جنگلی حیات باغیچوں میں تالاب کیسے ڈھونڈ لیتی ہے؟

بی بی سی اردو  |  Feb 11, 2023

Getty Images

خالی تالاب کے نچلے حصے کو بام مچھلی کی ایک قسم نے گھیر رکھا ہے۔ یہاں پانی زیادہ نہیں ہے۔ اس گھر میں جو پہلے رہتا تھا اس نے کھلے آسمان کے نیچے اس چھوٹے سے تالاب کو سوئمنگ پول کے طور پر ڈیزائن کیا تھا لیکن اسے بہت جلد احساس ہو گیا کہ یہ تالاب تیراکی کے لیے مناسب نہیں ہے کیونکہ پانی بہت ٹھنڈا ہوتا ہے۔اس لیے انہوں نے اس تالاب میں سجاوٹی سنہری مچھلیاں ڈال دیں۔ جب ایک سابقہ ٹیچر لیڈیا میسیا اس گھر میں منتقل ہوئیں تو انھوں نے سوچا کہ یہ تالاب پراپرٹی کے رقبے کی مناسب سے بہت بڑا ہے اور انھوں نے اسے ختم کرنے کا سوچا۔لیڈیا بتاتی ہیں کہ جب کوئی شخص گولڈ فش کو لینے کے لیے آیا تو انھیں یہ دیکھ کر بہت حیرانی ہوئی کہ اس تالاب میں بام مچھلی بھی موجود ہیں۔ انھوں نے سوچا کہ یہ بامکیسے اس تالاب تک پہنچے ہوں گے۔ شاید قریبی دریا سے نکل کر وہ رینگتے ہوئے اس تالاب تک پہنچ گئے ہیں۔ مسیحا بتاتی ہیں کہ بام ایک بار ظاہر ہونے کے بعد پھر غائب ہو گئے۔ شاید وہ واپس دریا کی طرف چلے گئے ہیں۔باغیچوں میں تالاب کیسے جنگلی حیات کو اتنی کامیابی کے ساتھ کیسے اپنی جانب متوجہ کر لیتے ہیں۔ میسیا اور ان کے خاندان نے اس پراپرٹی پر بنائے گئے ایک چھوٹے تالاب کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے خیال میں پراپرٹی پر تالاب کی موجودگی سے قدرتی ماحول میں بہتری ہو گی اور یہ جانوروں کے لیے مقامی اقسام کے لیے فائدہ مند ہو گا۔یقیناً تمام تالاب حیاتاتی طور پر متنوع نہیں ہوتے لیکن باغیچوں میں جنگلی حیات کے رجحان کی وجہ سے ایسے تالاب توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ ایسے گھر جو زیادہ وسیع نہیں ہیں انھیں بھی تالاب بنانے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔کچھ ماحولیاتی خیراتی ادارے چھوٹے تالابوں کے مختلف ڈیزائن متعارف کرا رہے ہیں۔ اب یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ باغیچوں میں تالاب مقامی پودوں اور جانوروں کے لیے بہت فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔ وائلڈ لائف ٹرسٹ کے مطابق برطانیہ میں تقریباً 30 لاکھ باغیچے ہیں۔ محققین کے مطابقامریکہ میں مصنوعی تالابوں کی تعداد لاکھوں میں ہے لیکن وہ تمام کے تمام تفریحی نہیں ہیں بلکہ ان میں کچھ زرعی مقاصد کے تیار کیے گئے ہیں۔ لیکن وہ واقعی جنگلی حیات کے لیے کتنےاہم ہیں۔لیکن جنگلی حیات ان تالاب کو ڈھونڈ کیسے لیتے ہیں اور کیا آپ کو تالاب ڈیزائن کرتے ہوئے جانوروں کی مقامی اقسام کو ذہن میں رکھنا چاہیے؟

