Getty Images
ایران جہاں گذشتہ کئی ہفتوں سے شدید سردی پڑ رہی ہے وہاں کے وزیر تیل جواد اوجی نے ایک عجیب حکم جاری کیا کہ اگر کوئی شخص ضرورت سے زیادہ گیس استعمال کرتا پایا جائے تو اس کی شکایت پولیس اور خفیہ اداروں سے کی جاسکتی ہے۔
وزیر تیل نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ ضرورت سے زیادہ گیس استعمال کررہے ہیں، ان کے گیس کنکشن کاٹ دیے جائیں گے۔
ایران کے پاس گیس کے بڑے ذخائرہیں لیکن وہ اپنے ہی شہریوں کو مناسب مقدار میں گیس کی فراہمی نہیں کر پا رہا، اوریہ صوریحال اس شدید سردی میں ایک بڑے بحران کے طور پر سامنے آئی ہے۔
ایران کے سخت گیر صدر ابراہیم رئیسی کو پہلے ہی گزشتہ کئی ماہ سے حکومت مخالف مظاہروں کا سامنا ہے۔ اب اس نئے مسئلے نے ان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
سخت سردی میں گیس کی قلت کے باعث انھیں عوام کے غصے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
شدید سردیوں میں گیس کی کمی
صفر سے نیچے درجہ حرارت اور برف باری کے باعث ملک میں گیس کی طلب میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں مختلف وجوہات کی بنا پر سپلائی میں کمی آئی ہے جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں سکول، سرکاری دفاتر اور عوامی سہولیات بند ہیں۔
گیس کی قلت کے باعث کئی شہروں میں بجلی کی بڑے پیمانے پر کٹوتی، فضائی آلودگی میں اضافہ اور احتجاج میں اضافہ ہوا۔
مازندران، اصفہان، قزوین، مشرقی آذربائیجان، البرز، گیلان، قم اور جنوبی خراسان صوبے گیس کی قلت سے متاثر ہیں۔
اس سے متعلق کئی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حکومت کچھ شہروں میں سردی سے نمٹنے کے لیے لوگوں کی مدد کر رہی ہے۔
کچھ ویڈیوز میں کھانا پکانے اور دیگر گھریلو ضروریات کے لیے سیلنڈرز میں گیس حاصل کرنے کے لیے ملک بھر میں صارفین کی لمبی قطاریں دکھائی دیتی ہیں۔
لوگ کئی گھنٹے ان قطاروں میں کھڑے ہو کر گیس کا انتظار کر رہے ہیں۔ کچھ ویڈیوز میں مظاہرہ کرنے والے طلبہ کی تصاویر بھی منظر عام پر آئی ہیں۔
چند سال قبل ایران کی سخت گیر حکومت سے فرار ہو کر واشنگٹن میں پناہ لینے والے ایرانی شہری علی رضا مسنوی کا کہنا ہے کہ ایران میں ان کے رشتہ داروں اور دوستوں سے بات ہوئی ہے، ان کے مطابق کئی شہروں میں درجہ حرارت منفی 20 ڈگری تک پہنچ چکا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس موسم سرما میں گھروں کو گرم رکھنے، پانی گرم کرنے اور کھانا پکانے کے لیے گیس نہیں ہے۔ لوگ لکڑیاں جلا کر اور کھانا پکا کر گھروں کو گرم کر رہے ہیں۔
علی رضا مثنوی کا کہنا ہے کہ ’گرمیوں میں گیس کی معمولی کمی ہوتی ہے، سردیوں میں اس کی طلب اچانک بڑھ جاتی ہے، لیکن حکومت اس طلب کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔ ایران میں اب جو کچھ دیکھا جا رہا ہے، وہ گیس کی کمی نہیں ہے، بلکہ یہ بحران ہے۔ یہ ’انسان کا کیا دھرا‘ ہے۔ یہ انتظامیہ کی بدانتظامی کا ثبوت ہے۔
’نیشنل ایرانی گیس‘ کمپنی میں پیداوار، رابطہ کاری اور نگرانی کے ڈائریکٹر احمد زمانی کا کہنا ہے کہ گیس کی پیداوار میں کمی نہیں آئی ہے، بلکہ ایسا ہوتا ہے کہ سردیوں میں اس کی طلب بہت بڑھ جاتی ہے۔
ایک حالیہ بیان میں، انہوں نے کہا، ’ایران سالانہ اوسطاً 250 بلین کیوبک میٹر گیس استعمال کرتا ہے، جو تقریباً 685 ملین مکعب میٹر یومیہ ہے۔‘
