنا کی ابتدائی تعلیم ایسے سکول میں ہوئی، جہاں بچے گھر سے چٹائیاں لے کر پڑھنے جایا کرتے تھے۔ وہاں انھیں حکومت کی جانب سے دوپہر کا کھانا بھی ملتا تھا۔
اس کے بعد انٹرمیڈیٹ کی تعلیم ایک گرلز کالج سے پوری کی اور پھر کالج میں داخلہ لیا۔
اپنے کالج کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے ارچنا کہتی ہیں: ’میرا خواب تھا کہ ٹائی پہننے والے سکول جاؤں لیکن وہاں کی فیسیں بہت زیادہ تھیں، اس لیے میں وہاں نہیں جا سکی۔ جب کالج میں پہنچی تو میری والدہ اپنی کچھ چیزیں گروی رکھ کر مجھے فیس کے پیسے دیتی تھیں۔ پھر جیسے جیسے میرا وظیفہ آنے لگا میں پڑھتی گئی۔ میں نے اپنی کالج کی تعلیم صرف اپنی سکالرشپ سے مکمل کی۔‘
ارچنا کا کہنا ہے کہ تعلیم کے دوران انھیں اداکاری کے میدان میں جانے کا خیال بالکل نہیں آیا تھا۔
ارچنا بتاتی ہیں کہ ان کے گھر کی مالی حالت بہت اچھی نہیں تھی۔
وہ کہتی ہیں: ’میرے والد محکمہ پولیس میں گریڈ چار کے ملازم تھے، اس لیے تنخواہ زیادہ نہیں تھی۔ ایسے میں گھر کی کفالت کے لیے میں کئی بار بھینسوں کا دودھ نکالتی اور گھر گھر بیچنے جاتی۔ کبھی کبھی اخبار بھی گھر گھر پہنچاتی تھی۔‘
ارچنا بتاتی ہیں کہ بچپن میں انھوں نے وہ سارے کام کیے ہیں جو گاؤں کی عورتیں گاؤں میں رہتے ہوئے کرتی ہیں۔
شادی کا دباؤ
ارچنا بتاتی ہیں کہ انھوں پہلے سال کی تعلیم تو کالج میں جا کر حاصل کی تھی لیکن دوسرا سال آتے آتے گھر کی حالت انتہائي خراب ہو گئی۔ دوسری طرف خاندان کی طرف سے شادی کا دباؤ بھی بڑھتا جا رہا تھا۔
کالج کے دوسرے سال کے دوران ارچنا نے گھر کی حالت سدھارنے کے لیے نوکری شروع کر دی۔ اگرچہ ان کے والد اس کے خلاف تھے لیکن انھیں اپنی والدہ کی مکمل حمایت حاصل تھی۔
یہ بھی پڑھیے
بگ باس کا 13واں سیزن: بگ باس کے گھر میں آج کل کیا چل رہا ہے؟
بگ باس کی فاتح روبینہ دلیک: ’میرا دل فنکارہ کا، جسم رقاصہ کا اور روح سیاح کی ہے‘
ارچنا کی پہلی نوکری دارالحکومت دہلی کے ایک ٹیلی کال سینٹر میں تھی۔ جہاں ان کی پہلی تنخواہ چھ ہزار روپے تھی۔ لیکن ہدف پورا نہ کر پانے کی وجہ سے انھیں نوکری سے نکال دیا گیا۔
اس طرح انھوں نے کئی نوکریاں بدلیں اور کچھ عرصے بعد وہ واپس میرٹھ لوٹ گئیں۔
پہلا آڈیشن اور سلیکشن
ارچنا کہتی ہیں کہ میرٹھ آنے کے بعد انھیں فارغ بیٹھنا بہت بُرا لگ رہا تھا۔ اسی دوران بگ باس کے آڈیشن کے لیے اشتہار آیا۔ انھوں نے اس آڈیشن میں شرکت کی اور سلیکٹ ہو گئیں۔
اس آڈیشن کے دوران ہی ان کی ملاقات روی کشن سے ہوئی اور انھوں نے ہی ارچنا کو اداکاری میں کریئر بنانے کا مشورہ دیا۔
اس کے بعد ان کا ایکٹنگ کریئر آہستہ آہستہ آگے بڑھتا گیا۔
تاہم کورونا کے دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ کام نہ ملنے کی وجہ سے اپنے گھر کا کرایہ بھی ادا نہیں کر سکتی تھیں۔ تین ماہ تک کرایہ ادا نہ کر پانے اور مالی حالت بہت خراب ہونے کی وجہ سے ایک بار انھیں خودکشی کا بھی خیال آیا۔
ارچنا کی نظر میں بگ باس سیزن 16
ارچنا کا کہنا ہے کہ اگر کوئی ان سے پوچھے کہ بگ باس سیزن 16 کے ٹاپ تین میں کن امیدواروں کو ہونا چاہیے تھا تو میں اپنا، شیو اور پریانکا کا نام لیتی۔
وہ کہتی ہیں: ’جب مجھے باہر کیا گیا تو مجھے جھٹکا لگا، لیکن پھر جو ٹاپ-3 میں باقی بچے تو مجھے لگا کہ ان میں سے صرف اسٹین ہی جیتے گا، پرینکا نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ شروع سے ہی بگ باس کے گھر سے بے گھر ہونے کے لیے نامزد ہوتے رہے تھے اور ہر بار بچ جاتے تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کے پاس ووٹنگ سپورٹ تھی۔‘
ارچنا کا خیال ہے کہ شو کے دوران اگر وہ اس قدر زیادہ لاؤڈ نہیں ہوتیں تو بہتر ہوتا۔ حالانکہ وہ اسے اپنی شخصیت کا حصہ سمجھتی ہیں۔
مستقبل کی منصوبہ بندی کے سوال پر ارچنا کا کہنا ہے کہ انھیں سیاست میں بھی ہاتھ آزمانا ہے لیکن وہ اپنا زیادہ وقت انٹرٹینمنٹ صنعت کو دینا چاہتی ہیں۔