Getty Images

مصنف اور ماحولیاتی ماہر جینی سٹیل کہتے ہیں: 'یہ جادو کی ماند ہے۔' وہ بتاتی ہیں کہ جب انھوں نے پہلی دفعہ ایسا تالاب بنایا تو صرف بارہ گھنٹے بعد ڈریگن مکھیاں پہنچ چکی تھیں۔عام طور پر توقع کی جاتی ہے کہ ان تالابوں میں مینڈک، پانی کے حشرات آئیں گے لیکن بعض اوقات وہاں ایسے جانوروں کا بھی گزر ہو جاتا جن کی آپ توقع نہیں کرتے، جیسے الو یا گھاس میں پائے جانے والے سانپ۔ جینی سٹیل یاد کرتی ہیں کہابابیل جیسے پرندے ان تالابوں کے اوپر اڑنے والے حشرات کو پکڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ پرندوں کو اپنے باغیچے کی طرف متوجہ کرنے کے لیے کسی بڑی جھیل کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔جینی سٹیل نے گھر کے آنگن میں لوہے کے ڈھول نما بیرل کوکاٹ کر اس سے ایک چھوٹا سا تالاب بنا رکھا ہے جو جانوروں کو اپنی طرف کھینچ لاتا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ تمام وقت پرندے اس چھوٹے سے تالاب میں نہاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان جانوروں اور پرندوں کو تالاب کی موجودگی کا کیسے علم ہو جاتا ہے؟یہ بھی پڑھیئےگھر میں سبزیاں اگانا ہی خوراک کی قلت کا حل ہے؟جنگلی حیات اب شہروں میں کیسے رہتی ہےجنگلی حیات کےدل موہ لینے والے انداز کچھ لوگوں کا مشاہدہ ہے کہ آپ کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ صرف تالاب بنائیں جانور وہاں خود بخود وہاں پہنچ جائیں گے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انھیں کیسے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہاں تالاب موجود ہے۔ بہت سے پرندے تالاب سے منعکس ہونی والی روشنی سے اس کی موجودگی کا پتہ لگا لیتے ہیں ۔ ہنگری میں تحقیق کارروں نے ڈریگن فلائز کے پانی سے اٹھنے والی روشنی کی طرف جانے کا مطالعہ کیا ہے۔جانوروں کی کچھ قسمیں انڈے دینے کے لیے قدرے تاریک تالابوں کو پسند کرتے ہیں اور اس کا اندازہ وہ ان تالابوں سے منعکس ہونے والی روشنی سے لگاتے ہیں۔تالابوں کی جانب کشش اتنی شدید ہوتی ہے کہ بعض اوقات ڈریگن مکھیاں بدحواس ہو جاتی ہیں۔ 2007 میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ ڈریگن فلائز پالش ہوئے سنگ مرمر سے منعکس ہونے والی روشنی کو تالاب سمجھ کر وہاں پہنچ جاتی ہیں۔ بعض پرندے بھی اسفالٹ سے منعکس ہونے والی روشنی کو پانی سمجھ کر وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ یعض جانور اپنی قوت شامہ سے فائدہ اٹھا کر پانی کے قریب جاتے ہیں۔ تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سالامینڈر جیسے پانی اور خشکی میں رہنےوالے جانور رات کے اندھیرے میں پانی کا موجودگی کا پتہ چلا لیتے ہیں۔جینی سٹیل کہتی ہیں: میرا ہمیشہ یہ مشورہ ہوتا ہے کہ وائلڈ لائف گارڈن میں پانی ہونا پانی نہ ہونے سے ہمیشہ بہتر ہوتا ہے۔"لیکن آپ کو تمام کام فطرت پر چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سٹیل کا کہنا ہے کہ اگر آپ جنگلی حیات کا تالاب بنانے یا اپنے باغیچے میں موجود کسی تالاب کو جنگلی حیات کے لیے زیادہ موافق بنانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں، تو آپ جانوروں اور پرندوں کی مختلفاقسام کو متوجہ کرنے بہت ساری چیزیں کر سکتے ہیں۔ اور یہ کوشش کرنے کے قابل ہے۔