وہ کہتے ہیں ’کاغذ پر یہ ایران کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے، اس کے باوجود ملک کو موسم سرما میں بجلی کی مستقل بندش کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایران کی قدرتی گیس کی پیداوار کافی مستحکم ہے لیکن سردیوں کے مہینوں کے دوران اس کی طلب آسمان کو چھوتی ہے۔‘
Getty Imagesایران میں تیل اور گیس کے بڑے ذخائر
سنہ 2020 کے اعداد و شمار کے مطابق، ایران قدرتی گیس کی پیداوار کے لحاظ سے امریکہ اور روس کے بعد دنیا میں قدرتی گیس پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے ۔قدرتی گیس کے ذخائر کے لحاظ سے یہ دنیا میں روس کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔اوپیک کے اعداد و شمار کے مطابق خام تیل کے ذخائر کے لحاظ سے ایران کے پاس دنیا میں تیسرا بڑا ذخائر موجود ہے ۔ایران دنیا میں قدرتی گیس کا چوتھا بڑا صارف ہے۔ اس معاملے میں امریکہ، روس اور چین ان سے آگے ہیں۔ملک کی تقریباً 70 فیصد توانائی کی ضرورت گیس سے پوری ہوتی ہے۔ایران ہائیڈرو کاربن میں دنیا کا نمبر ایک ملک ہے۔قیمتوں میں اضافہ ایک آپشن نہیں ہے
صدر رئیسی کے لیے گیس اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ تقریباً ناممکن ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم انتظامیہ کے لیے بھاری ثابت ہو سکتا ہے۔
ہندوستانی نژاد آصف شجاع سنگاپور میں 'مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ' تھنک ٹینک میں ایرانی امور کے ماہر ہیں ۔ وہ کہتے ہیں، ’ایران اپنے شہریوں کو تیل اور گیس میں بھاری سبسڈی دیتا ہے۔ یہ رعایت مشرق وسطیٰ کے ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ اور ایران یہ رعایت 1979 میں اسلامی انقلاب کے وقت سے دے رہا ہے۔‘
شجاع کہتے ہیں، ’جب بھی حکومت سبسڈی میں کمی کی کوشش کرتی ہے یا جیسے ہی تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی بات ہوتی ہے، ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوتا ہے، جیسا کہ 2019 میں دیکھا گیا۔ ایران میں فی کس گیس کی کھپت روس اور امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر۔‘
ایران دنیا میں قدرتی گیس پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں سے ایک ہے۔ گیس کے ذخائر کے لحاظ سے بھی یہ دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو اس فہرست میں سب سے آگے ہیں۔ پھر وہاں گیس کی اتنی قلت کیسے ہو گئی؟
آصف شجاع کہتے ہیں کہ ’آپ جانتے ہیں کہ ایران (امریکہ اور یورپ کی طرف سے) پابندیوں کی زد میں ہے، جس کی وجہ سے اس کے لیے سب سے بڑا مسئلہ زرمبادلہ فراہم کرنا ہے۔ اس کے لیے ایران کو اپنی گیس کی پیداوار کا بڑا حصہ برآمد کرنا ہوگا۔ زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانا ہے تاکہ دوسری چیزیں درآمد کر سکیں، اگر ملک میں کوئی بحران ہو تب بھی گیس برآمد کرنا اس کی مجبوری ہے۔‘
’ایران پر برسوں سے عائد اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے اس کی معیشت کمزور ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ صنعتوں اور کارخانوں میں نصب مشینیں اور سسٹم پرانے ہو چکے ہیں۔ ان کی جدید کاری کی اشد ضرورت ہے۔‘