Getty Images

آپ کو کوشش کرنی چاہیے کہ آپ اپنے تالاب کو بارش کے پانی سے بھرنے کی کوشش کریں کیونکہ پائپ میں آنے والے پانی کو پینے کے قابل بنانے کے لیے مختلف مراحل سے گزارا جاتا ہے اس میں کلورین اور نائٹریٹ جیسی چیزیں ملی ہوتی ہیں جو جنگلی حیات کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔سٹیل اس پر بھی زور دیتی ہیں کہ تالاب میں پانی کے مقامی پودے بھی موجود ہونے چاہیں اورتالاب کے کناروں پر گھاس بھی ہونی چاہیے جس سے جانوروں کی اقسام کو فائدہ ہوتا ہے۔اس کے علاوہ یہ بہت اہم ہے کہ ان تالابوں میں ایسے پودے ہوں جو پانی کے اندر اگھ کر پانی میں پھل پھول سکتے ہیں۔ اس کی بہترین مثال پانی میں چمکدار ویڈ ہیں۔پودوں اور جانوروں کو آکسیجن چاہیے ہوتیہے اور تالاب بناتے وقت اس کا خاص رکھا جانا چاہیے۔ اس سے تمام ماحول کو فاہدہ پہنچے گا۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے تالاب میں متنوع اقسام موجود ہوں تو وہاں مچھلی کو رکھنے سے اجتناب کیا جانا چاہیے۔ پانی کے بڑے ذخیروں میں مچھلی کی موجودگی ماحول کے لیے مفید ہوتی ہےلیکن چھوٹے تالابوں میں مچھلیاں غالب آ جاتی ہیں اور ان میں کچھ جانوروں کو کھا جاتی ہیں۔میٹھے پانی کے ماحولیات کے ماہر اور برطانیہ کی ہڈرزفیلڈ یونیورسٹی میں جغرافیہ کے سینئر لیکچرار میٹ ہل کہتے ہیں کہ جو لوگ اپنے گارڈن میں تالاب بنانا چاہتے ہیں کہ انھیں چاہیے کہ سایہ دار جگہ کا انتخاب نہ کریں کیونکہ کئی جانور ایسے تالاب میں آنے سے گریز کریں گے۔ وہ کہتے تالاب تیار کرتے وقت اس بات کا دھیان رکھنا چاہیے کہ تالاب کے تمام حصوں کی گہرائی ایک جیسی نہیں ہونی چاہیے۔ تالاب کےکچھ حصوں میں گہرائی ایک میٹر تک ہونی چاہیے جبکہ کچھ حصوں کو زیادہ گہرا نہیں ہونا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ تالاب کےکچھ کناروں پر پتھر لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن تمام کناروں پر پتھر لگانےسے گریز کیا جائے تاکہ چھوٹی جنگلی حیات کو تالاب کے اندر جانے میں رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ میٹ ہل کہتے یں ’میرے لیے اہم پیغام یہ ہے کہ تغیّر کی توقع کی جانی چاہیے۔ اور اس کی حوصلہ افزائی بھی کی جانی چاہیے، اگر آپ مختلف ماحولیاتی حالات چاہتے ہیں،‘ وہ کہتے ہیں کہ آپ کے تالاب میں پائے جانے جانور آپ کے پڑوسیوں کے تالابسے مختلف ہو سکتے ہیں۔ کچھ لوگ گھونگوں کی کثرت کو دیکھ سکتے ہیں، دوسروں کے پاس ڈریگن فلائیز کی تعداد زیادہ ہوگی۔ہل کا کہنا ہے کہ اہم بات یہ ہے کہ پورے ضلع یا کاؤنٹی کے ارد گردمیں بنائے گئے سینکڑوں یا ہزاروں تالاب پودوں، کیڑے مکوڑوں، پانی اور خشکی میں رہنے والے جانوراور پرندوں کے لیے فائدہ مند ہوں گے اور اس طرح پورے علاقے کا قدرتی ماحول بھی بہتر ہو گا۔

Getty Images

میٹ ہل اور اس کے ساتھیوں نے باغیچوں کے تالابوں کا ماحول پر اثرات کے حوالے ایک تحقیق کی ہے جسے انھوں نے ایک مقالے کے طور پر شائع کیا ہے۔ میٹ ہل اور ان کے ساتھیوں نے انگلینڈ کے علاقے آکسفورڈ شائر میں پچاس گھریلو باغیچوں میں بنائے گئے تالابوں پر کی گئی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ دیہی علاقے کے تالابوں کے باغیچوں میں جانوروں کی اقسام زیادہ پائی گئی ہیں۔‘اس مقالے کے مصنفین نےلکھا کہ شہری علاقوں کے باغیچوں جنگلی حیات کے لیے پناہ گاہ کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ 2016 میں ہونے والی ایک تحقیق میں میٹ ہل اور ان کے ساتھیوں نے پہلے کی گئی تحقیقات کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا ہے۔ جس میں ظاہر ہوا کہ ریڑھ کی ہڈی کے بغیر جانوروں کی قسمیں ان تالابوں میں پائی جاتی ہیں۔ پیپا جانسن، چیشائر وائلڈ لائف ٹرسٹ کے تالابوں کے افسر کا افسر کا کہنا ہے کہ تالابوں کے فوائد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔تالاب کی سطح کے اردگرد جنگلی حیات کو بھاگتے پھرنے دیکھنا بہت لطف اندوز منظر ثابت ہو سکتا ہے۔ وہ آج بھی بچپن میں اپنے خاندان کے باغیچے کے تالاب میں مینڈکوں کے انڈے دیکھنے کو یاد کرتے ہیں۔وہ کہتی ہیں ’وہ نہ صرف قدرتی ماحول کے لیے اچھے ہیں لیکن وہ ہمارے لیے بھی اچھے ہیں‘ وہ میٹ ہل سے اتفاق کرتی ہے کہ تالاب میں مختلف عناصر کا ہونا جنگلی حیات کو سب سے زیادہ مدد فراہم کرے گا۔لیکن جانوروں کے لیے صرف تالاب ہی ضروری نہیں ہے بلکہ اس کے اردگر کا ماحول بھی اہم ہے۔تالاب کے قریب ایسا گھاس جسے تراشا نہ گیا ہو اور کھاد کا ڈھیر بھی مفید ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر گھر کے گرد باڑ لگی ہوئی تو جانورآسانی سے تالاب تک پہنچ سکتے ہیں لیکن اگر دیوار ہے تو اس سے مشکلات ہو سکتی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ کسی کو بھی نہیں معلوم ہو سکتا کہ اس تالاب میں کون سے حشرات آئیں گے۔ اس کا اسی وقت معلوم ہو سکتا ہے جب آپ تالاب بنائیں گے لہٰذا ماحول کو بہتر بنانے کے تالاب کے ڈیزائن کی اہمیت اپنی جگہ ہے لیکن تجربات کرنے میں کوئی حرج نہیں۔جینی سٹیل کہتی ہیں کہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں آپ ضرورت سے زیادہ سوچ و بچار کر سکتے ہیں۔ پانی بذات خود ایک اہم جز ہے۔ ان کے گھر کےقریب کھیت میں ایک قدرتی تالاب بن گیا جہاں کسی نے کئی برس پہلے گڑھا کھودا تھا۔ یہ گڑھا بارش کے پانی سے بھر گیا اور قدرتی حیات نے اس کا نظام سنبھال لیا۔جینی سٹیل کہتی ہیں کہ یہ ایک بہترین تالاب ہے۔ کسی نے یہاں کچھ بھی نہیں کیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More