آصف شجاع کا کہنا ہے کہ "’ابندیوں کی وجہ سے ان کے پاس اس شعبے کی ترقی کے لیے درکار جدید ٹیکنالوجی نہیں ہے۔ ایران پیداوار میں پرانی ٹیکنالوجی استعمال کر رہا ہے۔ اس کی وجہ سے گیس کا بہت زیادہ ضیاع ہو رہا ہے۔‘
شجاع بتاتے ہیں، ’ٹرانسمیشن کے دوران گیس کا 25 فیصد ضائع ہو جاتا ہے۔ انہیں ٹیکنالوجی کو جدید بنانے کے لیے 40 بلین ڈالر کی ضرورت ہے لیکن وہ اس پر صرف 3 بلین ڈالر خرچ کر پائے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف گیس کی دستیابی کی بات نہیں ہے، پابندیوں کی وجہ سے ایران میں ہر چیز کی قلت ہے اور مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’آپ نے خبروں میں پڑھا ہوگا کہ کچھ لوگوں کو روٹی خریدنے کے لیے بھی قرض لینا پڑتا ہے۔‘
Getty Imagesسیاسی اثر و رسوخ
کیا گیس کی شدید قلت کی وجہ سے ہونے والے مظاہروں کا سیاسی اثر ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب گذشتہ ستمبر سے ایران کی مورالٹی پولیس کی حراست میں 22 سالہ مہسا امینی کی موت کے بعد حکومت کی جانب سے خواتین کے ساتھ ناروا سلوک میں اضافہ ہو رہا ہے؟ علاج اور دیگر مسائل پر دہائیوں کی تلخی کے پس منظر میں ملک گیر احتجاج نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے؟
اس پر آصف شجاع کا کہنا ہے کہ ’سیاسی ماحول پہلے ہی گرم ہے اور اگر آپ اس میں گیس کے بحران کو بھی شامل کرتے ہیں تو حکومت ایران کے لیے صورتحال بہت سنگین ہو سکتی ہے‘۔
علی رضا مثنوی کے مطابق ایران کی اسلامی انتظامیہ کے خلاف ناراضگی اپنے عروج پر ہے اور گیس کے بحران نے آگ پر تیل کا کام کیا ہے۔
وہ کہتے ہیں، ’سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ وہ ہے جہاں سے صدر رئیسی آتے ہیں۔ ان کے حامیوں نے بھی ان کے خلاف آواز اٹھانا شروع کر دی ہے۔ اگر یہ بحران بڑھتا ہے تو ان کے لیے سیاسی پیچیدگیاں بڑھ سکتی ہیں۔‘
ایران اس بحران سے کیسے نکلے گا؟
ماہرین کی رائے ہے کہ ایران کو اپنی خارجہ پالیسی کا عمومی جائزہ لینا چاہیے اور اقتصادی استحکام اور ترقی کے لیے اپنی خارجہ پالیسیوں کو تبدیل کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ تہران کو چاہیے کہ وہ جوہری معاہدے پر دوبارہ عمل درآمد کے لیے آسان شرائط رکھے تاکہ اسے بین الاقوامی پابندیوں کے چنگل سے کچھ نجات مل سکے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ غیر ملکی کمپنیوں کی مالی مدد اور جدید ٹیکنالوجی کے بغیر ایران کو آنے والے برسوں میں توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔
آصف شجاع ایران کو بحران کے حل کے لیے یہ مشورہ دیتے ہیں، ’ کہاوت ہے کہ بچہ بغل میں ڈھنڈورا شہر میں‘ ۔ ایران کے پاس پہلے ہی توانائی کے بہت بڑے ذخائر موجود ہیں اگر آپ تیل اور گیس دونوں کو لیں تو ایران کے پاس دنیا میں ہائیڈرو کاربن کے سب سے زیادہ ذخائر ہیں۔‘
ایران جوہری طاقت بننے جا رہے ہے اور اس کی قیمت اتنی زیادہ ہے کہ آپ اپنے پاس موجود ہائیڈرو کاربن کے ذخائر سے فائدہ بھی نہیں اٹھا سکتے۔‘
شجاع کہتے ہیں، ’میرے خیال میں بحران کا حل یہ ہے کہ آپ اپنی جوہری پالیسی کو محدود کریں اور مغرب کے ساتھ تعطل کو ختم کریں، کیونکہ آپ زیادہ دیر تک الگ تھلگ نہیں رہ سکتے۔‘
دوسری جانب علی رضا مثنوی کا کہنا ہے کہ اگر ایران میں احتجاج جاری رہا تو اس سے ایران کی معیشت متاثر ہوگی اور وہ مزید کمزور ہو جائے گی۔